پی ڈی ایم کا18 اکتوبر کو جلسہ کوئٹہ کی بجائے کراچی میں منعقد کر نےکا فیصلہ

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات کے بعد پی ڈی ایم نے اٹھارہ اکتوبر کو کوئٹہ کی بجائے کراچی میں منعقد کر نے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیر کو پی ڈی ایم کی سٹیرنگ کمیٹی کااجلاس ہوا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات کے بعد پی ڈی ایم نے پہلا جلسہ کوئٹہ کی بجائے کراچی میں کر نے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کے مطابق اٹھارہ اکتوبر کراچی میں ہونے والے جلسے کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کریگی۔ اجلاس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل اور راجہ پرویز اشرف سینئر نائب صدر نامزد کئے گئے۔ اجلاس میں مشاورت کے مطابق کراچی کے بعد دوسرا جلسہ 25اکتوبر کو کوئٹہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایاکہ اتفاق رائے سے پی ڈی ایم کے سینئر نائب صدر راجا پرویز اشرف جبکہ سیکرٹری جنرل شاہد خاقان عباسی ہونگے ۔ انہوںنے کہاکہ سیکرٹری اطلاعات میاں افتخار ہونگے۔ احسن اقبال نے جلسوں کے شیڈول بارے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ 16 اکتوبر گوجرانولہ، 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسہ ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ کوئٹہ میں 25 اکتوبر کو عظیم الشان جلسہ ہوگا ،22 نومبر کو پشاور، 30 نومبر کو ملتان میں جلسہ ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ 13 دسمبر کو سب سے بڑا جلسہ لاہور میں ہوگا ۔ احسن اقبال نے کہاکہ جلسہ کے بعد اس جعلی سیٹ اپ کی گنجائش مکمل ختم کی جائےگی اور عوام فیصلہ سنادیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ جو بغاوت کے مقدمے بنائے گئے ہیں ان کی بھی مذمت کی گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے خلاف مقدمہ قائم کرکے کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقا ن عباسی نے کہاکہ ہمارا مقصد صرف عوام کو ریلیف دینا ہے ،جو حکومت آج موجود ہے وہ سلیکٹڈ ہے جس نے معیشت کو تباہ کردیا ،ہم ملک کے عوام ریلیف دینگے ، ہم امانت میں خیانت کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ پی ڈی ایم کا بنیادی مقصد پاکستان کے عوام کی ترجمانی کرنا ہے ،عوام بے روز گاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ،عوام کی آواز کے ساتھ آواز نہ ملائی جائے تو یہ بدیانتی ہوگی ۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ آج ملک میں ہر شخص پریشانی میں مبتلا ہیں۔جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا غفور حیدری نے کہاکہ آج زبان پر پابندی ہے، قلم پر پابندی ہے، میڈیا ہاو¿سز سے کئی لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، صنعتیں تباہ ہیں، کیا یہ جمہوریت ہے۔ میاں افتخار حسین نے بتایاکہ ہر جماعت کے نائب صدر اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل پی ڈی ایم کا حصہ ہیں ،اس تحریک کو چلانے میں میڈیا کی مکمل حمایت درکار ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جمہوری قوتوں کا ساتھ میڈیا کو دینا چاہیے تاکہ عوام اور خود کو بچائیں۔ میاں افتخار حسین نے کہاکہ تمام قوتوں سے کہتا ہوہیں ہماری آواز سنیں اور اپوزیشن کو دیوار سے مت لگائیں ،ان لوگوں سے چھٹکارا حاصل کریں جو ملک کو تباہی کے دہانے پر لے گئے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پہلے جلسے کی نئی تاریخ پرپیپلزپارٹی نے تحفظات کا اظہار کردیا۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی ہر سال 18 اکتوبرکو یوم شہدائے کارساز کراچی مناتی ہے اور اس روز پی پی نے کراچی میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے باعث پی ڈی ایم کے کوئٹہ کے جلسے کی تاریخ پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی اسٹیرنگ کمیٹی نے جلسہ 11 اکتوبر کو کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم جے یو آئی اور پی کے میپ نے اپنے طور پر جلسہ 18 اکتوبر تک ملتوی کردیا۔جے یو آئی (ف) کے ذرائع کے مطابق جلسے کی تاریخ میں تبدیلی بدنیتی نہیں بلکہ سب کی سہولت کیلئے تاریخ تبدیل کی ہے، اپوزیشن اتحاد قومی مفاد میں ہے، اسے ہر قیمت پر بچایا اور آگے بڑھایا جائےگا۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ شفاف انتخابات سے متعلق ہم نے میکنزم تیار کرلیا ہے جلسوں میں اعلان کریں گے ،یہ اتحاد سیاسی بھی ہے اور انتخابی بھی ہوگا ،عہدے میعادی مدت کے ہیں البتہ تعین کا فیصلہ مشاورت سے کریں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*