پھر پہلے خانے کی طرف …!

جاوید صدیق
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو وہ ہمیں ایک دائرے میں گھومتی نظر آتی ہے، قیام پاکستان کے ایک دہائی بعد تک ہمارا وطن سیاسی کھینچا تانی اور سازشوں کے جال میں پھنسا رہا۔ پہلے سول وزیر اعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان کے سیاستدانوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش اور کھینچا تانی نے حالات کو بگاڑے رکھا۔ اس کشمکش کے نتیجے میں دس سال تک کوئی آئین نہ بن سکا۔ اس دور کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کی گئی دستاویزات میں لکھا گیا ہے کہ پچاس کی دہائی میں پاکستان میں متعین امریکی سفراءسیاسی صورتحال کے بارے میں واشنگٹن کو جو رپورٹیں بھیجتے تھے وہ بہت ہی مایوس کن تھیں۔ میجر جنرل سکندر مرزا جب پاکستان کے صدر بنے تو اس وقت سیاسی کشمکش اور سازشیں عروج پر تھیں۔ اس وقت کے امریکی سفیر نے واشنگٹن کو بھیجی گئی اپنی رپورٹ میں لکھا کہ مغربی پاکستان میں سازشیوں کا ایک ٹولہ حکومت کر رہا ہے جس کے سربراہ سکندر مرزا ہیں۔ اس رپورٹ میں پاکستان کی مخدوش سیاسی صورتحال پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا۔ یہ صورتحال 27 اکتوبر 1958 مارشل لاء لگنے تک جاری رہی۔ کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے 28 اکتوبر 1958 کو مارشل لاء لگایا، چار برس تک وہ مارشل لاء کے ذریعے حکومت چلاتے رہے، 1962 میں انھوں نے اپنا آئین دیا اور ملک میں صدارتی طرز حکومت نافذ کر دیا۔ ایوب خان کے دور کو بعض سیاستدان اور معیشت دان استحکام کا دور کہتے ہیں لیکن اسی دور میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے اور دونوں حصوں میں بد گمانیاں بڑھتی رہیں۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو ایوب خان نے اپنے بی ڈی نظام کے ذریعے صدارتی الیکشن میں شکست دی تو ملک میں افراتفری اور بے چینی بڑھ گئی۔ خاص طور پر مشرقی پاکستان میں اس کا سخت ردعمل ہوا۔ 1968 میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے سیاستدانوں نے ایوب خان کیخلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں مارچ 1969 میں ملک میں مارشل لائ لگ گیا۔ ایوب خان کے فرزند گوہر ایوب کہتے ہیں کہ ان کے والد نے احتجاجی تحریک کے دوران اس وقت کے آئین کے مطابق اقتدار سپیکر کے سپرد کر کے نئے انتخابات کرانے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان نے اس منصوبے کو سبوتاڑ کر کے ملک میں مارچ 1969میں مارشل لاء لگا دیا۔ یہ مارشل لائ مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر منتج ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1971 کی ہزیمت کے بعد سویلین مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔ انھوں نے جلد ہی 1973 کا آئین پارلیمنٹ سے منظور کرا کر پارلیمانی نظام بحال کر دیا لیکن چار سال بعد مارچ 1977 میں اپوزیشن جماعتوں نے قومی اتحاد کے نام سے بھٹو مخالف تحریک شروع کی جو پانچ جولائی 1977 کے مارشل لاء کے نفاذ پر ختم ہوئی۔ نئے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق نے ملک میں نظام مصطفیٰ رائج کرنے کے نام پر گیارہ برس تک حکومت کی۔ سترہ اگست 1988 میں ان کے ہوائی حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد ملک میں انتخابات ہوئے، بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنی لیکن اٹھارہ ماہ بعد انکی حکومت کو گھر بھیج دیا گیا۔ نواز شریف نئے وزیراعظم بنے ان کی حکومت کو بھی اڑھائی سال بعد فارغ کر دیا گیا۔ 1993 کے اواخر میں بے نظیر بھٹو ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بنیں لیکن ان کی اپوزیشن نے جس کے سربراہ نواز شریف تھے،
بے نظیر کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد تحریک نجات شروع کی، بے نظیر حکومت مستحکم نہ ہو سکی اور اسے اڑھائی سال کے بعد چلتا کیا گیا۔ ایک مرتبہ پھر نواز شریف دو تہائی اکثریت کیساتھ اقتدار میں آئے لیکن ان کی فوج کے ساتھ نہ بن سکی اور بارہ اکتوبر 1999 کو ملک میں فوجی ٹیک اوور ہوا۔ اگلے نو سال تک جنرل مشرف حکمران رہے۔ جنرل مشرف کی اقتدار سے رخصتی کے بعد پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا، اس دوران مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں میں لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے جس میں طے کیا گیا کہ دونوں جماعتیں ماضی کی روایت سے ہٹ کر فوج کیساتھ مل کر ایک دوسرے کی حکومتوں کو غیر مستحکم نہیں کریں گی، لیکن اس میثاق پر عمل نہ ہو سکا۔
اپوزیشن میں رہتے ہوئے نواز شریف نے زرداری حکومت کیلئے مسائل کھڑے کئے۔ 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کامیاب ہوئی لیکن پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے الزام لگایا کہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور نواز شریف کو مبینہ طور پر اس وقت کے چیف جسٹس اور آرمی چیف نے کامیاب کرایا۔
نواز شریف حکومت کیخلاف پاکستان تحریک انصاف نے بھی ایک مہم چلائی کہ ان کی حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے۔
2013 کے انتخابات میں چار حلقے کھولنے اور ووٹوں کی از سر نو گنتی کا مطالبہ کیا گیا، جب یہ مطالبہ پورا نہ ہوا تو پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے دھرنا دے دیا اور نواز شریف کی حکومت کافی حد تک غیر مستحکم ہو گئی۔ 2018 کے الیکشن میں عمران خان وزیراعظم بنے اور انھوں نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں کی قیادتوں کیخلاف احتساب کا عمل شروع کیا۔ اب دو سال بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی جن کے ساتھ جمعیت علماء اسلام بھی شامل ہے، عمران حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کر چکی ہیں۔ اس کا آغاز گیارہ اکتوبر کو کوئٹہ کے جلسہ عام اور بعد بھی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی صورت میں آگے بڑھے گا۔ ایک مرتبہ پھر پاکستان میں احتجاجی جلسے جلوس اور لانگ مارچ کا سلسلہ دیکھنے میں آئے گا۔ ایسی صورتحال میں ماضی میں نقصان جمہوریت کو ہی پہنچتا رہا ہے اگر اپوزیشن کی موجودہ تحریک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہوتی ہے، معیشت کو مزید دھچکا لگتا ہے تو پھر آئین کے مطابق کوئی نہ کوئی قدم اٹھانا ناگزیر ہو گا۔ ملک میں ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے، از سر نو الیکشنز بھی ہو سکتے ہیں اور ایمرجنسی کا دورانیہ طول بھی پکڑ سکتا ہے۔ حالات ایک مرتبہ پھر غیر یقینی ہو جائیں گے اور یہ ایسے ماحول میں ہو گا جبکہ پاکستان کو مشرق و مغرب کئی طرف سے خطرات لاحق ہیں، بھارت تاک میں بیٹھا ہے کہ پاکستان غیر مستحکم ہو اور وہ اس سے فائدہ اٹھا کر کشمیر کو مکمل طور پر ہڑپ کر لے۔ مغربی سرحد پر افغانستان ہے جہاں امن کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
پاکستان غیر مستحکم ہوتا ہے تو افغان امن عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر اسی صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا ماضی میں ہم ہر بار تجربہ کر چکے ہیں۔ جمہوریت اورپھر فوجی ٹیک اوور یا کوئی اور غیر جمہوری سیاسی سیٹ اپ۔ ہمارے سیاستدانوں کو ابھی تک یہ سلیقہ نہیں آیا کہ کس طرح جمہوری نظام کو مستحکم کرنا ہے اور اسے سنبھال کر رکھنا ہے۔ اپوزیشن کی موجودہ احتجاجی تحریک پاکستان کو پھر ”پہلے خانے“ یعنی (Back to Square one ) تک واپس لے جا سکتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*