صوبے کےلئے روشن مستقبل اور ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتے ہیں ،وزیراعلیٰ بلوچستان

Mir Jam Kamal Khan

کوئٹہ (آئی این پی)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی نے کہا ہے کہ اگلے سال وفاق اور صوبائی حکومت بجٹ سے ہٹ کر بلوچستان کے لئے پیکیج ترتیب دے رہی ہیںجو صوبے میں انقلابی تبدیلی کا پیشہ خیمہ ثابت ہوگا ، اپوزیشن جماعتوں کو بلوچستان سے ہمدردی ہوتی تو وہ سیلاب ، برف باری اور کورونا کے مشکل وقت میں یہاں کا رخ کرتے ، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کوئٹہ میںجلسے کی ڈیڈ لائن آگے بڑھانے کا مقصد بلوچستان کے لوگوں کا ان کا ساتھ نہ دینے کی دلیل ہے ، اپوزیشن کے پاس کوئٹہ میں لوگوں کی جم غفیر ہوتی تو انہیںدوسرے دن ہی کوئٹہ آنا چاہےے تھا ، بلوچستان کے لئے روشن مستقبل اور ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتے ہیں ، کسی کو صوبے کے پرامن ماحول کو پھر سے خراب کرنے نہیں دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ بلوچستان عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری منظور احمد کاکڑ ، صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو عارف جان محمد حسنی ، محمد خان لہڑی ، جان جمالی ، خاتون رکن صوبائی اسمبلی بشریٰ رند ، کیپٹن عبدالخالق اچکزئی ، طاہر محمود ودیگر بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ انہوں نے بلوچستان کی ترقی کے لئے محنت کی ہوگی مگر بلوچستان کی جس انداز میںنمائندگی کرتے ہوئے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہےے تھا انہوںنے نہیں کیا مگر آج وہ ذمہ داری موجودہ اتحادی حکومت نے اپنے سر اٹھالی ہے اور سب اتحادی جماعتیں مل کر بلوچستان اور کوئٹہ کی ترقی کے لئے محنت کررہی ہیں بلکہ صوبے کے تمام اضلاع میں ترقیاتی کام جاری ہیں جن اضلاع میں حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کی نمائندگی ہی نہیں ہے وہاں بھی لوگوں کی ترقی دکھائی دے رہی ہے جو موجودہ صوبائی حکومت کی زبان ، تنگ نظری ، بدنیتی ، لسانیت ، قومیت اور تعصب سے بالاتر ہو کو خدمت کی واضح دلیل ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بلوچستان میںجلسہ کی دیڈ لائن آگے بڑھانے کا مقصد شاید یہی ہے کہ بلوچستان کے لوگ ان کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہی نہیں ہےں ، اگر ان کے ساتھ لوگوںکی جم غفیر ہے تو انہیں تو دوسرے دن ہی بلوچستان آنا چاہےے تھا ، بلوچستان کے لوگ وہ نظریات نہیں چاہتے جو اپوزیشن جماعتیںچاہتی ہیںبلکہ صوبے کے لوگ پسماندگی کو ختم اور ترقی کرنا چاہتے ہیں ۔یہاں کے لوگ اپنے آنے والی نسل کے لئے تعلیم ، صحت سمیت تمام شعبوںکی بہتری اور ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتے ہیں ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ بلوچستان کے پرامن ماحول کو پھر سے خراب کرنے کی کوشش کرے ۔ اپوزیشن جماعتوں کو بلوچستان سے ہمددی ہوتی تو سیلاب کے وقت یہاںکا رخ کرتے ۔ برف باری میںراستے بند تھے لوگوں کو مشکلات کا سامنا تھا اور کے ساتھ کورونا کے دوران کسی نے بلوچستان کا نہیں سوچا جب یہاں کی نمائندہ پارٹیوں بیوروکریٹس اور میڈیا سمیت تمام لوگ عوام کو مشکلات سے نکالنے میں لگے ہوئے تھے ، کورونا کی جان لیوا بیماری سے بچانے کے لئے سب نے محنت کی آج جب حالات تھوڑے سے بہتر ہوگئے ہیںتو آج کوئٹہ کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ آج سیاسی شعور رکھتے ہیں وہ ان عناصر کو جانتے ہیں جنہوں نے بلوچستان کی ترقی کا نعرہ لگایا اور ان کی ترقی سب کے سامنے ہیں اور آج ہمیں بھی دیکھ رہے ہیں۔ ہماری کارکردگی بھی شاید سو فیصد ٹھیک نہیںہوگی تاہم صوبے کی باشعور عوام ہماری محنت کو دیکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں زمین پر ترقیاتی کام دیکھائی دے رہے ہیں جو پچھلے 20سال کے دوران بھی نہیں ہوئے ہیں ۔ یہ کہنا کہ آج بلوچستان کو زیادہ فنڈز مل رہے ہیں اس لئے ترقیاتی کام ہورہے ہیں بالکل غلط ہے وہی بجٹ ہے شاید تھوڑا سا بڑھ گیا ہے لےکن ہم نے اپنی ترجیحات کو بہتر کئے اور پیسے صحیح جگہ پر خرچ کرنا شروع کئے اس لئے ترقیاتی کام زمین پر دکھائی دے رہے ہیں ۔ کوئٹہ صوبے کا سب سے بڑا شہرہے جو بدقسمتی سے نظر انداز ہوتا رہا ہے انشاءاللہ آنے والے وقتوں میںکوئٹہ کو ترقی یافتہ شہر بنتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اسی طرح دوسرے اضلاع میں بھی ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے ۔ آنے والے سال میں وفاقی اور صوبائی حکومت بجٹ سے ہٹ کر صوبے کے لئے نے ایک بہت بڑا پیکیج بنا رہے ہیں جو بہت بڑی تبدیل لائے گا ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*