بلین ٹری لگائی لیکن ہمیں کوئی درخت نظر نہیں آیا، چیف جسٹس

پشاور(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان پشاور رجسٹری برانچ میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے دائررٹ پٹیشن کی سماعت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری ماحولیات،انڈسٹریل اورڈی جی ماحولیات بھی عدالت میں موجود تھے۔ دوران سماعت ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کیلئے انتظامات پر چیف جسٹس کا برہمی کا اظہارکہاکہ جو لوگ کام نہیں کرتے،فارغ کرکے نئے لوگ لے آئیںیہ اے سی کے کمرے میں بیٹھے ہوتے ہیںصرف خط لکھتے ہیںاگر افسران کام کررہے ہوتے تو کلف والے کپڑوں میں نہ آتے بلکہ جینز پہن کر آتے خطوط پرکام ہونے کا زمانہ چلا گیا،خط لکھنابابو کا کام ہے چیف جسٹس نے کہاکہ یہاں بہت بری حالت ہے،ہرجگہ آلودگی ہے آپ کی رپورٹ میں غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیاگیاہے آپ کے کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آئے،کاغذی معاملات میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیںآپ کہتے ہیں بلین ٹری لگائی لیکن ہمیں کوئی درخت نظر نہیں آیاآپ کو پتہ نہیں کہ دنیا میں معاملات کیسے چل رہے ہیں ہم نے شہر کا حال اپنی آنکھوں دیکھ لیاچھوٹے شہر کا یہ حال ہے تو بڑے شہروں کا کیا حال ہوگا۔لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے اچھے اقدامات کئے گئے،اس موقع پرجسٹس فیصل عرب نے کہاکہ اگر کورونا نہ ہوتا تو بھی آلودگی کی وجہ سے فیس ماسک لگاتے جسٹس اعجاز الاحسن کاکہناتھاکہ آپ ایس اوپیز جاری کرتے ہیں مگر عملدرآمد کیسے ہوگا،عدالت نے سیکرٹری وڈی جی ماحولیات جبکہ سیکرٹری انڈسٹری کونوٹس جاری کرتے ہوئے4ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کرکے سماعت ملتوی کردی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*