پاکستان میں کورونا وبا کی دوسری لہر آنے کا خدشہ

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں کورونا وباءکی دوسری لہر آنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھیں، تمام دفاتر اور تعلیمی اداروں میں ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ اللہ کی رحمت سے دوسرے ممالک کی نسبت ہم کورونا کے شدید خطرات سے بڑی حد تک محفوظ رہے ہیں۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ کورونا وبا کی دوسری لہر کا خدشہ ہے، لہذا عوام سے اپیل ہے کہ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ تمام دفاتر اور تعلیمی اداروں میں ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کیا۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق یورپی ممالک کے بعد پاکستان میں بھی کرونا کے پھلاﺅ میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جسکی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ یہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ کراچی ایک بار پھر کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ وہاں کئی علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاﺅن لگایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ملک میںسمارٹ لاک ڈاﺅن اور حفاظتی تدابیر کی بدولت کرونا کا زور ٹوٹا تھا۔ مگر اب ایک بار پھر بے احتیاطی کی وجہ سے خطرہ ہے کہیں پاکستان دوبارہ کرونا کی گرفت میں نہ آجائے۔ محکمہ صحت اور دیگر ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ دوسری لہر آ گئی ہے۔ خطرہ ہے کہ اگر حالات مزید خراب ہو گئے تو ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاﺅن لگانا پڑے گا۔ کاروباری اور تجارتی مراکز سکول ہوٹل اور ریسٹورنٹس پھر بندکرنا پڑیں گے۔ جیسا کہ پہلے ہم دیکھ چکے ہیں۔ اگر عوام نے احتیاط سے کام نہ لیا تو پھر حکومت سخت اقدامات پر مجبور ہوگی۔
اس لئے ضروری ہے کہ کورونا وباءکے پھیلاﺅ کے روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے اور غیر ضروری سفر اور بازار جانے سے گریز کیا جائے۔کیونکہ پر ہجوم مقامات پر اس وباءکے پھیلاﺅ کے خطرات بڑ ھ جاتے ہیں اس لئے عوام کو چاہیئے کہ وہ ماضی کی طرح وزیر اعظم عمران خان کی سمارٹ لاک ڈاﺅن کی حکمت عملی کو مد نظر رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوں تاکہ اس دوسری لہر کے شروع میں ہی اس پر قابو پایا جا سکے ۔
امید ہے کہ عوام اس بار بھی احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کر تے ہوئے کورونا وباءکے پھیلاﺅ کے روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل کر ے گی اور جہاں اس وقت ہمارے ملک کو دوسرے کئی چیلنجز کا سامنا ہے اس لئے اس وباءکو چیلنج نہیں بننے دیں گے اور اس کی دوسری لہر کو شروع میں ہی قابو کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*