عوامی مسائل کے حل تحمل مزاجی اور سیاسی بصیرت کی ضرورت!!!!

محمد ارکرم چودھری
حکومت کے پاس اپوزیشن کے احتجاج کا راستہ روکنے یا عوامی حمایت حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ عام آدمی کے مسائل حل کیے جائیں اگر حکومت اس میں کامیاب نہیں ہوتی تو اپوزیشن کے پاس عوام کو سڑکوں پر لانے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ سیاسی تحریک اگر شروع ہو جائے اور اسے عوامی حمایت بھی حاصل ہو جائے تو یہ کہیں نا کہیں کچھ نا کچھ اثر ضرور چھوڑتی ہے۔ کسی بھی حکومت نے کبھی عوامی احتجاج کو سنجیدہ نہیں لیا ہر دور میں عوامی احتجاج کو شرپسندوں کا اجتماع ہی سمجھا گیا ہے یا پھر ان کی تعداد پر بحث کی جاتی رہی ہے۔ افسوس کہ سیاسی حکومتوں میں بھی عوام کے سڑکوں پر آنے کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا رہا۔ حالانکہ سب حکمران یہی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ عوامی حمایت سے یا ان کے ووٹوں سے اقتدار میں آئے ہیں حیران کن طور پر اقتدار میں آنے کے بعد وہ احتجاج کرنے والوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ اگر ملک میں حقیقی جمہوریت ہوتی یا سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ہوتی تو عوامی احتجاج کو سنجیدہ لیا جاتا اور سڑکوں پر نکلنے والوں کے مسائل حل کیے جاتے لیکن آج تک ایسا نہیں ہو سکا۔ جہاں حکومتیں پرفارم کر رہی ہوں، حکمران ٹھیک انداز میں اپنا کام کر رہے ہوں وہاں عوام کو بنیادی مسائل کے لیے سڑکوں پر نہیں آنا پڑتا وہاں احتجاج قومی یا بین الاقوامی مسائل کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ہماری جمہوریت میں سیاست دان کبھی عوامی مسائل کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلے بلکہ وہ ہمیشہ ذاتی مفادات کے لیے عوام کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ حکمران جماعت مخالف سیاسی جماعتوں کے ووٹرز کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے حالانکہ حکومت میں آنے کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کے لیے سب لوگ برابر ہونے چاہییں اور سب کے ساتھ یکساں برتاﺅ کیا جانا چاہیے لیکن بدقسمتی سے یہاں تو جن حلقوں سے مخالف سیاسی جماعت جیت جائے وہاں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ بھی روک دیا جاتا ہے۔ ہمارے سیاسی رویے یہی ہیں اور ایسے رویوں کے بعد ہی سیاسی تحریکوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو اسے کیسے ملک و قوم کے لیے بہتر کہا جا سکتا ہے۔ جن تحاریک میں قومی مقاصد شامل تھے وہ کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ ایسی کئی تحاریک ہماری تاریخ کا روشن حصہ ہیں لیکن جب کبھی سیاسی قیادت عوام کو سڑکوں پر لائی ہے انہیں ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے بعد بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ آج بھی کسی سیاسی تحریک کی تیاریاں ہیں اس پر بھی بات کرتے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ یہ سارا کھیل سیاسی ہے اور اس میں کہیں بھی کوئی ملک و قوم کی بہتری کا کوئی مقصد شامل نہیں ہے۔ یہ حزب اختلاف کی دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں پٹی ہوئی جماعتیں ہیں۔ ان جماعتوں کو عام انتخابات میں عوام نے مسترد کیا تھا۔ جس عوام نے انہیں مسترد کیا تھا یہ پھر اس کے پاس جا کر حکومتی کمزوریوں اور خامیوں کا اجاگر کرتے ہوئے سڑکوں پر لانے کی کوشش کریں گے۔ گوکہ حکومت کے پاس بتانے یا پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے اس کے باوجود عوامی احتجاج ایک مشکل مرحلہ ہے کیونکہ عام ا?دمی نظام سے تنگ آچکا ہے۔ عوام کے نام پر سیاست کرنے والے عوامی مسائل کے بجائے ذاتی لڑائیوں کو سیاست کے میدان میں لڑنے کی تیاریوں میں نظر آتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ شاطر اور مفاد پرست سیاست دان ایک مرتبہ پھر سادہ لوح اور معصوم عوام کو ذاتی مقاصد و مفادات حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ اگر یہ ہلچل اور سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ عوامی مسائل پر ہوتا تو اس کی ہر حلقے میں پذیرائی ہوتی اور یہ سارا عمل غیر متنازع بھی ہوتا لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے اس لیے اپوزیشن کے اجتماع پر ان کے مخصوص حمایتی افراد کے علاوہ تنقید کا سامنا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اس تحریک کے سربراہی لندن بیٹھے میاں نواز شریف کر رہے ہیں۔ گذشتہ چند روز سے انہوں نے جس نداز میں گفتگو کی ہے وہ براہ راست ملکی سلامتی کے اداروں پر حملے اور ملک میں انتشار پھیلانے کی واضح کوشش ہے۔ میاں نواز شریف کے بعد اس اتحاد کے دوسرے بڑے اتحادی مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔ زمینی حقیقت کو دیکھتے ہوئے موجودہ سیاسی حالات میں مولانا میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ان کا منظم نیٹ ورک موجود ہے۔ وہ سٹریٹ پاور رکھتے ہیں اور ان کے مدارس کا نیٹ ورک اتنا مضبوط و موثر ہے کہ وہ تمام اہم شہروں میں بڑے اجتماعات کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں جب کہ گفتگو کے معاملے میں بھی غیر محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں۔ مذہبی سیاسی جماعت ہونے، افغان جنگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے بھی وہ ایک خاص حیثیت بہرحال رکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کی حد تک تو نہایت موثر اور جاندار جماعت ہے پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی وہ متحرک ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ا?صفہ بھٹو زرداری میدان میں ا?تی ہیں تو پھر بلاول اور آصفہ مل کر اپنے پرانے ووٹرز کو باہر نکالنے اور ہمدردی کا ووٹ حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔اس سیاسی جوڑ توڑ کو دیکھتے دیکھتے ایک تکلیف دہ خبر نظر سے گذری ہے۔ خبر کچھ یوں ہے کہ گذشتہ ایک برس میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے ایک سو اٹھائیس افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ ان حادثات سے بلوچستان میں چھیاسٹھ، خیبر پختونخوا میں پچاس، پنجاب بارہ اور سندھ میں دو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ ایک مسئلہ ہے۔ کیا کانوں میں کام کرنے والے انسان نہیں ہیں کیا یہ کسی کے ووٹرز نہیں ہے، کیا بہتر سہولیات ان کا حق نہیں، کیا حفاظتی انتظامات کے ذریعے جان کو محفوظ بنانا ان سے کام لینے والوں کی ذمہ داری نہیں ہے۔ بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔ کیا کسی سیاست دان کو اس کی خبر ہے۔ کیا انہیں سہولیات فراہم کرنا اور ان کی زندگی کی حفاظت کرنا کسی حکمران کی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ صرف ایک مسئلہ ہے اور اس کی وجہ سے ایک سال کے دوران ایک سو سے زائد قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے کسی سیاست دان یا بالخصوص وہ جماعتیں جو ان دنوں عوام کے غم میں مری جا رہی ہیں ان میں سے کسی کو ان کے اہلخانہ سے تعزیت اور ان کے پسماندگان سے ملنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ نا ہی ان محنت کشوں کے مسائل حل کرنے کے کسی نے کوئی کام کیا ہو گا۔ جب ہم ایسی خبریں پڑھتے ہیں تو یقین ہوتا ہے کہ اپوزیشن کا اجتماع ذاتی مفادات کے لیے ہے اس اجتماع کا عوامی مسائل سے کوئی تعلق کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ سبزیاں، پھل، دالیں، آٹا، گھی، گوشت اور ادویات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ دودھ پینا قسمت میں نہیں اس سنگین صورتحال کے باوجود اپوزیشن کو عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق نہیں لیکن اب انہیں اندرونی و بیرونی طاقتوروں نے شاید کوئی اشارے دیے ہیں کہ وہ باہر نکلیں اور ملک میں انتشار پھیلائیں۔ یہی وجہ ہے کہ میاں نواز شریف بھی جاگ گئے ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن بھی خود کو نظریاتی، انقلابی اور متحدہ اپوزیشن کا بڑا سیاسی لیڈر سمجھ رہے ہیں۔ عوامی مسائل نظر انداز کرنے کے باوجود یہ سب خود کو عوامی لیڈر سمجھتے ہیں۔موجودہ حالات جیسے بھی ہیں پارلیمانی نظامِ حکومت کی یہی خوبی ہے کہ جمہوریت میں بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ ملک میں موجود سیاسی جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی تدبر، بصیرت اور تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جس انداز میں اور جس شدت اور تعداد کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں حکومت کو ان کا جوب دینے کے بجائے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بات چیت، گفتگو، بحث کا آغاز کیا جائے، لوگوں کو سنا جائے اور ان کے جائز مطالبات کو پورا کیا جائے۔ کرپشن کیسز کے علاوہ جہاں جہاں تحفظات ہیں انہیں قانون کے دائرے میں رہ کر دور کیا جائے۔ یہ بیان بازی، جارحانہ طرز عمل کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ تلخی بڑھتی چلی جائے گی تو اس کا اثر تمام شعبوں پر پڑے گا۔ راحت اندوری کا شعر ہے کہ
کل حیدر آباد میں مارچ کرینگے‘ متحدہ‘ کراچی می ں ریلی نکالیں گے: پیپلز پارٹی
لگے گی آگ تو آئیں گے کئی گھر زد میں
یہاں صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
سو آگ بجھانے اور اس پر پانی ڈالنے کا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران کو اس مشکل وقت میں لیڈ کرنا چاہیے انہیں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے بجائے ملک کے وزیراعظم کا کردار نبھانا ہو گا۔
اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کام شروع کریں۔ وزراء کی غیر ضروری بیان بازی پر پابندی لگائیں۔ صرف وزارت اطلاعات کو میڈیا کے سامنے موقف دینے کا پابند بنایا جائے باقی سب کو روک دیا جائے۔ عوام کے سڑکوں پر آنے کا انتظار کرنے کے بجائے ان کے سڑکوں پر آنے سے پہلے مسائل حل کرنے پر کام کیا جائے۔ بیان بازی کا جواب صرف بیان بازی ہی نہیں ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے معتدل مزاج رہنماو?ں کو مل بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔ ناراض افراد کو منایا جائے ان کی بات سنی جائے اور سیاست دان اس مشکل وقت میں اپنی اہلیت اور قابلیت ثابت کریں کہ وہ مسائل بات چیت اور گفتگو کے ذریعے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو اس معاملے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ میاں نواز شریف کو بھول جائیں، ان کی بیٹی کو بھول جائیں اس ملک اور اس ملک کے حصول کے لیے دی گئی بزرگوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور اس ملک کی سلامتی کے لیے متحد ہو کر اندرونی و بیرونی دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*