اپوزیشن کا مشترکہ اتحاد پی ڈی ایم نا اہل اور مسترد شدہ لوگوں کا ٹولہ ہے، قاسم سوری

اسلام آباد+کوئٹہ(این این آئی)اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نا اہل اور مسترد شدہ لوگوں کا ایک ٹولہ ہے اور پاکستان کی عوام کو ایک مرتبہ پھر سے بیوقوف بنانے کی کوشش ہے لیکن اب ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور ہے اب پاکستانی عوام جان چکی ہے کہ یہ اتحاد صرف اور صرف چند نا اہل اور کرپٹ سیاستدانوں نے اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے اور احتساب کے عمل سے بچنے کے لیے کیا ہے۔ ان باتوں کا اظہار ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے پی ڈی ایم کے 11 اکتوبر کو کوئٹہ میں ہونے والے جلسے کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کیا۔قاسم خان سوری نے کہا کہ نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ ن کو میٹرو بس، اورنج بس، سی پیک کا افتتاح کرتے ہوئے، موٹروے، سڑکیں بناتے وقت کوئٹہ اور بلوچستان یاد نہیں آیا۔ اب اپنی کرپشن چھپانے اور احتساب سے بچنے کے لیے بلوچستان کی عوام کی مسترد شدہ بلوچستان کی مفاد پرست قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر جلسے کے لیے کوئٹہ یاد آ گیا ہے۔ نواز شریف اور ان کی جماعت جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو صرف اور صرف پنجاب کا سوچتے ہیں اور جب اپوزیشن میں آ جاتے ہیں تو پھر انھیں چھوٹے صوبے اور مظلوم اقوام پشتون، بلوچ اور سندھی یاد آ جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 2011 کے بعد سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو بے تحاشا پیسہ ملا اس دوران بلوچستان میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں رہیں ان کے ساتھ یہاں کی قوم پرست اور مذہب پرست جماعتیں بھی ساتھ تھیں یہ سب پیسہ کہاں گیا؟ بلوچستان پر تو ان حکومتوں نے این ایف سی ایوارڈ کا ایک روپے بھی نہیں لگایا۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان میں قوم پرست اور مذہبی جماعتیں ہمیشہ سے صوبے کی برادر اقوام کو کبھی قوم پرستی کے نام پر، کبھی مذھب کے نام پر اور کبھی پنجاب کی لوٹ مار کے نام پر لڑواتے رہے ہیں اور آج اپنے اپنے مفادات کیلئے یکجا ہو کر عدالتوں سے اشتہاری پنجاب سے ایک کرپٹ ترین، اشتہاری اور نا اہل سابقہ وزیر اعظم کی گود میں بیٹھ گئے ہیں۔ قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ 70 سال تک بلوچستان اور وفاقی حکومتوں کا حصہ رہنے والے بلوچستان کے قوم پرستوں اور مذہبی جماعتوں نے بلوچستان کی ترقی، احساس محرومی اور پسماندگی دور کرنے کے لیے کیا کیا ہے جو یہ صرف 2 سال پہلے اقتدار میں آئی پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف یکجا ہو کر عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان کی 70 سالہ سیاسی تاریخ میں مفاد پرست قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کا ٹولہ تقریبآ تمام حکومتوں کا حصہ رہا ہے اور ذاتی مفادات کی سیاست کرتا رہا ہے جس کی وجہ سے اب صوبے میں نظریاتی سیاست نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلوچستان کی سیاست ہمیشہ سے ہی شخصیتوں کی محتاج رہی ہے اور ا±ن شخصیتوں کے غلط یا صحیح فیصلوں کے اثرات براہِ راست صوبے کے عوام پر پڑتے رہے ہیں اور بلوچستان کی پسماندگی کے زمہ دار یہ قوم پرست جماعتیں ہی ہیں۔قاسم خان سوری نے کہا کہ ملک کو انتشار کی جانب دھکیلنے، سی پیک کے مغربی روٹ کا کام روکنے اور صوبے کے نوجوانوں کو تشدد کی جانب راغب کرنے کے لیے میاں نواز شریف، پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، قوم پرست جماعتوں اور اپوزیشن جماعتوں کو کوئٹہ اور بلوچستان یاد آ رہا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کوئٹہ میں جلسہ رکھنے کی وجہ صرف اور صرف کھلبوشن یادیو اور بھارت کو فائدہ پہنچانا ہے بھارت بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات کروا کر ہماری فورسز، وکلاء، ڈاکٹرز، اساتذہ، دانشوروں کو قتل کروا رہا ہے اور دوسری جانب ایک عدالتی سزا یافتہ مفرور شخص نواز شریف بھارتی عزائم کو تقویت دینے کے لیے کوئٹہ کے نوجوانوں کو تشدد کی طرف مائل کر رہا ہے لیکن کوئٹہ اور بلوچستان کی عوام کا حافظہ بہت تیز ہے اور اور وہ نواز شریف اور مفاد پرست قوم پرستوں کی بلوچستان دشمنی کو نہیں بول سکتے ہیں۔قاسم خان سوری نے مزید کہا کہ بلوچستان کے حقوق کے نام پر اپنی خانی اور سرداری کو چمکانے والے صوبے کی پسماندگی کے زمہ دار ہیں۔ مفاد پرست ٹولے چھوٹے صوبے کے حقوق کے نام پر کبھی رائیلٹی کھاتے ہیں اور کبھی عہدے حاصل کرتے ہیں۔ بلوچستان کا مفاد پرست ٹولہ اس صوبے میں کبھی بھی ترقی نہیں چاہتا کیوں کہ اس سے وہ اپنی ریاست اور حکومت کھو دے گا۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے حکمرانوں نے وہاں کی عوام کو اپنا محکوم رکھنے کے لیے تعلیم اور دوسری سہولیات کو ان سے دور رکھا اور اس طرح سے انہوں نے دوہرا فائدہ حاصل کیا وہ یہ کہ عوام بھی غیر تعلیم یافتہ رہی اور اپنے حق کو پہچان نہ سکی۔ دوسری جانب وفاقی حکومتوں پر یہ دباو¿ رکھا کہ وہ وہاں کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کر رہے۔ جب کہ یہ انکا فرض تھا کہ وہ اپنے علاقے کی عوام کے لیے حکومت سے گرانٹ حاصل کریں۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ تعلیمی پسماندگی ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے کبھی اس صوبے کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی طرف توجہ نہیں دی۔ اب پچاس سال بعد صوبے کے نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں اور ان میں اتنی قابلیت بھی نہیں کہ انہیں کوئی روزگار مل سکے۔ جب تک بلوچستان اور ملک کے تعلیمی نظام کی بنیاد مقابلے پر نہیں رکھی جاتی اسے بلند نہیں کیا جا سکتا اور بلوچستان ہی کیا کسی بھی پسماندہ علاقے کے نوجوان کو اس علاقے کی ترقی سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ اصل مسئلہ وہ مفاد پرست نواب اور سردار ہیں جو ہر ترقی کی راہ میں رکاوٹ حائل کرتے ہیں۔اگر بلوچستان کی عوام کو پڑھنے لکھنے دیا جاتا تو انہیں ان کا حق آسانی سے مل جاتا۔قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ جو مسترد شدہ مفاد پرست قوم پرست بلوچستان پر صرف اپنا حق جتاتے ہیں اور قربانیوں کا اظہار کرتے ہیں ان کے لیے عرض ہے کہ بلوچستان میں صرف بلوچ باشندے ہی قتل و غارت گری اور ظلم کا شکار نہیں? ہوئے بلکہ پشتون، پنجابی اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے وہ افراد بھی ناحق مارے گئے جنہوں نے بلوچستان کی تعمیر و ترقی کیلئے ایثار کرتے ہوئے گرانقدر خدمات انجام دیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*