وفاقی کابینہ کا زیادتی کیسز میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانےکا فیصلہ

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ اے پی سی کے حوالے سے ہمیں کوئی پریشانی تھی نہ ہے،قانون سے فرار شخص تندرست توانا بیٹھا ہوا تھا،توانائی کا گردشی قرضہ کینسر کی طرح پھیلتا جارہا ہے،توانائی شعبے کے مسائل بارے جلد عوام کو آگاہ کرینگے ، ماضی کے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے بجلی مہنگی ہوئی،ان معاہدوں کو تو توڑ نہیں سکتے، رعایت کےلئے کوشاں ہیں ،بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویل کی بجلی کے پیسے کوئی دیتا نہیں ہے،مذہبی معاملات حساس ہوتے ہیں،ہمیں فرقہ واریت میں بالکل نہیں الجھنا چاہیے،موٹروے زیادتی کیس کا ایک ملزم پکڑ لیا ہے ،دوسرا ملزم بھی جلد پکڑا جائےگا ، جنسی جرائم کے مرتکب ملزمان کو انجام تک پہنچانے اور سخت ترین سزاﺅں کو یقینی بنانے کے بل پر غور کیا گیا،آنے والے اجلاس میں جامع قانون پیش کریں گے۔منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے گزشتہ دو سال میں کابینہ کے 50 اجلاس ہوئے ۔ انہوںنے کہاکہ پیپلزپارٹی کے دور میں 26 اور مسلم لیگ (ن )کے دور میں کابینہ کے 8 اجلاس ہوئے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ کوئی شک نہیں کہ قوانین اسلام کی روح کے مطابق ہونے چاہئیں،ریپ کے غلیظ جرم کے مرتکب ملزمان کو کڑی سزا ملنی چاہئے۔انہوںنے کہاکہ جنسی جرائم کے مرتکب ملزمان کو انجام تک پہنچانے اور سخت ترین سزاﺅں کو یقینی بنانے کے بل پر غور کیا گیا،آنے والے اجلاس میں اس حوالے سے جامع قانون پیش کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ قانون میں کئی سقم ہیں۔انہوںنے کہاکہ زیادتی کیسز میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کابینہ اجلاس میں توانائی کے شعبہ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ بجلی کا سرکلر ڈیبٹ 2.1 کھرب تک پہنچ گیا ہے ،ماضی میں بجلی کے ایسے معاہدے کیے گئے جنہوںنے پاکستان کو گروی رکھ لیا،ماضی میں ہونے والے معاہدوں کو تو توڑ نہیں سکتے۔ انہوںنے کہاکہ پہلے سے ہونے والے معاہدوں میں رعایت کےلئے کوشاں ہیں تاکہ بجلی سستی اور گردشی قرضہ کم ہو،کچھ دنوںمیں توانائی کے شعبہ ہر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ڈاکٹر فیصل نے محنت اور ذہانت سے شوکت خانم ہسپتال چلایا ،ڈاکٹر فیصل کا کرونا میں موثر کردار رہا اور اب یہ معاون خصوصی صحت ہیں۔ اسموقع پر ڈاکٹر فیصل نے کہاکہ زندگی بچانے والی کچھ ادویات کی قلت رہتی ہے ،چورانوے ادویات کی قلت رہی ہے ،فیصلہ کیا گیا ان ادویات کی قیمتوں پر دوبارہ نظرثانی کی جائے گی۔ ڈاکٹر فیصل نے کہاکہ ادویات کی قیمتوں میں تھوڑے سے اضافہ سے لوگوں کو یہ ادویات موثر ہوسکیں گی۔ انہوںنے کہاکہ چورانوے ادویات کی قیمتیں مناسب سطح پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،چورانوے ادویات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کیا جارہا ہے۔ شبلی فراز نے کہاکہ بجلی کی پیداوار پر تو توجہ دی گئی لیکن ٹرانسمیشن لائنز اور لائن لاسز پر توجہ نہ دی گئی۔ انہوںنے کہاکہ کچھ علاقے ایسے ہوتے ہیں جو بل نہیں دیتے۔ انہوںنے کہاکہ بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویل کی بجلی کے پیسے کوئی دیتا نہیں ہے،انہوں نے ہدایت کی تھی کہ کوئی بل دے نہ دے اسے بجلی دیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے ماضی کے معاملات کو ریگولرائز کیا ہے۔ شبلی فراز نے کہاکہ ڈاکٹر شہباز گل وزیراعظم کے ترجمان ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر توانائی کے شعبہ کو ریگولرائز کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مذہبی معاملات حساس ہوتے ہیں،ہمیں فرقہ واریت میں بالکل نہیں الجھنا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ مذہب کے حوالے سے میرا کمنٹ نہیں بنتا۔ شبلی فراز نے کہاکہ بیرونی دشمنوں کی پوری کوشش ہے کہ ہمارے معاشرے میں انتشار پیدا کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے اے پی سی اور اس کے تقاریر میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ،تقاریر میں اداروں کے حوالے سے زہر زیادہ تھا۔ انہوںنے کہاکہ قانون سے فرار شخص تندرست توانا بیٹھا ہوا تھا۔ شبلی فراز نے کہاکہ اداروں کو مفلوج کرنے میں ان کا ہاتھ ہے ،کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ان کا ہاتھ ہے ،کابینہ میں اے پی سی کے بارے ایک لفظ نہیں بولا گیا۔ڈاکٹر فیصل نے کہاکہ کرونا کے اعدادو شمار روزانہ کی بنیاد پر جاری کیے جارہے ہیں ،روزانہ کے مریضوں کی تعداد پانچ سو چھ سو ہے ،فی الحال کرونا کے حوالے سے صورتحال کنٹرول میں ہے ،محکمہ تعلیم اور سکولوں کو سراہا جانا چاہیے کہ ماسک کا استعمال کیا جارہا ہے ،ماسک کا استعمال ترک کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ معیشت کی بہتری کے ثمرات جلد عوام کو ملیں گے۔ شبلی فراز نے کہاکہ موٹروے زیادتی کیس کا ایک ملزم پکڑ لیا ہے ،دوسرا ملزم بھی جلد پکڑا جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*