ہندوستانی فو ج کی ایل او سی پر اشتعا ل انگیز ی

گذشتہ رو ز ہندوستانی فو ج نے ایک با رپھر لا ئن آف کنٹر ول پر سیز فا ئرمعا ہد ے کی خلا ف ورزی کر تے ہوئے رکھ چکر ی سیکٹر میں سو یلین آبا د ی کو نشا نہ بنا یا ہندوستانی فو ج نے آٹو مٹیک اور ہیو ی ما رٹر گو لو ں سے شہر ی آبا دی کو نشا نہ بنا یا اس وا قعہ میں ایک 11 سا لہ بچی شہید اور 4 افر اد زخمی ہو گئے کنٹر ول لائن کی اور سیز فا ئر معا ہد ے کی خلا ف ور زی پر پا ک فو ج نے ہندوستانی پو سٹو ں پر مو ثر جو ابی حملہ کیا ہندوستانی اشتعا ل انگیز ی میں زخمی ہونے والو ں میں 75 سا لہ خا تون اور 2 بچے بھی شا مل ہیں۔
ہندوستانی فو ج کے مسلسل لائن آف کنٹر ول پر سیز فا ئر معا ہد ے کی خلا ف ور ز یوں کی جتنی مذمت کی جا ئے کم ہے ہندوستان کو ایسا کرنا با لکل زیب نہیںدیتا اس کو پا کستان اور ہندوستان کے درمیان ہونے وا لے سیز فا ئر معا ہد ے کا احتر ام کرنا چا ہیئے لیکن وہ ایسا نہ کر کرکے عا لمی جر ائم کا مر تکب ہو رہا ہے ہندوستانی فو ج کی لائن آف کنٹر و ل پر مسلسل اشتعا ل انگیز ی کے نتیجے میں کئی جانیں جن میں پا ک آر می کے اہلکا ر اور سو یلین لو گو ں کی بھی ایک بڑی تعد اد شا مل ہے ضا ئع ہو چکی ہیں اور اس طرح زخمی ہونے وا لو ں کی بھی ایک بڑی تعد اد ہے۔
ہندوستان کے اس اشتعا ل انگیز کا ر وا ئیو ں کے جو اب میں پا کستان نے ہمیشہ پر امن رہنے کو تر جیح دیتے ہو ئے صبر کا مظا ہر ہ کیا لیکن شا ہد ہندوستا ن اس کو پا کستا ن کی کمز وری سمجھنے لگا ہے اگر ایسا ہے تو یہ اس کی خام خیا لی ہے اس کو اپنی ان نا رو ا حر کتو ں سے با ز رہنا چا ہیئے کیو نکہ اگر پا ک فو ج نے اس کو اس کا مو ثر جوا ب دیا تو ہندوستان کی فو ج اس کی تا ب نہیں لا سکے گی اور الٹے پا ﺅ ں بھا گ جا ئے گی کیو نکہ پا ک فو ج کا شما ر دنیا کی بہتر ین افو اج میں ہو تا ہے جس کا عا لمی سطح پر متعد د با ر اعتر اف بھی کیا جا چکا ہے اپنے ملک کی حفا ظت کیلئے نہ صر ف پا ک فو ج بلکہ اس کے عو ام بھی کسی سے پیچھے نہیں جس کی مثا ل پا ک و ہند کی 1965 ءاور 1971 کی جنگیں ہیں 1965 ءکی جنگ میں ملک کے صد ر فیلڈ ما ر شل ایو ب خان جو آرمی کی کما نڈ کر رہے تھے دشمن کے ٹینکو ں کے سا منے ڈٹ گئے تھے اسی طرحعو ام کی بھی ایک بڑی تعد اد جنگ میں شا مل ہو گئی تھی جو ایک لا ز وا ل مثا ل ہے اس طرح دونو ں جنگوں میں ہندوستان کو عبر ت نا ک شکست سے دو چا ر ہو نا پڑ ا جو اس کے لیے ایک سبق ہے اس لیے اسے اب اس کو دو با رہ نہیںد ہر انا چا ہیئے کیو نکہ پا کستان کا مقا بلہ کرنا اس کے بس کی با ت نہیں۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہندوستان کو اپنی پا لیسی میںتبد یلی لا تے ہوئے کنٹر ول لائن کی مسلسل خلا ف ور ز یا ں کو بند کرنا چا ہیئے اور پا کستا ن کے سا تھ ایک اچھے ہمسا یہ ملک کا کر دار ادا کرنا چا ہیئے کیونکہ جنگیں مسائل کا حل نہیں بلکہ تبا ہی کا ر استہ ہیں ان کا سد با ب کر نا چاہیئے یہا ں ایک اور با ت کا ذکر کرنا از حد ضروری ہے کہ ہندوستا ن کی اس نا رو ا حر کت پرعا لمی ادا رے خا مو ش تما شا ئی بنے ہوئے ہیں وہ اس پر کوئی ایکشن نہیں لے رہے جو کہ قا بل مذمت اقدام ہے ان کا یہ کر دا ر بہت ہی غلط ہے ان ادا رو ں کو ہندوستان کے ان اقد اما ت کا نو ٹس لیتے ہوئے اس کے خلا ف کا رو ائی کر نی چا ہیئے لیکن وہ دا نستہ پر ایسا نہ کر کے ہندوستان کے اس اقد ام کی حمایت کر رہے ہیںایسا کرنا ان کو زیب نہیں دیتا ان کو اپنی ذمہ دا ریا ں پو ری کر نی چا ہئیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*