منزل کے حصول کےلئے بڑی سوچ رکھنا پڑتی ہے ،عمران خان

لاہور( این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کچھ لوگ مشکلات کو نئے پاکستان سے جوڑ رہے ہیں ،ماضی کے حکمران ملک کوقرضوں میں ڈبو کر چلے گئے ، قرضوں کی واپسی کےلئے سخت فیصلے کرنا پڑے جس سے مشکلات آرہی ہے ، یہاں ماضی کے حکمرانو ں کی بڑی سوچ میں ملک ترجیح نہیں تھا بلکہ ان کی سوچ یہ تھی کہ اقتدا ر میں آئے ہیں تو شوگرملز لگا لیں اورپیسہ کما کر لندن میں بڑے بڑے گھر خرید لیں ،نیا شہر بسانا آسان کام نہیں اور ہمیں پتہ ہے کہ اس میں مشکلات اور رکاوٹیں آئیں گی ،جس پاکستان کا تصور ہم کرتے ہیں وہ راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں نظر آرہاہے، منزل کے حصول کےلئے بڑی سوچ رکھنا پڑتی ہے کشتیاں جلاکر آگے بڑھنا پڑتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے راوی ریور فرنٹ اربن ڈوویلپمنٹ پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وزیر علیٰ پنجاب سردار عثما ن بزدار ،وفاقی و صوبائی کابینہ کے اراکین، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے ۔ وزیر عظم عمران خان نے کہا کہ میرے اندر آج اس طرح کا احساس پیدا ہو رہا ہے جو آج سے 31سال پہلے شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے موقع پر تھا ۔ جب ہمیں جوہر ٹاﺅن میں زمین دی گئی تو وہاں پر صرف کھیت تھے اور وہ علاقہ لاہور سے باہر تھا لیکن آج وہ لاہور شہر کے اندر آ گیا ہے ۔ میں نے تصور کیا کہ یہاں پاکستان کا پہلا سپیشلائزڈ کینسر ہسپتال بنے گا اور جب اس کا سفر شروع ہوا تو ہر قسم کی مشکلات آئیں ، کئی ایسے دن ہوتے تھے کہ آگے دیوار آ رہی ہے اب آگے پراجیکٹ نہیں چل سکتا ،اسی طرح بیس سال بعد میں نے سوچا تھاکہ میانوالی میں ٹیکنیکل کالج بنا دوں گااور وہاں نوجوان ہنر سیکھیں گے لیکن میں جب وہاں گیا تو میں نے سوچا یہ یونیورسٹی بننی چاہیے اور نمل یونیورسٹی کا خواب سوچا ۔ جب یونیورسٹی کا فیصلہ کیا تو سب نے کہا کہ یہاںیونیورسٹی نہیں بن سکتی ، کیونکہ دیہاتوں میں پرائیویٹ یونیورسٹی نہیں بن سکتی کیونکہ اس میں بھی بڑے مسائل آئےں گے دیہات فیکلٹی چاہیے جو اس ویرانے میں نہیں جائیں گے ۔ آج میں نے یہاں کھڑے ہو کر دیکھا ہے تو میرے اندر خوشگوار احساس پیدا ہوا ہے ،ہم جس نئے پاکستان کا تصور کرتے ہیں وہ نیا پاکستان یہاں نظر آرہا ہے ،۔ نیا پاکستان کیا ہے ؟۔جب بھی کوئی مشکل وقت ہوتا ہے تو وہ رپورٹر اور کیمرہ مین مائیک پکڑ کر پہنچ جاتے ہیں کدھر ہے نیا پاکستان اور پھر لوگ بر ا بھلا کرتے ہیں ، واقعی مہنگائی ہوئی ہے ، لوگ کہتے ہیں برے حالات ہیں، بیروزگاری ہے ۔ کراچی میں جب بارشوں سے سیلاب آیا ہوا ہے لوگوں کے گھر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں تو جب آپ عوام سے پوچھیں گے کیا حالات ہیں تو کوئی بھی تعریف نہیں کرے گا ،ملک کے مشکل حالات ہیں تو لوگوں کےلئے مشکل حالات ہیں۔ جب ماضی کے حکمران ملک کو مقروض کر کے چلے جائیں ،قرضوں کی واپسی کےلئے سخت فیصلے کرنا پڑے جس سے مشکلات آر ہی ہیںلیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنے خواب چھوڑ دیں ، دنیا میں جس نے بھی بڑا کام کیا ہے اس نے اپنی صلاحیتوں کیو جہ سے نہیں کیا ایسا نہیں تھاکہ وہ پڑھا لکھا انسان تھا یا وہ بڑے امیر گھر میں پیدا ہوا بلکہ اس لئے کہ اس نے بڑا خواب دیکھا ۔ خواب ہی ہوتے ہیں جو انسان کو آگے لے کر جاتے ہیں۔ اگر کسی شخص کا یہ خواب ہے کہ میں نے صرف کلب کرکٹ کھیلنی ہے تو وہ انٹر نیشنل کرکٹ نہیں کھیل سکے گا ، جو بڑے کام کرتے ہیں اس کی سوچ بڑھی ہوتی ہے ۔ کسی نے سوچا تھا کہ انسان چاند میں جائے گا ، انسان چاند پر چلا گیا ہے ، اس وقت مسجد میں مولوی کہتے تھے کہ اب دنیا ختم ہو جائے گی، دیوانے ہی بڑے کام کرتے ہیں ، اللہ نے ہمیں صلاحیت دی ہے ، انسان اشرف المخلوقات ہے اور اللہ نے فرشتوںکو بھی انسان کے سامنے جھکنے کے لئے کہا ، اللہ نے انسان کو علم اور طاقت دی ہے جسے ہم پہچانتے نہیں ۔ ہماری سوچ یہ ہوتی ہے کہ اقدار میں آئےں تو شوگرملز لگا لیں،پیسہ کما کر لندن میں بڑے بڑے گھرلے لیں۔مہاتیر محمد کی بڑی سوچ تھی جنہوںنے ملائیشیاءمیں نیا شہر بسایا ، انہوں نے نہیں سوچا تھا کہ ہم ناکام ہو جائیں گے ، دنیا میں جس نے بھی بڑا کام کیا اس کی سوچ بڑی ہوتی ہے اس کے خواب بڑے ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ راوی ریور پراجیکٹ کی سوچ بہت پہلے سے تھی لیکن مجھے پتہ ہے یہ کیوں کامیاب نہیں ہوا کیونکہ جو حکمران تھے ا ن کی ترجیح ملک نہیں تھا بلکہ ان کی ترجیح یہ تھی کہ کتنی دولت بنانی ہے وہ کبھی بھی بڑی چیزیں نہیں بنا سکتے کبھی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ جو بڑے خواب کے پیچھے جاتے ہیں جو مقصد کے پیچھے جاتے ہیں وہ کشتیاں جلاکر جاتے ہیں کیونکہ پھر واپسی کا راستہ نہیں ہوتا اور پھر ہی انسان کی صلاحیت سامنے آتی ہے ۔جو یہ کہتے ہیں کہ میں کوئی اور کام کر لوں گا وہ کچھ نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بڑ ا مشکل کام ہے ، نیا شہر بنانا آسان کام نہیں ، راستے میں رکاوٹیں اور مشکلات آئیں گی اور رکاوٹوں نے آنا ہے لیکن ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ یہ شہر نہ صرف لاہور بلکہ پاکستان کی بھی ضورت ہے جس طرح آج لاہور پھیلتا جارہا ہے آگے بڑی مشکلات ہیں، چالیس فیصد لاہور کچی آبادیاںپر مشتمل ہے ،غریب بیچارے کدھر رہیں گے ، یہاں ایلیٹ کا مائنڈ سیٹ رہا ہے اسی لئے سارے فیصلے چھوٹے سے طبقے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ جب کورونا وائرس آیا تو مجھے کہا گیا کہ لاک ڈاﺅن لگا دو ،اٹلی ،سپین اور انگلینڈ بھی لاک ڈاﺅن لگا رہا ہے ، میں بار بار ایک سوال پوچھتا ھاکہ دیہاڑی دار طبقے کا کیا بنے گا ، کچی بسی آبادی کے لوگ کیا کریں گے لیکن کسی نے اس کا جواب نہیں دیا کیونکہ ان کو اس طبقے کی فکر ہی نہیںتھی اور انہوں نے کبھی ان کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا ،انہیں معلوم ہی تھاکہ دیہاڑی والا مزدور ی نہیں کرے گا تو بچوں کا پیٹ کہاں سے پالے گا ۔ میںتو بنی گالا یازمان پارک میں بڑے گھر میں رہ رہا ہوں میرے لئے توکوئی بات نہیںتھی ، سرکاری ملازمین کو تو تنخواہیں مل رہی تھیں بلکہ سب کے لئے چھٹی تھی ۔ بھارت میں نریندر مودی نے اس کا نہیں سوچا اور آج وہاں اللہ کا عذاب آیا ہوا ہے ،دنیا میں سب سے زیادہ جس ملک کی معیشت گری ہے وہ بھارت کی گری ہے ۔ بےچارے غریب لوگ جو دیہاتوں سے شہروں میںکام کرنے آئے وہ بھوکے واپس چل کر گئے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم خواب کی وجہ سے بنا تھا اس کے پیچھے ایک فلاحی ریاست کا خواب تھا اور وہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں قائم ہونی تھی ۔جب نبی کریم کے دور میں مہاجر مدینہ گئے تو مشکل گزارا کیا تب فیصلہ کیا گیا ریاست غریب اور کمزور طبقے کی ذمہ داری لے گی اس لئے وہ وہ عظیم قوم بنے ۔ اس وقت نبی کریم نے پہلے فلاحی ریاست بنائی اور اللہ کی برکت آئی اور انقلاب آیا جو دنیا کی تاریخ میں نہیں آیا ۔ چین نے اپنے 70کروڑ لوگوں کو غربت کی سطح سے اوپر لایا ہے اور آج ساری دنیا اس سے خوفزادہ ہے کہ دنیا کیسے اس کا مقابلہ کرے گی ،یہی ہمارا خواب ہے ۔ہم نے پہلی بار غریب کو ہیلتھ انشورنس دی ہے ، جو شخص مشکل سے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا ہے وہ بیماری میں کیا کرے ،ہم خیبر اور پنجاب میں اس کو کور کر رہے ہیں۔جب ہم جی ٹی وی روڈ سے پرانے راوی کے پل سے جاتے تھے تو لوگ سڑکوں اور فٹ پاتھوںپر پڑے ہوتے تھے گاڑیوں کا دھواں اور مٹی ان کے اوپر پڑی رہی ہوتی تھی اور میں ہمیشہ ان کے بارے میں سوچتا تھا، ہم نے پناہ گاہ کا منصوبہ شروع کیا اب ہم اس کے معیار مرتب کریں گے جو غریب آ ئے گا ان کا کھانا معیار ی ہوگا ، بیڈ شیٹس صاف ہوں گی ان کو نہانے کے لئے گرم پانی ملے گا ہم انہیں انسان بنا کر رکھیں گے کہ یہ آپ کا پاکستان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے روٹی کپڑا اورمکان صرف نعرہ تھا ، ہم نے غرببوں کے لئے افورڈیبل پاکستان ہاﺅسنگ سکیم شروع کی ہے ، اس کے علاوہ جو سوسائٹی بنے گی اس میں غریبوں کا کوٹہ رکھیں گے ،ہم نے تیس ارب روپے کا پیکج دیا ہے ، غریب گھروں کے لئے پانچ فیصد شرح سود پر قرض لے سکیں گے ، سبسڈی کی وجہ سے تنخواہ دار ،غریب طبقہ اور مزدور بھی گھر بنا سکے گا ۔انہوں نے کہا کہ راو ی ریور پراجیکٹ میںبھی اسی طرز کی سکیم ہو گی ، ہم نے احساس پروگرام شروع کیا ہے جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے ، یہ پسے ہوئے طبقات کو غربت سے نکالنے کا پروگرام ہے ، اس میں دو سو ارب روپے رکھے گئے ہیں جو اس سے قبل پہلے کبھی نہیں رکھے گے ،ہم ۔ قرضے دیں گے ،ہنر سکھائیں گے ،سکالر شپس دیں گے اور دے رہے ہیں،دیہات میں خواتین کوگائے اور بھینسیں دیں گے تاکہ ان کا گزارا بہتر ہو سکے ، خوراک کی کمی کا شکار ہونے والے بچوں کے لئے پروگرام شروع کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ لاہور میں پانی کی کمی کا مسئلہ شدید ہو رہا ہے اور تیزی سے واٹر ٹیبل نیچے جارہا ہے جب یہ منصوبہ بنے گا تو لاہور کا واٹر ٹیبل ری چارج ہوگا ، آج جو سیوریج سسٹم سے پانی راوی میں آتا ہے وہ جب نیچے تک جاتا ہے تو اس سے بیماریاں ہیں ، اس منصوبے کے تحت واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگیں گے اور پھر پانی سیوریج کا پانی صاف ہو کر راوی میں جائے گا جس سے راوی دریا بنے گا اور نیچے جو پانی جائے گا وہ بیماریاں نہیں پھیلائے گا ، ہم ماڈرن سٹی کے اندر گرین سٹی بنائیں گے ،ساٹھ لاکھ درخت اگائے جائیں گے ، آئی ٹی کا سنٹر ہوگا ،ایجوکیشن سنٹر ہوگا ، یہ شہر باقاعدہ منصوبہ بندی سے بنایا جائے گا۔وزیر اعظم عمران نے منصوبے کی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے میں رفتار بڑی اہمیت کی حامل ہے ، اس میں بین الاقوامی اور قومی مفاد بھی ہے ، آپ جلد ی سے ٹیم پوری کریں ، آپ کا پورا آفس فنکشنل ہونا چاہے ، وقت کم ہے اس لئے تاخیر نہیں ہونی چاہیے ، مشکلات آئیں گی لیکن ہم نے انہیں دور کرنا ہے ،جو بھی مسائل ہوں گے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے آفس آپ کے پیچھے کھڑے ہوں گے ، وفاقی اورصوبائی حکومتیں آپ کو پوری سپورٹ فراہم کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مکمل کیا جائے گا ، حکومت اس منصوبے کے لئے سہولیات دے گی ، انفر اسٹر اکچر دے جبکہ یہ منصوبہ پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری سے کھڑا ہوگا ، اس میں سب سے بڑا حصہ اوور سیز پاکستانیوں کا ہوگا ۔وزےراعظم عمران خان نے سنگ بنےاد کے موقع پر پودا بھی لگاےا ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*