مشیر اطلاعات عاصم باجوہ پر وزیر اعظم کا اعتماد

اسد اللہ غالب
پی ٹی آئی حکومت کے احتسابی منشور کی ایک کھلی مثال ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ ہیں۔ ان کے پاس دو عہدے ہیں۔ ایک تو وہ سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہیں، یہ عہدہ میری نظر میں پاکستان کے لئے ایک خوشحال مستقبل کی ضمانت ثابت ہو گا۔ دوسرا منصب مشیر اطلاعات کا ہے۔ جب انہیں یہ ذمے داری تفویض کی گئی تو میرے ذہن میں یہی نکتہ ا?یا کہ بطو رسربراہ آئی ایس پی آرا نہوںنے اطلاعات کی مینجمنٹ کے جو ہنر اور کمالات دکھائے۔ ان سے وزارت اطلارت کو بھی بہرہ مند کریں، خاص طورپر ففتھ جنریشن وار میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور فوج کو دہشت گردی کی جنگ جیتنے کے لئے اایک سازگار عوامی فضا مہیا کی، اسی طرح موجودہ حکومت چاہتی ہے کہ اب وہ گورننس کے شعبے میں پاکستان کو کامیاب و کامران ثابت کریں اور آج کی دنیا میں ہائیبرڈ وار کے منفی پروپیگنڈے کا توڑ تلاش کریں، یہ دونوں کام عاصم باجوہ کے بائیں ہاتھ کاکھیل ہیں اور چند ماہ میں انہوںنے سی پیک کا جس طرح ڈنکا بجایااورا سے پاکستانیوں کی امیدوں کامرکز و محور بنا دیا، اسی طرح محکمہ اطلاعات کے پلیٹ فارم سے خاص طور پر پاکستان کے کشمیر بیانیئے کو نمایاں کر دکھایا۔ میں ان کے اور ملک وقوم کے ایک ہمدرد کے طور پر دعا ئیںکرتا رہتا تھا کہ وہ ہر قسم کی بلاﺅں اور آفتوں سے محفوظ رہیں اور متلاطم موجوں سے کھیلتے ہوئے اپنی کشتی کو ساحل مراد تک بحفاظت تمام پہنچائیں۔ مگرایک ڈرون نما ویب سائٹ سے ان پر وار کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی، میں خودویب سائٹ کی دنیا میں ربع صدی سے موجود ہوں۔ کارگل کی کوریج کی وجہ سے واجپائی ا اور نوا شریف دونوں کی حکومت کے تھپیڑے سہہ چکا ہوں۔ مجھے یہ بھی فخر حاصل ہے کہ اپنے زمانے کی مقبول ترین ویب سائٹ کے ذریعے میںنے شوکت خانم ہسپتال کے لئے چندے کی اپیل کی اور اس کا ایسا مثبت جواب آیا کہ عمران خاں نے ہاتھ سے لکھ کر میری ویب سائٹ ملت آن لائن کو خراج تحین پیش کیا۔ اس پس منظر میں مجھے ذرا شک نہ تھا کہ اس امریکی ڈرون ویب سائٹ کا وار نشانے پر نہیں بیٹھے گا۔ میںنے پچپن برس تک صحافت کی ہے۔ اس لئے ڈرون ویب سائٹ پر موجود مواد میرے نزدیک کسی معیار اور اعتبار پر پورا نہ اترتا تھا، اس لئے مجھے کامل یقین تھا کہ یہ ویب سائٹ خوارو زبوں ہو کے رہے گی ،
دنیا نے وکی لیکس کا حشر بھی بھی دیکھا۔ اس پر لاکھوں صفحات کالے کر دیئے گئے۔ اسے دنیا کے ہر ملک میں ہوسٹ کیا گیا تاکہ اسے پیکنگ سے بچایا جا سکے مگر یہ لاکھوں صفحات کسی کا بال تک بیکا نہ کر سکے۔ اور اس کا مالک نجانے ماسکو کے کس کونے کھدرے میں چوہے کی طرح پناہ لئے گھسا بیٹھا ہے۔ سوشل میڈیا کے تمام پیرا شوٹرخواب دیکھتے ہیں کہ وو واشنگٹن پوسٹ کی طرح ہر دور کے نکسن کا تخت گرا سکتے ہیں۔مگر یہ خواب پورے نہ ہو سکے۔ دنیا کی کوئی ویب سائٹ انقلاب فرانس جیساارتعاش بھی پیدا نہ کر سکی۔ ویسے یہ انقلاب بھی حسرتوں کی راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ عاصم باجوہ اس حملے کو در خورا عتنا نہیں سمجھیں گے۔ مگر وہ وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کا حصہ تھے اس لئے انہیں اپنی صفائی پیش کرنا پڑی۔
عاصم باجوہ کے ارد گرد سازش کا جو جال بنا گیا، وہ ان کے خاندان کے بے مثل شاہنامے کا عکاس تھا۔ بیرون ملک پاکستانیوں نے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ ایک دنیا عش عش کر اٹھتی ہے۔ انہی میں چودھری محمد سرور آج پنجاب کے گورنر ہیں اور برطانیہ کی طرح پاکستان میںبھی ایک کامیاب سیاست دان ثابت ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے باجوہ خاندان کی امریکہ میں کاروباری سرگرمیوں پر عاصم باجوہ نے فخر کاا ظہار کیااور اپنے بچوں کو بھی یہی سبق دیا کہ وہ اپنے پر پرواز کے سہارے آے ہی آگے بڑھیں۔ ان میں سے کسی کے کاروبار کی جواب دہی کی ذمے داری عاصم باجوہ پر عاید نہیں ہوتی تھی۔ پھر بھی عاصم باجوہ صاحب نے ایسے مسکت اندازسے جواب دیا کہ سب کو سانپ سونگھ گیا۔
سو عاصم باجوہ نے چار صفحات کا وضاحت نامہ میڈیا کے سامنے پیش کیا، پھر اینکروں کے سوالوں کے جواب دیئے جبکہ وہ کسی اینکر کی عدالت میں پیش ہونے کے مکلف نہ تھے اسی لئے جب ایک اینکر نے ان سے بار بار پوچھا کہ آپ منی ٹریل دے سکتے ہیں۔ یہ بھی ایک فیشن ہے کہ ہمارے اینکروںنے منی ٹریل کا لفظ حفظ کرلیا ہے۔ اور منی ٹریل یوںمانگتے ہیں جیسے وہ کسی جے آئی ٹی کے سربراہ ہوں یا پاکستان کے چیف جسٹس کے عالی قدر منصب پر براجمان ہوں۔ ایک اینکر کو تو باجوہ صاحب کو جوابی سوال داغ کر خاموش کر ادیا کہ کیاا ٓپ کے پاس اسلام آباد کے بنگلے کا منی ٹریل ہے۔ پاکستان میں منی ٹریل آج تک کسی نے پیش کیا ہے تو وہ و زیرا عظم عمران خان ہیں جنہوںنے مہینوں صرف کر کے بنی گالہ کا کھاتہ عدالت کے حضور پیش کر دیا اورصادق اور امین کہلائے۔ یہی صادق اور امین وزیر اعظم ہیں جنہوںنے اپنے مشیر اطلاعات عاصم سلیم،باجوہ کا کھاتہ دیکھ کر ان پر کامل اعتماد کاا ظہار کیا۔
پاکستان کے لئے مستقبل کی راہیں روشن کرنے والا اور ہائیبرڈ وار اور ففتھ جنریشن وار بلکہ ڈرون وار کا منہ توڑ جواب دینے والا عاصم سلیم باجوہ اللہ کے فضل سے میدان عمل میں موجود ہے۔ اور مجھے اطمینان ہے کہ میرے ملک کی ا گلی نسلیں ہر لحاظ سے محوظ و مامون ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*