احتساب یکطرفہ ان کو نظر آتا ہے جن کی آنکھوں پرپٹیاں بندھی ہوئی ہیں، چیئرمین نیب

NAB Chairman

اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب شفاف اوریکساں احتساب کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور احتساب یکطرفہ ان کو نظر آتا ہے جن کی آنکھوں پرپٹیاں بندھی ہوئی ہیں،اگر نیب ناکام ادارہ ہوتا تو364 ارب روپے کہاں سے نکلتے؟ تنقید کرنے سے پہلے آئین اور قانون کودیکھ لیں، 1200 ارب روپے کے ریفرنس کے معاملات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں ،دھیلے کی نہیں کروڑوں اربوں کی کرپشن کی گئی ہے،کیسزکا جلد ازجلد فیصلہ ہوگا تو دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوگا۔ منگل کو نیب ہیڈکوارٹرز میں مضاربہ کیس کے متاثرین میں رقوم کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہاکہ میں یہ بات دعوے سے کہ سکتا ہوں کہ ہوسکتا ہے نیب کی نادانستہ غلطی کی وجہ سے 100 روپے کا کیس 105 یا 110 روپے کا بن گیا ہو تاہم ایسا نہیں ہے کہ کسی بے گناہ شخص کے خلاف کیس درج یا ریفرنس تیار کیا گیا ہو۔انہوںنے کہاکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بشمول چیئرمین نیب نیب کے تمام اراکین کو خدا کو جواب دینا ہے اور ہم سے بھی ہر وہ سوال پوچھا جائے گا جو عام آدمی سے پوچھے جائے گا، نیب کو کسی قسم کا کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ مضاربہ کیس ان کیسز میں سے ایک تھا جو انتہائی مشکل ترین کیسز تھے، یہ پاکستان کی سب سے بڑی ڈکیتی تھی یہ فراڈ یا دھوکہ دہی کا کیس نہیں تھا بلکہ اس میں مفتیان کا فرعونیت کا رویہ تھا انہوں نے جو دولت غلط طریقے سے اکٹھی کر کے سرمایہ کاری وہ وہاں سے کچھ حاصل نہ کرسکے یہ وہ انتقام تھا جو قدرت نے مفتیان سے لیا اور آج وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف ملکی بلکہ عدالتی تاریخ کا سب سے بڑا کیس تھا جس میں قید کی سزا کے علاوہ 10 ارب روپے کا جرمانہ کیا گیا جو عدالتی تاریخ میں ایک مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جرمانے کی رقم حاصل کر کے ان افراد کو دی جائے جن سے رقم لوٹی گئی تھی لیکن بظاہر ان کی مالی حیثیت جرمانہ ادا کرنے کے قابل نہیں لگتی۔انہوںنے کہاکہ قدرت کا نظام ہے آپ جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے اور اگر دنیا میں غلط کام کریں گے تو اس کا صلہ پروردگار آپ کو دنیا میں ہی دے دے گا اور سزا و جزا کے لیے قیامت کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کی کامیابیوں کا کریڈٹ چیئرمین کو نہیں جاتا بلکہ نیب کے اراکان، افسران اور عملے کے علاوہ خواتین کو جاتا ہے البتہ میں نے صڑف ایک کوشش ضرور کی وہ یہ کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو بلکہ سب کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے اور جس کے خلاف مقدمہ بنے اس کی کوئی نہ کوئی بنیاد ضرور ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر کیس کا عمیق طریقے سے گہرائی کے ساتھ مکمل تجزیہ کیا جاتا ہے اور جب کیس بنتا ہے تب ہی ہم نے پیش قدمی کی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی معصوم شخص جس نے کچھ نہ کیا ہو اور ہم نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے اور ہم آج تک اسی پالیسی پر کارفرما ہیں۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ میں اس تاثر کی سختی سے نفی کرتا ہوں کہ احتساب یکطرفہ ہے، احتساب یکطرفہ صرف ان لوگوں کو نظر آتا ہے جن کی آنکھوں پر پٹی یا تعصب کی عینک ہے یا معتصبانہ رائے رکھتے ہیں اور اس کی شاید یہ وجہ ہے کہ کچھ بہت بڑے نام کہ ان کے میڈیا کے چینلز اور اخبارات ہیں جبکہ نیب کے پاس جو کچھ ہے وہ آپ کے سامنے ہے لیکن ہم نے اپنے محدود وسائل کے باوجود پوری کوشش کی کہ ہم بہتر سے بہترین کی جانب گامزن رہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ اس سلسلے میں کئی اقدامات ہم نے اٹھائے جس میں تفتیش کا نیا نظام شامل ہے پہلے صرف انویسٹی گیشن افسر (آئی او) ذمہ دار ہوتا تھا جو کہ ہم نے پوری کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کو دے دی ہے جس کا مقصد یہ تھا کہ اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کے کچھ فیصلوں نے ہمیں رہنمائی فراہم کی جس کے نتیجے میں نیب کے وہ قوانین کہ جو 1990 سے نہیں بن سکے وہ پایہ تکمیل کو پہنچے اور یہ قواعد صدر مملکت کو بھجوائے گئے اور ان کی ہدایت پر اب وزیراعظم ہاو¿س کو بھجوائے جارہے ہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ میں نے ایک تجزیہ نگار کو کہتے سنا کہ چیئرمین نیب نے اپنے عہدے کی مدت میں اضافہ کردیا ہے تاہم میں اپنے عہدے کی مدت میں کبھی ایک گھنٹے کا بھی اضافہ کرنا نہ چاہوں گا نہ کروں گا، میری مدت ملازمت کو اللہ عزت و آبرو کے ساتھ مکمل کرے، مجھے کوئی تشنگی نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ چیئرمین نیب کو اپنے عہدے کی مدت میں توسیع کا اختیار نہیں ہے، مجھے افسوس ان افراد پر ہے جنہوں نے نہ کبھی نیب آرڈیننس پڑھا نہ قانون پڑھا نہ عدالتی فورمز کے فیصلے دیکھے، انہیں تنقید کرنی ہوتی ہے تو وہ کرتے ہیں لیکن میں نے کبھی برا نہیں مانا۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ مجھ پر تنقید کریں گے، تذلیل، تحقیر، دشنام طرازی کریں گے تو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ یہ بتائیں کہ نیب کیا کرے اور کس طرح کریں، آج تک ایسا نہیں ہوا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ میں نے برسوں منصفی کی ہے اور آج تک اس منصفی پر کبھی کوئی حرف نہیں آیا تاہم ساتھ ہی میں اس بات سے آگاہ ہوں کہ خامیوں سے پاک صرف رب کی ذات ہے، کوئی ادارہ کوئی شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ اس میں کوئی خامی نہیں۔انہوں نے کہا کہ جب زیادہ کرپشن ہوگی تو زیادہ کیسز رجسٹر ہوں گے اور زیادہ ضمانتیں بھی ہوں گی تاہم ضمانت ہوجانا کوئی بڑی بات اس لیے نہیں کہ وہ قتل کیس میں بھی ہوجاتی ہے تو جس نے نیب پر جائز یا ناجائز تنقید کی میں ان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے کم از کم نیب کو یاد تو رکھا۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بتایا کہ گزشتہ 2 برسوں میں 3 کھرب 64 ارب روپے کی ریکوری کی گئی یہ کوئی مذاق نہیں کسی سے 5 روپے نکلوانا بھی بہت مشکل ہے اور ناقدین کو اس پر بھی نظر کرنی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی فورم سے نیب کے بارے میں اس طرح کی بات کی گئی ہو کہ نیب کی تفتیش کمزور ہے یا نیب ناکام ادارہ ہے، اگر نیب ناکام ادارہ ہوتا تو یہ 364 ارب روپے کس طرح ریکور ہوتے اور اس وقت نیب میں 534 سے 540 ریفرنسز مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*