کوئٹہ کیلئے 3 ڈیمز کے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے،وزیر اعلیٰ بلوچستان

Chief Minister Balochistan, Mir Jam Kamal

کوئٹہ (این این آئی )وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے کوئٹہ شہر کو اون کرتے ہوئے شہر کی حالت بہتر بنانے کا بیڑہ اٹھایا ہے ، کوئٹہ میں سڑکوں کی توسیع اور ڈیم سمیت شہر کی بہتری کے دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے،ترقیاتی منصوبوں کا فائدہ عام آدمی کو ہوگاساتھ ہی ٹریفک کے مسائل حل کرنے میں مددملے گی کوئٹہ کےلئے تین ڈیمز کے منصوبوں پر کام کیاجارہاہے جن میں سے ایک ڈیم کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکاہے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں بہتری کے منصوبے پر کام جاری ہے سڑکوں کی توسیع اور بہتری سے ٹریفک کے مسائل حل کرنے میں مددملے گی اس کے علاوہ کوئٹہ کےلئے تین سے چار ڈیموں کے منصوبے پر بھی کام کیاجارہاہے جن میں سے ایک ڈیم کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکاہے،انہوں نے کہا کہ سریاب میں ترقیاتی منصوبوں کافائدہ عام آدمی کو ہورہا ہے،منصوبوں سے علاقے میں زمین کی قدر میں بھی اضافہ ہوگا، وزیر اعلی نے مزید کہا کہ حکومت کا گرین کوئٹہ کے منصوبہ پر بھی عملدرآمد کا پروگرام ہے،منصوبہ کے تحت شجرکاری میں اضافہ کیاجارہاہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کو تعلیم صحت اور کھیلوں کی تمام سہولیات فراہم کرینگے بلوچستان عوامی پارٹی صوبائی دارالحکومت میں اپنی اکثریت قائم کرکے عوام کو سہولت بھی فراہم کرے گی انہوں نے کہا کہ ماضی میں کوئٹہ میں ترقیاتی کاموں کو معیار کے مطابق نہیں بنایا گیا موجودہ حکومت سریاب روڈ نواں کلی میں چار سے دس رویہ سڑکیں بنارہی ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کوئٹہ میں 65 ایکٹر زمین فراہم کی ہے سریاب میں پچاس ایکٹر رقبے پر اسپورٹس کمپلکس بن رہا جبکہ ساڑھے تین کلو میٹر آٹھ لائن روڈ بھی سریاب اور گردونواح میں زیر تکمیل ہے ان ترقیاتی کاموں کا فائدہ سریاب کے غریب عوام کو مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں کے ساتھ نکاسی آب کامعیاری نظام بنایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بلوچستان عوامی پارٹی کی کوئی نشست نہیں لیکن اسے حکمران جماعت نے اون کیا ہے کوئٹہ سب کا شہر ہے سیاست کی بجائے خدمت کو ترجیح دے رہے ہیں کوئٹہ میں بلوچستان عوامی پارٹی اپنی اکثریت بھی بنانے گی اور سہولیات بھی دینگے سہولیات کی فراہمی کیلئے بلدیہ کا شعبہ بہتر کیا جارہا ہے جبکہ واسا کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ سریاب کو پانی دینے کیلئے فوری اقدام کرے۔انہوں نے کہا کہ حب ندی چالیس کلومیٹر لمبی ندی ہے وہاں ریت بجری نکالنے کا طریقہ کار قانونی بنائیں گے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*