چیف جسٹس آف پاکستان کانئے سال کیلئے عدالتی پالیسی کا اعلان

Chief Justice Gulzar Ahmed

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے نئے سال کیلئے عدالتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کی مکمل خودمختاری کے بغیر عوام کو انصاف کی مکمل فراہمی کا تحفظ ممکن نہیں،آئین اور قانون کے تحت عدلیہ کی آزادی کسی کو دبانے کی اجازت نہیں،تمام ججز آئین اور قانون کے تحت اپنے فرائض انجام دیتے ہیں،سپریم کورٹ آئین کی بالادستی کیلئے ہرممکن اقدام کرےگی۔وہ پیر کو نئے عدالتی سال 2020-21 کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ انہوںنے کہاکہ نئی عدالتی سال کی تقریب ہمارے گزشتہ سال کی کارکردگی کو چانچنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جج ہونا صرف اعزاز نہیں بلکہ انصاف دینے کی بھاری ذمہ داری ہے، ہر جج انصاف کرنے کا پابند ہے، آئین کا دیباچہ عدلیہ کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ انصاف نہ صرف ہر مہذب معاشرے کی بنیاد ہے بلکہ قرآن و سنت کے مطابق اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے جس کا تصور قرآن و سنت میں دیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف صرف قانون کے مطابق عوام کے حقوق کا تعین نہیں بلکہ قانون کے سامنے مساوات یقینی بنانا ہے، قانون کے تحت رنگ و نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہیئے ہمارا آئین قانون میں مساوات اور قانون کے مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انصاف اس وقت تک نہیں فراہم نہیں کیا جاسکتا اور عوام کے بنیادی حقوق اس وقت تک محفوظ نہیں بنائے جاسکتے جب تک ججز مکمل آزاد اور کسی بیرونی دباو¿ کے زیر اثر نہ ہوں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آئین عدلیہ کی آزادی کو مکمل طور محفوظ بنانے کا حکم دیتا ہے، آئین و قانون کے تحت کسی کو عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ کیسز ختم ہونے میں تاخیر کا سبب مو¿خر کرنا ہے اور اس کی ایک وجہ اسلام آباد کی عدالتوں میں وکیلوں کا اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر نہ پہنچنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے پر قابو پانے اور اور فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے کیسز کی سماعت ای کورٹ کے ذریعے کی گئی، ابتدا میں ویڈیو لنک کی سہولت صرف کراچی رجسٹری میں تھی جسے تمام برانچ رجسٹری تک توسیع دے دی گئی ہے۔کیس کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ عدالتی سال کے آغاز کے وقت عدالت میں 42 ہزار 138 کیسز زیر التوا تھے اور کووِڈ 19 کی وبا سے قبل مزید 8 ہزار 817 نئے کیسز داخل کیے گئے جبکہ 6 ہزار 752 کیسز میں فیصلہ ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ کووِڈ وبا کے بعد 7 ہزار 46 کیسز دائر کیے گئے جبکہ 5 ہزار 792 کیسز کا فیصلہ ہوا اور عدالتی سال کا اختتام 45 ہزار 455 زیر التوا کیسز کے ساتھ ہوا۔چیف جسٹس نے کہا کہ طویل قانونی چارہ جوئی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے پاکستان بھر میں ماڈل کورٹس قائم کی گئیں جنہوں نے برسوں کے بجائے چند ماہ میں کرمنل اور سول کیسز کے ٹرائلز کیے اور انہیں نمٹایا۔انہوں نے بتایا کہ کووڈ 19 سے قبل یکم ستمبر 2019 سے 29 فروری 2020 تک 153 ورکنگ ڈیز میں 173 ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹس نے قتل اور منشیات کے 21 ہزار 553 کیسز کا فیصلہ سنایا، اس دوران ماڈل ٹرائم مجسٹریٹ کورٹس نے 61 ہزار 795 اور ماڈل سول ایپیلٹ کورٹس نے 33 ہزار 502 کیسز کا فیصلہ کیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے بتایا کہ مجموعی طور پر 44 ماڈل کورٹس نے 153 دنوں میں ایک لاکھ 16 ہزار 85 کیسز کا فیصلہ کیا جبکہ کووڈ کے بعد یکم مارچ سے 11 ستمبر تک کے عرصے کے دوران 154 دنوں میں ماڈل کورٹس 16 ہزار 487 کیسز کا فیصلہ کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں عدلیہ ہر سطح پر آئین کی بالادستی کو برقرا رکھنے، ہر حالت میں انصاف کو فروغ دینے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں رہے گی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نئے عدالتی سال میں ہمیں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا،نظام انصاف میں موجود خامیوں کے باعث وائٹ کالر کرائم کا ارتکاب کرنے والے بچ نکلتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ ایسے جرائم کا شکار پاکستان کے عوام ہوتے ہیں جن کے اربوں روپے بیرون ممالک بھیجے جاتے ہیں،انصاف میں تاخیر بنیادی مسئلہ ہے۔ انہوکںنے کہاکہ انصاف میں تاخیر پر فوری توجہ کی ضرورت ہے،نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے افرادی قوت کی ضرورت ہے ۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ قانونی اور انتظامی اصلاحات کی بھی فوری ضرورت ہے،چیف جسٹس ان تمام معاملات کو عدالتی پالیسی ساز کمیٹی میں فوری اٹھائیں۔ انہوںنے کہاکہ معیاری انصاف کی فراہمی معیاری بینچ اور بار کی مرہون منت ہے،بینچ کا سب سے بڑا انحصار بار پر ہوتا ہے،انصاف کی فراہمی کا عمل آزاد اور خود مختار میڈیا کے بغیر نامکمل رہتا ہے،ہمارے کورٹ رپورٹرز بلا خوف اور غیر جانبداری کیساتھ رپورٹنگ کرتے ہیں،عوام کو میڈیا کے سبب آگاہی حاصل ہوتی ہے۔اوائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی نے نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 184/3 کی براہ راست سماعت کے باعث سائل کے پاس اپیل کا حق نہیں ہوتا۔ انہوںنے کہاکہ عدالت کو اس اختیار کے تحت فیصلہ کرنے میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عابد ساقی نے کہاکہ ججز کے تقرر میں عدالتی فیصلے کے نتیجے میں تنہا چیف جسٹس کو اختیار مل گیا ہے،ججز کے تقرر میں توازن کا ہونا ضروری ہے،توازن کو برقرار رکھنے کیلئے پارلیمنٹ نے قانون سازی کر کے سب کو نمائندگی دی۔ انہوںنے کہاکہ افسوسناک بات ہے کہ اس عمل میں مقننہ کو غیر فعال کر دیا گیا ہے،بار کونسلز کے نمائندوں کی جوڈیشل کمیشن میں شرکت رسمی ہی رہ گئی ہے،عدالتوں کو عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔عابد ساقی نے کہاکہ عوام کا بنیادی حق زندگی کا تحفظ,آزادی اور معاشی تحفظ ہے، فرائض کی ادائیگی میں عدلیہ کی مشکلات واضح ہیں،موجودہ معاشی استحصال کی صورتحال میں عدلیہ کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ عدلیہ اس حق کا تحفظ معاشرے کو غلامی سے آزادی دلا کر کر سکتی ہے،عدالت نے اب تک قاضی فائز عیسی کیس میں بار اور قاضی فائز عیسی کی نظر ثانی درخواست مقرر نہیں کی۔ عابد ساقی نے کہاکہ وکلا برداری کو اس کیس کے حوالے سے بہت تشویش ہے،عدالت سے استدعا ہے کہ کیس کو جلد مقرر کیا جائے۔ عابد ساقی نے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف کی سزا کے حوالے سے اپیل بھی سماعت کیلئے مقرر کی جائے۔صدر سپریم کورٹ بار سید قلب حسن نے نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جسٹس مقبول باقر کے فیصلے نے نیب اور حکومت کی زیادتیوں کی درست عکاسی کی ہے۔ صدر سپریم کورٹ نے کہاکہ وکلا برداری سمجھتی ہے کہ عدلیہ کا یہی کردار ہونا چاہیے،نوجوان وکلا ججز کے ابتدائی ریمارکس سے غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں۔ قلب حسن نے کہاکہ نوجوان وکلا عدالتی رویے کیوجہ سے اپنا موقف درست انداز میں پیش نہیں کر سکتے،عدالت نوجوان وکلا سے شفقت اور تحمل سے پیش آئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*