وزیر اعظم بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں،اسد عمر

تربت(ہ ا)وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اسد عمر کی سربراہی میں وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری اور صوبائی وزراءو اراکین اسمبلی نے مکران ڈویژن کے علاقے کیچ تربت کا دورہ کیا اور ایف سی ہیڈ کوارٹر میں ایف سی حکام اور قبایلی عمایدین سے ملاقات کی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔اور سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبہ خطے میں خوشحالی کی نوید ہے اور اس سے سب سے پہلے مکران ڈویژن کے عوام مستفید ہونگے۔ سی پیک منصوبے میں گوادر کے علاوہ بوستان اور حب میں انڈسٹریل زون بنائے جارہے ہیں۔جبکہ مکران میں زراعت اور خصوصا کجھور کے پیداوار کو بڑھانے کے لئے خصوصی ان تشکیل دیا جارہا ہے۔دریں اثنا ءوفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں جنوبی بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس گزشتہ روز ایف سی کیمپ تربت کے مقام پر منعقد ہوا۔ اجلاس کے دیگر شرکاءمیں صوبائی وزیر برائے دفاعی پیداوار محترمہ زبیدہ جلال، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، آئی جی ایف سی ساوتھ میجر جنرل سرفراز علی، سیکریٹری پلاننگ کمیشن مطہر رانا، صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی، صوبائی مشیر مائیگیری اکبر آسکانی، سابقہ صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان اور ممبر صوبائی اسمبلی سید احسان شاہ، ممبر صوبائی اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے مذہبی امور لالہ رشید دشتی، ممبر صوبائی اسمبلی ماہ جبین شیران، وزیر اعلی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر میر عبدالروف رند، کمشنر مکران طارق قمر بلوچ، ڈپٹی کمشنر کیچ میجر ر الیاس کبزہءکے علاوہ دیگر اعلی حکام اور قبائلی عمائدین کی ایک بہت بڑی تعداد شامل تھیں۔اس دوران تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن اور احکامات کی روشنی میں وہ جنوبی بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے دورے پر تربت شہر میں آہے ہیں تاکہ لوگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر یہاں کے مسائل کی نشاندہی کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر ہمیں بلوچستان کے مسائل اور زمینی حقائق کا کبھی بھی مکمل علم نہیں ہوسکتا اور وہ یہاں اس لئے آہے ہیں تاکہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے مسائل کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ بیشک بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے اور اس کے مسائل بے پناہ ہیں مگر وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف کی حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لئے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر رہی ہے تاکہ یہاں کے مسائل مقامی طور پر حل ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا ایک سادہ سا فلسفہ ہے اور انہیں اس فلسفے پر مکمل یقین ہے کہ وہ معاشرہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا جس میں کمزور طبقے کی پسماندگی پر توجہ نہ دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ پسماندہ علاقہ ہے اور ان پسماندہ علاقوں میں سب سے زیادہ جنوبی بلوچستان کے مختلف اضلاع شامل ہیں۔ اس دوران انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت ملکر دو حصوں پر مشتمل ایک پیکیج پر کام کررہے ہیں تا کہ بلوچستان کے ان پسماندہ علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لایا جاسکے اور یہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پیکیج کے اہم اجزا میں شاہراہوں کی تعمیر سر فہرست ہے تاکہ جنوبی بلوچستان کے ان اضلاع کو سندھ اور پنجاب کے ساتھ منسلک کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ کراچی کے پیکیج کے حوالے سے برائے راست شامل تھے اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ جنوبی بلوچستان پیکیج کو بھی وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کے ساتھ مل بیٹھ کر مکمل کرسکیں ۔ اس دوران انہوں نے بلوچستان کے لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام مہمان نواز اور محب وطن شہری ہیں اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے حکومت کے ساتھ ملکر کام کررہے ہیں۔ دریں اثناءانہوں نے علاقائی معتبرین، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے مختلف سوالات کا جوابات دیتے ہوئے کہا کہ انکے مختلف مسائل جسمیں ایران سے منسلک سرحد کی بندش، بجلی کے پرانے بلوں کی معافی اور روزگار کی فراہمی شامل ہیں انکو صوبائی حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر انکا حل نکالیں گے اس دوران انہوں نے زراعت، گوادر حب اور بوستان میں صنعتی زونوں کے قیام، ڈیموں کی تعمیر اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو بھی پیکیج میں شامل کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ قبل ازیں آئی جی ایف سی ساوتھ میجر جنرل سرفراز علی نے کہا کہ حکومت پاکستان کے چوٹی کے وفود کا تربت آنا انتہائی خوش آئند بات ہے اور وہ امید کرتے ہیں جنوبی بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت یہاں کے لوگوں کے ساتھ صلاح مشورہ کرکے ترقیاتی پیکیج کو مکمل کرینگے تاکہ ترجیحی شعبوں کے منصوبوں کو پیکیج میں شامل کیا جاسکے۔ بعدازاں صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت پسماندہ علاقوں کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر کام کرینگے تاکہ پسماندہ علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کے ہم پلہ کرسکیں۔۔انہوں نے کہا کہ تربت ماسٹر پلاں ضلع کیچ میں تعلیمی اداروں کا قیام اور صحت کی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔اس دوران انہوں نے منشیات کے خاتمے کے لیے علاقے کے نوجوانوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے انکی ہر ممکن مدد اور تعاون کیلے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت منشیات سے متاثر لوگوں کی علاج کیلے دارالامان کا قیام بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کررہی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*