جنسی زیادتی کرنےوالوں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں ،عمران خان

PM Imran Khan

اسلام آباد(آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے زیادتی کے مجرم کو مردانہ صلاحیت سے محروم کرنے کی تجویز دیدی اور کہا ایسے مجرموں کی سرجری کرکے ناکارہ بنا دینا چاہیے تاکہ وہ کچھ کر ہی نہ سکیں، جنسی زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینی چاہئے،سانحہ موٹروے نے پوری قوم کو ہلا دیا، بچوں کے سامنے جو ہوا اس سے صدمہ پہنچا ہے، جنسی زیادتی کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں ،نوازشریف کو واپس لانے کے لیے پوری کوشش کریں گے ، اپوزیشن نے ملک کو گنگال کیا اور پھر کہا کہ حکومت فیل ہو گئی، فیٹف میں بلیک لسٹ ہوئے تو معیشت بیٹھ جائے گی، اپوزیشن نے سوچا فیٹف میں یہ مان جائے گا مگر میں کسی صورت بلیک میل نہیں ہو گا، ہمیں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔پیپلز پارٹی اور(ن) لیگ مک مکا کی سیاست کرتے رہے،جب تک گروتھ ریٹ نہیں بڑھے گا قرضے کیسے واپس کریں گے ، آئی پی پیز کے ساتھ سابقہ حکومتوں کے سائن کئے گئے معاہدے ملکی مفاد کے خلاف تھے ، کار کے کیس میں صدر ادگان نے ہماری مدد کی ہم ان کے ممنون ہیں، نریندر مودی نے کشمیر کی بنیادی حیثیت ختم کر کے تاریخی غلطی کی، جس طرح چین نے30سال میں اپنے لوگوں کو غربت سے نکالا ہے وہ حیران کن ہے ، ہمارا مافیاز کے ساتھ مقابلہ ہے ، ہم کرمنلز کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں ، اپوزیشن مافیاز اور کرمنلز ہیں جو اپنی چوری بچانے کےلئے اکٹھے ہیں ۔ ایم ایل و ن ، دیامر ڈیم ، بھاشا، دو نئے شہر جن میں راوی سٹی اور ونڈر لینڈ شامل ہیں ، ان منصوبوں سے ملک ترقی کرے گا پیر کو نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا سانحہ موٹروے نے پوری قوم کو ہلا دیا، بچوں کے سامنے جو ہوا اس سے صدمہ پہنچا ہے، جنسی زیادتی کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔ اس سے پورے ملک کی عوام کو تکلیف ہوئی ،قصور میں زینب زیادتی کیس اور اس طرح کے دیگر واقعات کے بعد جب آئی جی کو واقعے کی تفتیش سے متعلق کہا تو آئی جی نے جو رپورٹ پیش کی تو آئی جی نے بتایا کہ پاکستان میں سیکس کرائم خطرناک حد تک بڑھتے جا رہے ہیں خواہ وہ بچوں سے متعلق کیسز ہوں یا خواتین سے متعلق، یہ سوسائٹی میں پھیل چکا ہے ، اس کے بعد ہم نے علماءسے بات کی ،ٹیچرز سے بات کی ، سب کو بلایا ، بچوں کے ساتھ ریپ واقعات کے خاتمے کےلئے تفصیلی غور کیا ، یورپ میں جو بچوں سے زیادتی کرتا ہے اس کا پورا ریکارڈ رکھا جاتا ہے لیکن یہاں پر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس طرح کا کوئی سسٹم موجود نہیں ، بچوں سے زیادتی کے مجرموں کا پیچھا کیا جائے ۔ ریپ اور بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو چوک پر لٹکانا چاہیے ،سرعام پھانسی دینی چاہیے ، اس طرح کے مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کر دینا چاہیے ، سانحہ گجرپورہ کا ملزم پہلے گینگ ریپ کر چکا تھا لیکن آزادانہ گھوم رہا تھا اس طرح کے لوگوں کو ہمیشہ کےلئے ختم کردینا چاہیے ،فحاشی سے معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں ، ہمارے پاس فیملی سسٹم ہے ، یورپ اس معاملے پر پاکستان سے پیچھے ہے ۔ہندوستان کی چالیس سال پہلے کی فلمیں اور آج کی فلموں میں بہت فرق ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا موجودہ آئی جی لاہور پرفارم کریں گے تو رہیں گے کسی نے یہ نہیں کہنا کہ آئی جی نے یہ نہیں کیا۔ انہوں نے عثمان بزدار اور عمران خان کو پکڑنا ہے،سی سی پی او پر بڑا شور ہوا، انہیں لانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ پولیس قبضہ گروپ کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے اندر بھی کچھ لوگ ہیں جو وزیراعلی بننا چاہتے ہیں،چیلنج کرتا ہوں ہمارے وزیروں اور عثمان بزدار نے کرپشن نہیں کی۔ عثمان بزدار شہباز کی طرح میڈیا پر پیسہ نہیں لگاتا، نوازشریف واپس نہیں آئیں گے ،نوازشریف کو واپس لانے کے لیے پوری کوشش کریں گے ، اپوزیشن نے ملک کو گنگال کیا اور پھر کہا کہ حکومت فیل ہو گئی۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ فیٹف میں بلیک لسٹ ہوئے تو معیشت بیٹھ جائے گی، اپوزیشن نے سوچا فیفٹ میں یہ مان جائے گا مگر میں کسی صورت بلیک میل نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم فلسطین کے ساتھ کھڑے تھے ہمیں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔ کراچی کو ٹھیک کرنا بہت ضروری ہے،کراچی صرف سندھ کا نہیں بلکہ پاکستان کا انجن آف گروتھ ہے ، کراچی کا مسئلہ اس وقت حل ہو گا جب الیکٹڈ مئیر اپنے شہر کو ایک ملک کی طرح چلائے گا ، نہیں جانتا کہ سندھ حکومت کی کیا مسئلہ ہے ۔وزیر اعظم عمران نے کہا کہ ملک کو گورننس سسٹم کی ضرورت ہے ، ایف بی آر میں آٹومیشن سسٹم لاگو نہیں ہے کیونکہ ایف بی آر کے اندر لوگ ایسا نہیں ہونے دیتے ، اگر گورننس سسٹم درست کرنا ہے تو وہ لوکل گورنمنٹ سسٹم سے ہوگا، پنجاب اور کے پی کے میں جو لوکل گورننس سٹم آرہا ہے وہ پاکستان کی تاریخ کا بہترین سسٹم ہوگا، اس سسٹم کے تحت تحصیل ناظم کے ڈائریکٹ ایکشن ہوں گے ، اس سے سارا پیسہ براہ راست لوکل گورنمنٹ کو منتقل ہوگا ، اس سسٹم سے ہمارے شہر بچ جائیں گے ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور کچھ دیگر افراد کی جانب سے کراچی کی مردم شماری کے اعدادوشمار پر اعتراضات درست ہوسکتے ہیں لیکن یہ ایکشن سے پہلے کا معاملہ ہے ، اس مسئلے کو اٹھانے کی درست ٹائمنگ نہیں ہے ، کراچی میں جو تباہی مچی ہے ہم سارے سٹیک ہولڈرز بیٹھے ، کراچی کے نالے سوائے فوج کے کوئی اور صاف نہیں کرسکتا ، کراچی میں پانی کا مسئلہ ،سیوریج ،ٹرانسپورٹ اور متعدد مسائل درپیش ہیں ، کراچی پاکستان کا گروتھ انجن ہے ،کراچی کو اگر زکام ہوگا تو پاکستان بیمار ہوگا ، کراچی کے سسٹم کو ٹھیک کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا ایڈمنسٹریٹر اپوائنٹ ہوگیا ہے ، اب وہاں ٹائم فریم کے تحت سارے کام مکمل ہوں گے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ارطغرل غازی ڈرامہ اس لئے پاکستان میں نشر کرنے کا کہا کہ لوگ اپنی تاریخ دیکھیں ۔انہوں نے کہا کہ دو این آر دینے سے ملک کا قرضہ چار گنا زیادہ بڑھا ہے ، شہبازشریف پر جو کیسز ہیں وہ نہیں بچ سکتا، نوازشریف بھی واپس نہیں آئے گا، ہم ان کو واپس لانے کی کوشش کریں گے ، جب وہ یہاں سے گئے تو ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ۔وزیراعظم نے کہا کہ کورونا سے پہلے دو ماہ اپوزیشن نے خوشیاں منائیں اب پوری دنیا کورونا سے نمٹنے کےلئے پاکستان کی مثالیں دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے میں اپوزیشن نے این آر او لینے کی کوشش کی لیکن ہم بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 89سے99تک پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کی حکومتیں رہیں ،دونوں نے ایک دوسرے کو کرپٹ کہا اور ایک دوسرے کے خلاف کیسز بنائے پھر انہوں نے مک مکا کر کے دونوں ہاتھوں سے دس سال میں پاکستان کو بے انتہا لوٹا اس وجہ سے ان کے لئے ہوئے قرضوں کی قسطوں پر چلا جاتا ہےیہ مک مکا کر کے اپنا چیئرمین نیب لگا دیتے تھےلیکن اب ہم ایم ایل و ن ، دیامر ڈیم ، بھاشا، دو نئے شہر جن میں راوی سٹی اور ونڈر لینڈ شامل ہیں ، ان منصوبوں سے ملک ترقی کرے گا ، لوگ مجھ سے بڑے پلانز کی توقع کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے شہر پھیلتے جا رہے ہیں سسٹم نہ ہونے سے نہ گندگی اٹھا سکتے ہیں نہ سیوریج دے سکتے ہیں لہذا ہر شہر کو ماسٹر پلان بنانے کا کہا ہے ، راوی اور ونڈر لینڈ سسٹم کے تحت بنیں گے ، جب کنسٹرکشن شروع ہوتی تو 30صنعتیں چلتی ہیں ، جب تک گروتھ ریٹ نہیں بڑھے گا قرضے کیسے واپس کریں گے ، آئی پی پیز کے ساتھ سابقہ حکومتوں نے جو معاہدے سائن کئے وہ ملکی مفاد کے خلاف تھے ، بجلی جنریشن فی یونٹ 17روپے ہے اور ہم عوام کو 14روپے فی یونٹ بیچ رہے ہیں جس سے سرکلر ڈیٹ بڑھ رہا ہے ، آئی پی پیز نے ہمارے ساتھ معاہدوں میں نظر ثانی کی اس پر ان کے شکر گزار ہیں ، کار کے کیس میں صدر ادغان نے ہماری مدد کی ہم ان کے ممنون ہیں ، وزیر اعظم نے کہا کہ آئندہ ایک ہفتے میں ایک جامع توانائی پالیسی لے کر آئیں گے ۔اسرائیل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور فلسطین کی آزاد وخودمختار حیثیت کے معاملے پر ہر ملک کے اپنے مفادات ہیں لیکن جو مظالم فلسطین کے لوگوں پر ڈھائے جا رہے ہیں ، جب تک فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل نہیں نکلتا ہم قائداعظم کے اصولوں پر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے کشمیر کی بنیادی حیثیت ختم کر کے تاریخی غلطی کی ، وہ سمجھتا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت ختم کرنے سے پاکستان خاموش ہوکر بیٹھ جائے گا لیکن مودی کی غلطی کی وجہ سے آج مسئلہ کشمیر پوری دنیا میں اجاگر ہوچکا ہے ، ہندوستان کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کے خلاف ہم ہندوستان کے خلاف انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں بھی جانے کا سوچ رہے ہیں ،ہم جو چین سے سیکھ سکتے ہیں کسی سے نہیں سیکھ سکتے ، جس طرح چین نے30سال میں اپنے لوگوں کو غربت سے نکالا ہے وہ حیران کن ہے ، ہم زرعی ملک ہیں لیکن ہم نے کبھی زرعی تحقیق نہیں کی ، سیڈز ریسرچ نہیں کی ، ہمیں چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے ، ہم نے بھی چین کی طرح اربن سینٹرز بنانے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مافیاز کے ساتھ مقابلہ ہے ، ہم کرمنلز کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں ، اپوزیشن مافیاز اور کرمنلز ہیں جو اپنی چوری بچانے کےلئے اکٹھے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے باوجود خطرہ ظاہر کیا ہے کہ سردیوں میں ملک میں کورونا وائرس کی نئی شدید لہر آ سکتی ہے اس لیے ابھی ہمیں احتیاط کرنی ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے کورونا وائرس کے معاملے پر وہی غلطی کی جو پاکستان کی سیاسی جماعتیں مجھے کرنے کا کہہ رہی تھیں، جب کورونا وائرس شروع ہوا تو ابتدائی دو ماہ کے دورابن اپوزیشن مجھے مسلسل کہہ رہی تھیءکہ ایک مکمل لاک ڈان کرو جس طرح یورپ اور چین کے شہر ووہان میں تھا۔انہوں نے کہا کہ میرا یہ موقف تھا کہ ہمارا ایک برا طبقہ دیہاڑی دار ہے جو صبح کماتے ہیں تو ان کے گھر میں شام میں چولہا جلتا ہے جبکہ بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر کچھی آبادیاں ہیں لہذا میرا کہنا تھا کہ اگر ہم یورپ جیسا لاک ڈان کرتے ہیں تو ان کا کیا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری اپوزیشن، پیسے والے، اکیڈمی اور میڈیا کے ادارے ہم پر دبا ڈال رہے تھے کہ اگر مکمل لاک ڈان نہ کیا یہ پھیل جائے گی لیکن نریندر مودی اس دبا میں آ گیا اور اس نے 4 گھنٹے کے نوٹس پر کرفیو لگا دیا۔ عمران خان نے کہا کہ میرا اعتراض یہ تھا کہ جہاں اتنی غربت ہے کہ وہاں مکمل لاک ڈان نہیں کر سکتے اور جب مودی نے مکمل لاک ڈان کیا تو ایسا ممکن نہ ہو سکا اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ہوا یہ کہ کورونا پھیلتا رہا اور جیسے ہی انہوں ے لاک ڈان میں نرمی کی تو وہ پورے ملک میں پھیل گیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے بہت جلدی فیصلہ کیا کہ سخت لاک ڈان نہیں کریں گے، ہم زراعت کھول دی، تعمیراتی صنعت کھول دی، پھر ہم نے ڈیٹا اکٹھا کر کے ہاٹ اسپاٹس دیکھے اور اسمارٹ لاک ڈان کرتے ہوئے ہاٹ اسپاٹس کو بند کرنے کی کوشش کی اور اس کی بدولت ہم قابو پانے میں کامیاب رہے۔کورونا وائرس پر بھارت سے تقابلی جائزے پر انہوں نے مزید کہا کہ مکمل لاک ڈان کی وجہ سے بھارت میں جو غربت آئی ہے اس کی وجہ سے دنیا بھر میں بھارت کی معیشت کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے عالمی ادارہ صحت سمیت دنیا ہماری تعریف کررہی ہے اور کہہ رہے ہیں کہ پاکستان سے سیکھو کیونکہ ہم دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ہیں جنہوں نے سب سے بہتر انداز میں کورونا کا مقابلہ کیا۔عمران خان نے اس موقع پر خبردار کیا کہ ہم کورونا پر کافی حد تک کامیابی سے قابو پا چکے ہیں لیکن سردیوں میں کورونا کی ایک اور شدید لہر آ سکتی ہے لہذا ابھی بھی ہمیں احتیاط کرنی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جدوجہد آپ کو دبا جھیلنا سکھاتی ہے جو ایک لیڈر کی سب سے بڑی صلاحیت ہوتی ہے اور اگر میں اپوزیشن کے دبا میں آجاتا تو آج ہمارا ہندوستان سے بھی برا حال ہوتا کیونکہ ہندوستان کے تو ہم سے بہتر معاشی حالات تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن، میڈیا، دانشوروں اور چند ڈاکٹرز نے میرے خلاف جس طرح سے منظم مہم چلائی اور اگر میں ان کے دبا میں آجاتا تو پاکستان کو بیٹا غرق ہوجانا تھا کیونکہ ہماری معیشت بھی بیٹھ جاتی اور ہم وائرس پر بھی قابو نہیں پا رہے ہوتے اور لوگ کورونا سے مر رہے ہوتے۔انہوں نے کہا کہ میری 22سال کی سیاسی جدوجہد نے مجھے ان 2سالوں کے لیے تیار کیا کیونکہ اگر یہ جدوجہد نہ ہوتی تو میں ان دو سالوں کے دوران پڑنے والے دبا کو کبھی برداشت نہیں کر پاتا۔اپنی ٹیم کی کامیابیوں کے حوالے سے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ میری ٹیم کی سب سے پہلی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو ڈیفالت ہونے سے بچایا، ہمارے ذخائر ختم ہو چکے تھے، ہم اپنے بیرون ملک قرضوں کی ادائیگیاں کر نہیں سکتے تھے، ہمیں چاروں طرف سے دبا کا سامنا تھا اور وہ بڑا مشکل وقت تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ڈر یہ تھا کہ اگر ہم اپنی رقم کی ادائیگیوں کے معاملے پر ڈیفالٹ کر جاتے تو براہ راست روپے پر اثر پڑنا تھا اور روپیہ جب گرتا ہے تو ساری چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں اور غربت بڑھ جاتی ہے جبکہ ملک میں کوئی سرمایہ کاری بھی نہیں کرتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دوسرا دبا یہ تھا کہ ساری اپوزیشن پہلے دن سے اکٹھی تھی اور پہلے دن سے کہا کہ حکومت ناکام ہو گئی، پہلے ملک کو کنگال کر کے چلے گئے اور پھر کہا کہ حکومت ناکام ہو گئی، ان کے ساتھ میڈیا کے کئی لوگ ملے ہوئے تھے اور افرا تفری مچائی ہوئی تھی۔عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک ایجنڈا ہے اور یہ نیشنل ڈیموکریٹک اپوزیشن نہیں ہے کیونکہ وہ تو عوام کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، ان صرف ایک ایجنڈا ہے کہ ان کے لیڈرز کی کرپشن بچانے کے لیے کسی طرح حکومت کو بلیک میل کریں کہ عمران خان پر اتنا پریشر پڑ جائے کہ جس طرح مشرف نے دو این آر دو دیے تھے، اسی طرح میں بھی دے دوں کیونکہ مشرف نے وہ این آر او دبا میں ہی دیے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلا این آر او مشرف نے نواز شریف کو دیا جس میں 10سال کا معاہدہ کیا تھا کہ تم باہر چلے جا تو ہم تمہارے حدیبیہ پیپر مل کے کیسز بن کردیں گے اور دوسرا جب ججز کی تحریک میں دبا پڑا تو انہوں نے کونڈا لیزا رائس سے دستخط کرائے، آصف زرداری کو این آر او دیا اور اپنی کرسی بچانے کے لیے ان کے سارے کیسز معاف کیے۔وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ ن لیگ کی یہ تنقید درست ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جلدی جانا چاہیے تھا لیکن ہم اس وقت کوشش میں تھے کہ ہمیں نہ جانا پڑے، پہلے کوشش تھی کہ ہمیں دوستوں سے اتنا پیسہ مل جائے کہ ہمیں جانا ہی نہ پڑے لیکن ہم نے سمجھ لیا کہ یہ ہی بڑی بات ہے کہ انہوں نے ہمیں پیسہ دیا کیونکہ اس کی بدولت ہم ڈیفالٹ سے بچ گئے جبکہ میں مانتا ہوں کہ ہمیں تجربہ بھی نہیں تھا کیونکہ ہم جتنا ہم توقع کر رہے تھے اتنا کوئی ملک بھی نہیں دیتا۔وزیر اعظم نے کہا کہ لوگ نیا پاکستان بنانا ایک پورا عمل ہے لیکن اپوزیشن نے پہلے دن سے صورتحال کا پورا فائدہ اٹھایا کیونکہ ان کا مفاد صرف بلیک میل کرنے میں تھا، انہوں نے ہمیں کورونا، ایف اے ٹی ایف، معیشت اور کشمیر پر بھی انہوں نے بلیک میل کیا اور سب کنٹینر پر چڑھ گئے۔’جب مجرم ملک کی سیاست میں آ جائیں تو وہ ملک کے بجائے اپنی ذات کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور وہ دشمن سے زیادہ ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*