اسلامی بینکاری اور مالیاتی نظام کو وسعت مل رہی ہے ، صدر مملکت

اسلام آباد ( آئی این پی ) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اسلامی بینکاری اور مالیاتی نظام کو وسعت مل رہی ہے ، پاکستان میں اسلامی بینکاری نظام کے فروغ کیلئے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں، پاکستان میں 17فیصد اسلامی بینکاری قوانین کے مطابق ہو رہی ہے، اسلامی بینکاری صرف پیسوں کے لین دین کا نام نہیں ہے ، اسلام کسی بھی شعبے میں استحصال کی اجازت نہیں دیتا ہے،چین کی معاشی اور بینکاری نظام میں چھان بین کا بہترین نظام ہے ۔ پیر کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گلوبل اسلامک فنانس ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی بینکاری اور مالیاتی نظام کو وسعت مل رہی ہے ، پاکستان میں اسلامی بینکاری نظام کے فروغ کیلئے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں اور پاکستان میں 17فیصد اسلامی بینکاری قوانین کے مطابق ہو رہی ہے، سٹیٹ بینک اسلامی بینکاری کو ترقی دینے کیلئے کوشاں ہے ۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ کورونا وباءکی صورتحال میں بینکاری نظام میں بھی دباو¿ آیا۔ اسلامی بینکاری کے 5 اصول ہیں ، پہلا یہ جو قرضہ لے رہا ہے اس کے ساتھ معاشرتی انصاف ہو، کیونکہ اسلامی بینکاری صرف پیسوں کے لین دین کا نام نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ یکسانیت ہو، سب برابر ہوں ، تیسرا سہولیات نچلے طبقے تک پہنچائی جائے، چوتھا شفافیت ہو، چھپ کر کوئی کام نہ ہو جو چھپ کر کام ہوتا ہے اس پر اسلام اور نظام کا نظریہ خراب ہو جاتا ہے ۔ پانچواں اصول یہ ہے کہ سماجی ہم آہنگیہو ۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترقیاتی عمل میں انصاف، مساوات اور شفافیت کلیدی اہمیت رکھتے ہیں اور سماجی و معاشی ترقی کیلئے دولت کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے جبکہ کاروباری سرگرمیوں میں منافع کے ساتھ اخلاقیات کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ اسلام کسی بھی شعبے میں استحصال کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سود کا خاتمہ بھی معاشرے سے ضروری ہے، سود کے حوالے سے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں، پروفیسر خورشید صاحب کو اس حوالے سے بہت پڑھا ہے ، سودی نظام کا خاتمہ بھی معاشی ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے ۔چین کی معاشی اور بینکاری نظام میں چھان بین کا بہترین نظام ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ خواتین کی شراکت داری بھی ضروری ہے 52 فیصد ملک کی آبادی کو گھروں میں بیٹھا کر ترقی کا سفر ممکن نہیں ہے۔ ہمیں خواتین کو آگے لانا ہو گا ، علما کرام سے مشاورت کرنی ہوگی ، ہمیں خواتین ، معذوروں اور تمام پیچھے رہ جانے والے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے ، ریاست مدینہ کے تصور میں بھی پسے ہوئے طبقے کو اوپر اٹھانا تھا۔ ہمیں بھی آج اپنے تمام محروم طبقات کو سپورٹ کرنا ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*