تازہ ترین

وزیر اعظم عمران خان کا اگلا ہدف مہنگائی کنٹرول کرنا ہے، وفاقی وزرا ء

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزرا ء اور وزیر اعظم کے معاونین خصوصی نے کہا ہے کہ جب تحریک انصاف کو حکومت ملی تو ہمارا مقابلہ ایک منظم مافیا سے تھا، گزشتہ دو سالوں کے دوران ہر شعبہ میں انتہائی محنت سے کام کیا گیاجس کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے ،اب عوام کے لئے اچھے دن شروع ہو چکے ہیں،وزیر اعظم عمران خان کا اگلا ہدف مہنگائی کنٹرول کرنا ہے،وفاقی حکومت کے 450 اداروں کو کم کر کے 324 کر دیے ہیں، 71ہزار پوسٹیں ختم کی گئی ہیں،بلین ٹری منصوبے کے تحت آئندہ سال کے جون تک ملک میں ایک ارب درخت لگا لیں گے اور عوام کو دس ہزار ملازمتیں ملیں گی، الیکٹرک وہیکل پالیسی منظور کرا لی ہے، بہت جلد پاکستان میں الیکٹرک وہیکل کی مینوفیکچرنگ شروع ہو جائے گی،رواں سال اکتوبر میںوزیر اعظم ایک نئی نیشنل پارک سروس کا اعلان کریں گے جس سے لوگوں کو پانچ ہزارملازمتیں ملیں گی،بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دلوانےسمیت اہم قانون سازی کی گئی، ملک کو منشیات سے پاک کرنے کے لئے خصوصی مہم چلائی گئی، سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا،مسئلہ کشمیر پر جو کام کر رہے ہیں وہ ماضی میں کسی حکومت نے نہیں کیا۔جمعرات کو یہاں پی آئی ڈی میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز، وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان،وفاقی وزیر سیفران شہریار آفریدی،وزیر مملکت زرتاج گل ،وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داود،مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین اور معاون خصوصی برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے حکومت کی دو سالہ کار کردگی پر مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت آنے پر جیسے خیبر پختونخواہ کی عوام کے شروع میں تحفظات تھے،لیکن بعد خیبر پختونخواہ میں ترقی ہوئی، ا س طرح ہر چیز وقت لیتی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ اس وقت چیزوں کی قیمتوں کو کم کرنا وزیر اعظم کی اولین ترجیح ہے ملک میں اچھے دن آنے شروع ہوچکے ہیں، ماضی میں حکومت جو ایڈورٹائزمنٹ دیتی تھی اس میں کمی آئی،قوم نے مشکل وقت گزارا،اکانومی دوبارہ بہتر ہوگی، میڈیا کو اشتہارات بھی ملتے رہیں گے،میڈیا ایڈز کے لئے ہم اسی فیصد ادا کر چکے ہیں باقی بیس فیصد بھی جلد ادا کر دیں گے، شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ میڈیا اپنا آزادانہ کردار ادا کرتا رہے، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅ نے پریس کانفرنس میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جب یہ حکومت آئی تو ہماری ایکسپورٹ گر رہی تھی، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بیس بلین ڈالر سے کم ہو کر تین بلین ہوا،کرنٹ اکاونٹ خسارہ اس لئے کم ہوا کہ ہم نے امپورٹ کم کی اور ایکسپورٹ کو بڑھایا، ہمیں میک ان پاکستان کرنا ہے اور ایکسپورٹ کرنا ہے،ہم نے لگثری آئٹم پر ڈیوٹی بڑھائی لو میٹیریل پر ڈیوٹی کم کی، مشیر تجارت نے کہا کہ ہمارے ہاں ای کامرس نہیں تھی کابینہ نے ای کامرس کی منظوری دی،جیوگرافیکل انڈیکیشن کا ایک قانون بنا دیا گیا ہے، جیو گرافک انڈیکیشن قانون پاس بھی ہوگیا ہے، اس قانون کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمارے کلچرل پراڈکٹس پر کوئی اور اپنا نام استعمال نہیں کر سکے گا، عبدالرزاق داد نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم سے اسٹیرٹیجک ٹریڈ فریم ورک بھی منظور کرایا، انشا اللہ ہماری تجارت اور ایکسپورٹ کے ریکارڈز بہتر ہونگے، جولائی میں کورونا کے باوجود ہماری ایکسپورٹ کے ریکارڈ بہت اچھے تھے، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم وعدے بہت کر لیتے ہیں ڈلیور بہت کم کرتے ہیں، مشیر برائے ادارہ جاتی ریفارمز ڈاکٹر عشرت حسین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ میری سوچ یہ ہے کہ دعوے کم کر لیں اور ڈلیور زیادہ کریں، ہمیں عوام کو بتانا چاہئیے کہ ہمارے سامنے چیلنجز کیا کیا ہیں، 1950 سے 1990 تک ہمارے اداروں نے ملک کی اکانومی کو سب سے فاسٹ گروئنگ اکانومی بنا دیا تھا، ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ اب ہمارے اداروں کا برا حال ہوچکا تھا، وزیر اعظم کی خواہش ہے کہ اداروں میں ریفارمز کی جائیں، ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ 1990 سے ابتک کی خرابیوں کو ختم کرنے کے لئے وقت چاہئیے، ہمیں اپنے بزنسز آٹومیٹ کرنے پڑیں گے، ہمیں اپنے بزنس کے لئے ہمیں آئی ٹی کا سہارہ لینا پڑے گا، مشیر برائے ادارہ جاتی ریفارمز نے کہا کہ آئی ٹی کا استعمال کرنے سے کرپشن بھی ختم ہوگی، بزنسز میں ای فائلنگ سسٹم شروع کرنا پڑے گا، شہریوں کو دفتروں کے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے ،پہلے فیڈرل حکومت کے پاس 450 ادارے تھے، ان ادارواں میں کی افادیت کم ہوچکی تھی، ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ ہم نے ادارے کم کرکے تین سو چوبیس کر دیے ہیں، 71 ہزار ایسی پوسٹیں تھیں جن کی ضرورت نہیں تھی ، ہم نے یہ پوسٹیں ختم کر دی ہیں، وزیر اعظم کی ہدایت ہے کہ ان اداروں میں ریفارمز کرکے انہیں ماڈرن بنایا جائے، مشیر برائے ادارہ جاتی ریفارمز نے بتایا کہ سول سروس میں ہم نے کافی تبدیلیاں کی ہیں ،پہلے سول سروس میں صرف بیوروکریٹ کی ٹریننگ ہوتی تھی اب ڈاکٹر اور انجنیئرز کی ٹریننگ بھی ہوگی، معاون خصوصی موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے پریس کانفرنس کے دوران اپنی وزارتی کارکردگی کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کیا کہ کلائمیٹ دنیا کے تین بڑے چیلنجز میں آتا ہے، حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2050تک کچھ نہ کیا تو چھ اضلاع میں آپ زندہ نہیں رہ سکیں گے، ہم نے سب سے پہلے اپنا پانچ نکاتی ایجنڈہ پیش کیا، ہم نے دس بلین درخت لگانے کا ٹارگٹ رکھا، شاپر بیگ کو ختم کرنے کا ٹارگٹ رکھا،ٹارگٹ یہ بھی تھا کہ الیکٹرک وہیکل پالیسی منظور کرائی جائے، ہماراکلین اینڈ گرین پاکستان بھی ایک بڑا ٹارگٹ تھا، ملک امین اسلم نے کہا کہ اگلے سال جون تک ہم ایک ارب درخت لگا لیں گے، بلین ٹری منصوبے میں تمام صوبوں کا حصہ ہے، آج ہم نے الیکٹرک وہیکل پالیسی منظور کرا لی ہے، بہت جلد پاکستان میں الیکٹرک وہیکل کی مینوفیکچرنگ سروع ہو جائے گی، اکتوبر تک وزیر اعظم ایک نئی نیشنل پارک سروس کا اعلان کریں گے، نیشنل پارک سروس میں پانچ ہزار نوکریاں بھی ملیں گی، ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم جہاں گئے انہوں نے کلائمیٹ چینج کو اپنے نکات میں شامل کیا،اب شہریوں کو ملک میں یوروفائی سٹینڈرڈ تیل مل رہا ہے، جیسے کورونا کے ساتھ نمٹا ایسے ہی موسمیاتی تبدیلی چیلنج سے نمٹیں گے، وزیرمملکت موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے دو سالوں میں وہ کام کئے جو ستر سال میں نہیں ہوئےہم 85 ہزار نوکریاں پہلے ہی دے چکے ہیں،اگلے سال تک بلین ٹری میں دس ہزار مزید نوکریاں دیں گےپلاسٹک بیگ کا خاتمہ ہمارا سب سے بڑا اقدام تھا،ہم ویسٹ مینجمنٹ پر بھی کام کر رہے ہیں ایسا قانون لا رہے ہیں جس سے گریجوایٹ طلبا کو دس درخت لگانے پر بیس نمبر دیں گی، زرتاج گل نے کہا کہ حکومت کو ذمہ دار ہونا چاہئیے جس کو عوام کا درد ہو۔ وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ عمران خان نے لوگوں کا احساس کیا، عمران خان نے لنگر خانہ شروع کیا تو کوگوں نے مذاق اڑایا، تمام وزراتوں کی ماں پارلیمانی افیئر وزارت ہے، علی محمد خان نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد ہمارا مقابلہ مافیا سے تھا، ہم حکومت میں آئے تو لوگ ہمارے مخالف ہوگئے تھے اس دوران وزارت پارلیمانی امور نے بڑی ہمت سے کام کیا، بھارتی ایگریشن میں ہم نے جوائنٹ سیشن کرایا، ترک صدر کے دورے کے موقع پر بھی جوائنٹ سیشن کرایا، وزیر برائے پارلیمانی امور نے کہا کہ ہم نے بل پاس کرایا کہ جہاں بھی نبی اکرم حضرت محمد کا نام آئے گا ساتھ خاتم النبین لکھا جائے گا، وزیر برائے پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ ہم بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دلوانے کا بل لائے ،بلین ٹری کے حوالے سے قانون سازی کو ہم نے سپورٹ کیا، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے آخری لاز بھی ہم نے کل سینٹ سے پاس کرا لئے ہیں، علی محمد خان نے کہا کہ پاکستان میں سارا اندھیرا نہیں ہے روشنی آرہی ہے، ہم وزارت داخلہ میں تاریخی اینٹی انکروچمنٹ پالیسی لیکر آئے تھے، وزیر برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کہا کہ ہم نئی ویزا پالیسی لیکر آئے ، میں تفتان زائرین کے پاس گیا تھا،آسیہ مسیح کیس کا فیصلہ آنے کے بعد ہم نے ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹنے دیا، شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ڈرگ کے حوالے سے ہم نے تاریخی مہم چلائی، کشمیر ایک ایسی مثال بنے گا جس پر دنیا فخر کرے گی، شہریار آفریدی نے کہا کہ کشمیر کمیٹی کشمیر اشو کو بھرپور ہائی لائٹ کر رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں عبد الرزاق داود نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی پالیسی ہم نے بنا کر وزیر اعظم کو پیش کی جس کی وزیر اعظم نے منظوری دی ،ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ تعمیرات کا کام اس لئے شروع کیا تاکہ نوکریاں پیدا ہوں اور لوگوں کو روز گار ملے ،نوکری دینا افضل کام ہے ، ماضی کی حکومتیں نوکریاں بیچتی رہیں،ملک میں معاشی سر گرمیاں شروع ہو چکی ہیں اب لوگوں کو ملازمتیں ملیں گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*