قیامت خیز کرونامیں معیشت بحالی کا معجزہ

اسد اللہ غالب
کرونا نے یکا یک انسانی جانوں کو ہی نہیں عالمی معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ، بھارت کے پچاس ہزار مزدور فاقوں کے مارے سڑکوں پر پیدل چلنے پر مجبور تھے۔پولیس ان کو مرغا بناتی ان کی چھترول کرتی اور ان کے جسموں پر لاٹھیاں برساتی ، امریکہ دنیا کی مالدار ترین ریاست ہے اس نے ہر اکاﺅنٹ میں دو دو ہزار ڈالر بھی پھینکے مگر بھوک اتنی تھی کہ جیسے ہی لوگوں کو ایک سیاہ فام کی موت پر احتجاج کے لیے باہر نکلنے کا موقع ملا تو ان فاقہ کشوں نے ہیرے جواہرات اور سونے کے پلازے لوٹ لیے ، جرمنی اٹلی ، برطانیہ نے بھی اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے لیکن کرونا نے زندگی کا پہیہ مفلوج کر رکھا تھا، لاکھوں کمپنیا ں اور فیکٹریاں بند پڑی تھیں اور ان کے ورکروں کو ملازمت سے نکال دیا گیا تھا، دنیا بھر میں بیروزگار ہونے والوں کی تعداد کروڑوں سے تجاوز کر گئی۔ معیشت کی یہ تباہی کرونا کی قیامت سے زیادہ پریشا ن کن ثابت ہوئی۔ اور ابھی روزگار کی بحالی کا کوئی امکان دور دور تک دنیا کو نظر نہیں ا?تا۔
موت کے اس بے رحم رقص میں جو کرونا اور بھوک کی شکل میں انسانیت پر مسلط ہوئی تھی تو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے اوسان خطا نہیں ہونے دئیے ، اس نے پہلے دن ہی کہا کہ میں مکمل لاک ڈاﺅن اور کرفیو کے حق میں نہیں ہوں کیونکہ مجھے صاف نظر ا?رہا ہے کہ کرونا کے بجائے بھوک اور فاقے سے اموات زیادہ بڑھ جائیں گی۔ اگرچہ اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے صوبوں کو ہیلتھ سسٹم میں خود مختاری حاصل تھی اور انھوں نے وزیر اعظم کی پالیسی پر عمل نہیں کیا مگر وزیر اعظم بار بار کہتے رہے کہ ریڑھی والے، دیہاڑی دار اور مزدور کی جان کون بچائے گا، اور چھوٹے چھوٹے گھروں میں دس بارہ افراد ایک کمرے میں قید سماجی فاصلہ کیسے رکھ سکیں گے، وزیر اعظم کی دلیل میں وزن تھا اور یوں ملک میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کا آغاز ہوا ، محلوں کے کریانہ اسٹور ، فارمیسی کی دکانیں ، بیکریاں ، پھلوں اور سبزیوں کی دکانیں، دودھ دہی کی دکانیں اور تنور کھول دیے گئے تاکہ جسم و جاں کا رشتہ تو برقرار رکھا جاسکے۔ دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے کنسٹرکشن کا سیکٹر بھی کھول دیا گیا اس طرح پاکستان میں وہ افرا تفری کا منظر دیکھنے میں نہیں آیا جس میں ہمارا ہمسایہ بھارت آج بھی مبتلا ہے۔ وزیر اعظم نے وسیع پیمانے پر معیشت کی بحالی کے لیے ایک بہت بڑا کنسٹرکشن پیکیج بھی دیا جس کے لیے پانچ مرلے ، سات مرلے اور دس مرلے کے چھوٹے مکانات کی حوصلہ افزائی کی گئی اور بڑے ڈویلپرز کے لیے بھی کافی ترغیبات رکھی گئیں ، اس پیکیج کے تحت بینکوں سے کہا گیا کہ وہ لوگوں کو تین سو تیس ارب کا تعمیراتی قرضہ جاری کریں، پانچ مرلے پر پانچ فیصد اور دس مرلے کے گھر پر صرف سات فیصد مارک اپ وصول کریں ، یہ پیکیج مراعات سے بھرپور تھا اور جس کے لیے حکومت نے بھی پہلے ایک لاکھ گھروں کے لیے تیس ارب روپے دینے کا اعلان کیا یعنی ہر مکان پر تین لاکھ روپیہ حکومت نے تعمیر کے لیے دینا تھا ، اس پیکیج میں صرف ایک پابندی ہے کہ پراجیکٹ کی منظوری کی آخری تاریخ اس سال اکتیس دسمبر رکھی گئی ہے تاہم پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے پورے دو سال کی مہلت دی گئی ہے ، آپ کے ذہن میں سوال تو آتا ہوگا کہ حکوت کے پاس یکا یک اتنا پیسہ کہاںسے آیا کہ وہ مراعات کی بارش ہی کردے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ترقی یافتہ دنیا اور عالمی مالیاتی اداروں سے کہا کہ وہ ایک سال تک قرضوں کی وصولی ملتوی کردیں ، وزیر اعظم کا یہ انیشی ایٹو منظور کرلیا گیا اور یوں پاکستان سمیت کئی ممالک اس رعایت سے بہرہ مند ہوئے کیونکہ انھیں اس سال کی قرضوں کی قسط ادا نہ کرنا تھی تو انھوں نے وہی پیسہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر لگادیا۔
گھروں کی تعمیر کے لئے نقشہ جات کی منظوری وغیرہ کے مراحل آسان بنانے کے لئے ون ونڈو آپریشن سروس شروع کی گئی جس میں تمام خدمت مراکز میں ایک چھت تلے تمام سہولیات فراہم کی جانے لگیں۔ گھروں کی تعمیر میں بلڈرز اور ڈویلپر کا اہم کردار ہوتا ہے جنہیں حکومت نے فکسڈ ٹیکس شرح کی سہولت دی۔اسی طرح سیمنٹ اور لوہے کے علاوہ تمام تعمیراتی سامان پر ود ہولڈنگ ٹیکس سے چھو ٹ دی گئی۔انکم ٹیکس کو فی مربع سکوائر فٹ کے حساب سے کیلکولیٹ کر کے سہ ماہی ادائیگی کی رعایت دی گئی۔تعمیراتی صنعت کیلئے پیکیج کا اعلان کرنے کے بعد سیمنٹ اور سٹیل کی صنعت پر مثبت اثرات ظاہر ہوئے ہیں۔ مثلاً اٹک سیمنٹ کی پیداوار 78فیصد بڑھی ہے‘بیسٹ وے سیمنٹ 57فیصد‘چراٹ سیمنٹ 127فیصد اور ڈی جی خان سیمنٹ کی پیداوار میں90فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح مختلف سٹیل ملز کی کارکردگی 46فیصد سے 106 فیصد تک بہتر ہوئی۔کورونا سے نمٹنے کے لئے حکومت نے 1.2ٹریلین کا امدادی پیکیج دیا۔اس میں بارہ ہزاررب پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیہاڑی دار مزدوروں کے لئے رکھے گئے۔144ارب مستحق خاندانوں کے لئے‘یوٹیلیٹی سٹورز کے لئے اضافی 50ارب‘این ڈی ایم اے کے لئے 25ارب ایمرجنسی فنڈ 100ارب ‘ایکسپورٹرز کے لئے 100ارب ٹیکس ریفنڈ‘ہیلتھ اینڈ فوڈ سپلائز کیلئے ٹیکس میں 15ارب کی رعایت‘پناہ گاہوں میں اضافہ کیلئے 6ارب ‘پٹرولیم مصنوعات میں ریلیف کے لئے 70ارب ‘بجلی اور گیس بلوں کے لئے 110ارب ‘زراعت کیلئے 100ارب اور گندم کی پیداوار کیلئے280ارب شامل تھے۔وزیر اعظم کاسمارٹ لاک ڈاﺅن کا ویڑن ساری دنیا کے لیے ایک ماڈل بنا مگر دنیا نے اس کی تقلید کرنے میں تاخیر کردی ہے ، جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے عوام کے لیے کرونا کو زحمت نہیں بننے دیا، ایک طرف مرض پر بھی بڑی حد تک قابو پالیا گیا اور دوسری طرف معیشت کا پہیہ بھی گردش میں آگیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*