جشن آز ادی یا ہلٹر بازی

گذشتہ چند سا لو ں سے جشن آزا دی ایک عجیب و غر یب طر یقے سے منا نے کی رو ا یت چل پڑ ی ہے یو م آز ادی کے دن با ز ا روں میں ہلٹر با زی کی انتہا ہوجا تی ہے نو جو انو ں کی ٹو لیا ں پو رے شہر میںپھیل جا تی ہیں جو شر یف لو گو ں خصو صاً خوا تین اور بز ر گو ں پر سپر ے مار تے ہیں وہ گا ڑیو ں میں بیٹھے شہریو ں اور خو اتین کو بہت ہی تنگ کر تے ہیں اس طرح بعض چلتی گا ڑ یو ں کو اٹھا لیتے ہیں جس سے ان میں بیٹھے خو ا تین اور بچے شد ید خو ف و ہر ا س کا شکا ر ہو جا تے ہیں صرف یہی نہیں یہ نو جو ان ان پر پا نی بھی پھینکتے ہیں مو ٹر سا ئیکل سو ار تو ان کے شر سے با لکل محفو ظ نہیں رہتے وہ سٹر کو ں سے گذ ر نہیں سکتے اس کے علا وہ نو جو ان مو ٹر سا ئیکلو ں سے سلنسر نکا ل کر ان کو ہو ا میں اڑ ا تے ہیں اور پھر یہ بگڑ ے ہو ئے نو جو ان پر ائیو یٹ اور سر کا ری گا ڑیو ں میں سٹر کو ں کے در میان کر تب دکھا تے ہیں۔
اس تما م صو رتحال کے بعد یہا ں یہ سو ال اٹھتا ہے کہ کیا قو میں ایسے جشن آز ادی منا تی ہیں جس میں خو شی کی بجا ئے پریشانی اور تکلیف ہو اور اس کے سا تھ سا تھ ان کا ایسا کرنا کی کھلی چھٹی کیو ں دی جا تی ہے کیو نکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ اس مو قع پر فو رسز مو جو د ہو تی ہیںلیکن وہ کسی کو ایسا کرنے سے منع نہیں کر تیں بلکہ خا مو ش تما شائی بنی ہوئی ہو تی ہیں اس عمل کے دور ان اکثر لڑ ائی جھگڑ ے بھی ہو تے ہیں۔
گذشتہ دنو ں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے دفتر سے اس سلسلے میں ایک سرکلر جا ری کیا گیا جس کے تحت یو م آزا د ی کے مو قع پر ہر قسم کی ہو ائی فائر نگ ،آتش با زی ،پٹا خہ با زی ،پریشر ہا رن ،آئس سپر ے ،ون ویلنگ اور ہلٹر با ز ی پر مکمل پا بند ی عا ئد کی گئی ہے جس کی خلا ف ور زی پر سخت کا روائی عمل میں لا ئی جا ئے گی ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا مذکو رہ بہت اچھا اقد ام ہے کیو نکہ ایسا کرنا وقت کی ضرورت ہے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے مذکو رہ احکاما ت پر عمل در آمد ہونا بہت ہی نا گز یر ہے۔
اس سلسلے میں عو ام کو بھی د انشمندی کا مظا ہر ہ کر تے ہوئے ہلٹر با زی جیسے اقد اما ت سے گر یز کرنا چا ہیئے کیو نکہ آز اد قو میں جشن آز ا دی اس طرح نہیں منا تیں جشن آز ا دی کے مو قع پر ہلٹر با ز ی کرنے والو ں کو تا ریخ سے آگا ہی ہونی چا ہیئے کہ یہ آز ا دی ہمیں پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کی گئی اس کے لیے بے شما ر جانو ں کی قر با نی دی گئی ہے ہمیں یو م آز اد ی کے مو قع پر شکر انے کے نو ا فل ادا کرنے چا ہئیں اور ایک آزا د قوم کی حیثیت سے رہنے پر شکر ادا کرنا چا ہیئے کیو نکہ آزا دی کی قد ر ان قو مو ں کو ہو تی ہے جو اس سے محر وم ہیں اس لیے پا کستا نی قو م کو آز ادی کی قد ر کر تے ہوئے مذکو رہ ہلٹر با زی جیسے اقد امات نہیں کر نے چا ہئیں اور اس کے سا تھ سا تھ انتظا میہ کو اس سلسلے میں سخت اقد اما ت کر تے ہوئے حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے والو ں کے خلا ف سخت کا رو ائی کرنی چا ہیئے تا کہ آئندہ ایسے اقد اما ت نہ ہوں اور قو م اطمینا ن سے جشن آزا دی منا سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*