سپیکر قو می اسمبلی کا بلوچستا ن کے عوام کے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زو ر

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گذشتہ رو ز اجلا س سے خطا ب کے دوران بلوچستا ن کے عوا م کو در پیش مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زو ر دیتے ہوئے وا ضح کیا ہے کہ پا ر لیمنٹ بلوچستا ن کے بے گھر افر اد کی وطن وا پسی اور بحالی کے عمل کی نگر انی کر ے گی بلوچستا ن قد ر تی وسائل سے ما لا ما ل صو بہ ہے ان قد ر تی وسائل کو ما ضی میں صو بے کی عوا م کی بہتر ی کیلئے صحیح طر یقے سے استعمال نہیں کیا گیا انہو ں نے اس موقع پر وا ضح کیا کہ سی پیک پو رے ملک خصوصاً بلوچستا ن کیلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔
سپیکر قو می اسمبلی اسد قیصر کا بلوچستان کے عوام کے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دینا بلا شبہ قا بل تعر یف عمل ہے لیکن یہ وفا ق کی جا نب سے بلوچستا ن کے عوام کیسا تھ ایک اور وعد ہ کیا جا رہا ہے جو کہ یقینا ایک بیا ن سے کم نہیں ہے کیو نکہ اس سے قبل بھی مو جو دہ وفا قی حکومت بلوچستا ن کے عوام سے کئی ایسے وعد ے کر چکی ہے او ر اب بھی اس کا تسلسل جا ری ہے وزیر اعظم عمر ان خان نے اقتدا ر میں آنے سے قبل اور اقتد ار میں آنے کے بعد کئی ایسے وعد ے کئے ہیں اس کے علا وہ ان کے وزر اءبھی یہ کا م تسلسل سے سر انجا م دے رہے ہیں لیکن افسو س کی با ت یہ ہے کہ یہ سب اب تک صر ف اخبا ری بیا نا ت تک ہی محد و د ہیں ان پر عملی طو ر پر کوئی اقد اما ت نہیں کئے جا رہے جیسا کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے مذکو رہ بیا ن میں خو د ہی کہا ہے کہ بلوچستا ن قد ر تی وسائل سے ما لا ما ل صو بہ ہے ان کو ما ضی میں صو بے کی عوام کی بہتر ی کیلئے صحیح طر یقے سے استعما ل نہیں کیا یہ امر حقیقت پر مبنی ہے کہ بلوچستا ن اور اس کے عوام کو سا بقہ حکومت نے مسلسل نظر اند از کئے رکھا ہے جس کے با عث یہ پسما ند گی کا شکا ر ہو گیا اس کے قد ر تی وسائل کی اس کو پو ری را ئیلٹی نہیں دی گئی اور اس کا اچھا خا صا حصہ خو د لیتے رہے۔
اب چو نکہ وفا ق میں پاکستا ن تحریک انصا ف کی حکومت وزیر اعظم عمر ان خان کی قیا دت میں قا ئم ہے کو وفا ق کو رو ش کو تبد یل کر تے ہوئے بلوچستا ن اور اس کے عوام کے مسائل کو سنجید ہ لیتے ہوئے احسن اقد اما ت کر نے چاہئیں تا کہ یہ صو بہ جو رقبے کے لحا ظ سے ملک کا سب سے بڑ ا صو بہ ہے ملک کے دیگر تر قی یا فتہ صو بوں کے بر ابر آسکے۔
وفا قی حکومت کونہ صر ف صو بے کے معا شی مسائل کی جا نب خصو صی تو جہ دینی چا ہیئے بلکہ عو ام کو ان کے حقو ق خصو صاً وفا ق میں صو بے کے لیے مخصو ص 6 فیصد کوٹے پر عمل در آمد کو یقینی بنا نے کے احسن اقد اما ت کرنے چا ہئیںکیو نکہ اس وقت صوبے میں بےرو ز گا ری بہت زیا دہ ہے اور نو جو ان اپنی ڈ گر ی ہا تھو ں میں اٹھا ئے در بد ر کی ٹھو کر یں کھا رہے ہیں اور افسو س کی با ت یہ ہے کہ ان کے اس مخصو ص کوٹے پر با ہر کے لو گ بھر تی ہو رہے ہیں جو یہا ں کے طلبا ءکی حق تلفی ہے وفا قی حکومت کو اس اہم مسئلے پربھی نہ صر ف خصو صی توجہ دینی چا ہیئے بلکہ اس پر بھر تی ہونے والے افر اد کو نہ صر ف بر طر ف کیا جا ئے بلکہ اس تما م پر و سس میں ملو ث افر اد کو قر ار وا قعی سز ا دی جائے تاکہ آئند ہ کوئی ایسی جعل سا زی نہ کر سکے کیو نکہ ان کے اس اقد ام سے حقداروں کو ان کے حق سے محرو م کیا گیا جو کہ قا بل مذمت اقد ام ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*