گریبان پکڑنے سے پاﺅں میں گرنے تک کا سفر!!!!!

محمد اکرم چودھری
پیر پگارا مرحوم میاں نواز شریف کے بارے فرمایا کرتے تھے کہ جب انہیں ضرورت ہوتی ہے تو پاوں پکڑ لیتے ہیں اور جب ضرورت نہیں ہوتی تو گریبان پکڑ لیتے ہیں آج ان کے یہ الفاظ کانوں میں گونج رہے ہیں جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ بجٹ منظوری کے لیے پرویز خٹک اور اسد عمر بلوچ رہنما شاہ زین بگٹی کو منا رہے ہیں کیا سارا سال ان دونوں یا ان کے بڑوں کو بلوچستان یا بنیادی سہولیات سے محروم اس صوبے کا کوئی خیال کیوں نہیں آیا۔ اب ضرورت ہے تو ترلے منتیں ہوں گی، نئے وعدے کیے جائیں گے، معذرت کی جائے گی، کام نکل جائے گا تو پھر بلوچوں کی گردن دبانا شروع کر دیں گے۔ بلوچستان کے ساتھ حکمرانوں کے اس رویے کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ہم انہیں کہاں سے کہاں لے گئے ہیں۔ مسلسل استحصال اور حق تلفی کے باوجود وہ ہر دور میں وفاق کا ساتھ دیتے ہیں۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے خدمات پیش کرتے ہیں ہر مرتبہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوتا ہے۔ حکومت کے دو اہم وزراء کا یہ منت سماجت سے بھرپور دورہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ ووٹ حاصل کرنے سے زیادہ تعلق قائم نہیں کیا۔ اگر اتحادیوں کا خیال رکھا گیا ہوتا، خیال رکھنا تو بہت آگے کی بات ہے اگر معاہدوں پر ہی عملدرآمد کیا گیا ہوتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ چند روز قبل بلوچ رہنما اختر مینگل نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا اور پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بتایا کہ پی ٹی ا?ئی نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔ اب شاہ زین بگٹی کو منانے کا مشن عام دنوں میں حکومت کے تکبرانہ رویے کا ثبوت ہے۔پی سی بی کا ٹیسٹ کرکٹر محمدحفیظ کا دوسرا کورونا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ
اب آگے چلتے ہیں اور مراد سعید کو سنتے ہیں موصوف کو شکوہ ہے حزب اختلاف سے تعلق رلھنے والے سیاستدان فائلیں اٹھائے ان سے ملنے آتے ہیں، گھر پر تحائف بھجواتے ہیں اور کہتے ہیں کہ این آر او دے دیں۔ این آر او کا آسمان اتنی تیزی سے زمین بوس ہو گا یہ کسی نے سوچا بھی نہ تھا اور اگر این آر او کی بات مراد سعید تک آ پہنچی ہے تو پھر یہ سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہقنی چاہیے کہ اس دعوے کی حقیقت کیا ہو سکتی ہے ہمیں تو ان سیاستدانوں پر بھی رحم آرہا ہے جو فائلیں اٹھائے وزیر موصوف سے این آر او کے لیے درخواست کر رہے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ تحفے بھی بھجوا رہے ہیں۔ جب سے یہ لطیفہ سنا ہے طبیعت عجیب ہو گئی ہے۔ ہائیں یہ مراد سعید اور این آر او۔ اللہ اللہ ایسے پستی۔ موصوف کہتے ہیں کہ ن لیگ والے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کردار کشی کرتے ہیں میرے پاس بھی یہ راستہ ہے ایسے ایسے ٹرینڈ بنوا سکتا ہوں کہ لگ پتہ جائے گا۔ مراد سعید یہ بھول چکے ہیں جو زبان وہ پارلیمنٹ سے باہر اور پارلیمنٹ کے اندر استعمال کرتے رہے ہیں یہ غیر مہذب، غیر پارلیمانی زبان کے استعمال کا بدترین ٹرینڈ ان کا اپنا بنایا ہوا ہے اب اگر وہ ٹرینڈ گھوم پھر کر واپس ان کی طرف آرہا ہے تو شکوہ کیوں کر رہے ہیں۔ انہیں ن لیگ والوں سے گلہ کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں قوم کے نوجوانوں کو عدم برداشت پر لگا کر اب پارلیمنٹ میں سیاسی حریفوں کو برداشت کا سبق ان کی زبان سے جچتا نہیں ہے۔ یہ حالات مراد سعید اور ان جیسے تمام لوگوں کے لیے سبق ہیں۔ سیاست بڑا بیرحم کھیل ہے یہ بھی کرکٹ کی طرح ہے ہنساتی کم رلاتی زیادہ ہے۔ یہ یاد رکھیں اب بھی وقت ہے واپس آئیں عوام سے کیے گئے وعدے پورے کریں جس تبدیلی کے لیے چیختے رہے تھے عوام اس تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہے مراد سعید اور ان کے ساتھی وہ تبدیلی تو نہیں لا سکے لیکن ہر دوسرے معاملے پر ان کا اپنا موقف ضرور بدلا ہے کیا ہم اسے ہی تبدیلی سمجھ لیں۔خواجہ سعد رفیق کی ہم دل سے قدر کرتے ہیں ان سے سیاسی و نظریاتی اختلاف ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ وہ حقیقی سیاسی کارکن ہیں۔ ایسا سیاسی کارکن جو کسی بھی حکومت کا اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے اور کسی بھی اپوزیشن میں جان ڈال سکتا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے نچلی سطح سے سیاست شروع کی ہے اور پارلیمنٹ تک کا سفر طے کیا ہے۔ مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے وفاقی کابینہ تک کا حصہ رہے ہیں اس سفر میں سب سے اہم اپنی جڑوں کے ساتھ جڑے رہنا ہے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کے ساتھ رشتے اور تعلق کو کسی بھی لمحے کمزور نہیں ہونے دیا۔ اب وہ پارلیمنٹ میں بات کرتے ہیں تو اس میں بھی سنجیدگی اور اور سیاسی تربیت جھلکتی ہے۔ انہوں نے فواد چودھری کو متبادل قیادت نہ ہونے پر جواب دیا ہے اس پر پھر کبھی بات ہو سکتی ہے لیکن اس اہم مسئلے پر خواجہ سعد رفیق نے اپنا موقف اچھے انداز میں پیش ضرور کیا ہے۔ ملک کی تمام بڑی چھوٹی سیاسی جماعتوں میں ایسے سیاسی کارکنوں کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔
وزیر ہوا بازی نے کراچی میں طیارہ تباہ ہونے کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے کئی اہم باتیں کی ہیں ان سب باتوں پر ان سے پہلا سوال یہ ہے کہ پی آئی اے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے حکومت نے دو سال میں کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ حکومت میں آنے سے پہلے تو یہ سب پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کی باتیں کرتے تھے اب کیوں ان نعروں اور وعدوں سے بھاگ رہے ہیں کیا انہیں اس وقت علم نہیں تھا کہ اس ادارے کے اصل مسائل کیا ہیں اگر علم تھا تو پھر عوام سے جھوٹے وعدے کیوں کیے۔ اگر بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی گئی ہے تو اچھائی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔
فواد چودھری کے بیانات پر بہت بات ہو رہی ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ فواد چودھری نے ایک مرتبہ پھر ہدف حاصل کیا ہے وہ میڈیا کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے میں کامیاب ہوئے ہیں انہوں نے میڈیا کو ایک نئی بحث دی ہے اس بحث کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ عوامی مسائل کے بجائے سیاسی مسائل پر گفتگو شروع ہو چکی ہے۔ اس عرصے میں حکومت کو سکون ملا ہے کیونکہ میڈیا کی طرف سے حکومت پر سخت تنقید ہو رہی تھی اسی طرح زرتاج گل کے بیانات کیوجہ سے بھی عوامی مسائل سے توجہ ہٹ گئی۔ یوں اوپر تلے وفاقی وزراءکے بیانات کو سمجھنے کے لیے اس پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے۔ میڈیا کے لیے سب سے اہم یہی ہے کہ اسے عوامی مسائل سے نہیں ہٹنا چاہیے۔ حکومت کوئی بھی ہو اس کی اصل کارکردگی عام آدمی کی زندگی سے ہی نظر آتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حکومت نتائج دینے میں ناکام رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر فورم پر تنقید ہو رہی ہے۔ وفاقی وزراء کو بھی چاہیے کہ تنازعات کھڑے کر کے میڈیا کی توجہ تقسیم کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی سے عوامی سطح پر پائے جانے والے ناکامی کے تاثر کو ختم کریں۔ یہی سب سے بہتر اور پائیدار حل ہے۔ کب تک ایسے تنازعات سے توجہ تقسیم کی جا سکتی ہے۔جب ہم حکومت کی ناکامی کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان پر بات آی ہے۔ حکومت کی ناکامی سے زیادہ تباہ کن چیز ملک کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کا نظام سے مایوس ہونا ہے یہ مایوسی بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ تحریک انصاف اپنے منشور سے ہٹ گئی، وعدے کہیں راستے میں رہ گئے۔ تحریک انصاف کے نظریاتی اور پرانے کارکن کہیں پچھلی صفوں سے ہی پیچھے نکل گئے۔ آگے وہ کھڑے ہیں جن کا تحریک انصاف اور اس کے بانی اراکین سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کو پسند کرنے والے آج شوکت خانم والے عمران خان کو ڈھونڈ رہے ہیں اور وہ کہیں نہیں مل رہا۔ عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں سے دور ہو گئے ہیں۔ کارکنوں سے دور ہونے سے پہلے وہ اراکین اسمبلی سے دور ہٹ گئے۔ حکومت میں آنے کے بعد بالکل یہی طرز عمل میاں نواز شریف کا ہوتا تھا۔ عمران خان ن لیگ کو برا بھلا تو کہتے رہتے ہیں لیکن انہیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کہیں کارکنوں سے دوری ہی مسائل کی اصل وجہ تو نہیں ہے کیونکہ جب آپ کارکنوں سے دور ہو جاتے ہیں تو اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ ان کے مسائل سے بھی لاعلم ہو جاتے ہیں یقیناً یہی وجہ ہے کہ آج اسد عمر جو سچ جھوٹ کہتے ہیں وزیراعظم مان لیتے ہیں۔
اسد عمر اور فواد چودھری مل بیٹھے ہیں عثمان ڈار نے اس مصالحتی بیٹھک میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گلے شکوے بھی دور ہوئے ہیں۔ دونوں وزراء کا مل بیٹھنا خوش آئند ہے۔ سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے ہونا چاہیے لیکن اس اختلاف رائے کو ذاتی اختلافات تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ عثمان ڈار کی اس کاوش پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ حکمران جماعت اگر ایسے ہی جلد غلطیوں سے سیکھنا اور فیصلوں پر نظر ثانی شروع کر دے تو عام آدمی کی زندگی میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔
٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*