قومی اسمبلی ،حرمت حضرت سیدہ فاطمة الزہرہ بارے متفقہ قرارداد منظور

اسلام آباد(آ ئی این پی )قومی اسمبلی نے حرمت حضرت سیدہ فاطمة الزہرہ کے حوالے سے قرارداد متفقہ منظور کرلی،حکومت و اپوزیشن کی جانب سے متفقہ قرارداد پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی نے پیش کی ۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ سیدہ طاہرہ، ام ابیہا کے حوالے سے ایک مذہبی سکالر نے سوشل میڈیا پر توہین کی ہے ،یہ ایوان اس مذہبی سکالرز کے ان توہین آمیز الفاظ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے،یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اس شخص کے خلاف 73 کے آئین کے تحت کارروائی کی جائے ، مذہبی سکالرز کی توہین آمیز الفاظ سے پوری امہ کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ،اس طرح کے شیطان صفت انسان اس ملک میں فرقہ واریت کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں ،نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت و اپوزیشن کی جانب سے متفقہ قرارداد پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی نے پیش کی ،قرارداد پیش کرنے کے لئے قومی اسمبلی کے قواعد معطل کئے گئے۔قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ معزز ایوان بارگاہ ام السادات، مخدوم کائنات دختر مصطفی خاتم النبین ،بانوے مرتضی ، ام الحسنین کریمین، سیدہ طیبہ طاہرہ ،راضیہ مرضئی ، عابدہ ، زاہدہ، محدثہ ، معظم مبارکہ ، ذکیہ سید النسا،خیر النساسیدہ فاطمہ البتول الزہرہ کی بارگاہ عالی مرتبت میں کروڑہاھدیہ سلام عقیدت پیش کرتی ہوں ۔ حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم خاتم النبین نے فرمایا کہ ایک فرشتہ جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا اس نے اپنے پرودگار سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے حاضر ہونا ہے اور یہ خوشخبری دی کہ فاطمہ اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں اور امام حسن و امام حسین جنت کے تمام نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ حضرت مسور بن محترمہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم خاتم النبین نے فرمایا : فاطمہ میری جان کا حصہ ہے پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ رسول اکرم خاتم النبین نے فرمایا: بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا میری جان کا حصہ ہے اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے ۔ حضرت ابو حنظلہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم خاتم النبین نے فرمایا بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا میری جان کا حصہ ہے جس نے اسے ستایا اس نے مجھے ستایا ، حضور اکرم خاتم النبین کے آزاد کردہ وہ غلام حضرت ثوبان نے فرمایا کہ حضور اکرم خاتم النبین جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنے اہل وعیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ ہوتے تو وہ حضرت فاطمہ ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ ہوتیں۔ایک اور مشہور حدیث (جو حدیث کساکے نام سے معروف ہے)کے مطابق حضور اکرم خاتم النبین نے ایک یمنی چادر کے نیچے حضرت فاطمہ ، حضرت علی وحسن و حسین کو اکٹھا کیا اور فرمایا انما یریداللہ لیدہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہر کم تطہیرا(الحزاب 33) ترجمہ: بے شک اللہ چاہتا ہے کہ اے میرے اہل بیت تجھ سے رجس کو دورکرے اور ایسے پاک کرے جیسا کہ پاک کرنے کا حق ہے ۔ یہ معزز ایوان ایک مذہبی سکالر کی طرف سے سوشل میڈیا پر سیدہ کائنات کے متعلق نامناسب بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اس سے پوری امت کی دل آزاری تصور کرتا ہے ۔ صحابہ کرام اہل بیت اطہار ، ازواج مطہرات رضوان اللہ علہیم وعلیھن اور برگزیدہ ہستیوں کی بارگاہ میں اشارہ، کنایتہ ، تحریرا ، تقریرا کسی بھی انداز میں بے ادبی وگستاخی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے اور اسے اسلامی تعلیمات کے منافی ، قومی بیانیہ پیغام پاکستان کے متفقہ اعلامیہ وفتوی کے خلاف ورزی کا سنگین جرم قرار دیتے ہوئے اس امر کا مطالبہ کرتا ہے کہ حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جانا ناگزیر ہیں اس کےلئے موجودہ قوانین پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ قوانین میں ترامیم لا کر انہیں مزید سخت وموثر کرنے کی ضرورت ہے تا کہ توہین واہانت کا دروازہ مکمل طور پر بند ہوسکے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*