اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کا پالیسی ریٹ کو 100 بیسس پوائنٹس کم کرکے 7 فیصد کرنے کا فیصلہ

کراچی(کامرس ڈیسک)اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 100 بیسس پوائنٹس کم کرکے 7 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے ایم پی سی کے اس نقطہ نظر کی عکاسی ہوتی ہے کہ مہنگائی کا منظر نامہ مزید بہتر ہوا ہے، ملک میں معاشی سست رفتاری برقرار ہے اور نمو میں کمی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ طلبی حوالے سے مہنگائی کے کم ہوتے ہوئے خطرات کے اس پس منظر میں زری پالیسی کی ترجیح اس ہمت آزما دور میں موزوں طور پر نمو اور روزگار کو تقویت دینے کی جانب ہوگئی ہے۔ ایم پی سی نے اپنے مینڈیٹ کے مطابق کووڈ 19 کے بحران میں گھرانوں اور کاروباری اداروں کو مدد فراہم کرنے اور معیشت کو پہنچنے والا نقصان کم سے کم کرنے کے اپنے عزم کا پھر اعادہ کیا۔ اس تناظر میں ایم پی سی نے یہ محسوس کیا کہ رسک کے انتظام کے نقطہ نظر سے مہنگائی کے بہتر منظر نامے کے پیش نظر نمو میں کمی کے خطرات کا فوری جواب ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ چونکہ اوائل جولائی 2020 تک تقریبا 3.3 ٹریلین روپے کے قرضوں کے نرخ ازسرنو متعین کیے جانے ہیں اس لیے یہ زری پالیسی کی ترسیل کے نقطہ نظر سے اقدام کرنے کا اچھا موقع ہے ۔ اس طرح شرح سود میں کمی کے فوائد گھرانوں اور کاروباری اداروں کو بروقت منتقل کیے جاسکیں گے۔ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ کووڈ 19 کی عالمی وبا پاکستان سمیت بہت سی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پھیلتی جارہی ہے اور کئی ممالک میں دوسری لہر آنے کے خطرات ہیں۔ ایم پی سی نے کہا کہ عالمی منظر نامے کو درپیش خطرات بہت زیادہ کمی کی جانب مائل ہیں اور بحالی کا راستہ غیریقینی ہے۔ ایم پی سی نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف نے اپنے کل جاری کیے جانے والے ورلڈ اکنامک آٹ لک کے اپڈیٹ میں اپنا 2020 کی عالمی نمو کی پیش گوئی مزید گھٹا کر -4.9 فیصد کردی ہے، جو اپریل میں کی گئی پیش گوئی سے 1.9 فیصدی درجے کم ہے اور پہلے کی نسبت زیادہ تدریجی بحالی کی پیش گوئی کی ہے۔ملک کے اندر مضمر مہنگائی میں اعتدال آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عید کی تعطیلات کے دوران غذائی قیمتوں میں موسمی اضافے سے قطع نظر عمومی مہنگائی مئی میں مزید گھٹ کر 8.2 فیصد ہوگئی جس کا سبب ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ کمی ہے۔ علاوہ ازیں ماہ بماہ مہنگائی کی شرحیں مسلسل پست ہیں۔ حساس اشاریہ قیمت کے حالیہ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض غذائی اشیا خصوصا گندم کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود جون میں قیمتوں کے مجموعی دبا میں اعتدال جاری رہا۔ یہ توقع بھی ہے کہ مالی سال 2020/21کا بجٹ مہنگائی کے حوالے سے کوئی اثر نہیں ڈالے گا کیونکہ حکومتی تنخواہوں کا منجمد کیا جانا، نئے ٹیکسز کی عدم موجودگی اور پست امپورٹ ڈیوٹیز کی بنا پر کم پیداواری لاگت بعض شعبوں میں سبسڈیز کی کمی کا اثر زائل کردے گی۔ اگرچہ رسدی دھچکے مہنگائی میں کچھ اتار چڑھا پیدا کرسکتے ہیں تاہم ایم پی سی کی رائے یہ تھی کہ کمزور ملکی طلب کے پیش نظر یہ دھچکے عارضی ہوں گے چنانچہ زری پالیسی کو ان سے آگے دیکھنا چاہیے۔ طلبی دبا کی عدم موجودگی کے پیش نظر اوسط مہنگائی اگلے مالی سال کے لیے پہلے اعلان کردہ حدود 7-9 فیصد سے کم رہ سکتی ہے۔ اب پالیسی ریٹ میں 7فیصد کی موجوددہ کمی کے بعد ایم پی سی کی رائے کے مطابق مستقبل کی بنیاد پر حقیقی شرح سود (جس کی تعریف پالیسی ریٹ منہا متوقع گرانی ہے)صفر کے قریب رہے گی جو موجودہ حالات میں مناسب ہے۔ جہاں تک حقیقی شعبے کا تعلق ہے، اپریل میں، جب لاک ڈان برقرار تھا، ایل ایس ایم کا زوال بڑھ کر 41.9 فیصد (سال بسال)ہوگیا۔ مئی میں سیمنٹ کی ترسیل، گاڑیوں کی فروخت، غذائی اشیا اور ٹیکسٹائل کی برآمدات اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت جیسے سرگرمی کے بلند تعدد(high-frequency) کے حامل اظہاریے بھی مسلسل سکڑتے رہے، گو کہ پچھلے دو مہینوں کے مقابلے میں ان میں کمی کی رفتار گھٹ گئی۔ آئندہ کی طرف دیکھیں تو مالی سال 21 میں لاک ڈان میں نرمی، معاون معاشی پالیسیوں اور عالمی نمو میں تیزی کی مدد سے معیشت کے بتدریج بحال ہونے کی توقع ہے۔ تاہم خطرات کا رجحان کمی کی سمت ہے اور بحالی کا بہت زیادہ انحصار پاکستان اور بیرون ملک وبا کی صورت حال پر ہوگا۔بیرونی محاذ پر مئی کے دوران تجارتی خسارے میں کمی اور پچھلے ماہ کی نسبت ترسیلات زر میں اضافے کی بنا پر جاری کھاتہ فاضل ہوگیا۔ اس دوران گذشتہ دو ماہ کے مقابلے میں پورٹ فولیو رقوم کا اخراج کافی کم ہوگیا جبکہ بیرونی براہ راست سرمایہ کاری لچکدار رہی ہے اور مالی سال 20 میں اب تک پچھلے سال کی اسی مدت سے تقریبا دگنی ہوکر 2.4 ارب ڈالر ہوگئی۔ 19 جون 20 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر گھٹ کر 9.96 ارب ڈالر رہ گئے جس کا سبب قرضوں کی واپسی تھی۔ تاہم اس کے بعد اسٹیٹ بینک کو کثیر جہتی ایجنسیوں سے مزید رقوم ملی ہیں جن میں عالمی بینک سے 725 ملین ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 500 ملین ڈالر شامل ہیں اور ایشیائی انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک (AIIB) سے مزید 500 ملین ڈالر جلد متوقع ہیں۔بیرونی تغیر پذیری کے اس دور میں ایم پی سی کی رائے یہ تھی کہ لچکدار ایکسچینج ریٹ نے دھچکے برداشت کرنے کے حوالے سے قابل قدر کردار ادا کیا ہے اور ابھرتی ہوئی منڈیوں سے سرمائے کے اخراج اور بگڑتے ہوئے عالمی احساسات کی بنا پر پیدا ہونے والے سخت مالی حالات سے معیشت کو بچانے میں مدد دی ہے۔ ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ روپے کی قدر میں کمی بیشتر دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں کے مقابلے میں کم رہی ہے جس سے گذشتہ برس کے دوران جمع ہونے والے ذخائر کے اضافی بفرز کی عکاسی ہوتی ہے۔ بیرونی شعبے کا منظرنامہ مستحکم ہے ۔ حالیہ اعدادوشمار سے اس نقطہ نظر کی تصدیق ہوتی ہے کہ پست عالمی قیمتوں کے باعث کووڈ 19 کے بحران کے دوران جاری کھاتے کا خسارہ قابو میں رہے گا ۔ علاوہ ازیں متوقع سرکاری اور نجی رقوم کی آمد سے بیرونی پوزیشن کے پوری طرح رقوم سے لیس رہنے کی توقع ہے۔آج کے فیصلے سے پالیسی ریٹ میں مجموعی کمی وسط مارچ سے اب تک 625بیسس پوائنٹ ہوگئی جو اس عرصے کے دوران مہنگائی میں کمی سے مطابقت رکھتی ہے۔ ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ اسٹیٹ بینک کے کئی دیگر اقدامات کے استعمال میں بھی حالیہ ہفتوں میں اضافہ ہوا ہےخصوصا روزگار کے تحفظ اور شعبہ صحت کے لیے رعایتی ری فنانسنگ سہولتیں اور قرض کی واپسی میں ریلیف دینے کے لیے ضوابطی اقدامات۔ مجموعی طور پر اس مضبوط اور اعدادوشمار پر مبنی زری پالیسی اقدام سے نمو اور روزگار کو تقویت ملے گی جبکہ مہنگائی کی توقعات قابو میں رہیں گی اور مالی استحکام قائم رہے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*