رینٹل انکم پر ٹیکس 35فیصد سے کم کر کے 15فیصد کیا جائے ، طاہر عباسی

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر طاہر عباسی نے کہا کہ بجٹ سے پہلے بزنس کمیونٹی حکومت سے رینٹل انکم پر عائد بھاری ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کرتی رہی ہے کیونکہ رینٹل انکم پر ٹیکس کی سب سے زیادہ شرح 35فیصد ہے جس سے نہ صرف کاروباری طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہو ا ہے بلکہ ٹیکس چوری کی بھی حوصلہ افزائی ہے لیکن حکومت نے رینٹل انکم پر عائد ٹیکس پر کوئی نظرثانی نہیں کی۔ لہذا انہوںنے پرزور مطالبہ کیا کہ بجٹ پر نظرثانی کے دوران رینٹل انکم پر ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح کو 35فیصد سے کم کر کے 15فیصد کیا جائے جس سے کاروباری طبقے کی مشکلات کم ہوں گی، کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے گا اور حکومت کے ٹیکس ریونیو میں بھی اضافہ ہو گا۔ طاہر عباسی نے کہا کہ حکومت نے نئے بجٹ میں انجینئرنگ سروسز انڈسٹری پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 3فیصد سے بڑھا کا 8فیصد کر دیا ہے جس سے اس شعبے کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور بے روزگاری میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انجینئرنگ سروسز انڈسٹری پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کیا گیا اضافہ واپس لیا جائے تا کہ اس انڈسٹری کو مزید مسائل سے بچایا جا سکے۔انہوںنے کہا کہ انجینئرنگ سروسز انڈسٹری ملک میں روزگار پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے جبکہ یہ انڈسٹری ہنرمند اور پیشہ وارانہ افراد تیار کرنے میں بھی مثبت کردار ادا کر رہی ہے جو بیرونی ممالک جا کر پاکستان کیلئے ترسیلات زر میں اضافہ کرتے ہیں۔ لیکن حکومت نے نئے بجٹ میں اس انڈسٹری پر ٹیکس میں یکشمت 166فیصد سے زائد اضافہ کر دیا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*