واہ رے حقیر جراثیم

تحریر:طیبہ ضیائ
ساری دنیا ایک عجیب مشکل کا شکار ہو چکی ہے۔بے بسی کا عالم ہے چار سو۔حیران کن حالات بن چکے ہیں۔پہلے فضا آلودہ تھی مگر دنیا باہر نکلتی تھی۔اب دنیا اندر بند ہو تو باہر فضا نکھر گئی ہے اور اب جب فضا صاف اورخوشگوار ہے مگر دنیابنا ماسک باہر نہیں جا سکتی۔لوگوں کے ہاتھ صاف شفاف ہیں مگر ہاتھ نہیں ملا سکتے۔ وقت ہی وقت ہے مگر میل ملاپ نہیں کر سکتے۔ سارا دن کچن میں گزر جاتا ہے مگر کسی کی دعوت نہیں کرسکتے۔ بازار کھل بھی جایئں تو خریداری کو دل نہیں مانتا۔جن کے پاس پیسہ ہے وہ خرچ نہیں کر سکتے اور جن کے پاس پیسہ نہیں وہ کمانہیں سکتے۔اپنا کوئی نظر آبھی جائے توگلے نہیں لگا سکتے۔ گاڑیاں کھڑی ہیں سڑکیں خالی ہیں مگر لانگ ڈرائیو پر نہیں جا سکتے۔سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ کرنے کو جی نہیں کرتا۔نہ کوئی خواہش رہی نہ حسرت۔یہ ان دیکھا حقیر سا جراثیم چلا بھی جائے مگر اس کے اثرات پوری دنیا کا ماحول بدل کر رکھ دے گا۔ انسان کی عادات سوچ اور جذبات ایک ایسے انجانے خوف کا شکار ہو چکے ہیں جہاں سے واپسی آسان نہیں۔ نیویارک میں وائرس عروج پر تھا۔ ہزاروں جانیں نگل چکا۔ دو تین ماہ کے سخت لاک ڈاﺅن کے بعد اب گراف نیچے آیا ہے تو نیویارک میں مرحلہ وار لاک ڈاﺅن ختم کیا جا رہا ہے۔ماسک اور دوری لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔ان دو اقدام سے وائرس پر قابو پایا جارہا ہے۔کرونا کیا ہے کیوں ہے کہاں ہے کیسا ہے کب آیا کب جائے گا کیا لے گیا آگے کیا لائے گا۔۔۔نا ختم ہونے والی بحث گفتگو فکر مصیب پریشانی۔۔۔ لیکن کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اصل سوال پر توجہ دی ہو کہ اس ترقی یافتہ زمانے میں بھی ایک معمولی جراثیم پر قابو نہ پایا جا سکا ؟ جواب بہت مختصر اور سادہ ہے کہ جراثیم بنانے اور پھیلانے والا بس یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ تم مجھ سے نہیں ڈرتے میرے بندوں کے ساتھ ظلم و زیادتی بے انصافی بے ایمانی دھوکہ فراڈ کرتے ہوئے نہیں ڈرتے تو سوچا تمہیں تمہاری اصل اوقات دکھا دوں ، بتا دوں کہ ایک حقیر نطفہ کی پیداوار تم ایک ان دیکھے حقیر جراثیم کی مار بھی نہیں سہہ سکتے۔ اس سے اس قدر ڈر گئے ہو کہ اپنے سایہ سے بھی خوف آنے لگا ؟اتنا سا سبق پڑھا کر تمہیں زمین پر بھیجا تھا کہ میری ناراضی سے ڈرو اور میری مخلوق پر زیادتی سے ڈرو۔۔۔مگر تم تو خود خدا بن بیٹھے ؟۔۔۔اب تم ہر شے سے ڈرو گے حتیٰ کہ اپنے بال بچوں کو سینے سے لپٹانے سے ڈرو گے۔مال و زر دنیا کی چمک رونق میلے عیش و مستی کسی شے میں کشش نہیں رہی۔ باہر موسم ملک شاہراہیں باغ باغیچے پھول کھلیان ہریالی غنچے رشتے دوستیاں عشق و عہدو پیمان سب پھیکے اور بے مزہ سے لگنے لگے ہیں۔ گھروں میں بند ایک ان دیکھا حقیر جراثیم تمہیں ڈرانے کے لئے کافی ہے۔بہن گھر آتی تھی تو بھائی کے پاس گپ شپ لگانے کو فرصت نہیں ہوتی تھی۔ بوڑھے ماں باپ کا دکھ سکھ سننے کا وقت نہیں تھا۔ بچوں سے کھیلنے کی مہلت نہ تھی۔ بیوی کے لئے ٹائم نہ تھا۔ اب مہلت ہی مہلت ہے فرصت ہی فرصت ہے وقت ہی وقت ہے لیکن کچھ کرنے کو من نہیں کرتا۔زندگی بے کیف بے مزہ خالی خالی سی محسوس ہونے لگی ہے۔جب تمہیں فرصت نہ تھی تو والدین تھے آج والدین نہیں رہے مگر تمہیں فرصت میسر ہے۔ اور کئی خوش نصیبوں کے والدین آج بھی حیات ہیں مگر فرصت ہونے کے باوجود ان کے پاس بیٹھنے کی نعمت سے محروم کر دئیے گئے ہیں۔ اس ان دیکھے معمولی جراثیم کے خوف نے بوڑھے افراد سے دور کر دیا ہے۔در حقیقت بوڑھے افراد کو معمولی سمجھنے کی سزا ملی ہے۔بوڑھوں کے پاس بیٹھنا وقت کازیاں اور باہر کے لوگوں میں وقت گزارنافن سمجھا جاتا تھا۔بچوں کو ٹیوشن سینٹروں میں پھینکنے والے بھی اس حقیر جراثیم کے ہاتھوں گھر میں پھنس گئے ہیں۔ اولاد کی تعلیم و تربیت والدین کااولین فریضہ ہے مگر یہ فریضہ ٹیوشن اکیڈمی کے ذمہ ڈال دیا گیا۔ ا?نکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق کچھ علم نہیں بچوں کے ساتھ باہر کے لوگ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ہر گلی کی نکڑ پر درندہ بیٹھا ہے۔ یہ حقیر جراثیم آفت مصیبت ہی نہیں رحمت بھی ہے۔ اس کے خوف نے نہ جانے کتنے معصوم بچوں کوگھروں میں محفوظ کر دیاہے۔ملازمین میں نہ جانے کتنے چھپے ہوئے درندے ہوں گے۔جب سے کرونا کے خوف سے انہیں چھٹی دی ہے کتنے گھر ان دیکھے واقعات سے بچ گئے ہوں گے۔ اس حقیر ان دیکھے جراثیم نے دنیا الٹ پلٹ کر رکھ دی ہے۔ خواتین کا بناﺅ سنگھار تھم کر رہ گیا ہے۔شاپنگ میک اپ جوتے کپڑے اب کہاں اوڑھ پہن کر جائیں گی۔ ماسک میں میک آپ ہی چھپ جاتا ہے۔ اور ماسک کو نقاب سے تشبیہ دینے والے خوش ہو جایئں کہ مردوں نے بھی نقاب پہن لئے ہیں۔ در اصل خالق نے سب کے منہ بند کر دئیے ہیں۔ نہ کوئی محمود رہا نہ ایاز سب کو بلا رنگ نسل مذہب ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا۔اور روحانی محمود و ایاز کی صفیں لپیٹ کر رکھ دیں۔حرم شریف میں وہ جم غفیر کہ عام دنوں میں بھی حج کاسماں ہوتا تھا اور اب حج بھی اداس حیران کھڑا سوچ رہا ہے کہ ایک ان دیکھے حقیر جراثیم نے احرام کی جگہ کفن اوڑھا دئیے ؟۔۔۔ اللہ واکبر۔۔۔خدا کی قسم خدا سے ڈر لگنے لگا ہے۔ اس ان دیکھے حقیر جراثیم کی مہربانی کہ اپنے کچھ بندوں کو جگا دیا۔ سب بندوں کو جگا دیتا تو اس ان دیکھے حقیر جراثیم کو با آسانی پکڑا جا سکتا مگر ان ظالموں نے تو اس حقیر جراثیم کو بھی کیش کرا لیا۔ واہ رے حقیر جراثیم تو کیا آیا کہ حقیر نطفہ کی پیداوار کی اوقات بے نقاب کر دی۔ جو پہلے ہی ڈرتے تھے انہیں مومن بنا گیااور جو پہلے بھی بے خوف تھے انہیں فرعون بنادیا۔۔۔ نہ کر بندیا میری میری

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*