صوبائی بجٹ میں تعلیم اور صحت کو ترجیح دی گئی ہے ظہور بلیدی

mir zahoor buledi

کوئٹہ(سٹاف رپورٹر)صوبائی وزیرخزانہ مےر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ معےشت کمزور ہونے کی وجہ سے بجٹ کافی مشکلوں سے بنایا مجموعی طور پربلوچستان کا 465ارب روپے سے زائدکا مالی سال 2020-21کا بجٹ پیش کیا تعلیم،صحت کو ترجیح دی گئی ہے بجٹ خسارہ کو پورا کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی بلوچستان کو آئندہ مالی سال کے دوران این ایف سی ایوارڈ کے تحت 251ارب روپے ملیں گے اس بار این ایف سی میں صوبے کو پہلے سے30ارب روپے کم ملیں گے گذشتہ سال پیش کردہ بجٹ کا حجم 419ارب روپے تھا،اس بار465ارب کا بجٹ پیش کیاگیا صوبے کو آئندہ سال بجٹ میں 87روپے کے خسارے کاسامنا ہے،صوبائی حکومت کی جانب سے صحت،توانائی سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے،کوئٹہ میں کینسر ہسپتال کا منصوبہ ایک ارب 70کروڑ روپے کی لاگت سے دو سال میں مکمل ہوگاسرحدی علاقوں میں وفاق سے مل کر 13بارڈر مارکیٹ قائم کی جارہی ہے‘ےہ بات انہوں نے سول سیکرٹریٹ کوئٹہ کے سکندر جمالی آڈیٹوریم میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی‘انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز 465ارب روپے کا بجٹ پیش کیا‘ گزشتہ سال 419 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا‘ اس وقت 56 نئی اور 900 نئی سکیموں پر کام جاری ہے ، بلوچستان حکومت نے صحت توانائی سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکس چھوٹ دی‘ بلوچستان اینڈومنٹ فنڈ کے تحت 1ہزار افراد نے علاج کروایا ہے‘ تین ارب روپے سوشو اکنامک کے لئے انویسٹ کئے ہیں تاکہ وبائی امراض سے نمٹ سکیں، سرکاری ملازمین کے لئے ایک ارب کی ہیلتھ انشورنس اسکیم لا رہے ہیں، ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے ایک ارب روپے رکھے ہیں ، صحت کا بجٹ چالیس فیصد بڑھایا ہے،38 بوائزوگرلز انٹر کالجوں کو اپ گرےٹ کر دیا ہے،گزشتہ سال کی ترقیاتی اسکیموں کے لئے 75 فیصد رقم جاری کر دی‘ حکومت نے بارڈر ٹریڈ کےلئے تیرہ مقامات پر سہولیات دینے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے کہاکہ وفاق کے بغیر بلوچستان ترقی نہیں کرسکتا۔ اس سال این ایف سی کی مد میں بلوچستان کو تیس ارب روپے کم ملیں گے ، جبکہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کی تعمیر کا منصوبہ بھی فیڈرل پی ایس ڈٰی پی سے نکال دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے مزید کہا کہ بجٹ خسارے اور ٹیکس کا نظام بہتر بنایا جائے گا ۔ بلوچستان کے لیے نیا فنانشل ایکٹ لا رہے ہیں‘ انہوں نے کہاکہ صوبائی وزیرخزانہ کا کہناتھا کہ ملک کو اس سال کوروناوائرس کی وجہ سے مالی بحران کاسامنارہاہے صوبائی حکومت کی جانب سے صحت،توانائی سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے، صوبے میں سماجی اورمعاشی شعبے کیلئے تین ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جبکہ ہم سرکاری ملازمین کے لئے ایک ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس اسکیم لارہے ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، کوئٹہ میں کینسر اسپتال کا منصوبہ ایک ارب 70کروڑ روپے کی لاگت سے دو سال میں مکمل ہوگا انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال واشک پشین خضدار سمیت تما م حلقوں کو اہمیت دی گئی،سرحدی اضلاع میں خاردار تار لگائی جارہی ہے سرحدی علاقوں میں وفاق سے مل کر 13بارڈر مارکیٹ قائم کی جارہی ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 251ارب روپے ملیں گے،این ایف سی میں بلوچستان کو پہلے سے30ارب روپے کم ملیں گے،انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی اینڈوومنٹ فنڈ کے تحت 1ہزار افراد نے علاج کروایا ہے تین ارب روپے سوشو اکنامک کے لئے انویسٹ کئے ہیں تاکہ وبائی امراض سے نمٹ سکیں انہوں نے کہا کہ ڑوب کچلاک منصوبے سمیت وفاقی منصوبے ضرورت کے مطابق مکمل کئے جائیں گے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*