پیپسی کو کی جانب سے 2019 کی پائیدار ترقی کے حوالے سے رپورٹ پیش کردی گئی

کراچی (این این آئی) پیپسی کو کی جانب سے 2019 کی پائیدار ترقی کے حوالے رپورٹ شائع کردی گئی ہے، رپورٹ میں پائیدار ترقی کے حوالے سے طے شدہ اہداف کے مکمل ہونے کی کارکردگی کو اجاگر کیا ہے اور کمپنی کے خوراک کی مزید پائیدار نظام کی تشکیل کے ایجنڈے کے عزم کا ایک پھر اعادہ کیا گیا ہے۔ 2019 کی استحکام کی رپورٹ زراعت، پانی،ماحول، پیکیجنگ، عوام، مصنوعات جیسے ترجیحی حصوں پر کمپنی کیی جانب سے مقرر کیے گئے اہداف کے حوالے سے پیشرفت کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔ 2006 سے، پیپسی کو کے فلاحی ادارے پیپسی کو فا¶نڈیشن نے دنیا بھرمیں پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے 44 ملین سے زیادہ لوگوں کو صاف پانی تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے، جوکہ 2025 تک 25 ملین تک پہنچنے کے اپنے ہدف کو عبور کرچکا ہے۔ جس کے بعدپیپسی کو نے نیا ہدف کا تعین کیا ہے جس کے مطابق 2030 تک 100 ملین افراد کی مدد کی جائے گی۔ 2019 میں، پیپسی کو کے کسانوں سے حاصل شدہ تقریبا 80 فیصد زرعی خام مال کی پائیداری تصدیق کی گئی۔ مزید براں، ہدف کے مطابق 2020 کے اختتام تک 100 فیصد کے ہدف کو پورا کیا جائے گا۔ پیپسی کو نے 2019 میں اپنی عالمی ویلیو چین میں جی ایچ جی اخراج کو 6 فیصد تک کم کردیا۔ پیپسی کو نے اقوام متحدہ کے بزنس مقاصد عہد پر 1.5 ° سینٹی گریڈ پر دستخط کئے، جس کے مطابق سائنسی اصولوں کے ذریعہ اخراج کو ویلیو چین میں سے کم کیا جائے گا۔ اس کا مقصد عالمی ماحولیاتی آلودگی کے درجہ حرارت کو1.5 ° C تک کم کرنا ہے، جبکہ 2050 تک مکمل صفر اخراج کے حوالے سے ایک طویل مدتی حکمت عملی بھی تیار کی جارہی ہے۔پاکستان میں پیپسی کو چار اہم ایریاز پر توجہ مبذ ول رکھے ہوئے ہے۔ جن میں محفوظ پانی، نئے دور کی زراعت، نوجوانوں کیلیے روزگار کے مواقع اور کوویڈ 19 کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے حوالے سے امدادی سرگرمیاں شامل ہے۔ حکومت پاکستان کے ساتھ مل کے پیپسی کو ” کلین گرین پاکستان” پروگرام میں کام کر رہا ہے تاکہ لوگوں تک صاف پانی تک رسائی کو ممکن بنایا جاسکے۔ پیپسی کو اس وقت ‘واٹر۔ایڈ’ کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے 2021 تک ملک میں 140,000افراد کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔ علاوہ ازیں، کمپنی نے پانی کے استعمال کے حوالے سے اپنے آپریشنز میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور 2021 تک مختلف پانی کی بچت کے مختلف منصوبوں کے ذریعے سالانہ بنیاد پر 27 ملین لیٹر پانی کی بچت کو یقینی بنایا جائے گا۔ زراعت کے شعبے میں، پیپسی کو پاکستان میں نیکسٹ جنریشن ایگریکلچر ل پریکٹسز کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے اور اپنے کاشتکاروں کو بہتر صلاحیت کے آبپاشی کے نظام کو اپنانے میں مدد دے رہی ہے، انھیں بھوسے کو جلانے کی بجائے متبادل استعمال کرنے پر تربیت دی جا رہی ہے، اور پانی کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جارہی ہے۔ 2017 کے بعد سے، پیپسی کو نے اپنے کاشتکاروں کو 1.6 ارب لیٹر پانی کے استعمال کو کم کرنے میں مدد فراہم کی۔ حکومت کے کامیاب جوان پروگرام کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی نے اپنے عمل اکیڈمی کے ساتھ اشتراک کو مزید آگے بڑھایا ا جس کے ذریعہ تعلیم، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع اور ہنر بند بنانے کے لئے تعلیمات فراہم کی جارہی ہے۔ اب تک2500 طلباءتکنیکی مہارت کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ 70 فیصد طلبا کو پروگرام سے فارغ التحصیل ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر ملازمت کی پیشکش ہو چکی ہے۔ پیپسی کو پلاسٹک کی پیکیجنگ میں سرکولر اکانومی بنانے میں مدد کے ذریعے‘احسان پروگرام’میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ کو رونا امدادی سرگرمیوں کے تحت پیپسی کو پاکستان اپنے ‘ملین غذا’ پروگرام کے ذریعے حکومت کے احساس پروگرام میں بھی معاونت فراہم کر رہا ہے اور مختلف فلاحی اداروں کی شراکت کے ذریعے پاکستان بھر میں 5.2 ملین کھانوں کی تقسیم کی جا چکی ہے۔ اس سال کے آغاز میں میں پیپسی کو نے 775 ملین روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تاکہ سوشل امپیکٹ پروگرام کے تحت اوپرواضح کئے گئے اہداف میں اپنے تعاون کو مزید جاری رکھا جاسکے۔ پیپسی کو پاکستان اور افغانستان کے سی ای او فرقان احمد سید کا کہنا تھا کہ، ’مجھے عالمی سطح پر اور مقامی طور پر اپنے پائیداری ایجنڈے پر جاری پیشرفت پر فخر ہے۔ ہم حکومت کی ترجیحات کے ساتھ خود کو منسلک کرنے اور شراکت داروں کا ایک مضبوط نیٹ ورک بنا کر طویل مدتی حل کی ضرورت رکھنے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے پر عزم ہیں۔ ہمارے پارٹنرز آلو کے کا شتکاروں کو پائیدار کاشتکاری کے طریقوں کی طرف گامزن اور پانی کے تحفظ پر ان کی طرف سے دی جانے والی بنیادی توجہ کو دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے۔ سماج اور زمین کے بہتر مستقبل کی تعمیر میں مدد کے لئے ہماری کوششیں پیپسی کو کے دنیا میں فوڈ اینڈ بیوریج انڈسڑی کی لیڈنگ کمپنی بننے کے پیپسی کو کے با مقصد’جیت کے عزم’ کا ایک حصہ ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*