زراعت کا شعبہ بلوچستان کی پیداوار ی شعبہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،ظہور بلیدی

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہفتہ کوا سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت منعقد ہوا صوبائی وزیر خزانہ میر ظہوربلیدی نے مالی سال 2020-2021ءکا بجٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ زراعت کا شعبہ بلوچستان کی پیدوااری شعبہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کورونا وائرس اور ٹڈی دل کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ٹڈی دل کے حملوں سے زرعی پیداو ار میں خاطر خواہ کمی بھی دیکھنے میں آرہی ہے جس کے لئے حکومت بلوچستان نے دسمبر2019کو ٹڈی دل ایمرجنسی کا نفاذ کردیا تھا عالمی ادارہ خوراک نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹڈی دل کے حملوں کا دورانیہ دو سال سے بھی طویل ہونے کا خدشہ ہے حکومت اس امر سے بخوبی آگاہ ہے اور اس کے تدارک کے لئے اپنے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات اٹھارہی ہے مگر اس ضمن میں وفاقی حکومت اور بین الاقوامی اداروں کا تعاون بھی ناگزیر ہے ۔ٹڈی دل کے خطرات کے پیش نظر محکمہ زراعت نے 181مختلف ٹیموں کو اس کے تدارک کے لئے ذمہ داریاں تفویض کی ہیں اوراس کے تدارک کے لئے اسپرے و دیگر بنیادی اقدامات اٹھانے کے لئے آئندہ مالی سال 2020-2021ءمیں 500ملین روپے رکھے ہیں جبکہ رواں مالی سال 2019-20میں اس مد میں 404ملین روپے کا اجرا کردیا گیا ہے ،صوبے کی زرعی پیداوار کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لئے آئندہ مالی سال 2020-2021میں زرعی ایکسپو کا انعقاد کیا جائے گا جس کے لئے ملکی و بین الاقوامی ماہرین کو زرعی پیداوار بڑھانے اور موجودہ پیداہونے والی زرعی اجناس کے لئے نئی منڈیوں کا حصول شامل ہوگا۔حکومت بلوچستان نے مالی سال 2019-20صوبے بھر کے زمینداروں اور کاشتکاروں میں زرعی پیداوار کی بہتری کیلئے 31445کلو گرام زرعی بیج ،5229زرعی آلات،7387روئی کے بیگز تقسیم کئے ،صوبے میں جدید کاشتکاری کو فروغ دینے کے لئے 11اضلاع میں 85ٹنل فارمنگ میں 55کو شمسی توانائی کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے تاکہ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہوسکے اوراسی طرح 53750پختہ نالیاں تعمیر کی گئیں جنہیں میرانی ،سبکزئی اور کچھی کینال کمانڈ ایریا کے ساتھ منسلک کیا گیا،مالی سال 2020-2021میں حکومت میرانی ڈیم کمانڈ ایریا فیز II،سبکزئی ڈیم فیزIII،کچھی کینال کے کمانڈ ایریا کی ترقی کے اقدامات زیر غور ہیں جس سے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنانے میں مدد ملے گی۔ مالی سال 2020-2021میں صوبے میں کسانوں کو کھاد کی فراہمی کیلئے 24ملین روپے سبسڈی کی مد میں مختص ،زراعت کے شعبے میں زراعت افسران اور فیلڈ اسسٹنٹ کا ایک کلیدی کردار ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج تک تیکنیکی مہارت کے حامل افرادی قوت کے لئے بجٹ میں کوئی سہولت نہیں دی گئی لیکن اب ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اہم پیداواری شعبہ کے افسران اور تیکنیکی عملے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے بجٹ فنڈز رکھے جائیں اوراس سلسلے میں تمام ضلعی و ڈویژنل افسران کے لئے آئندہ مالی سال 2020-2021میں گاڑیاں اور ایک ہزار سے زائد فیلڈ اسسٹنٹ کیلئے موٹرسائیکلوں کی فراہمی کیلئے فنڈز رکھے جائیں گے مجموعی طور پر اس ضمن میں محکمہ زراعت کی بہتری کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 640.775ملین روپے فنڈز رکھے جارہے ہیں آئندہ مالی سال کے لئے ضلع قلعہ سیف اللہ اور قلات میں کولڈ سٹوریج کے قیام کیلئے100ملین روپے مختص ،زراعت کے شعبہ کیلئے مالی سال 2020-2021ءمیں 263نئی آسامیوں کا اجرا کیا گیا ہے مالی سال 2020-2021ءمیں اس شعبے کیلئے ترقیاتی مد میں 4.121بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11.071بلین روپے مختص کئے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*