بلوچستان کا مالی سال2020.21کا 465ارب روپے کا بجٹ پیش، آئندہ مالی سال کیلئے 6840 نئی آسامیوں کا اعلان

کوئٹہ(خ ن)بلوچستان اسمبلی کے آئندہ مالی سال برائے 2020-21ءکا بجٹ پیش کردیاگیاہے جس میں کل حجم 465ارب جبکہ آمدن کاکل تخمینہ 377ارب ہے اس کے علاوہ آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارہ 87ارب روپے ہیں ،بجٹ میں 309ارب روپے غیر ترقیاتی ،118ارب روپے ترقیاتی مد میں رکھے گئے ہیں ،آئندہ مالی سال کیلئے 6840نئی آسامیاں بھی شامل ہیں ،صوبائی حکومت نے کورونا سے نمٹنے کیلئے بجٹ میں 4.5ارب روپے جبکہ ٹڈی دل کی آفت سے نمٹنے کیلئے 500ملین روپے رکھے گئے ہیں۔بلوچستان اسمبلی کابجٹ سیشن دو گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر صوبائی اسمبلی میر عبدالقدوس کی زیر صدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا تو صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہماری مخلوط حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ 2020-21اس مقدس ایوان کے سامنے پیش کرنا میرے لیے بڑے اعزاز اور مسرت کا باعث ہے، اس وبانے عالمی وباکی شکل اختیار کی اور پوری دنیا میں تیزی سے پھیل گئی، اس وبانے پاکستان کو بھی متاثر کیا اور اب ہم کورونا وائرس کے اثرات اپنے سماجی اور معاشی شعبے پر بھی ہوتا دیکھ رہے ہیں، Covid-19کے تباہ کن اثرات کے پیش نظر قیمتی انسانی جانوں کو بچانے اور سکڑتی ہوئی معیشت کو بحال کرنے کے لیے حکومت بلوچستان کی کاوشوں اور وسائل کو درست سمت میں منظم کرنے کی ضرورت تھی جس کے لیے ہماری حکومت نے بہتر حکمت عملی کے تحت بروقت اقدامات اٹھائے۔حکومت بلوچستان نے محض لاک ڈا ﺅن پر انحصار نہیں کیا ہم نے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے عوام کو ریلیف پہنچانے اور طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر سطح پر ممکن بنایا ، میں حکومت بلوچستان کی جانب سے Covid-19 کی صورتحال کے تناظر میں اٹھائے گئے بعض اقدامات کے نمایاں پہلو ں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔جن میں کورونا وائرس کے پیشگی اقدامات اور اس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے صوبہ بھر میں 8 مارچ کو ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا، بین الاقوامی بارڈرز پر عارضی قرنطینہ سینٹرز کا قیام ، محکمہ صحت، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ایمرجنسی ٹیموں کی بارڈرز اور ایئرپورٹس پر تعیناتی سمیت ان کی جدید خطوط پر ٹریننگ اور استعداد کار بڑھانے کو یقینی بنایا۔ حکومت بلوچستان نے کورونا وائرس ایمرجنسی فنڈ کا اجراکرتے ہوئے اس کے لیے 1 ارب روپے مختص کئے، جس میں صوبائی سرکاری ملازمین نے اپنی تنخواہوں میں سے 318 ملین روپے کا حصہ بھی ڈالا۔کورونا وائرس ٹیسٹنگ کی تعداد کی صلاحیت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، روزانہ کی بنیاد پر 1500افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا جارہا ہے اس کی تعداد میں مزید اضافے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ اور آئیسولیشن سینٹرز میں رکھنے کے لیے صوبے کے تمام اضلاع میں 68قرنطینہ ، 2148 بستروں پر مشتمل آئیسولیشن سینٹرز قائم کئے گئے۔طبی سہولیات ،ادویات اور سروسز کی بروقت فراہمی کے لیے میڈیکل پروکیورمنٹ کمیٹی تشکیل دی گئی ، کمیٹی نے طبی آلات ، کورونا وائرس کے حفاظتی لباس، لیبارٹری آلات و مشینری کی فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنایا۔٭ حکومت نے محکمہ اطلاعات کے ذریعے پرنٹ، الیکٹرانک ،سوشل میڈیا اور ریڈیو پر بھرپور انداز میں تشہیری و آگاہی مہم کا بروقت آغاز کیا جس سے عوام میں کرونا وائرس سے بچاو سے متعلق احتیاطی تدابیر و دیگر معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔٭ کرونا وائرس کے پیش نظر صوبے میں لاک ڈا ن کے نتیجے میں مزدور پیشہ اور دہاڑی دار طبقہ بہت زیادہ متاثر ہوا ، کاروبار کی بندش سے معیشت کا پہیہ جیسے رک سا گیا تھا، اس صورتحال کے جائزہ کے بعد حکومت بلوچستان نے رفاعی ادارے اخوت کے مشترکہ تعاون سے 588.5ملین روپے سے باقاعدہ “وزیر اعلی قرضہ سکیم “کا اجرا کیا ، سکیم کے تحت 25000 مستحق افراد کو بلا سود قرضے کی فراہمی جاری ہے۔کورونا وائرس کی غیر معمولی صورتحال کے سبب صوبے بھر عوام کو ٹیکسز کی مد میں ریلیف دینے کے لیے اپریل تا جون 2020 اہم سروسز سیکٹر، Electricity Duty اور گاڑیوں پر لاگو ٹیکسز سے استثنی دی گئی ہے۔ صوبے بھر میں خدمات کے مخصوص شعبوں پر Balochistan Sales Tax on Services ، الیکٹرسٹی ڈیوٹی اور گاڑیوں پر لاگو ٹیکسز پر استثنی کو 30جون 2021 تک توسیع دی گئی ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ خاندانوں میں راشن کی تقسیم میں بھی حکومت کو وفاقی حکومت، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، اپوزیشن اور مخیر حضرات سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کا بھرپور تعاون حاصل رہا ہے حکومت بلوچستان نے تمام ضلعی انتظامیہ کو غریب ، نادار اور مستحق خاندانوں میں راشن کی تقسیم کے لیے فوری طور پر صوبے کی تمام ضلعی انتظامیہ کو 985ملین روپے جاری کر دئیے۔ مالی سال 2020-2021کے لیے صوبائی حکومت نے مالی بحران کے باوجود کورونا وائرس کی وبا سے نبردآزما ہونے کے لیے اپنے وسائل سے 4.5ارب روپے مختص کیے ہیں جو کہ صوبے کی تاریخ میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب سے بڑی رقم ہے۔انہوں نے تمام اتحادی جماعتوں سمیت اپوزیشن کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ جنہوں نے کرونا وائرس کی وبائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کا ساتھ دیا ، مزید برآں میں طب کے مقدس پیشے سے وابستہ افرادی قوت، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، نرسز، ضلعی انتظامیہ،حکومتی افسران و اہلکاروں سمیت تمام شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر ڈیوٹی سر انجام دینے والے اداروں کا جنہوں نے اس وبائی صورتحال میں حکومت اور عوام کا ساتھ دیا اور ان میں سے کرونا وائرس کی وبا سے متاثر بھی ہوئے یا اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہ ہمارے اصل ہیروز ہیں اور ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔موجودہ بجٹ کا محور عوامی ترجیحات کو مفاد میں رکھتے ہوئے بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر ، محکمہ صحت میں اصلاحات، پیداواری شعبوں سے مزید بہرہ مند ہونے ، سماجی تحفظ کے لیے اقدامات، تعلیم ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، امن و امان کی مکمل بحالی ہے ،انہوں نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت کے نئے مالی سال 2020-21کے اِقدامات کے بارے میں آگاہ کرونگا۔جاری مالی سال کے کل بجٹ کا اِبتدائی تخمینہ419.922 بلین روپے تھا۔ نظر ثانی شدہ بجٹ برائے سال 2019-20کا تخمینہ 380.327بلین روپے ہوگیا ہے۔ مالی سال 2019-20کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ 293.579بلین روپے تھاجو نظر ثانی شدہ تخمینے میں کم ہو کر 276.150بلین روپے رہ گیا ہے۔ مالی سال 2019-20 کے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 108.133 بلین روپے تھا جو نظر ثانی شدہ تخمینے میں کم ہو کر 81.824 بلین روپے ہو گیا ہے۔وفاقی حکومت نے بلوچستان کے وفاقیShare ٹرانسفر 306.015 ارب سے کم کر کے 275.979 ارب روپے کر دیا ہے جو گزشتہ مالی سال کی نسبت 9.8 فیصد کم ہے جس نے بلوچستان کی مجموعی ترقیاتی اہداف پر گہرے منفی اثرات مرتب کر دیئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بجٹ جائزہ کے مطابق آئندہ مالی سال 2020-2021 کے ترقیاتی بجٹ (PSDP) کا کل حجم 118.256بلین روپے بشمول 12.177 بلین روپے FPA شامل ہیں۔، جاری ترقیاتی اسکیمات کی کل تعداد 934جس کے لیے 60.875بلین روپے ، نئی ترقیاتی اسکیمات کی کل تعداد1634 جس کے لیے 57.381بلین روپے آئندہ مالی سال 2020-2021 کے غیر ترقیاتی بجٹ کا کل حجم 309 بلین روپے ہے۔اس کے علاوہ حکومت بلوچستان اگلے مالی سال 2020-2021 کے لیے 6840 خالی آسامیوں کا اعلان کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بجٹ میں صحت کے شعبے کیلئے موثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن میں طب کے شعبے سے وابستہ افرادی قوت ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف، نرسز جو کہ کورونا وائرس کی وباسے نمٹنے کے لیے ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں کے لیے ہیلتھ پروفیشنل الا نس کا اجرایقینی بنایا گیا ہے۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں تھیلیسیمیا سینٹرز کا قیام جبکہ گوادر میں نئے سول ہسپتال کی نئی عمارت پر کام کا آغاز، شیخ زید ہسپتال کوئٹہ میں موذی مرض کینسر کے علاج کے لیے نئے بلاک پر کام کا آغاز جبکہ بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں امراض قلب کے لیے آئی سی یو سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے، صوبے کے 8 اضلاع میں ضلعی ہسپتالوں میں بیچلرز ہوسٹلز کے قیام کے لیے اقدامات، کوئٹہ شہر میں واقع نواں کلی کے علاقے میں 30 بستروں پر مشتمل نئے ہسپتال کا قیام سمیت ضلع قلعہ عبداللہ کے شہر چمن میں نئے ضلعی اسپتال کے کام کی تکمیل کو یقینی بنایا گیابلکہ صوبے میں قائم نئے میڈیکل کالجز جن میں جھالاوان، مکران اور لورلائی میں تعمیراتی کام میں وسعت اور تعینات فیکلٹی ممبرز کی مارکیٹ کے مطابق تنخواہوں اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ 18 اضلاع میں نئے18 گردوں کے ڈئیلائسسز سینٹرز کا قیام ، ہماری حکومت کا سب سے اہم قدم پی پی ایچ آئی بلوچستان (PPHI Balochistan)میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹرز (MERC) کے پہلے فیز میں کوئٹہ۔کراچی۔چمن شاہراہ پر 8 میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹرز کا قیام ، پی پی ایچ آئی کی جانب سے ٹیلی میڈیسن کے پہلے مرحلے میں دور افتادہ علاقوں کو سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنانے ، نئے مالی سال 2020-2021 میں توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (EPI) کو مزید مربوط بنانے کے لیے حکومت بلوچستان کی جانب سے پہلی مرتبہ اس پروگرام سے متعلق انتظامی ڈھانچہ بنایا جارہا ہے جس کے لیے علیحدہ فنڈز اور ڈی ڈی او کوڈ کا اجرائ، مالی سال 2019-2020میںفاطمہ جناح جنرل و چیسٹ ہسپتال کوئٹہ کو انسٹیٹیوٹ برائے امراض سینہ کی سطح پر اپ گریڈ کر دیا ہے اور اس کے قیام کے لیے فیکلٹی پوسٹوں اور اس ادارے کے موجودہ بجٹ کو 423 ملین روپے سے بڑھا کر 525 ملین روپے کیا جا رہا ہے اور مالی سال 2020-2021 میں توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (EPI) کے لیے مفت ویکسی نیشن کے لیے 35 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مالی سال 2020-2021 کے لیے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ بلوچستان (PGMI) کو مکمل طور پر فعال کیا جائے گا اور 167 فیکلٹی پوسٹیں رکھی جا رہی ہیں۔ اس اقدام سے شیخ زید ہسپتال بھی مکمل طور پر فعال ہو جائے گا، جس سے کوئٹہ اور بلوچستان بھر میں ایک اور ٹرثری کیئر ہسپتال مکمل طور پر کام شروع کرےگا۔ ضلعی ہسپتالوں جن میں تربت، چمن ، خضدار، لورالائی، مستونگ، نصیر آباد، پشین اور ژوب میں 20 بستروں پر مشتمل انتہائی نگہداشت یونٹ کے لیے نئے آئی سی یوز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں ڈینٹل کالجز کا قیام بہت عرصہ پہلے عمل میں لایا گیا تھا لیکن بلوچستان میں اب تک BMC میں ایک ڈینٹل شعبہ کے طور پر کام کر رہا ہے ،اب ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں ایک باقاعدہ ڈینٹل کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور اس کے لیے آئندہ مالی سال میں 79 فیکلٹی کی آسامیاں رکھی جا رہی ہیں جو کہ ایک تاریخ ساز عمل ہوگا۔ صوبے کے دور دراز علاقوںمیں معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ، ملک کے دوسرے صوبوں میں بہت سے ضلعی ہسپتالوں کو ٹیچنگ کا درجہ دیا گیا تھا لیکن بلوچستان میں اب تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ،ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم 8مزید DHQ ہسپتالوں کو ٹیچنگ کا درجہ دیں گے۔ اس سلسلے میں ان ہسپتالوں کے لیے میڈیکل ٹیچنگ کی آسامیاں اور خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہیلتھ ایمرجنسی ائیر ایمبولینس شروع کرنے کے لیے اور ائیر ایمبولینس کی خریداری کے لیے مالی سال 2020-2021 میں 2.5 ارب روپے مختص کئے گئے ،نئے مالی سال 2020-2021 میںمحکمہ صحت کے لیے 1266 نئی آسامیاں رکھی گئی ہیں ، اس کے علاوہ 468 نئی آسامیاں میڈیکل ایجوکیشن کے لیے الگ سے تخلیق کی گئی ہیں۔ مالی سال 2020-2021 میں صحت کے شعبے کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت نے غیر ترقیاتی فنڈز موجودہ 23.981 بلین سے بڑھا کر 31.405 بلین روپے رکھے جا رہے ہیں جو کہ گذشتہ مالی سال کی نسبت 32فیصد زیادہ ہے جبکہ ترقیاتی مد میں 7.050بلین روپے مختص کئے ہیں۔زراعت کے شعبے کیلئے بھی خاطر خواہ اقدامات کئے گئے ہیں ،انہوں نے کہاکہ زراعت کا شعبہ بلوچستان کے پیداواری شعبہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، کورونا وائرس اور ٹڈی دل کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ٹڈی دل کے حملوں سے زرعی پیداوار میں خاطر خواہ کمی بھی دیکھنے میں آرہی ہے ، جس کے لیے حکومت بلوچستان نے دسمبر 2019 کو ٹڈی دل ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا تھا ، عالمی ادارہ خوراک نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹڈی دل کے حملوں کا دورانیہ دو سال سے بھی طویل ہونے کا خدشہ ہے ، حکومت اس امر سے بخوبی آگاہ ہے اور اس کے تدارک کے لیے اپنے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات اٹھا رہی ہے مگر اس ضمن میں وفاقی حکومت اور بین الاقوامی اداروں کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ ٹڈی دل کے خطرات کے پیش نظر محکمہ زراعت نے 181 مختلف ٹیموں کو اس کے تدارک کے لیے ذمہ داریاں تفویض کی ہیں اور اس کے تدارک کے لیے اسپرے و دیگر بنیادی اقدامات اٹھانے کے لیے آئندہ مالی سال 2020-2021 میں 500ملین روپے رکھے ہیں ، جبکہ رواں مالی سال 2019-20 اس مد میں 404 ملین روپے کا اجراکر دیا گیا ہے۔ صوبے کی زرعی پیداوار کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے آئندہ مالی سال 2020-2021 میں زرعی ایکسپو کا انعقاد کیا جائےگا جس کے لیے ملکی و بین الاقوامی ماہرین کو زرعی پیداوار بڑھانے اور موجودہ پیدا ہونے والی زرعی اجناس کے لیے نئی منڈیوں کا حصول شامل ہوگا۔ حکومت بلوچستان نے مالی سال 2019-20 صوبے بھر کے زمینداروں اور کاشتکاروں میں زرعی پیداوار کی بہتری کے لیے 31445 کلوگرام زرعی بیج، 5229 زرعی آلات، 7387روئی کے بیگز تقسیم کئے۔ صوبے میں جدید کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے 11اضلاع میں 85ٹنل فارمنگ میں 55کو شمسی توانائی کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے اور اسی طرح 53750 پختہ نالیاں تعمیر کی گئیں جنہیں میرانی ، سبکزئی اور کچھی کینال کمانڈ ایریا کے ساتھ منسلک کیا گیا مالی سال 2020-2021 میں حکومت میرانی ڈیم کمانڈ ایریا فیز۔II ،سبکزئی ڈیم فیز۔III ،کچھی کینال کے کمانڈ ایریا کی ترقی کے اقدامات زیر غور ہیں جس سے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنانے میں مدد ملے گی۔ مالی سال 2020-21 میں صوبے میں کسانوں کو کھاد کی فراہمی کے لیے 24 ملین روپے سبسڈی کی مد میں مختص ہیں زراعت کے شعبے میں زراعت افسران اور فیلڈ اسسٹنٹ کا ایک کلیدی کردار ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج تک تیکنیکی مہارت کے حامل افرادی قوت کے لیے بجٹ میں کوئی سہولت نہیں دی گئی لیکن اب ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اہم پیداواری شعبہ کے افسران اور تیکنیکی عملے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے بجٹ فنڈز رکھے جائیں اور اس سلسلے میں تمام ضلعی و ڈویژنل افسران کے لیے آئندہ مالی سال 2020-2021 میں گاڑیاں اور ایک ہزار سے زائد فیلڈ اسسٹنٹ کے لیے موٹر سائیکلوں کی فراہمی کے لیے فنڈز رکھے جائیں گے۔مجموعی طور پر اس ضمن میں محکمہ زراعت کی بہتری کے لیے غیر ترقیاتی بجٹ میں 640.775 ملین روپے فنڈز رکھے جا رہے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے لیے ضلع قلعہ سیف اللہ اور قلات میں کولڈ سٹوریج کے قیام کے لیے 100 ملین روپے مختص، زراعت کے شعبہ کے لیے مالی سال 2020-2021 میں 263نئی آسامیوں کااجراکیا گیا ہے، مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 4.121 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11.071بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ دور میں ہائیر ایجوکیشن کی اہمیت سے انکار نہیں ، اگرچہ پچھلی حکومتوں نے HEC کے فیصلے کے تحت چند ڈگری کالجز میں BS پروگرام کا آغاز کیا تھا لیکن ان کالجز میں متعلقہ شعبوں میں ناتو کوئی تعیناتی عمل میں لائی اور ناہی کوئی فنڈز رکھے گئے ،اب ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام ڈگری کالجز جن میں BS پروگرام جاری ہے ان میں فیکلٹی کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی اور فنڈز بھی فراہم کئے جائیں گے۔39 انٹر کالجز کو ڈگری کالجز کا درجہ دیا جا رہا ہے اور ان کے لیے 301 ملین روپے غیر ترقیاتی بجٹ سے مختص کئے جا رہے ہیں تاکہ معیاری BS پروگرام کا آغاز کیا جا سکے۔ گرلز کالجز کا ہائیر ایجوکیشن میں ایک اہم کردار ہے اس سلسلے میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں 19 ڈگری گرلز کالجز کے پرنسپلز کو گاڑیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔ مالی سال 2020-2021 میں فیز۔I کے تحت صوبے کے 79 ڈگری کالجز میں بہترین تعلیم کے فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کئے جا رہے ہیں جس کے تحت ہر کالج میں کمپیوٹرز ، سمارٹ بورڈ، لائبریری کتب ، سائنسی آلات کی فراہمی، انٹر نیٹ کی سہولت، کھیلوں کے سامان وغیرہ کی خریداری کے ایک پیکج ترتیب دیا گیا جس کے لیے 569 ملین روپے فراہم کئے جائیں گے، سائنس اور انگلش مضامین کے اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مالی سال 2020-2021 مقررہ تنخواہ پر ہنگامی بنیادوں پر ضرورت کے مطابق متعلقہ مضامین پڑھانے کے لیے 118.500ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ گرلز کالجوں میں بسوں کی فراہمی کے لیے مختص کردہ 300 ملین سے 33 بسوں کی خریداری عمل میں لائی جا چکی ہے۔جامعات کے لیے یونیورسٹی فنانس کمیشن کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جبکہ آئندہ مالی سال 2020-2021 میں 8 پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے لیے Grant in Aid کی مد میں 3.94بلین روپے رکھے جا رہے ہیں۔تمام انٹر کالجز کو ڈگری کالجز کا درجہ دیا جا رہا ہے ،جس کے لیے پہلے سے مختص کردہ 450 ملین روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج کوئٹہ کینٹ میں تمام سہولیات سے آراستہ ڈیجیٹل لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے لیے 50 ملین روپے مختص کئے گئے تھے، دوسرے مرحلے میں مزید 5کالجز میں ڈیجیٹل لائبریری کا قیام عمل میں لایا جائےگا۔رواں مالی سال میں تمام کیڈٹ اور ریذیڈنشل کالجز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک ارب 29کروڑ روپے میں 57کروڑ روپے خرچ کئے گئے جبکہ کیڈٹ کالجز قلعہ عبداللہ، خاران اور آواران میں باقاعدہ کلاسز کا اجراعمل میں لایا جائےگا۔نئے مالی سال میں رکھنی ضلع بارکھان میں لورالائی یونیورسٹی کا سب کیمپس قائم کرنے کی تجویز ہے۔ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ کے لیے حکومت مزید 2پولی ٹیکنیک ادارے قائم کرنا چاہتی ہے جس میں پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ دالبندین اور چمن شامل ہیں جس کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران 150 ملین روپے جبکہ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے غیر ترقیاتی مد میں 11.783بلین روپے مختص کئے ہیں۔اس کے علاوہ ثانوی تعلیم مالی سال 2020-2021 میں فیز۔I کے تحت صوبے کے 100 ہائی سکولز میں بہترین تعلیم کے فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کئے جا رہے ہیں جس کے تحت ہر سکول میں کمپیوٹرز ، سمارٹ بورڈ، لائبریری کتب ، سائنسی آلات کی فراہمی، انٹر نیٹ کی سہولت، کھیلوں کے سامان وغیرہ کی خریداری کے ایک پیکج ترتیب دیا گیا جس کے لیے 22 ملین روپے فراہم کئے جائیں گے، سائنس اور انگلش مضامین کے اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مالی سال 2020-2021 مقررہ تنخواہ پر ہنگامی بنیادوں پر ضرورت کے مطابق متعلقہ مضامین پڑھانے کے لیے 89 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔53 پرائمری سکولوں کو مڈل سکول کا درجہ اور 53 مڈل سکولوں کو ہائی سکول کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ GPE پروجیکٹ” کے تحت قائم 47 گرلز پرائمری سکولز کو مڈل کا درجہ دیا جائےگا، اسی طرح GPE” پروجیکٹ ” کے تحت قائم شدہ 18گرلز مڈل سکولز کو ہائی کا درجہ دیا جائےگا۔ “بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام “کے تحت قائم 85 پرائمری سکولز کو مڈل کا درجہ دیا جائےگا۔مالی سال 2020-2021 میں صوبے بھر میں موجود سکولوں کی مزید بہتری کے لیے 402.8 ملین روپے اور فرنیچر کی خریداری کے لیے 415 بلین روپے بھی مختص کئے گئے ہیں۔مالی سال 2020-2021 میں صوبے کے تمام دوردراز علاقوں کے بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت کی فراہمی کے لیے بسوں کی خریداری کے لیے 169 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ “بلوچستان ایجوکیشن فا نڈیشن “کے زیر اثر خدمات سرانجام دینے والے کمیونٹی سکولز کے لیے (Grant in Aid)کی مد میں 295 ملین روپے سے بڑھا کر 409 ملین روپے کر دی گئی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر بلوچستان بھر کے 450 ہائی سکولز میں آئی ٹی ٹیچرز کی آسامیاں تخلیق کی جا رہی ہیں۔مالی سال 2020-2021 میں صوبے کے 158 شیلٹر لیس سکولوں کو Chief Minister Education Initiativeکی مد میں 1.5 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔مالی سال 2020-2021 میں اس شعبہ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کے لیے 200 ملین روپے رکھے گئے ہیںنئے مالی سال 2020-21 کے دوران صوبے کے 16اضلاع کے سکولز میں ڈیجیٹل لائبریریوں کے قیام کے لیے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔پائلٹ پراجیکٹ کے تحت لورالائی اور تربت کے اضلاع میں نئے مالی سال 2020-21 کے دوران لڑکیوں کے لیے بورڈنگ (Boarding)سکولز کی تعمیر کے لیے 100ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔مالی سال 2020-2021 کے لیے شعبہ ثانوی تعلیم میں 1486نئی آسامیوں کی تخلیق کی گئی ہے جنہیں بلوچستان پبلک سروس کمیشن اور ٹیسٹنگ سروسز کے ذریعے یقینی بنایا جائےگا۔مالی سال 2020-2021 میں شعبہ تعلیم کے مجموعی ترقیاتی مد میں 9.107 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 51.873بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومت فوڈ سیکورٹی کے لیے خاطر خواہ ذخیرہ رکھتی ہے تاکہ بحرانی کیفیت سے فوری طور پر بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔ صوبائی کابینہ نے اس مد میں مالی سال 2020-2021 میں ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی منظوری دی ہے جس کے لیے 6 ارب روپے State Trading کے تحت رکھے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال 2020-2021 کے دوران گندم کی خریداری کے لیے اور غیر مالیاتی اداروں کو بلاسود قرضہ کی فراہمی کے لیے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ مالی سال 2020-2021 کے لیے فوڈ سبسڈی کی مد میں 300ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے دوران 4نئے گوداموں کی تعمیر کے لیے 70ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ کوئٹہ کے علاقے سریاب میں PR سینٹر میں گندم کے ذخیرے کی بہتر نگرانی اور ترسیل کے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے ڈیجیٹل سرویلنس سسٹم کے قیام کے لیے 75 ملین روپے مختص کئے ہیں مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.382 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 743.578 بلین روپے مختص کئے ہیں میرظہوربلیدی نے کہاکہ کورونا وائرس وباکے پیش نظر دیہی ترقی میں ہنگامی بنیادوں پر 27.37 ملین روپے ایمرجنسی ریسپانس کے لیے جاری کئے گئے۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ صوبے کے تمام دورافتادہ علاقوں میں ایمرجنسی میونسپل سروسز کی فراہمی جس میں کورونا وائرس سے بچا کے لیے قائم تمام قرنطینہ و آئیولیشن سینٹرز، عوامی مقامات، سرکاری دفاتر، ٹرانسپورٹ و دیگر جگہوں کو جراثیم کش اسپرے کرنے، واک تھرو گیٹس کی تنصیب و صفائی ستھرائی کے لیے کوشاں ہے۔مالی سال 2020-2021 میں اس شعبہ کے لیے 105 نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ مالی سال 2019-20 میں لوکل گورنمنٹ کی 74 اسکیمات کے لیے 2 ارب روپے رکھے تھے جن پر ترقیاتی کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ ہماری صوبائی مخلوط حکومت لوکل گورنمنٹ سسٹم کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے جس کے لیے مالی سال 2020-2021 میں Grant in Aid کی مد میں 11.42 ملین روپے مختص۔ آئندہ مالی سال 2020-2021 میں صوبے کے تمام یونین کونسلز کو ضلعی سطح پر پیدائش اور فوتگی رجسٹریشن کے اندارج کے لیے نادرا (NADRA) کے ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے اور اس مد میں 515 کمپیوٹرز کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے مکمل طور پر فعال کر دیا جائیگا۔ آئندہ مالی سال 2020-21 میں سپن کاریز میں ماڈل تفریحی پارک کے قیام کے لیے 50 ملین روپے مختص، مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 4.184 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 12.995 بلین روپے مختص کئے ہیں۔مواصلات و تعمیرات کے حوالے سے تعمیراتی شعبہ میں جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ مواصلات و تعمیرات میں “ڈیزائن سیل ” کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، واضح رہے کہ موجودہ سرکاری شعبہ کا انفراسٹرکچر کی ڈیزائننگ کا کام پرائیویٹ ڈیزائنرز سے کروایا جا تا ہے، اس اہم منصوبے کے لیے مالی سال 2020-2021میں 60 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کو جدید مشینری جس میں گریڈرز کی خریداری کے لیے مالی سال 2020-2021 میں 350 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ ہماری مخلوط حکومت بیروزگار ڈپلومہ ہولڈرز اور انجینئرز کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اجراکیا ہے اور اس اہم منصوبے کے لیے مالی سال 2020-2021میں 45 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں شہری ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک انجینئرنگ بیورو کا قیام بھی مالی سال 2020-2021 میں لایا جائے گا۔ مالی سال 2020-2021 میں بلوچستان سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں نئی سمارٹ بلڈنگ، نئے بلاک اور بے بی ڈے کیئر سینٹر کی تعمیر کے لیے 395 ملین روپے مختص ،نئے جوڈیشل کمپلیکسز (کوئٹہ، پسنی، ڑوب اور کوہلو) کی تعمیر کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران 239ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 33.873 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11.397 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صوبے بھر میں امن و امان کی بحالی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار ہمیشہ سے قابل تقلید رہا ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ پولیس اور بلوچستان کانسٹبلری کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں جبکہ انہیں جدید ساز وسامان کی فراہمی کے لیے مالی سال 2020-2021 میں 822 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2020-21 کے دوران لیویز فورس کی تنظیم نو اور بہتری کے لیے 1117 ملین روپے رکھے جا رہے ہیں کوئٹہ شہر کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ (جو کہ عرصہ دراز سے تعطل کا شکار تھا) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ گوادر سیف سٹی پراجیکٹ کی باقاعدہ منظوری ہو چکی ہے۔ آنے والے مالی سال 2020-21 کے دوران CTD ،QRG اور Socio Economic Unit کے لیے کثیر المقاصد سینٹرز کی تعمیر کے لیے 100 ملین روپے مختص، نئے مالی سال 2020-21 میں ہر ڈویڑنل سطح پر Disaster Management Villages کے قیام کے لیے 200 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے میں مجموعی طور پر غیر ترقیاتی مد میں 44 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ رواں مالی سال میں دریا بولان کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بولان ڈیم اور گوادر میں شنزانی کے مقام پر ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مالی سال 2020-21 کے لیے مختلف نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے 265 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ کچھی کینال کمانڈ ایریا کی ترقی و توسیع جس میں ہزاروں ایکڑ بنجر زمین قابل کاشت آ سکے گی کے لیے 600 ملین روپے جبکہ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے غیر ترقیاتی مد میں 3.723 بلین روپے مختص کئے ہیں۔کوئٹہ شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے منگی ڈیم منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے، برج عزیز خان اور بابر کچ ڈیمز کی فیزیبلٹی سٹڈی جاری ہے جن کے بننے سے کوئٹہ شہر اور گردونواح کے علاقوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہو سکے گا۔ کینال واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے جعفر آباد ، نصیر آباد، صحبت پور اور سبی کے اضلاع اور ڑوب شہر کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے سبکزئی ڈیم سے پانی مہیا کرنے کے اقدامات اور فزیبلٹی بنانے پر کام ہو رہا ہے۔ گوادر، پسنی اور گردونواح کے علاقوں کو شادی کور، آکڑہ کور ڈیمز سے پائپ لائن کی مدد سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی جاری ہے جو کہ اس سے قبل لوگ ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر تھے۔ مالی سال 2020-21 کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے 12 نئی اسکیمات کی مد میں 354.20 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مالی سال 2020-2021 میں آبنوشی و آبپاشی کے لیے مجموعی ترقیاتی مد میں 15.006 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 4.553 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ محکمہ اطلاعات کا حکومت اور پریس کے مابین خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے میں ہمیشہ سے کلیدی کردار رہا ہے۔ کورونا وائرس کی خطرناک صورتحال کے دوران پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی اقدامات ، پالیسیوں کو اجاگر کرنے کے لیے محکمہ کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، خاص طور سے بروقت معلومات تک رسائی اور عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لیے محکمہ کے افسران و اہلکاران فرنٹ لائن پر دن رات کام کر رہے ہیں۔ رواں مالی سال میں جرنلسٹ ویلفیئر فنڈ اور ہاکرز ویلفیئر فنڈکی پالیسیز میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ترامیم زیر غور ہیں جس کے تحت جرنلسٹ ویلفیئر فنڈ اور ہاکرز ویلفیئر فنڈ میں سرمایہ کاری سے حاصل منافع کو صحافیوں اور ہاکرز کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائےگا۔ رواں مالی سال 2019-20 کے دوران حکومت بلوچستان نے صحافیوں کی رہائشی کالونی کے لیے اراضی کے دستاویزات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ رواں مالی سال کے دوران نظامت تعلقات عامہ میں کثیر المقاصد ہال کی تعمیرکا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ محکمہ تعلقات عامہ میں گورننس پالیسی پراجیکٹ (World Bank) کے مالی تعاون سے الیکٹرانک اینڈ سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل کے قیام کے لیے Concept Paper کی باقاعدہ منظوری ہو چکی ہے جس پر جلد کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اب تک ریڈیو ذرائع اطلاعا ت کا اہم ذریعہ ہے صوبائی حکومت نے اس ذرائع کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نئے FM ریڈیو اسٹیشن کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبہ میں افرادی قوت بڑھانے کے لیے نئی آسامیاں تخلیق کی جائیں گی۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے غیر ترقیاتی مد میں 0.657 بلین روپے مختص کئے ہیں۔ موجودہ مالی سال میںکورونا وائرس اور لاک ڈا ?ن کے باوجود مختلف معدنیات کی مد میں 2 ارب 50 کروڑ روپے وصول کئے گئے اور صوبائی خزانے میں جمع کئے گئے۔ بلوچستان کے رائلٹی نظام کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے کمپیوٹرائزڈ کانٹے لگائے گئے ہیں اور مائننگ چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ محکمہ معدنیات اپنی رائلٹی اور فنانس کے معاملے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے Digitization of Royalty Regimeکے نام سے پراجیکٹ شروع کر رہا ہے۔ Balochistan Mineral Exploration Company کے قیام کی تجویز زیر غور ہے جس کے لیے ابتدائی طور پر 1.4 بلین روپے رکھے جا رہے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں کرشنگ پلانٹس کے قیام اور توسیع کے لیے 300 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.534 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 3.624 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ماہی گیروں کو وزیر اعلی بلوچستان گرین بوٹس اسکیم کے تحت کشتیوں کی فراہمی کے لیے 500 ملین روپے مختص کئے گئے تھے جس کو مالی سال 2020-2021 میں مکمل کر لیا جائےگا۔ ساحلی پٹی کی ترقی جس میں سیاحت اور صوبے کے آمدن میں اضافے کے لیے بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے جبکہ اتھارٹی نے مختصر عرصہ میں ساحلی سیاحتی مقامات کی نشاندہی، Eco-Tourismکے فروغ اور ترقی کے لیے فیزیبلٹی کو یقینی بناتے ہوئے اقدامات اٹھائے جس کے لیے مالی سال 2020-2021 میں فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائےگا۔ صوبے کی تاریخ میںپہلی مرتبہ ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی کا قیام عمل میںلایا گیا ہے جس کے لیے 59 ملین روپے (Grant in Aid) کا اجراکیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران ساحلی پٹی کے سیاحتی مقامات پر آرام گاہیں، ریسٹورینٹس، موٹلز ، بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز ، واش رومز اور ایمرجنسی رسپانس سینٹرز کے قیام کے لیے 150 ملین روپے رکھے جا رہے ہیں۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.827 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.232 بلین روپے مختص کئے ہیں۔میرظہوربلیدی نے کہاکہ صوبے میں توانائی بحران کے حل اور اس میں جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے توانائی کے نئے ذرائع کے حصول کے لیے محکمہ دستیاب وسائل کو استعمال میں لاتے ہوئے صوبے کے دیہی اور شہری علاقوں کو توانائی کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ مالی سال 2020-2021 میں تیکنیکی تجربہ گاہ برائے محکمہ توانائی نے سالانہ پی ایس ڈی پی اسکیم کے ذریعے گھریلو جانچ پڑتال برائے قابل تجدید توانائی کے آلات اور روشن بلوچستان فیز۔IIشمسی نظام کی تنصیب کے منصوبے زیر غور ہیں۔ سال 2020-2021 کے دوران LIEDA میں 132 KV گرڈ اسٹیشن کے قیام کے لیے 100 ملین روپے مختص ضلع لسبیلہ اور گوادر میں بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے تیل صاف کرنے کے لیے ریفائنریزکا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، یہ سرمایہ کاری صوبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گی اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے سینکڑوں مواقع فراہم کرے گی۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 2.518 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 6.851 بلین روپے مختص کئے ہیں۔ محکمہ ماحولیات کے زیر اثر Environmental Protection Agency سے متعلق مرتب کردہ قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت کی “گرین فورس “کی فوری تشکیل کا فیصلہ تاکہ ماحول اور ماحولیات آلودگی کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکے، جبکہ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر گرین فورس ایف آئی آر (FIR) بھی درج کر سکے گی۔ مالی سال 2020-2021 میں حکومت انوائرمنٹل لیبارٹریز اور گوادر میں اتھارٹی کے دفتر قائم کرے گی تاکہ ساحلی ماحول اور سمندری حیات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ آئندہ مالی سال کے لیے فضائی آلودگی کے معیار کو جانچنے کے لیے 10موبائل لیب کی خریداری کے لیے 100 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.200 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 0.450 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی زیادہ تر آبادی کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ لائیواسٹاک سے منسلک ہے، موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ بلوچستان لائیو اسٹاک پالیسی کا اجراکیا ہے جو کہ آئندہ دس سال کے لیے بنائی گئی ہے۔ رواں مالی سال 150 نئے ویٹرنری ڈاکٹرز کی آسامیوں کو بذریعہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن مشتہر کیا گیا تھا اور اس پر پیش رفت جاری ہے۔ حکومت 100 ملین روپے کی لاگت سے موجودہ مذبحہ خانہ کوئٹہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور کھالوں کی مارکیٹ کے قیام کا عمل لا رہی ہے۔ موجودہ حکومت نے لائیو اسٹاک کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ادویات کی مد میں 30 ملین روپے کو بڑھا کر 360 ملین روپے مختص کر دئیے ہیں۔ 599.44 ملین روپے سے ڑوب میں ویٹرنری کے ادارے کے قیام کے لیے سفارش کی جاتی ہے۔ صوبے کے چھ اضلاع میں ویٹرنری و بنیادی سہولیات کے ساتھ منڈیوں کے قیام کے لیے سفارش کی جاتی ہے جس کا تخمینہ لاگت 472.68 ملین روپے ہے۔ Liquid Nitrogen Plant کی بحالی کے لیے 6ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ریسرچ سنٹر بیلہ کی تکمیل کے لیے 13ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.949 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 4.592 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ لیبر سے متعلق تین پرانے قوانین جو 1936, 1394 اور 1961 سے نافذ العمل تھے ان کو (ILO) انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق ڈرافٹ بل 2019 کی صورت میں صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد صوبائی اسمبلی میں پیش کر دئیے گئے ہیں۔ چائلڈ لیبر سروے جس کا تخمینہ 124.232 ملین حکومت بلوچستان اور 95.12 ملین (UNICEF)کل مالیت 219.35 ملین PWDP کے اجلاس میں منظور ہو چکا ہے تاکہ بلوچستان میں چائلڈ لیبر کی صحیح تعداد کا اندازہ ہو اور حکومتی سطح پر اس کا سدباب کیا جائے۔ بلوچستان میں پہلی مرتبہ بلوچستان میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ اتھارٹی کمپلیکس بننے جارہا ہے اور اس کے لیے اسپنی روڈ پر تین ایکڑ اراضی بھی مختص کی گئی ہے۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ وفاقی حکومت کے فنڈز سے 496 فلیٹس/لیبر کوارٹرز، 446 بیرکس صنعتی اور کان کنی سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کے لیے تیار کئے گئے ہیں ان کی الاٹمنٹ قرعہ اندازی کے ذریعے کرایہ داری کی بنیاد پر ورکرز ویلفیئر بورڈ کی پالیسی کے مطابق کی جائے گی۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.061 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 2.258 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس اہم پیداواری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے شعبے کو ہر سطح پر ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ ٹیکسوں میں چھوٹ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس وقت یہ شعبہ پرانے قوانین کے تحت کام کر رہا ہے لیکن ہماری حکومت اس کے قوانین میں بہتری لانے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے اور بہت جلد پہلی مرتب شدہ بلوچستان کامرس پالیسی کو نافذ کیا جائے گا۔ محکمہ صنعت و حرفت کے توسط سے 18 سینٹرز کا قیام۔ آئندہ مالی سال کے دوران ضلع چاغی کے علاقے تفتان میں LPG ٹرمینل کے قیام کے لیے 300 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ضلع لسبیلہ میں کستور آئل پراسسنگ یونٹ کے قیام کے لیے 30 ملین روپے مختص۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.524 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.946 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ جس کا اجراہماری حکومت نے اپنے قیام کے شروعات میں سرانجام دیا تھا اس پروگرام کے اجراکے بعد غریب، نادار، مستحق اور خصوصی افراد کو علاج و معالجہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے ملک کے مستند ہسپتالوں میں عصر حاضر سے ہم آہنگ طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے جو کہ مہنگے علاج کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اب تک اس پروگرام کے تحت تقربیا 1000 مریضوں کو سات موذی اور جان لیوا امراض کے علاج و معالجہ کے لیے پینل پر موجود ہسپتالوں میں بالکل مفت علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،جن کے اخراجات حکومت بلوچستان اٹھا رہی ہے جس کے لیے اب تک تقریباایک ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ میں 77 ملین روپے سے زائد کی رقم صوبے کے معذور یا اسپیشل افراد کی بحالی کے لیے مختص کئے گئے ہیں جس میں سے اب تک 500 ٹرائی موٹر سائیکل اور 66 الیکٹرک وہیل چیئر فراہم کرنے کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں۔ صوبے کے 9 اضلاع لورالائی، ڑوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، بولان، سبی، سوراب، خضدار اور پنجگور میں بلوچستان ہنر مند پروگرام شروع کیا گیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو قابو کرنے میں مدد مل سکے۔ منشیات کے عادی افراد کے علاج، بحالی اور تربیت کے مرکز میں 2018 سے اب تک تقریبا 1545 افراد کا علاج کر کے نہ صرف انہیں منشیات کی لعنت سے آزاد کیا بلکہ ان میں سے 840 افراد کو بنیادی کمپیوٹر آپریٹنگ ، الیکٹریشن،ٹیلرنگ اور جوتے بنانے جیسے 4 مختلف ہنر بھی سکھائے گئے تا کہ وہ معاشرے میں واپس جا رکر مفید شہری بن سکیں۔ صوبے میں بچوں کے لیے 6چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کئے جا چکے ہیں جبکہ مزید 6کی منظوری دی گئی ہے۔ صوبے کے تمام ڈویڑنل ہیڈ کوارٹرز میں انسانی حقوق کے تحفظ کے ڈائریکٹوریٹ کے قیام کے لیے 250 ملین روپے کی اسکیم تجویز کی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران اقلیتی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے 100 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں، جبکہ کوئٹہ قرآن اکیڈمی کی تعمیر کے لیے 30 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ گریجویٹ طالبات کے لیے وویمن انٹرن شپ پروگرام کا اجراکے لیے 50 ملین روپے مختص۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 1.444 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11.711 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ محکمہ کھیل و امور نوجوانان کی کے لیے نئے مالی سال 2020-21 کے لیے مختلف کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد اور صحت مندانہ سرگرمیوں کے فروغ کے لیے 550 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبے بھرمیں75 فٹسال گرا نڈ جو کہ ہماری حکومت نے مختلف عرصہ میں تعمیر کئے ہیں جس کے لیے نئی 75 انچارج فٹسال گرا نڈ کی آسامیاں تخلیق کی ہیں۔ صوبے کے ہر میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کمیٹی میں فٹسال گرا نڈ تعمیر کئے جا رہے ہیں جو 2020-2021 میں مکمل ہو جائیں گے۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 5.340 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.041 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت بلوچستان نے سیاحت و ثقافت کے فروغ کے لیے انتہائی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں بلوچستان کے آرٹسٹوں کی فلاح و بہبود کے لیے آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کا قیام۔ بلوچستان میں لاک ڈا ن سے متاثرہ آرٹسٹوں کے لیے ریلیف پیکج کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ بلوچستان کے تاریخی ورثہ اور ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے کوئٹہ میں نیا میوزیم تعمیر کیا گیا ہے جو عنقریب عوام کے لیے کھول دیا جائےگا۔ ہزاروں سال پرانے نوادرات کی صوبہ سندھ کے نیشنل میوزیم سے منتقلی عمل میں لائی گئی ہے۔ بلوچستان کی قدیم تاریخ اور ورثے کو مد نظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی آف بلوچستان کے اشتراک سے پہلی مرتبہ شعبہ آثار قدیمہ قائم کیا گیا ہے جس میں گریجویٹ کلاسز کے پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ نئے مالی سال میں بلوچستان آثار قدیمہ کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے کے لیے ڈویڑنل اور زونل سطح پر تمام سہولیات سے آراستہ ریکارڈ رومز کی تعمیر کے لیے 70 ملین روپے مختص۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.941 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 0.465 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت بلوچستان کا دفتری امور میں مزید بہتر لانے کے لیے مختلف محکمہ جات میں E-Filing System کو رائج کرنے کی منظوری اور کام کا آغازباقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے جس کی باقی محکموں تک توسیع عمل میں لائی جائےگی حکومت بلوچستان کے قوانین کیDigitilization کرنا جبکہ تاحال 1300 سے زائد قوانین کی باقاعدہ Degitilization مکمل ہو چکی ہے۔ صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں آئی ٹی کی ایجوکیشن کی ترویج کے لیے مزید 5 اضلاع میں آئی ٹی سینٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ نئے مالی سال 2020-21 کے دوران Digi Bizz: ، Freelancing اور Entrepreneurship کے لیے 50ملین روپے ،جبکہ Emerging Digital Balochistan (Mobile Apps Portal) کے لیے 20 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مالی سال 2020-2021 میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 0.869 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 0.398 بلین روپے مختص کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومتوں نے صوبے اور اس کے نظام محصولات کے نظام کو مستحکم بنانے پر بہت کم توجہ دی اس کے نتیجے میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں آمدن کے حصول میں بلوچستان بہت پیچھے رہ گیا۔ حکومت بلوچستان دسویں قومی مالیاتی کمیشن (NFC)میں بلوچستان کے زیادہ سے زیادہ شیئر کے حصول کے لیے کثیر الفارمولہ بنیادوں پر صوبے کے حق میں مضبوط کیس تیار کر رہی ہے۔Balochistan Tax Revenue Mobilization Strategyبلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی ٹیکس ریونیو موبلائزیشن پالیسی کا نفاذ کیا جا رہا ہے ، پالیسی کے نفاذ سے ٹیکس اصلاحات ممکن ہونگی جبکہ متعلقہ محکموںکو زیادہ سے زیادہ ٹیکس کے حصول میں رہنمائی ملے گی اور صوبے کی اپنی آمدن میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ خسارے کو بھی کم کرنے میں خاطرخواہ مدد ملے گی۔٭ حکومت سروسز ٹیکسز ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے دیگر ٹیکسوں کی وصولی کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اورOne Linkسے ایک معاہدہ کریگی یہ اقدامات نہ صرف ٹیکس نادہندگان کے لئے مدد گار ثابت ہوگا بلکہ کار کردگی شفافیت اور احتساب کے عمل کو بھی یقینی بنائے گا۔ حکومت بلوچستان نے تمام سیکٹرز میں سرمایہ کاری کے فروغ اور سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے Ease of Doing Business Cell کا قیام عمل میں لایا ہے جس کی سٹیرنگ کمیٹی کی صدارت خود وزیراعلی بلوچستان کرتے ہیں۔ آئندہ مالی سال 2020-2021 میں بلوچستان بورڈ آف انوسٹمنٹ میں Business Registration Portal کا قیام عمل میں لایا جائےگا، جہاں سرمایہ کار پبلک آفسس جانے کے بجائے اپنی رجسٹریشن آن لائن مکمل کر سکیں گے۔ سرمایہ کاروں کی رہنمائی کے لیے ایک Balochistan Investment Guide تشکیل دی گئی ہے۔ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے ذریعے پرائیوٹ سیکٹر کو حکومت کے ساتھ اشتراک اور بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سرمایہ کاروں کے لیے الگ Land Lease Policy ، اس کے علاوہ 2 اہم فنڈز جوکہ Project Development Fund اور Viability Gap Fund قائم کردیئے گئے ہیں جس کے لیے مالی سال 2019-2020 میں 2 ارب روپے Invest کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آنے والے مالیاتی سالوں میں مالیاتی خسارے کو کم سے کم رکھنے کے لئے حکومت مجموعی مالیاتی خسارے کو ممکنہ حد تک کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات اٹھارہی ہے۔ آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 119 کے تحت صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ پبلک فنانشل امور پر قانون سازی کرے اور آج ہم اس مقدس ایوان میں پبلک فنانس مینجمنٹ بل 2020 اسمبلی میں آج پیش کرنے جا رہی ہے جس سے صوبے مالی معاملات میں بہتر مالی نظم و نسق کو مربوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا ، بلوچستان پہلا صوبہ ہوگا جو کہ اس سلسلے میں 47 سال بعد قانون سازی کر رہا ہے۔ مزید برآں بلوچستان اسمبلی کے رواں بجٹ سیشن میں حکومت فنانس بل 2020 پیش کرنے جا رہی ہے جس میں مختلف پرانے ٹیکسوں اور مائننگ فیس میں نظر ثانی کرنے کی تجویز ہے۔ جس سے صوبے کی اپنی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی غیر معمولی صورتحال نے ہمارے پورے سماجی و معاشی نظام کو متاثر کر رکھا ہے، حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر عوام کو ٹیکس ریلیف دینے کےلئے اپریل تا جون 2020 تک درج ذیل اقدامات اٹھائے ہیں۔ حکومت بلوچستان پبلک فنانس مینجمنٹ کو مستحکم بنانے اور صوبے میں مالی نظم و نسق کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ خزانہ میں انٹرنل آڈٹ یونٹ کے قیام کی منظوری دے دی ہے اور پبلک فنانشل مینجمنٹ کو بہترین بین الاقوامی طریقوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے صوبائی ریونیو مینجمنٹ یونٹ اور ڈیبٹ اینڈ انوسٹمنٹ یونٹ قائم کیا ہے۔ حکومت بلوچستان نے کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کرنے والے صحت کے ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کے لیے فوری طور پر 2 بنیادی بیسک تنخواہوں کے مساوی ہیلتھ رسک الا نس کا اعلان کیا۔ صوبائی حکومت کے تحت کام کرنے والے مختلف کیٹیگریز کے ڈاکٹرز ، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے لیے ہیلتھ پروفیشنل الا نس کی منظوری دی۔ حکومت نے میڈیکل کالجز لورالائی، خضدار اور کیچ کے ٹیچنگ اسٹاف کے لیے ٹیچنگ الا نس کی اجازت دی۔ صوبائی سیکریٹریٹ کے مختلف کیڈر کے افسران کے لیے ایگزیکٹو الا نس کی منظوری دی۔ حکومت نے سردی اور گرمی کی تعطیلات کے دوران ثانوی اور ہائیر ایجوکیشن کے ٹیچنگ اسٹاف کے لیے کنوینس الا نس کی منظوری دی۔ معذوروں کے کوٹے پر تعینات ہونے والے ملازمین کے لیے اسپیشل کنوینس الا نس کی بھی منظوری دی۔انہوں نے کہاکہ اب میں بجٹ 2020-2021کے اہم اعدادو شمار پیش کرنے جارہا ہوں جس میں مالی سال 2020-2021کے اخراجات کے بجٹ کا کل حجم 465.528 بلین روپے ہے جبکہ آمدن کا کل تخمینہ 377.914 بلین روپے ہے ، اس طرح سال 2020-21 کے لیے بجٹ خسارہ کا تخمینہ 87.614بلین روپے ہوگاانہوں نے کہاکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ تخمینہ لگایاجائے تووفاقی ٹرانسفر ز302.904، صوبے کی اپنی محصولات46.407،فارن فنڈڈ پراجیکٹس اسسٹنس (FPA) ،3.538،کیپٹل محصولات،14.698، Cash Carry over10.366،ٹوٹل آمدن377.914ہے جبکہ مکمل اخراجات اخراجات جاریہ309.032،فارن فنڈڈ پراجیکٹس اسسٹنس (FPA) 12.201،وفاقی ترقیاتی پراجیکٹس (Outside PSDP) 38.216،صوبائی PSDP 106.079،ٹوٹل اخراجات465.528اورمجموعی خسارہ(87.614)ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنی تقریر کے اختتام پر میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے بجٹ کی تیاری میں معاونت کی خصوصاً محکمہ تعلقات عامہ کے افسران و اہلکاروں جنہوں نے دن رات محنت اور لگن سے حکومتی اقدامات کے حوالے سے عوام کو بروقت معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا اور بجٹ کی تیاری میں صوبائی حکومت کی معاونت کی۔ صوبائی وزیر نے محکمہ تعلقات عامہ کے ملازمین کیلیے ایک اضافی تنخواہ کا اعلان بھی کیا۔ صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا کہ وہ وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کا تہہ دل سے مشکور ہیں جنہوں نے ان پر اور انکی پوری ٹیم پر اعتماد کیا اور رہنمائی کی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*