آل پارٹیز کانفرنس کا تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرنیکا مطالبہ

اسلام آباد +کوئٹہ(این این آئی) جمعیت بلوچستان کے زیراہتمام مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس نے 18ویں ترمیم پرعملدرآمد،بلوچستان میں ایف سی کے ظالمانہ اختیارات ختم کرنے ،تمام لاپتہ افراد کوبازیاب کرنے ،ڈیتھ اسکواڈ ختم کرنے ،سی پیک میں بلوچستان کو نظرانداز کرنے ،جعلی ڈومیسائل ختم اور پاک افغان وپاک ایران بارڈرز کھولنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ 18ویں ترمیم میں کسی قسم کی ترمیم ، این ایف سی ایوارڈ کو چھیڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،پارلیمنٹ اور اسمبلیاں ہی ملک کو بحرانوں سے نکال سکتاہے ،گزشتہ روزجمعیت علماءاسلام بلوچستان کے زیر اہتمام اور مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت سب آفس جمعیت علماء اسلام اسلام آباد میں منعقدہ ہوا اے پی سی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی پارٹیوں کے مرکزی اور صوبائی قیادت نے شرکت کی جس سردار اختر جان مینگل مولانا عبدالغفورحیدری مولانا عبدالواسع سینٹیر عثمان خان کاکڑ سینیٹر کبیر محمد شہی عصمت اللہ سالم عبداالرحیم مندوخیل مولانا عبدالرحمن رفیق مولانا محمد سرور موسیٰ خیل دلاورخان کاکڑ مولانا عبدالخالق مری اجلاس میں ایجنڈے پر تفصیلی غور ہوا اور مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل اعلامیہ جاری کیاجن میں اٹھارویں ترمیم کے بارے میں حکومتی بیانات تشویشناک ہے آج کا اجلاس اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے حکومتی عزائم پر تشویش کاا ظہار کرتی ہے آج کا آل پارٹیز کانفرنس فیصلہ کرتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کیا جائے اور اس میں کسی قسم کی ترمیم ،ردوبدل کو برداشت نہیں کیا جائے، دسویں این ایف سی ایوارڈ میں آئین پاکستان کی دفعہ 160کی شق نمبر 3کے ذیلی شق اے کے تحت صوبوں کا حصہ 57.5اعشاریہ حصہ متعین ہے جس میں کسی قسم کی کمی کو قبول نہیں کیا جائے گا ،اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو وفاق کی جانب سے اگر چھیڑ نے کی کوشش کی گئی تو اس کی پر جمہوری قوتوں کی طرف سے سخت مزاحمت کی جائے گی،اجلاس میں ملک اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ملک کی وفاقی پارلیمانی،آئینی،سیاسی نظام،سیاسی پارٹیوں ارم لک کے سیاسی اداروں،پارلیمنٹ کے اختیارات غصب اور سلب کرنے اور انہیں بے دقعت بنانے کی دانستہ کوششوں اور اس کے برعکس ملک میں ڈمی اور غیر سیاسی عناصر کو آگے لانے کی شدید مذمت کرتے ہیں آل سیاسی پارٹیاں یہ واضح کرتی ہے کہ ملک کو اس کے حقیقی منتخب پارلیمنٹ اور اور اسمبلیاں بحرانوں سے نکال سکتی ہیں آج کی آل پارٹیز کانفرنس ملک میں بالعموم اور صوبہ بلوچستان میں بالخصوص ایف سی کی ظالمانہ،انتظامی اختیارات ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اور تمام ملک اور بالخصوص بلوچستان میں لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کرتی ہے اور ملک میں جاری غیر آئینی اور غیر قانونی گرفتاریوں کی مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس غیر آئینی،غیر قانونی اور غیر انسانی عمل کو فری طور پر روکا جائے اور گرفتار افراد کوفوری طور پر بازیاب اوررہا کیا جائے،آل پارٹیز کانفرنس میں ملک میں جاری میگا پروجیکٹس سی پیک کے جاری منصوبوں پر تفصیلی غور ہوا اجلاس میں شدت کے ساتھ یہ محسوس کیا گیا سی پیک نے بلوچستان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اور تاحال سی پیک کے حوالے سے کوئی پروجیکٹ لانچ نہیں کیا گیا آل پارٹیز کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ سی پیک میں شامل صوبے کی تمام اہم منصوبوں پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔آل پارٹیز کانفرنس صوبہ بلوچستان میں ٹڈی دل کا جو حملہ ہوا تھا وہ حکومت کی غفلت،کوتاہی اور لاپروہی سے اس کے صوبے میں نسل افزائی ہوئی اور اب تمام صوبے پر حاوی ہے اور صوبائی حکومت اس کی روک تھام میں مکمل ناکام ہوچکی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ار ٹڈی دل کے تدارک کا انتظام کرے،کورونا ایک عالمی وبائ پاکستان کے تمام علاقے اس کی لپیٹ میں ہیں مگر عام آدمی کے علاج ومعالجے اور اس حوالے سے انتظامات نہ ہونے اور وفاقی وصوبائی حکومتیں اس حوالے سے ناکامی کے ذمہ دار ہیں ،اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ،تربت کیچ اور ہزارہ ٹاﺅن کے دلسوز واقعات پرشدید افسوس کااظہار کرتے ہوئے اے پی سی ان واقعات کی شدیدمذمت کرتی ہے اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے ،ریاستی سرپرستی میں بلوچستان بھر میں ڈیتھ اسکواڈ کامکمل خاتمہ کرنے کامطالبہ کرتی ہے ،تفتان اور چمن بارڈر کھول دئیے جائیں مقامی آبادی کو قانون کے مطابق کاروبار کی اجازت دی جائے یہ شکایت عام ہوتی جارہی ہے کہ بلوچستان میں جعلی ڈومیسائل کااجرائ کرکے مقامی آبادی کیلئے مشکلات کاباعث بن رہی ہے لہٰذائ اس کو فوری طورپر منسوخ کیاجائے ،اے پی سی کے اعلامیہ میں مطالبہ کیاگیاہے کہ سینیٹ جو وفاق میں اکائیوں کی نمائندگی کاموثر ادارہ ہے اس کے اختیارات میں اضافہ کیاجائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*