پٹر ول بحر ان 3 نجی کمپنیا ں ذمہ دا ر قرار

ملک بھر میں جا ری پٹر ول بحر ان کی تحقیقا ت کے لیے قا ئم کی گئی کمیٹی نے پٹر ول بحران کا ذمہ وا ر 3 نجی کمپنیو ں کو قر ار دید یا ہے کمیٹی نے بتا یا ہے کہ یہ تینو ں کمپنیا ں ذخیر ہ اند و زی اور بلیک ما رکیٹنگ میں ملو ث ہیں کسی بھی حا دثے کی صو رت میںبہت بڑ ا نقصا ن ہو سکتا ہے تما م کمپنیو ں کے خلا ف کا رو ائی کی جائے کمیٹی نے مطا لبہ کیا ہے کہ ان کے خلا ف ایکشن لیا جائے اس طرح کمیٹی نے کمپنیو ں کو طے شد ہ معیا ر پر پو ر ا نہ اتر نے پر شو کا ز دینے اور ایک ما ہ میں ان کی کا ر کر د گی بہتر نہ ہونے پر لا ئسنس معطل کر نے کی سفا ر ش کر دی۔
ملک بھر میں جا ری پٹر ول بحران کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کیو نکہ اس کی وجہ سے عو ام شد ید مشکلا ت سے دو چا ر ہیں لیکن اس کے با وجو د حکومت کی جا نب سے ا س پر کوئی ٹھو س ر د عمل نہیں آیا بحر ان پید ا ہونے کے کا فی دنو ں بعد تحقیقا ت کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے اب اپنی ر پو ر ٹ پیش کر تے ہوئے پٹر ول بحر ان کی ذمہ دا ر 3 نجی کمپنیو ں کو قر ار دیا اور ا ن کے خلا ف کا رو ائی کا مطا لبہ کیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں ملک بھر میں پٹر ول کا بحر ان ایک بہت ہی تشو یش کی با ت ہے اور اس پر اب تک پو ری طر ح کنٹر ول نہ کرنا حکومت وقت کے لیے ایک لمحہ فکر یہ سے کم نہیں ہے کیو نکہ پٹر ول عا م استعما ل کی بنیا دی شے ہے اس کا اس طرح نا یا ب ہو نا کسی بھی طر یقے سے صحیح نہیں ہے عا لمی ما ر کیٹ میں اس وقت پٹر ول کی یہ صورتحال ہے کہ وہا ں اس کو خر ید نے والا کوئی نہیں ہے جب کہ اس کے بر عکس پا کستا ن میں یہ دستیا ب نہیں ہے یہ صو رتحا ل یقینا حکومت اور متعلقہ ادا رو ں کے لیے بڑ ی تشو یشنا ک ہے جس کا تدا ر ک کر نا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بلوچستا ن میں صو رتحال یہ ہے کہ یہا ں بھی پٹر ول کی قلت ہے چند ایک پمپس پر پٹر ول دستیا ب ہے لیکن تکلیف دہ صو رت یہ ہے کہ منی پٹر ول پمپس پرپٹرول مختلف ریٹس پر مل رہا ہے ہر پمپ و الا اپنی مر ضی کے ریٹ پر پٹر ول فر و خت کر رہا ہے حا لا نکہ اس وقت با ر ڈ ر بند ہو نے کے با عث ایر انی پٹر ول نہیں آ رہا لیکن اس کے با و جو د منی پٹر ول پمپس پر پٹر ول دستیا ب ہے جس سے یہ اند از ہ لگا یا جا سکتا ہے کہ یہ پٹر ول پا کستا نی ہے جو پمپس سے ہی خر ید کر کھلے عا م فر و خت کیا جا رہا ہے اور اس طرح عو ام کو ان کی مجبو ر یو ں سے فا ئد ہ اٹھا تے ہو ئے دو نو ں ہا تھو ں سے لو ٹا جا رہا ہے اس تما م صو رتحال کے با و جو د انتظا میہ اور متعلقہ ادا رو ں نے چپ سا دھ کر رکھی ہے اور خا مو ش تما شا ئی کا کر دا ر ادا کر رہے ہیں وہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوئی کا رو ائی کرنے سے قا صر ہیں جو عو ام کے سا تھ بہت بڑی زیا دتی کے متر ادف اقد ام ہے اس لیے اس سلسلے میں کا رو ائی کر نا نا گز یر ہے افسو س کی با ت یہ ہے کہ صو بائی دا ر الحکومت کوئٹہ میں پٹر ول کے علا وہ دیگر اشیا ءکے نر خ بھی تا جر وں کے اپنے مقر ر کر دہ ہیں ان پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو تح©قیقا تی کمیٹی کی جا نب سے پٹر ول بحر ان میں ملو ث 3 تینو ںنجی کمپنیو ں کے خلا ف فو ری طو ر پر کا ر وائی کر نی اور اس سلسلے میں کوئی کمپر و ما ئز نہیں کر نا چا ہیئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*