”ناکردہ گناہی بھی گناہوں میں چلی آئے“

سعید آسی
انسانی جانوں پر جیسے پت جھڑ کا موسم آگیا ہے۔ ہمارے دوست، احباب، عزیزوں، پیاروں اور نامور شخصیات میں سے کسی کا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا کہ آج زندہ سلامت ہیں تو کل کو ہوں گے بھی یا نہیں۔ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دھڑا دھڑ ہونے والی اموات کی خبروں سے بھرا پڑا ہے۔ زندگی کی بے ثباتی کے ایسے مناظر کبھی دیکھے نہ تھے، خوف ایسا ہے کہ جسم کے روئیں روئیں میں سرائیت کرچکا ہے۔ آج ایک جیتے جاگتے، ہنستے بستے آدمی سے رابطہ ہوتا ہے اور اگلے دن اس کی موت کی خبر آجاتی ہے۔ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ زندہ انسانی معاشرے کے ایسے مناظر بھی بن سکتے ہیں۔ میری ایک دہائی قبل کی ایک غزل کا شعر ہے کہ…
پل میں یوں تبدیل سب منظر ہوئے
جو یہاں تھے، وہ کہیں کھونے لگے
ہائے ہائے، ذرا سی دیر میں کیا ہوگیا زمانے کو
سسیاں دے ہنجو ہن ویکھے نہیں جاندے
تھل نوں خورے کی ہووے گا، ڈر دا رہناں
ارے موت تو اٹل ہے، برحق ہے، اس سے کسی کو مفر کہاں
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ ، کل ہماری باری ہے
اس اٹل حقیقت سے بھلا کون انکار کرے گا مگر زندگی کی اتنی بے قدری تو کبھی دیکھی نہ تھی۔ یہ کرونا وائرس کیا ہے بھئی، انسانی جان لینے کا ایک بہانہ ہے یا رعونت میں ڈوبے کروفر والے سرکش انسانوں کیلئے ایک سبق ہے؟
ہمارے ہردلعزیز فنکار و دانشور طارق عزیز کا کل تک سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام چل رہا تھا جس میں وہ کرونا سے نبردآزما ڈاکٹروں کی خدمات پر انہیں سلام عقیدت و محبت پیش کرتے ہوئے کرونا کو شکست دینے کے قومی عزم کا اظہار اپنے روایتی پرجوش انداز میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر کررہے تھے اور اگلے ہی روز ان کی موت کی خبر آگئی۔ مجھے اس لئے بھی زیادہ صدمہ ہوا کہ ”ساہیوالین“ ہونے کے ناطے اور پھر ان کے ساتھ کچھ عرصہ کی رفاقت کے حوالے سے ان کے ساتھ انسیت بھی تھی۔ اس عرصہ کی کھٹی میٹھی یادیں آج بھی دل میں گدگدی کرتی ہیں۔ اجل اس بڑے فنکار اور شاعر و دانشور کو بھی پلک جھپکتے میں اپنے ساتھ لے گئی اور پھر سینئر انقلابی صحافی دوست حافظ عبدالودود کی موت کی خبر نے تو انجرپنجر ہلا دیا۔ وہ گزشتہ دو سال سے موت کے ساتھ جنگ لڑ رہے تھے اور موت کا ہر غلبہ و حصار توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہورہے تھے۔ انہوں نے کرونا کو بھی دو بار شکست دی۔
ان کا کرونا رزلٹ دو بار پازیٹو سے نیگٹو ہوا۔ یار لوگ اس معرکہ میں ان کی کامرانی کے ڈنکے بجارہے تھے کہ کل اچانک انہیں اجل نے گھیر لیا اور عدم آباد پہنچا کر دم لیا۔ ہمارے عزیز دوست سہیل وڑائچ اور اینکر عمران خاں ماشاء اللہ کرونا سے دو دو ہاتھ کرکے معمول کی زندگی کی جانب واپس لوٹ آئے ہیں۔ ہماری دانشور دوست ڈاکٹر صغریٰ صدف نے بھی کل اپنے بھتیجے راجہ حسن جلیل کے کرونا سے مکمل صحت یاب ہونے کی خوشخبری سنائی۔ خدا کرونا کی لپیٹ میں آئے دیگر تمام احباب و اکابرین کو بھی اپنی حفظ و امان میں رکھے مگر وہ کیا ہے کہ ”لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر، کیا کہئے“ زندگی کی بے ثباتی کا ہمہ وقت جھاکا سا پڑا رہتا ہے اور کرونا کے ہاتھوں موت، توبہ توبہ ،خدا خدا کیجئے۔ اس بے بسی او بے توقیری والی موت سے خدا کی پناہ ہے…
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ، ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا
بھئی خوف کی اس تریری بڑی کے انسانی صحت اور نخوت و تکبر والی ذہنیت پر بھلا کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں، ہمیں تو بے ثبات زندگی کے باقی ماندہ ایام اب خدا کے شکرانے میں اور خوف خدا میں ڈوب کر گزارنے چاہئیں۔ اپنی عاقبت سنوارنے کی فکر کرنی چاہئے۔ تکریم انسانیت کا درس عام کرنا چاہئے۔ صلہ رحمی کے جذبے کے ساتھ وابستہ ہوجانا چاہئے۔ دنیاوی لوبھ سے کنارہ کشی کرلینی چاہئے ، روح کی پالیدگی اور اطمینان قلب کا اہتمام بالاالتزام کرنا چاہئے مگر تف ہے ہماری سوچ پر، ہماری زندگی کے چلن پر کہ آج بھی…
فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
کرونا کے خوف نے اور موت کی بے ثباتی کی بار بار کی ، ہزار بار کی منظرکشی نے بھی ہمارے لہجوں، رعونتوں، اناﺅں، ریاکاریوں اور آقاﺅں ، عالیجاﺅں والی ذہنیتوں میں کوئی ڈنٹ نہیں ڈالا، حرام کاری ویسی کی ویسی ہے، حصول منصب و جاہ کی بھوک پہلے سے بھی دوچند ہوگئی ہے۔
ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی علت جوں کی توں برقرار ہے۔ استحصالی شکنجے ویسے کے ویسے ہی بے بسوں، بے کسوں پر قیامت ڈھا رہے، چوری سینہ زوری اور ناجائز منافع خوری کا کاروبار اسی طرح بے خوفی کے ساتھ چل رہا ہے۔ انسان مر رہا ہے مگر اس کی ”میں“ کو موت نہیں آرہی۔ بھئی دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ کہاں عنقا ہوگیا، باہمی بھائی چارے اور رواداری کی لگن کس کونے کھدے میں جا چھپی اور ریاست مدینہ کے سہانے تصور کو کون گرہن لگا گیا۔ وہی آپا دھابی کا ماحول، وہی جھوٹی اناﺅں کی اوڑھی ہوئی قبائیں ، وہی اک چال بے ڈھنگی، جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔ ارے ناہنجارو، ذراسوچو، خدا نے آپ کو کرونا وائرس کے شکنجے سے نکال کر زندگی دی اور آپ کے خون میں پلازمہ کی شکل میں کرونا وائرس کے مریضوں کو بچانے کی برق دوڑا دی مگر آپ نے خدا کی اس نعمت کو بھی کاروبار بنالیا اور پلازمہ دکھی انسانیت میں زندگی کی رمق دوڑانے کیلئے عطیہ کرنے کے بجائے لاکھوں میں فروخت کرنا شروع کردیا۔ ہائے ہائے ”کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد“ ارے بھائی صاحب، ہمارا زندگی کا یہی چلن ہے تو پھر ہمیں زندگی سے کیا لینا دینا…
تکمیل ضروری ہے، ادھر ہو کہ ادھر ہو
ناکردہ گناہی بھی گناہوں میں چلی آئے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*