قومی فیصلے جذبات نہیں قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر کئے جاتے ہیں، شاہ محمود قریشی

Mehmood Shah Qureshi Foreign Minister

اسلام آباد(آئی این پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کو سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونے کے لئے واک اوور دیا ہو گا تو ماضی میں کسی نے دیا ہو گا، قومی فیصلے جذبات نہیں قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر کئے جاتے ہیں، بھارت پہلے بھی سات مرتبہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر رہا لیکن وہ کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہمیں معلوم ہے کہ بھارتی عزائم کا راستہ کیسے روکنا ہے، لداخ میں چین بھارت تنازعہ خونی شکل اختیار کر گیا، کورونا کے بعد بھارت کا مالی دیوالیہ نکل گیا ہے، بھارت کوئی فلیگ آپریشن کر سکتا ہے لیکن بھارت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی طرف آنکھ اٹھائی تو بھرپور ردعمل کے لئے تیار رہے۔ جمعہ کو ایوان بالا میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر مشاہد حسین سید کے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بشکیک سے پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو لے کر جہاز آج پہنچا جائے گا، جو پاکستانی آ رہے ہیں ان کو قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے اس لئے ان کو وطن واپس لانے کے لئے رفتار تیز نہیں تھی، اب ترجیحا لیبر کو سعودی عرب، یو اے ای سے واپس لایا جا رہا ہے، وزیراعظم نے اس سلسلے میں احکامات دیدیئے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مشاہد حسین سید نے ایک نکتہ یہاں اٹھایا ہے اس کی وضاحت کے لئے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن بننے کے لئے واک اوور دیا گیا ہے، یہ درست نہیں ہے، ہمیں اس عمل کو سمجھنا چاہیے، لوگ ٹویٹ کر دیتے ہیں، معاملات کا درست ادراک نہیں ہوتا، 15 رکنی سلامتی کونسل میں 10 غیر مستقل ارکان ہیں، 7 مرتبہ بھارت، 7 مرتبہ پاکستان ممبر بن چکا ہے، بھارت 2013سے اس ممبر شپ کےلئے کام کر رہا ہے، اس وقت وزیر خارجہ کون تھا حکومت کس کی تھی، اگر کوئی واک اوور دیا ہو گا تو انہوں نے دیا ہو گا، سلامتی کونسل میں ممبر شپ کے لئے پانچ سے 15 سال پہلے ممالک منصوبہ بندی کرتے ہیں، 2025اور 2026میں پاکستان ممبر شپ کا امیدوار ہے، اس کے لئے ہم آج سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں، خطے کی صورتحال کو دیکھ کر آگے بڑھنا ہو تاہے، ہم خطے کے ووٹ تقسیم نہیں کرنا چاہتے، ہم اس صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گے، ایک انڈر سٹینڈنگ ہوئی تھی کہ تقسیم سے ہمیں فائدہ نہیں ہو گا، ہمارا آج کا فیصلہ کل کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، یہ فیصلے جذبات نہیں، قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر کئے جاتے ہیں، بھارت نے جب سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے لئے خواہش کا اظہار کیا تو اس کو روکنے کا طریقہ نہیں تھا، بیوقوفانہ طریقے سے ہم مستقبل کے لئے اپنے لئے امکانات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے، اگر بھارت ممبر بن بھی جائے تو کیا کشمیر پر اقوام متحدہ کا موقف وہ تبدیل کر سکتا ہے، نہیں کر سکتا، وہ پہلے بھی 7 مرتبہ غیر مستقبل ممبر رہا ہے لیکن کشمیر کاز پر دنیا کی رائے تبدیل نہیں ہو سکی، ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں، دنیا میں ہمارے دوست ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ بھارت کے عزائم کا راستہ کیسے روکنا ہے، اقوام متحدہ چارٹر کی خلاف ورزی ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، ہم نے بھارت کو بے نقاب کیا ہے، آج پاکستان اکیلا نہیں ہے، 5 اگست کا اس کا فیصلہ دنیا مسترد کر رہی ہے، لداخ میں آج کیا ہو رہا ہے، وہاں بھارتی جوانوں کی لاشیں اٹھ رہی ہیں، 50 سالوں کے بعد چین بھارت تنازعہ خونی شکل اختیار کر دیا ہے، نیپال بھی آج بھی بھارت کو چیلنج کر رہا ہے، بھوٹان، افغانستان میں بھی بھارت کے حوالے سے جذبات بدل رہے ہیں، کورونا کے بعد بھارت کا مالی دیوالیہ نکل گیا ہے، اس کی معیشت بڑی ہے اس لئے اس کو نقصان بھی بڑا ہو رہا ہے، بھارت کوئی فلیگ آپریشن کر سکتا ہے لیکن میں اس ایوان سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر بھارت نے آنکھ اٹھائی تو ردعمل کے لئے تیار رہے، پاکستان کی سالمیت پر ہم کل بھی اکٹھے تھے، آج بھی اکٹھے ہیں، اس معاملے پر سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کا اجلاس بلا لیں تو صورتحال کی مزید وضاحت وہاں کروں گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*