کب آئے گی تو

تحریر : روہیل اکبر
نیوزی لینڈ دنیا کا وحد ملک جہاں کرونا سرے سے ختم ہو گیا وہاں زندگی بغیر کسی خوف کے رواں دواں ہے مگر پاکستان میں پونے دو لاکھ کرونا کے مریض ہو چکے ہیں ہمارے ہسپتال مریضوں سے اور ڈیڈ ہاو¿س مردوں سے بھر گئے جہاں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز تشویش کا باعث ہیں وہی پر عوام کا بے روزگار ی اور غربت سے برا حال ہے ایک طرف عام لوگ ہیں تو دوسری طرف خاص لوگ ہیں کچھ دیہاڑی دار ہیں کچھ ہفتہ وار ہیں کچھ پندرہ روز ہ ہیں تو کچھ ماہانہ کمانے والے ہیں یہ سبھی لوگ بری طرح متاثر ہیں کرونا اور غربت سے جنگ لڑنے والے افراد کا پنجاب حکومت نے مالی بوجھ اٹھا رکھا ہے بلخصوص سطح غربت سے نیچے زندگی گذارنے والوں کے لیے بزدار سرکار نے بہت سے اقدامات کیے مگر ابھی بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو کسی کے سامنے اپنا دکھ بیان نہیں کرتے ان میں اکثر فنکار لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے ہنر سے تو کما لیتے ہیں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے بلا شبہ حکومت بھی فنکاروں کی مدد کرنے میں مصروف ہے مگر اس مالی امداد کا ایک تو حجم کم ہے تو دوسری طرف بہت سے ایسے فنکار ہیں جو اس امداد سے محروم ہیں گذشتہ روز ماضی کی نامور ہیروئن،ڈائریکٹر اور پروڈیوسرمسرت شاہین جسکا اپنے دور طوطی بولتا تھاکے اعزاز میں ایک شام منعقد کی گئی وہی پر کچھ فنکاروں جنید عزیز میاں صبا نوراورعلی شفقت سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔
ان سب فنکاروں کا کہنا تھا کہ حکومت مسرت شاہین کی سربراہی میں کوئی ایسی کمیٹی تشکیل دے جو صرف فن سے لگاو¿ رکھنے والوں کے مالی معاملات کی نگرانی اور فنکاروں کی فلاح وبہبود کے لیے کھل کر کام کرے کیونکہ سبھی فنکار برادری ایک خاندان کی مانند ہے جہاں یہ ایک دوسرے کے دکھ درد سمجھتی ہے وہی یہ ان مسائل کا حل بھی تلاش کرتی ہے اور مسرت شاہین سے بہتر کوئی نہیں جو فنکار کی تکلیف کو سمجھ سکے اس شام کی کچھ تفصیل آخر میں لکھوں گا اس سے پہلے نیوزی لینڈ کا قصہ ضروری ہے کہ انہوں نے کیسے ان دیکھے دشمن کو شکست دیدی وہاں کی عوام نے حکومت کے احکامات پر مکمل عمل کیا ہماری طرح ہوا میں نہیں آڑائے وہاں کوئی لاک ڈاو¿ن میں شٹر اٹھا کر کاروبار کرنے والا نہیں تھا حکومت نے بند کیا تو سب نے بند سمجھا وہاں کوئی سازشی تھیوری نکالنے والا محقق و دانشور نہیں تھا جو اسے ڈرامہ ثابت کرے یا پھر زکام جیسی عام بیماری وہاں کوئی پاکستانی اپوزیشن جیسی گھٹیا سیاسی جماعت نہیں تھی جو ہسپتالوں اور قرنطینہ سینٹرز کے جعلی ویڈیوز پروپیگنڈے لانچ کرتی اور لوگوں کو شک میں مبتلا کرتی وہاں کوئی پانچ لاکھ کی لاش بیچنے اور خریدنے والی بے ہودہ باتیں پھیلانے والا نہیں تھا وہاں کوئی ایسا نہیں تھا جو ایس او پیز پر عمل کے بجائے اللہ پر جعلی توکل کا بھاشن دینے والا ہو وہاں کوئی شیعہ ایسا نہیں تھا جس نے جلوس پر کمپرومائز کرنا گناہ سمجھا ہو وہاں کوئی سنی ایسا نہیں تھا جس نے مساجد کے رش کو محدود نہ کیا ہو وہاں کوئی تاجر ایسا نہیں تھا جس نے بلیک میل کر کے مارکیٹس کھلوائی ہوں وہاں کی عوام نے عید کی شاپنگ کے نام پر بے جا بازاروں میں رش نہیں لگایا۔
وہاں کے پادریوں کی عیسائیت، اور مولویوں کا اسلام خطرے میں نہیں پڑا تھا وہاں کی حکومت نااہل نہیں تھی اسے فوٹو شوٹ سے زیادہ عوام کی جان عزیز تھی وہاں وباء کے دنوں میں مال کو زخیرہ کرکے نہیں بیچا گیا وہاں ماسک کا ریٹ وباء سے پہلے اور خاتمے تک ایک سا رہا وہاں کے وزیروں نے پریس کانفرنسز سے زیادہ فیلڈ ورک کیا وہاں کے میڈیا نے عوامی مسائل کو اجاگر کیا نہ کہ کرنل کی بیوی اور ٹھیکے دار کی بیٹی پر وقت برباد کیا عوامل اور بھی بہت سے ہیں مگر میری گذارس صرف اتنی سی ہے کہ اپنے گریبان میں جھانکیں. مجھ سمیت تمام دوست اپنے آپ سے پوچھیں کہ ہم نے کتنی احتیاط کی. پھر یہ سوچیں ہماری انتظامیہ اور اداروں نے کیا وہی زمہ داری نبھائی جو نبھانی چاہیے تھی ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس تو قربانیاں دیتے رہے مگر ہم آج بھی سمجھ رہے ہیں کہ یہ وباء نہیں ڈرامہ ہے جھوٹ ہے اور دجال کی چال ہے خدا کے لیے اب تو رحم کریں یہ نہ ہو کہ آپ کو یقین آنے تک ہم بہت سے اپنوں کو ہمیشہ کے لیے کھو چکے ہوں اس لیے احتیاط کیجیے وبا ختم ہوجانے دیں اسکے بعد پھر وہیں سے زندگی رواں دواں ہوگی جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا انہی غمگین لمحات میں کچھ خوشی کے لمحات بھی پچھلے دنوں آئے تھے جب مسرت شاہین کے اعزاز میں ایک موسیقی کا اہتمام کیا گیا۔
اس محفل میں صبا نور اور عشائ نقوی نے خوبصورت گانے گائے ملک کے نامور گلوکار علی شفقت نے بھی ایک خوبصورت گیت میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو آئی رت مستانی کب آئے گی گایا تو میں اس گانے کے بول کے پیچھے پیچھے ماضی کی چوکھٹ پار کرگیا جہاں ہلہ گلہ تھا دوستوں کی محفلیں تھیں دفتروں میں رونقیں اور کھل کر گلے ملتے تھے مساجد میں کندھے سے کندھا ملا کر نماز ادا کرتے تھے بازاروں میں گھومنے کا مزہ آتا تھا ہوٹلوں میں جانے کی کوئی پابندی نہیں تھی اور تو اور پارکوں میں بچوں،نوجوانوں اور ہم جیسے بزرگوں کو بھی سیر کرنے کا مزہ آجاتا تھا ہر کوئی سلام دعا کے بعد ہاتھ ملانا عین فرض سمجھتا تھا جبکہ ہماری ایک دوست بخاری صاحب ہاتھ سے سلام لیتے ہوئے تین بار ہاتھ کومختلف انداز سے دباتے تھے جس سے ایک طرح کو سکون محسوس ہوتا تھا گھر میں داخل ہوتے ہی بچوں سے گلے ملنا پیار کرنا اور اتنی دیر میں علی شفقت نے اپنے گانے کے آخری بول بیتی جائے بیتی جائے زندگانی کب آئے گی تو چلی آتو چلی اور میں بھی اپنے خیالات سے آزادی کے دنوں کی یادیں ادھوری چھوڑ کر باہر نکل آیااور دیکھا تو سب نے نقاب کیا ہوا تھا ماسک سے آدھا چہرہ نظرآتا تھا اور آدھا غائب اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سوچنے سمجھنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم بھی اس وبا سے پیچھا چھڑواسکیں اور پھر وہی رت مستانی اور سہانی آ جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*