مشکل حالات میں وفاقی بجٹ میں آ سانیاں

تحریر :اسد اللہ غالب
بجٹ پر اصل تبصرہ تو خود وزیر اعظم نے کر دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ نیویارک کامیئر سر پیٹ رہا ہے کہ کرونا نے اس کے شہر کو دیوالیہ کر دیا۔ وہ شہر جس کے محکمہ صحت کا بجٹ پاکستان کے کل بجٹ سے دگنا تگنا ہے وہ دیوالیہ ہونے کا رونا رو رہا ہے تو اندازہ کر لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ملک کی معیشت کو سابقہ دو حکومتیں دیوالیہ کر گئی تھیں۔ اسد عمر وزیر خزانہ تھے تو کہتے تھے کہ معیشت آئی سی یو میں ہے۔ اس معیشت کو سنبھالنا نئی حکومت کے بس میںنہ تھا پھر بھی اس نے سعودی عرب،امارات۔ چین،آئی ایم ایف، ورلڈ بنک سے رابطہ کیا اور معیشت کو آئی سی یو سے باہر نکالا مگر ملک کی لوٹ مارا س قدر ہو چکی تھی کہ جب تک اس کے سانس کی بحالی کا عمل شروع ہوا تو کرونا کی وبا نے آن لیاا ور بڑے بڑے ملکوںکی معیشت بیٹھ گئی۔ ان حالات میں ہم کیا بجٹ بنا سکتے تھے، یوں کہئے کہ ایک آئینی تقاضا تھا جسے پورا کیا گیا۔خوشی کی بات یہ ہے کہ اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا بلکہ زندگی کے ہر شعبے کے لئے بجٹ ریلیف سے بھرا پڑا ہے۔
وزیر اعظم کہتے ہیں کہ امریکہ نے تین ہزار ارب ڈالر کا کروناریلیف پیکیج دیا۔ ہم صرف آٹھ ارب ڈالر مدد کرنے کے قابل تھے۔ بجٹ کو خوشنما کیسے بنایا جا سکتا تھا۔پھر بھی صنعتی اور تجارتی شعبے کے لئے بہت سی چھوٹ کاا علان کیا گیا ہے، برآمد کنند گان کے لیے نئی سہولتیں بھی رکھی گئی ہیں۔ انہیں ری بیٹ کی رقم کے لئے کسی کے پیچھے نہیں بھاگنا پڑے گا، یہ رقم ان کے اکاﺅنٹس میںمنتقل کر دی جائے گی۔سینکڑوں در آمدی اشیا پر ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔کئی ملکی مصنوعات کو سیلزٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں تنخواہ دار طبقہ کو مہنگائی کا سامنانہیں کرنا پڑے گا کیونکہ افراط زر کے امکانات ختم ہوگئے ہیں زیادہ سے زیادہ سٹیٹ بنک کو روپے کی قیمت کو مستحکم رکھنا پڑے گاا ور ڈالر کی ا ڑان پر نظر رکھنا ہو گی۔
بجٹ سازی میں آسانی ا سلئے بھی پیدا ہوئی ہے کہ جی ٹوئنٹی اورآئی ایم ایف نے قرضوں کی واپسی کو ایک سال کے لئے کروناکی وجہ سے موخر کر دیا ہے۔حکومت نے معیشت کو بحال رکھنے کے لئے لاک ڈاﺅن کو سمارٹ لاک ڈاﺅن میں بدل دیا ہے جس کی وجہ سے بزنس اور انڈسٹری کے لاتعداد شعبے فنکشنل ہو جائیں گے اور لوگوں کے روز گار پر منفی ا ثرات نہیں پڑیں گے بشرطیکہ لوگ کرونا کی حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔
وزیر اعظم نے ا سکے لئے خود مانیٹرنگ کا فیصلہ کیاا ور ٹائیگر فورس کے ذریعے ہاٹ سپاٹس کی نشان دہی کا نظام تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات بجٹ کی کامیابی کے لئے اٹھائے جا رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کام ہی بجٹ میں سے کیڑے تلاش کرنا ہے مگر وہ بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ نیا بجٹ اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے۔ اس لئے بجٹ میں بلند بانگ دعوے ہی نہیں کئے گئے۔
مگر کس قدر افسوس کی بات ہے بلکہ یہ رویہ قابل مذمت ہے کہ بجٹ پیش کرتے ہوئے اپوزیشن نے وہ شور مچایا کہ خدا کی پناہ ملک پر آفات کا نزول ہے اور اپوزیشن کی وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔ کیا مجال پارلیمانی جمہوری نظام نے اپوزیشن کو اخلاقی اقدار پر عمل کرنا سکھایا ہو۔اپوزیشن کا یہ رولا رپا اٹھاسی کے بعد سے ہر سال سننے کو ملتا ہے اور قوم کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔میںنے پچھلے بجٹ پر بھی حماد اظہر کو مبارک باد دی تھی کہ ان کی ادائیگی نہائت عمدہ تھی اور وہ ذرا بھر ماحول کی خرابی سے نہیں گھبرائے اور خندہ پیشانی سے منفی نعرے بازی کا سامنا کیا اور کسی پریشانی کا شکار نہیں ہوئے۔ ایسی چنگاری بھی یا ر ب اپنی خاکستر میں تھی۔ پتہ نہیں اپوزیشن کس بنا پر کہتی ہے کہ وزیر اعظم کی کابینہ میں کوئی گوہر نایاب نہیں۔
میرے خیال میں کئی درجن وزرا اعتماد اور دلیل کی بناد پر بولتے ہیں اور فر فر بولتے ہیں خود وزیرا عظم جنرل اسمبلی تک کے اجلاس میں تقریر کے جوہر دکھا چکے، بجٹ اجلاس کا سب سے قابل فخر پہلو یہ تھا کہ ا س میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ اب اپوزیشن یہ اعتراض تو نہیں داغ سکتی کہ وزیر اعظم پارلیمان کو اہمیت نہیں دیتے۔ میری آ نکھیں تو اپوزیشن لیڈروں کو تلاش کر رہی تھیں کسی نے دور بین سے یہ چاند دیکھے ہوں تو اور بات ہے۔ کرونا کی مصیبت میں بجٹ بنانا ہی ایک کڑے امتحان کے مترادف تھا مگر وفاقی حکومت نے بجٹ بنایاا ورا سے پارلیمنٹ میں پیش بھی کر دکھایا۔ ابھی تو ہم لوگوںنے بجٹ تقریر سنی ہے۔ اس پر پارلیمنٹ میں تبصرے سن لیں اور بجٹ دستاویزات پر ایک طائرانیہ نظر ڈال لیں تو پھر اس کی خوبیوں کا مکمل احاطہ کیا جا سکے گا۔ بجٹ تقریر سننے کے دوران میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ مشکل ترین معاشی حالات اور کرونا کی تباہ کاریوں کے پس منظر میںآسانیوں سے بھر پور بجٹ آیا ہے۔
رہ گیا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ تو مجھے یقین ہے کہ جیسے ہی حالات سدھریں گے حکومت یہ خوش خبری بھی سنانے میں تاخیر نہیں کرے گی۔
٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*