تعلیمی نظام میں طبقاتی تفریق کو ختم کرنااولین ترجیح ہے،عمران خان

اسلام آباد(نیوا ایجنسیاں + م ڈ)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں آئندہ دو ماہ کے دوران کورونا وبا سے لڑنے کے لیے قوم بن کر مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم عمران خان نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ کیا، اس موقع پر وفاقی وزرا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔وزیر اعظم کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور میجر جنرل آصف محمود گورایا نے کورونا وبا کے پھیلاﺅ، وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات، احتیاطی تدابیر کے نفاذ، فیصلوں پر عملدرآمد، ہسپتالوں پر مریضوں کے دبا، اموت اور مستقبل کی حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کورونا وبا کے خلاف متوازن حکمت عملی اپنائی۔ اس کے باوجود ہر ایک کو بہت احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آئندہ دو ماہ کے دوران وبا سے لڑنے کے لیے قوم بن کر مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ہمارے اقدامات سے پتا چلے کہ بحران کنٹرول میں ہے۔ ہمیں اتفاق رائے سے اقدامات کرنا ہوں گے۔وزیراعظم نے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں قابل فخر کام انجام دے رہے ہیں۔ پوری قوم کو ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔ میڈیا نے بھی اب تک ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ سنسنی خیزی پھیلانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔انہوں نے ہدایت دی کہ ہماری تمام تر توجہ اور کوششں وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے ہونی چاہیے۔ ہسپتالوں میں ادویات اور آکسیجن بیڈز کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ قوم متحد ہو کر اس غیرمعمولی چیلنج کا مقابلہ کرے۔ معمر اور بیمار افراد خاص طور پر عارضہ قلب اور ذیابیطس کے مریضوں کو وبا سے بچایا جائے۔دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام میں طبقاتی تفریق (Education Apartheid)کو ختم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،یکساں نصاب تعلیم کو مرتب کرنے اور ملک بھر میں اس کے نفاذ کی کوششیں مزید تیز کی جائیں، مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے خصوصاً مدارس میں زیر تعلیم بچوں کو جدید علوم کی تعلیم سے آراستہ کرنے اور انکو ہنر مند بنانے کے حوالے سے مدارس کے ساتھ طے شدہ لائحہ عمل پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی کوششیں تیز کی جائیں، تمام صوبائی وزرائے تعلیم کی مشاورت سے تعلیمی و تدریسی عمل کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جائے، اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات میں تعلیمی اداروں کی مالی مشکلات اور والدین کے فیسوں کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنے کے حوالے سے بھی حکمت عملی وضع کی جائے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود، وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، صوبائی وزیر پنجاب برائے ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں، چئیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن طارق بنوری اور سینئر افسران شریک تھے۔ وزیرِ اعظم کو ملک میں یکساں نصاب تعلیم متعارف کرانے، مدرسوں کے حوالے سے اصلاحات، ہنر مند پاکستان کے فروغ اور ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے میں اب تک کی جانے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک کو متفقہ نصاب تشکیل دے دیا گیا ہے جس کا اپریل 2021میں نفاذ کر دیا جائےگا اس کے علاوہ چھٹی سے آٹھویں جماعت کا نصاب مرتب کرنے کے لئے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ کوروناکی وجہ سے تدریسی اداروں کی بندش کے باوجود نظام تعلیم کو جاری رکھنے کےلئے مختلف اقدامات مثلاً ٹیلی سکولنگ وغیرہ پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق ستر سے اسی لاکھ طلبا اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ای تعلیم پورٹل کا اجراءبھی کیا جا رہا ہے، ملک کے دور دراز علاقوں میں طلباءکی تعلیم کےلئے ریڈیو پاکستان کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ فاصلاتی تعلیم اور خصوصاً موجودہ حالات میں مختلف ذرائع سے تدریسی عمل تک آسان رسائی کو یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں تمام موجود ذرائع و وسائل برو¿ے کار لائے جائیں۔ بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے ملک میں نظام تعلیم کی بہتری کے لئے مختلف اقدامات کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ مختلف صوبوں میں قائم وفاقی یونیورسٹیوں کے ذیلی کیمپسز کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے مفصل لائحہ عمل مرتب کیا جائے تاکہ جہاں تعلیم کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے وہاں اس بات کو بھی یقینی بنایا جا سکے کہ ذیلی کیمپسز میں زیر ِ تعلیم طلباءکی تعلیم میں کوئی حرج اور خلل نہ پڑے۔وزیر اعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرکے موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت اور ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی صورتحال کی وجہ سے تعلیم کے شعبے کو غیر معمولی چیلنجز درپیش ہیں تاہم اس کے باوجود ہر ممکنہ کوشش کی جائے کہ تدریسی عمل کسی صورت متاثر نہ ہو۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تعلیم کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے آو¿ٹ آف باکس سلوشن تجویز کیے جائیں تاکہ درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے معیاری تعلیم کے فروغ اور آسان رسائی کے مشن کو آگے بڑھایا جاسکے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام میں طبقاتی تفریق (Education Apartheid)کو ختم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ یکساں نصاب تعلیم کو مرتب کرنے اور ملک بھر میں اس کے نفاذ کی کوششیں مزید تیز کی جائیں۔وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے خصوصاً مدارس میں زیر تعلیم بچوں کو جدید علوم کی تعلیم سے آراستہ کرنے اور انکو ہنر مند بنانے کے حوالے سے مدارس کے ساتھ طے شدہ لائحہ عمل پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی کوششیں تیز کی جائیں۔ کورونا کی صورتحال کے پیش نظر وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ تعلیم کو ہدایت کی کہ تمام صوبائی وزرائے تعلیم کی مشاورت سے تعلیمی و تدریسی عمل کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات میں تعلیمی اداروں کی مالی مشکلات اور والدین کے فیسوں کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنے کے حوالے سے بھی حکمت عملی وضع کی جائے۔ وزیر اعظم عمران خان نے یہ ہدایات نظام تعلیم میں اصلاحات میں پیش رفت اور کورونا صورتحال کے تناظر میں تعلیم کے حوالے سے حکومتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس میں دیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*