موجودہ دور حکومت میں بے لاگ احتساب

تحریر:۔اسد اللہ غالب
وزیر اعظم عمران خان کا بنیادی منشور احتساب اور بے لاگ احتساب تھا۔ حکومت ملی تو احتساب کے نعرے پر عمل شروع ہوا۔ اس کے لیے نیب کاادارہ موجود تھا جس کے چیئر مین کی تقرری ن لیگ اور پی پی پی نے مشترکہ طور پر کی تھی۔ نیب نے اپنا عمل تیز کیاا ورا س کی زد میں حکمران پارٹی کے سر کردہ لیڈر بھی آئے۔ ان میں سے پنجاب کے سینیئر وزیر عبدالعلیم خان پر الزامات لگے وہ از خود وزارت سے مستعفی ہو گئے اور نیب کی قید میں طویل عرصے تک پڑے رہے۔ نیب کو ان کے خلاف کچھ نہ ملا توو ہ آزاد ہوئے مگر انہیں وزارت واپس نہ دی گئی۔ کافی عرصے بعد انہیں پھر اپنا منصب واپس ملا ہے۔ وفاقی حکومت کے وزیر صحت ادویات کی قیمتوںمیں اضافے کے ملزم قرار دیئے گئے ، انہیں کابینہ سے الگ ہونا پڑا اور اب نیب ان کے خلاف مزید کاروا ئی ا ٓگے بڑھا رہا ہے، ق لیگ حکومت کی اتحادی تھی مگر نیب نے اس کی قیادت کو بھی معاف نہیں کیا اور بار بار انکوائری کے لئے طلب کیا۔ ق لیگ نے اس پر کوئی واویلا نہیں مچایا۔ اور اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کیا۔ احتساب کے عمل پر انگلیاںاس وقت اٹھیں جب ن لیگ اور پی پی پی کی لیڈر شپ کو نیب نے طلب کیا اور ان کی انکوائیری شروع کی یاان پرریفرنس بنائے گئے۔ ن لیگ اپنے تجربے کی بنیاد پر کہنے لگی کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر جب ٹھوس الزامات موجود تھے تو ان کے واویلے پر کس نے کان دھرنے تھے۔ نواز شریف کسی طرح طبی بنیاد پر رفو چکر ہونے میں کامیاب ہو گئے مگر ان کے خلاف الزامات ا ورمقدمے بدستور موجود ہیں، شہباز شریف پر بھی الزامات موجود ہیں اور ان کے بیٹے سلمان شہباز اور داماد علی عمران بھی نیب کو مطلوب ہیں۔ سلمان شہباز کے بارے میں تازہ ترین خبر یہ ہے کہ انہیں انٹر پول کے ذریعے واپس لا کر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ حمزہ شہباز جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے چینی آٹے اور بجلی کے بحران کی بے لاگ تحقیقات کروائیں، ان میں وزیر اعظم کے انتہائی قریبی دوست جہانگیر ترین کا نام بھی آیا۔ وزیرا عظم نے اپنے قریب ترین دوست کوبچانے کے لئے قطعی مداخلت نہیں کی۔یہ الگ بات ہے کہ شوگر اسکینڈل میں ملوث پارٹیوںنے عدالت سے اسٹے آرڈر لے لیا ہے۔ عدلیہ بہر حال آزاد ادارہ ہے اور کوئی بھی فیصلہ دے سکتا ہے۔ نواز شریف بھی عدلیہ کے فیصلے کے تحت ہی لندن گئے، واپس نہیں آ رہے۔ حکومت عدلیہ سے ہی رجوع کر سکتی ہے۔ا سکینڈل میں بھی ایک وفاقی وزیر کا نام شامل ہے۔ یہ تحقیقات آگے بڑھیں گی تو یقین رکھئے کہ وزیر اعظم کسی کو بچانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم جانتے ہیں کہ کچھ لوگوں کی بدولت ان کی حکومت قائم ہوئی ہے اور اگر یہ لوگ بدل گئے تو وفاق اور پنجاب میں حکومت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے مگر وزیر اعظم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ وہ کرپٹ عناصر کے سہارے حکوت پر فائز نہیں رہنا چاہتے۔اس طرح کا درویش کوئی کوئی حکمران ہوتا ہے، ایک زمانے میں محمد خان جونیجو نے بیک جنبش قلم اپنے تین وزیروں کو کرپشن کے الزام میں گھر کی راہ دکھائی تھی۔ پاکستان میںاحتساب کا نعرہ بڑا مقبول ہے۔جنرل ضیا نے مارشل لا لگایا تو پہلے احتساب اور پھر انتخاب کا راستہ اختیار کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ کسی کاا حتساب ہوا اور نہ کوئی انتخاب کروایا گیا۔ اٹھاسی کے بعد میاںنواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹوکی حکومت توڑی گئی تو ان پر بڑا لزام کرپشن کا تھا۔ کسی کو مسٹر ٹن پرسنٹ کہا گیا، کسی پر سرے محل اور سوئس اکاﺅنٹس اور قیمتی ہاروں کا ا لزام دھرا گیا۔ احتساب کے لئے سیف الرحمن کو اختیارات دئے گئے جو زیادہ تر مخالف اخبار نویسوں کے خلاف استعمال ہوئے مگر نہ سرے محل وا پس ہوا نہ سوئس اکاﺅنٹ کی رقم باز یاب کی جا سکی۔ نہ مسٹر ٹین پر سنٹ سے کوئی بازیابی ہوئی۔ بس یہ نعرہ ایک فیشن بن گیا تھا۔ لاہور اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹیں گے، بڑی خونخوار دھمکی تھی جو میثاق جمہوریت کی بھینٹ چڑھ گئی،۔عمران خان نے ا س نعرے کو لفظوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ نیب کومکمل اختیارات کے ساتھ کاروائی کی آزادی دی گئی،۔ نیب کچھ کر سکا یا نہیں کر سکا اس کی جواب دہی نیب کو کرنی ہے مگر جہاں تک حکومتی سطح پر تحقیقات کا تعلق ہے، وزیر اعظم نے ہر لحاظ سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائیں مگر کوئی فریق عدلیہ سے ریلیف لینے میںکامیاب ہو جائے تو وہاں وزیر اعظم کوئی مداخلت نہیں کر سکتے اور یہ بھی آئین کے احترام کی مثال ہے۔بعض لوگ عذر پیش کرر ہے ہیں کہ کرونا کی وجہ سے احتساب کا عمل مﺅخر کیا جائے۔اس پر فیصلہ تو نیب نے کرنا ہے۔ مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ لوگ قتل کریں ڈاکہ ڈالیں چوری چکاری کریں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے رہیں اور ا ن کی پکڑ نہ ہو کہ ملک میں کرونا ہے۔ حکومت نے بڑی حد تک زندگی کے معمولات کھول دیئے ہیں تو حکومتی اور ریاستی احتساب کے ادارے بھی اسی روشنی میں عمل کریں گے۔ حکومت احتساب کے عمل سے پیچھے ہٹنے کو تیارنہیں اور نہ اسے ہٹنا چاہئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*