قومی اسمبلی اجلاس ، بجٹ میں عوام کےساتھ مذاق کیا گیا،اپوزیشن ارکان کی تنقید

National Assembly of Pakistan

اسلام آباد (آئی ا ین پی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں عوام کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے اور کوئی ریلیف نہیں دیا گیا‘ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس سے بیس فیصد اضافہ کیا جائے‘ حکومت بجٹ کا از سر نو جائزہ لے‘ چینی مافیا نے 150 ارب روپے عوام سے لوٹ لئے کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی‘ حکومت جھوٹ‘ انا‘ انتقام اور نااہلی کے رہنما اصولوں پر چل رہی ہے‘ کرونا کے لئے ایک انجکشن کا نام بتا کر مخصوص لوگوںکو منافع اکٹھا کرنے کا موقع دیا گیا‘ اسحاق ڈار نے ڈالر کو نہیں انیل مسرت اور چوہدری عمران کو قید کیا ہوا تھا‘ ڈالر مہنگا کرکے پیسے بنائے گئے‘ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے آئی ایم ایف کو ہی گھر لے آئی ہ ے‘ حکومت نے سترہ ماہ میں تیرہ ہزار ارب کا قرضہ لیا جبکہ پانچ سال میں دس ہزار ارب کے قرضہ پر اعتراض ہے‘ سود کے اخراجات کیا ماضی کی حکومتیں ادا نہیں کرتی تھیں‘ جس شرح سے مسلم لیگ ن نے ٹیکس ریونیو بڑھایا وہ شرح برقرار رہتی تو ٹیکس ریونیو 5700 ارب تک پہنچ جاتا‘ سی پیک کے منصوبے بروقت مکمل ہوجاتے تو روزگار اور وسائل میں اضافہ ہوجاتا‘ جتنی رقم سی پیک کے منصوبوں کے لئے مختص کی گئی ہے اس طرح سے یہ منصوبے دو سو سال میں بھی مکمل نہیں ہوں گے‘ منفی بجٹ کے باوجود وزراءاپوزیشن کے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے اپنے لیڈر کی تعریفیں کرتے ہیں جن کو سن کر شرم آتی ہے‘ حکومت کو کووڈ19کا سامنا ہے ہمیں 2018 کے انتخابات کے بعد کووڈ18کا بھی سامنا ہے‘ ساری دنیا میں کوئی ملک بتا دیں جس کی جی ڈی پی منفی ہوئی ہو‘ مدارس اصلاح کے قلعہ ہیں نقب لگانے کی اجازت نہیں دیں گے‘ سود کو معاشی نظام سے ختم کیا جائے‘ کسی ایسی حکومت کی کمیٹی میں نہیں بیٹھیں گے جس کی سربراہی کشمیر بیچنے والے کریں‘ صدارتی آرڈیننس سے چند کاروباری لوگوں کے 300 ارب روپے معاف کرنے والے 150ارب روپے غریب عوام کو دیکر احسان جتاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاﷲ ‘ مولانا اسد محمود‘ مولانا عبدالاکبر چترالی و دیگر نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا۔ جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالکبر چترالی نے کہا کہ جب تک سود کو معاشی نظام سے نہیں نکالیں گے استحکام نہیں آسکتا یہ غیر آئینی ہے نوجوانوںکے لئے قرضوں سمیت جتنی بھی حکومت کی سکیمیں ہیں ان سے سود ختم کیا جائے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں دس سے بیس فیصد اضافہ کیا جائے۔ مدارس میں اصلاح ہے فنکاروںکے لئے ایک ارب رکھا گیا ہے مدارس اور مساجد کے بجلی اور گیس کے بل معاف کئے جائیں۔ مدارس کے اساتذہ کے لئے خصوصی ریلیف پیکج دیا جائے بجٹ میں عوام کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے۔ عوام کو کچھ بھی ریلیف نہیں دیا گیا۔ حکومت پٹرول کی قلت پیدا کرنے والے پمپوں کے خلاف کارروائی کرے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاﷲ نے کہا کہ حکومت نے بجٹ کی نامکمل دستاویزات دی ہیں بجٹ میں عام آدمی کے لئے کوئی منصوبہ نہیں ہے یہ کس نے کہا تھا کہ سو دن میں روزانہ دس سے بارہ ارب روپے کی کرپشن ختم کرے گا۔ حکومت نے جو معاشی تباہی پھیلائی ہے اور کرونا کی وجہ سے جو تباہی آئی ہے اس کے حل کے لئے بجٹ میں کوئی تجویز نہیں ہے۔ چینی مافیا نے 100سے 150 ارب روپے عوام کی جیب سے لوٹا ہے اس کے خلاف کیا کارروائی ہے سب سے زیادہ لوٹنے والے کو شان و شوکت سے بیرون ملک بھیجا گیا۔ ای سی سی کے فیصلے کی وجہ سے بحران پیدا ہوا۔ چینی آج تک سستی نہیں ہوئی کسی فرد یا مافیا کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ 2013 سے 2018 تک چینی کی قیمت نہیں بڑھی کمیشن نے چینی کی قیمت بڑھانے کے معاملہ اور ای سی سی کے برآمد کے غلط فیصلہ پر پردہ ڈالنے کے لئے سبسڈی پر صرف بات کی۔ پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ تھا بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں کی ابھی تک گھروں کے لئے ملک میں ایک مرلہ زمین خریدی نہیں گئی اور نہ ہی ایک مکان پر کام شروع ہوا ان کے دعوے عام آدمی کو سبز باغ دیکھانے کے تھے۔ عوام کے ساتھ جھوٹ بولا گیا حکومت جھوٹ‘ نفرت‘ انا اور نااہلی کے رہنما اصولوں پر چل رہی ہے گھروں کا منصوبہ حکومت کی ناکامی کی تصویر ہے۔ نوکریاں دینا تو دور کی بات لوگوںکو بے روزگار کیا جارہا ہے کرونا سے متعلق حکومت کے دعوے اور اقدامات آج تک جھوٹے اور ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ حکومت نے ماسک پہننا لازمی قرار دیا لیکن ماسک عوام کو فراہم نہیں کئے گئے۔ لوگوں کو مہنگے ماسک بیچ کر منافع خوروںکو منافع بنانے کا موقع دیا گیا ایک انجکشن کا نام لے کر منافع بنانے کا موقع دیا گیا۔ تیس ہزار کا انجکشن چار لاکھ تک فروخت ہوا مشیر صحت کے خلاف نیب نے انکوائری شروع کردی ہے لیکن ابھی تک وہ عہدے پر براجمان ہیں۔ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے آئی ایم ایف کو اٹھا کر گھر ہی لے آئے ہیں اب بجٹ بھی آئی ایم ایف بناتا ہے۔ اسحاق ڈار نے ڈالر کو نہیں انیل مسرت کو قید کیا ہوا تھا۔ انہوں نے چوہدری عمران کو قید کیا تھا ڈالر کی قیمت میں اضافہ کراکر کن لوگوں نے پیسہ بنایا قرضہ پر بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کہاں ہے۔ پانچ سال ممیں دس ہزار ارب قرض پر لینا پر آپ کو اعتراض تھا آپ نے ڈیڑھ سال میں تیرہ ہزار ارب لے لیا پانچ ہزار ارب کا قرضہ ادا کیا تو آٹھ ہزار ارب کہاں گیا۔ یہ پروپیگنڈے کے ذریعے لوگوںکو کنفیوژ کرتے ہیں کیکا سود کے اخراجات ماضی کی حکومتیں نہیں ادا کرتی تھیں جس شرح سے مسلم لیگ ن کے دور میں ٹیکس ریونیو بڑھا اگر اس شرح سے بڑھ رہا ہوتا تو آج 5700 ارب کے ٹیکس جمع ہوتے۔ مسلم لیگ ن نے 2018 تک دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کے بحران ختم کئے اگر سی پیک کے منصوبے بروقت مکمل ہوجاتے تو ملک کے وسائل میں اضافہ ہوتا۔ روزگار میں اضافہ ہوتا کس نے اس منصوبہ کو روکا ۔ دھرنا کے ذریعہ سی پیک کو پہلے لیٹ کرایا اور اب حکومت میں آکر اس کو روک دیا دو سال میں سی پیک پر کیا کیا شہزاد اکبر نے نے ڈیڑھ سال پہلے پریس کانفرنس کی کہ گیارہ ارب کے اثاثوںکا سراغ لگایا ہے آج تک ایک ڈالر واپس نہیں لایا جھوٹ اور انتقامی کارروائی کے علاوہ حکومت کوئی کام نہیں کررہی ہے۔مولانا اسعد محمود نے کہا کہ حکومت نے جو بجٹ پیش کیا اگر یہ روایتی بجٹ بھی ہوتا تو ہم اس کو سراہتے اس میں ملک اور عوام کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ خواجہ آصف نے اعداد و شمار پر بات کی اور سوالات اٹھائے بجائے ان کے سوالوں کے جواب دیئے جانے اپنے لیڈر کی تعریفیں کرتے ہیں منفی بجٹ کے باوجود ایسے کھل کر بات کرتے ہیں ہمیں سنتے ہوئے شرم آجاتی ہے۔ حکومت ملک کا وقت برباد کررہی ہے جس طرح خیبرپختونخوا کا کیا عمران خان نے بیان دیا تھا کہ شکر ہے کہ وفاق کی حکومت نہیں ملی ورنہ وہی حال ہوتا جس طرح خیبرپختونخوا کا ہوا بائیس سالہ جدوجہد کی بات کرتے ہیں آخری سال کی دجوجہد میں سب نے دیکھا کس طرح الیکٹیبلز کو آپ کی پارٹی کی طرف ہانکا گیا روزانہ کی بنیاد پر بارہ ارب کی کرپشن روکنے کا وعدہ کیا تھا آج تک اس حساب سے آٹھ ہزار ارب بنتے ہیں دو سو ارب ڈالر واپس لانے کا وعدہ کیا تھا وہ کہاں گئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*