بلوچستان نیشنل پارٹی کا وفاقی حکومت کیساتھ اتحاد ختم کرنے کا اعلان

اسلام آباد(آئی این پی)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے وفاقی حکومت کیساتھ اتحاد ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں وفاقی حکومت سے باقاعدہ علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں، ایوان میں موجود رہیں گے اور اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے،پی ٹی آئی کے ساتھ دو معاہدے ہوئے،ان دونوں معاہدہ میں کوئی بتادے کہ کوئی بھی ایک غیر آئینی مطالبہ ہے ؟ ،ہم نے دو سال تک اس معاہدے پر عمل درآمد کا انتظار کیاہے مزید کرنے کو تیار ہیں لیکن کچھ شروع تو کریں ،بجٹ وزراء، ارکان اور بیورو کریسی دوست توہوسکتا ہے لیکن عوام دوست نہیں،موجودہ بجٹ میں بلوچستان تو کسی کھاتے میں ہی نہیں ہے،بلوچستان کو دس ارب کا پیکج نہیں بلکہ چھوٹا سا پیکٹ دیا گیا،تفتان بارڈر ایسے کھولا جیسے ماضی کی طرح ڈالرز آئیں گے،بارڈر پر نالائقی سے جو ہلاکتیں ہوئیں انکی ایف آئی آر حکمرانوں کیخلاف کاٹی جائیں،اگر حساب لگائیں توآپ کا ایک ایک بال بلوچستان کا قرض دار نکلے گا مگر بلوچستان آپ کا قرض دار نہیں ہوگا،بلوچستان میں آج آن لائن کلاسز نہیں ہورہیں،ہمیں کوئی لائن میں نہیں لگنے دیتا، آپ آن لائن کی بات کررہے ہیں، ٹماٹر ، چینی پر بحث ہوتی ہے کیوں یہاں بلوچستان کے لوگوں کے خون پر بات نہیں ہوتی ،کیا بلوچستان کے لوگوں کے خون کا رنگ ٹماٹر سے زیادہ سرخ نہیں ؟بلوچستان کو کالونی سمجھتے ہیں ، اور ہمارے ساتھ وہی ہورہاہے جو غلاموں کے ساتھ ہوتاہے ،آپ کو بلوچستان کا پورا حصہ دینا ہوگا آج نہیں تو کل دینا ہوگا،سوئی گیس کی رائلٹی تو چھوڑیں، ہمیں گیس سونگنے کو بھی نہیں ملتی۔وہ بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث کے دوران اظہار خیال کر رہے تھے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ جان اختر مینگل نے کہا کہ میں ہمیشہ داستان عہد کھل کر کہتا ہوں،بجٹ وزراء دوست، ممبران دوست اور بیورو کریسی دوست ہوسکتا لیکن عوام دوست نہیں،بجٹ کے عوام دوست ہونے کے امکانات بھی نہیں ہیں،اس ملک میں انصاف ملتا نہیں بکتا ہے،یہاں انصاف منڈیوں میں بکتا ہے،نجکاری کرکے لوگوں کو بیروزگار کیا جارہا ہے اور انکی آوزاز سننے والا کوئی نہیں،سیاسی جدوجہد کرنے والوں کو ہی بجٹ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے،ہم نے اپنے ایوانوں کو ہائیڈ پارک کارنر بنادیا ہے جہاں تجاویز تک نہیں لی جاتیں،اگر تجاویز کو حل نہیں کرسکتے تو کم ازکم انکو نوٹ تو کرلیں،اگر نوٹ کرنے کے لیے کاغذ اور پنسل نہیں تو ہم چندہ دینے کےلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مت کہیں کہ ہمیں خالی خزانہ ورثہ میں ملا ہے، ایسے تو بات قائداعظم تک پہنچ جائے گی،کیا ہم اگلے بجٹ کی ذمہ داری ٹڈی دل اور کورونا پر تو نہیں ڈال دینگے،حکومت کے متعلقہ منسٹر سے این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی سے متعلق وضاحت چاہوں گا،کیا این ایف سی ایواڈ پر نظرثانی 18 ویں ترمیم کو رول بیل کرنے کا حصہ ہے،موجودہ بجٹ میں بلوچستان تو کسی کھاتے میں ہی نہیں ہے،بلوچستان کو دس ارب کا پیکج نہیں بلکہ چھوٹا سا پیکٹ دیا گیا ہے،چمن سے کراچی تک سڑک کی بنیاد 1973 میں رکھی گئی تھی،ساڑھے چار ہزار لوگ اس سڑک پر حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے،ہمیں 6 کی بجائے دو لین سڑک ہی دے دیں،گزشتہ پی ایس ڈی پی میں جو رقم اس سڑک کے لیے رکھی گئی تھی اس کو کورونا یا ٹڈی دل کھا گئی،کورونا کے علاج بارے کوئی کہتا ثناءمکی کھا لو، کوئی کہتا کلونجی کھا لو، ہم تو سب سجیاں کھا کر تھک گئے،ہم نے کورونا کو نظر انداز کرکے تفتان بارڈر ایسے کھولا جیسے ماضی کی طرح ڈالرز آئیں گے،تفتان بارڈر کھولنا تھا تو احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتیں،تفتان بارڈر پر نالائقی سے جو ہلاکتیں ہوئیں انکی ایف آئی آر حکمرانوں کیخلاف کاٹیں جائیں۔انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل سے بلوچستان کے 32 اضلاع متاثر ہیں، کوئی فصل اور باغ نہیں بچا،جب بھی کہا تو جواب آیا کہ اسپرے کے لیے جہاز نہیں ہے،وزیراعلی کے لیے تو جہاز لیا جاسکتا لیکن اسپرے کے لیے کیوں نہیں،اگر اب بھی اسکا تدارک نہ کیا گیا تو اگر آج اسکی تعداد لاکھوں میں تو اگلے سال کروڑوں میں ہوگی،ٹڈی دل کو پھر آپکے عرب دوست بھی نہیں بچا سکیں گے،بلوچستان روز اول سے معاہدات کا مارا ہوا ہے،نواب اکبر بگٹی کو کہا گیا کہ آپ اسلام آباد آئیں،اس ضعیف شخص کو اسلام آباد لانے والے جہاز میں فنی خرابی ہوجاتی ہے،بعد میں نواب اکبر بگٹی کو شہید کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت نے ہمارے ساتھ لاپتہ افراد اور بلوچستان کی ترقی کے حوالہ سے معاہدہ کیا،کیا ان معاہدوں پر عمل کیا گیا، آج لاپتہ افراد کا مسئلہ جوں کا توں ہے،اس معاہدہ پر شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور یار محمد رند کے دستخط ہیں،ہم کوئی کالونی نہیں، ہمیں اس ملک کا شہری سمجھا جائے،ہم نے دو سال انتظار کیا، ابھی بھی وقت مانگا جارہا ہے،ایک لڑکی جس کا بھائی 4 سال سے لاپتہ ہے اس نے احتجاج کرتے کرتے خود کشی کرلی،بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، ہم نے سیاسی طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کی،ہمارے نکات سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہونے تھے لیکن ساتھ لیکر تو چلا جائے،آج دن تک بتائیں بلوچستان پر پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن ہوا،اگر نوٹیفکیشن ہوا تو کیا ایک میٹنگ بھی بلائی گئی یا ٹی او آرز بنائے گئے،گوادر کے ماہی گیروں کے ساتھ تو تعاون کیا جائے،آئی ڈی پی کیمپوں میں جاکر پوچھا جائے کہ کون ہیں ذمہ دار،ہم نے حکمرانوں سے ہاتھ ملایا، جب ووٹ مانگا دیا اور آپ نے کیا دیا،الزام لگایا جارہے کہ کہ ہم 10 ارب میں بک گئے،طویل عرصے سے خود ہی سمجھوتا کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ دو معاہدے ہوئے،ان دونوں معاہدہ میں کوئی بتادے کہ کوئی بھی ایک غیر آئینی مطالبہ ہے ؟کیوں آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ؟ یہ مائنڈ سیٹ ہے جو 1948 سے چلا آرہاہے ،اگر ہم اس ملک کے باشندے ہیں ، اور بلڈی سویلین نہیں ہیں تو اس پر عمل کیا جائے ،ہم نے دو سال تک اس معاہدے پر عمل درآمد کا انتظار کیاہے مزید کرنے کو تیار ہیں لیکن کچھ شروع تو کریں ،ایک کمٹی بنائی جائے جس میں تمام پارٹیوں کی نمائندگی ہو وہ بلوچستان کا وزٹ کرے دیکھے مسئلہ کیا ہے اور ذمہ دار کون ہے ،آپ بلوچستان کے مسائل پر بیٹھیں تو سہی ، آپ کا ایک ایک بال بلوچستان کا قرض دار نکلے گا بلوچستان آپ کا قرض دار نہیں ہوگا، بوسنیا اور فلسطین کےلئے احتجاج کرتے ہیں ، ٹماٹر ، چینی پر بحث ہوتی ہے کیوں یہاں میرے بلوچستان کے لوگوں کے خون پر بات نہیں ہوتی ،کیا میرے بلوچستان کے لوگوں کے خون کا رنگ ٹماٹر سے زیادہ سرخ نہیں ہے اس لئے اس پر بات نہیں کرتے ،بلوچستان کو کالونی سمجھتے ہیں ، اور ہمارے ساتھ وہی ہورہاہے جو غلاموں کے ساتھ ہوتاہے ،آپ کو بلوچستان کا پورا حصہ دینا ہوگا آج نہیں تو کل دینا ہوگا،سوئی گیس کی رائلٹی تو چھوڑیں، ہمیں گیس سونگنے کو بھی نہیں ملتی،کشمیر کے حوالہ سے کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، وہ ملے گا تو ملے گا،جو آپکے پاس ہے اسکے لیے تو کچھ کرو،یہاں افغانستان امن کانفرنس بلائی گئی، بلوچستان امن کانفرنس کیوں نہیں بلائی جاتی،آپ آئین میں کم از کم ایک ترمیم کردیں، بلوچستان کو مفتوحہ لکھ دیں یا مقبوضہ کہہ دیں ،آپ نے یہ ترمیم کردی تو پھر خاموشی سے ہم اپنی لاشیں دفنا دیں گے گلہ بھی نہیں کرینگے ، پھر ہم آپکو کچھ نہیں کہیں گے،لوگوں کے مجھے مسیجز آئے کہ ہمار بچوں کو مت پڑھاو¿،اگر ہمارے بچے پڑھ گئے تو حق اور ناحق میں فرق کرنا سیکھ جائیں گے،اگر یہ اپنا حق مانگنے لگ گئے تو کوئی گاڑی آئے گی اور اٹھا کر لے جائے گی،بلوچستان میں آج آن لائن کلاسز نہیں ہورہیں، وہاں تھری جی فور جی نہیں ہے،ہمیں کوئی لائن میں نہیں لگنے دیتا، آپ آن لائن کی بات کررہے ہیں۔سردار اختر مینگل نے حکمران جماعت پی ٹی آئی سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں وفاقی حکومت سے باقاعدہ علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں،ہم نے سپیکر، ڈپٹی سپیکر، وزیراعظم اور صدر کے انتخاب کے موقع پر حکومت کا ساتھ دیا،اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود گزشتہ بجٹ میں ساتھ دیا، مگر وفاقی حکومت نے ہمیں کیا دیا؟ہم ایوان میں موجود رہیں گے اور اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے،اگر افغانستان کیلئے پیس کانفرنس بلاسکتے ہیں توکیا بلوچستان پیس کانفرنس نہیں ہوسکتی ؟ کیا اس کے لئے آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک کی اجازت کی ضرورت ہے ؟ بلوچستان میں پاکستان کا جھنڈا جو گاڑی پر لگا لے اس کی کوئی تلاشی تک نہیں لی جاتی، صرف جھنڈا لگانے سے کوئی محب وطن نہیں بن جاتا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*