وفاقی حکومت کا72کھرب94ارب کا بجٹ پیش ‘ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کیا گیا

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2020-21 کیلئے 72کھرب 94ارب 90کروڑ روپے حجم پر مشتمل 3437ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کر دیا،بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف4963ارب اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 1610ارب روپے رکھا گیا ہے، دفاعی بجٹ بڑھا کر1289ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے،بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں وفاقی کیلئے650ارب روپے رکھا ہے،بجٹ میں آٹو رکشہ، موٹر سائیکل رکشہ، 2سو سی سی تک کی موٹرسائیکلوں پر ایڈوانس ٹیکس ختم ، ڈبل کیبن گاڑیوں، ای سگریٹ اور درآمدی مشینری پر ٹیکس کی شرح بڑھانے اور مقامی سطح پر تیار کردہ موبائل فون پر ٹیکس کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے،سگار، سگریٹ کی پرچون قیمت پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 65فیصد سے بڑھا کر 100فیصد کرنے جبکہ کیفینیٹڈ انرجی ڈرنکس پر 25فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے،2لاکھ روپے سے زائد سالانہ فیس لینے والے تعلیمی اداروں کا ٹیکس دگنا کر دیا ہے،بغیر شناختی کارڈ ٹرانزیکشن کی حد50ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ کر دی گئی ہے ، آئندہ مالی سال میںمجموعی ملکی پیداوار(جی ڈی پی)کی شرح نمو کو -0.5سے بڑھا کر 2.1فیصد پر لانے ،جاری کھاتوں کے خسارے کو 4.4فیصد پر برقرار رکھنے ،مہنگائی کو 9.1فیصد سے کم کرکے 6.5فیصد پر لانے،زرعی شعبے کی ترقی 2.9 فیصد کرنے اوربراہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 25فیصد تک اضافہ کرنے کے اہداف مقرر کئے گئے ہیں،فنکاروں کی مالی امداد کیلئے آرٹسٹ پروٹیکشن فنڈ 25کروڑ سے بڑھا کر 1ارب کردیا گیا،بجٹ میں آسان کاروبار کیلئے 9فیصد ودھ ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے ، ٹیکس دینے والے شادی ہالز اور بچوں کی اسکول یا تعلیمی فیسوں پر والدین پر عائد ٹیکس ختم کرنے ،نان ریزیڈینٹ شہریوں کےلئے آف شور سپلائیز پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے، سستی ٹرانسپورٹ کیلئے پاکستان ریلوے کیلئے 40ارب، تعلیم کیلئے 30ارب ، صحت کیلئے 20ارب، توانائی اور بجلی کیلئے 80ارب، خوراک و زراعت کیلئے 12ارب، موسمیاتی تبدیلیکیلئے 6ارب، سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے 20ارب اور قومی شاہراہوںکیلئے 118ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے،کرونا وائرس اور دیگرقدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے70 ارب،ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے 10ارب ، کامیاب نوجوان پروگرام کیلئے 2ارب، فنکاروں کی مالی امدادکیلئے ایک ارب روپے کردی گئی ہے۔ وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 2873.7ارب روپے ہے۔جمعہ کو اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم عمران خان نے بھی شرکت کی، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے آئندہ مالی سال 2020-2021کے لیے 72کھرب 94ارب 90کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 11 فیصد کم ہے۔وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکانٹ خسارے میں 73فیصد کمی ہوئی، پی ٹی آئی حکومت نے تجارتی خسارہ 31فیصد کمی کی، 9ماہ میں تجارتی خسارے میں 21فیصد کمی کی گئی، تجارتی خسارہ 21 ارب ڈالر سے کم ہو کر 15ارب ڈالر رہ گیا، ایف بی آر کے ریونیو میں 15فیصد اضافہ ہوا،حکومت نے 6ارب ڈالر کے بیرونی قرض کی ادائیگی کی، پچھلے 2سال میں 5ہزار ارب سود کی مد میں ادا کیے، ماضی کے قرضوں پر ہم نے 5ہزار ارب روپے سود ادا کیا، 10لاکھ پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک ملازمت کے مواقع پیدا ہوئے، 9ماہ میں ترسیلات زر 17ارب ڈالر تک پہنچ گئے، ہماری حکومت میں بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے 10لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کیے۔بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ میں اپنی گزارشات کا آغاز اللہ تعالیٰ کے مقدس نام سے کر رہا ہوں جوکہ بہت مہربان اور انتہائی رحم کرنے والا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا میرے لئے بڑٰے اعزاز اور مسرت کی بات ہے۔ و زیر اعظم عمران خان کی مثالی قیادت میں اگست 2018ءمیں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ہم نے مشکل سفر سے ابتدا کی اور معیشت کی بحالی کیلئے اپنی کاوشیں شروع کیں تاکہ Medium Term میں معاشی استحکام اور شرح نمو میں بہتری لائی جا سکے۔ ہماری معاشی پالیسیوں کا مقصد اس وعدے کی تکمیل ہے جو ہم نے ” نیا پاکستان“ بنانے کےلئے عوام سے کر رکھا ہے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ ہم اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو سالوں کے دوران ہمارے رہنما اصول رہے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔ سرکاری اداروں میں زیادہ شفافیت لائی جائے اور احتساب کا عمل جاری رکھا جائے اور ہر سطح پر فیصلہ سازی کے عمل میں میرٹ پر عملدرآمد کیا جائے۔ ہمارا بنیادی مقصد معیشت کی بحالی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مستحکم و مضبوط معیشت کے راستے پر گامزن کرنا ہؑے تاکہ ان منازل و مقاصد کو حاصل کیا جا سکے جن کا خواب ہمارے وطن عزیز کے بانیوں نے دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے عوام کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے اور مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے ہمیں ان کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سماجی انصاف کی فراہمی ‘ معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات کی حالت بنانے کے اصول پر کاربند ہے اور مفلسی و غربت میں پسے ہوئے ہم وطنوں کیلئے کام کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ یہی ہمارا ویژن اور رہنما اصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال کیلئے بجٹ پیش کرنے سے قبل میں اس معزز ایوان کو آگاہ کرنا چاہوں گا کہ جب 2018ءمیں ہماری حکومت آئی تو ہمیں معاشی بحران ورثے میں ملا ۔ ایوان کے معزز ارکان کو یاد ہو گا کہ اس وقت ملکی قرض پانچ سالوں میں دگنا ہو کر 31 ہزار ارب روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا تھا جس پر سود کی رقم کی ادائیگی ناقابل برداشت ہو چکی تھی۔ جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر کی حد تک پہنچ چکا تھا جبکہ گزشتہ پانچ سالبوں میں ایکسپورٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ پاکستانی روپے کی قدر کو غیر حقیقی اور مصنوعی طریقے سے بلند سطح پر رکھا جس سے ایکسپورٹ میں کمی اور امپورٹ میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے گھٹ کر 10 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے جس کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب آ گیا تھا۔ بجٹ خسارہ 2300 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ ناقص پالیسیوں اور بدانتظامی کے باعث بجلی کا گردشی قرضہ 485 ارب کی ادائیگی کے باوجود 1200 ارب روپے کی انتہائی حد تک پہنچ چکا تھا جس کا بوجھ عوام پر ڈالا گیا۔ سرکاری اداروں کی تعمیر نو نہ ہونے سے ان کو 1300 ارب روپے سے زائد نقصانات کا سامنا تھا۔ اسٹیٹ بنک سے بے تحاشہ قرضہ جات لئے گئے جس سے بینکاری نظام کو شدید نقصان پہنچا۔ Money Laundering اور Terror Financing کی روک تھام کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے تھے جس کی وجہ سے پاکستان FATF کی Grey List میں ڈال دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مالی سال 2019-20 کا آغاز پارلیمنٹ کی طر ف سے منظور کردہ اہداف کو حاصل کرنے کے لئے کیا۔ جس کے لئے ہم نے موزو ں فیصلے اور اقدامات اٹھائے جس سے معیشت کو استحکام ملا۔ نتیجتاً مالی سال 2019-20ءکے پہلے 9 ماہ کے دوران 2018-19ءکے اسی عرصہ کے مقابلے میں اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ تفصیل یہ ہے اس مالی سال کے پہلے 9ماہ میں جاری کھاتوں کے خسارے کو 73 فیصد کم کیا گیا جو 10 ارب ڈالر سے گھٹ کر 3ارب ڈالر رہ گیا۔ تجارتی خسارہ میں 31 فیصد کمی کی گئی جو 21 ارب ڈالر سے کم ہو کر 15 ارب ڈالر رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں بجٹ کا خسارہ 5 فیصد سے کم ہو کر 3.8 فیصد رہ گیا۔ گزشتہ 10 سالوں میں پہلی بار Primary Surplus مثبت ہو کر جی ڈی پی کے 0.4 فیصد تک رہا۔ اس مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ایف بی آر کے ریونیو میں 17 فیصد کا اضافہ ہوا اور ہم 4,800 ارب کا بڑا ہدف حاصل کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ نان ٹیکس ریونیو میں 134 فیصد کا اضافہ ہوا اور ہم اس مالی سال میں 1162 ارب کے ہدف کے مقابلے میں 1600 ارب کا ریونیو حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حگومت نے 6 ارب ڈالر کے بیرونی قرضہ کی ادائیگی کی جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصہ میں یہ ادائیگی 4 ارب ڈالر تھی۔ اس ادائیگی کے بعد بھی زر مبادلہ کے ذخائر مستحکم سطح پر رہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ماضی میں بھاری قرضوں کی وجہ سے ہم نے اپنے دو سالہ دور حکومت میں 5000 اربہ کا سود ادا کیا ہے جس سے خزانہ پر غیر معمولی بوجھ پڑا ہے۔ ہم نے خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 152 ارب کا تاریخی پیکج دیا ہے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں تقریباً 10 ہزار پاکستانیوں کیلئے بیرون ملک ملازمت کے مواقع پیدا کئے جس ےے Remittances بڑھانے میں مدد ملی۔ اس مالی سال کے 9 ماہ میں Remittances 16 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی براہ راست سرمایہ کاری 0.9 ارب ڈالر سے تقریباً دوگنی ہو کر 2.15 ارب ڈالر ہو گئی۔ 74 فیصد اندرونی قرضہ جات کو طویل المعیادی قرضہ جات میں تبدیل کیا گیا جس کی وجہ سے لاگت 14 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ مارے اصلاحاتی پروگرام کو سراہتے ہوئے آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کی Extended Fund Facility کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ مشہور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے ہماری معیشت کی درجہ بندی B3-Negative سے بہتر کر کے B3- Positive قرار دی۔ بلومبرگ نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو دسمبر 2019ءنے دنیاکی Top Pewrfoming Markets میں شمار کیا۔ حکومت نے جن فیصلوں کے نتیجے میں مالیاتی استحکام پیدا ہوا ان کی تفصیل یہ ہے۔ بجٹ فنانس کے لئے سٹیٹ بنک آف پاکستان سے ادھار لینے کا سلسلہ بند کر دیا۔ Exchange rate regime کو غیر حقیقت پسندانہ حکومتی کنٹرل سے آزاد کر کے مارکیٹ OIriented کیا گیا۔ اس فیصلہ سے زر مبادلہ کی منڈی میں استحکام پیدا ہوا اور زر مبادلہ کی عدم دستیابی کا مسئلہ حل کرنے میں مدد ملی۔ کوئی سپلیمنٹری گرانٹ نہیں دی گئیں۔ ترقیاتی اخراجات کی راہ میں حال Red Tape کو ختم کر کے تعمیر و ترقی کے لئے سہولت پیدا کی گئی۔ Debt management میں بہتری لائی گئی جس سے 240 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ سٹاک آف پبلک گارنٹیز میںکوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور نقصانات میں کمی لانے کے لئے سٹرکچرل ریفارمز شروع کی گئیں اور جہاں ناگزیر تھا شفاف انداز سے ان کی نجکاری کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ نومبر 2019ءمیں نیشنل ٹیرف پالیسی کی منظوری دی گئی جس کا مقصد ہماری مصنوعات کی عالمی منڈی میں دیگر ممالک کی مصنوعات کے مقابلے میں بہتری لانا ‘ روزگار میں اضافہ کرنا اور ٹیرف سٹرکچر میں پائی جانے والی خرابیوں اور سقم کو دور کرنا تھا۔ Make in Pakistan کے نام کے ساتھ پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں متعارف کروایا گیا ہے۔ توانائی کے شعبے میں بہتری لانے اور نقصانات کو کم کرنے کے لئے اصلاحات کی گئیں۔ کاروباری طبقے کو اس سال 254 ارب روپے کے ری فنڈ جاری کئے گئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 125 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ وزارت تجارت کو DLTL کلیمز کی ادائیگی کیلئے 35 ارب روپے فراہم کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام اہم شعبوں میں شفافیت ‘ صلاحیت اور احتساب کے عمل میں بہتری لانے کے لئے سٹرکچرل ریفارمز شروع کیں۔ چیدہ چیدہ اصلاحات کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ ہم نے پبلک فنانس کے بہتر انتظام کیلئے دور رس اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے۔ ان اصلاحات سے وفاقی حکومت کی فنانشل مینجمنٹ میں زیادہ شفافیت اور بہتری آئی ہے۔ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019ءکا نفاذ کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت نے PFM ایکٹ کے تحت بجٹ سٹریٹجی پیپر کابینہ اور قومی اسمبلی میں پیش کیا اور پہلی مرتبہ سالانہ بجٹ سٹیٹمنٹ کے ساتھ Contingent Liabilities اور Fiscal Risk کے گوشوارے بھی پارلیمنٹ میں پیش کئے جائیں گے۔ نیز Treasury Single Account کے نفاذ کیلئے قواعد و ضوابط منظوری کے آخری مرحلہ میں ہیں۔ پنشن کے نظام میں اصلاحات لائی گئیں جس سے پنشن کی ادائیگی خود کار نظام سے ہو رہی ہے۔ اس سے تقریباً 20 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے نامور ریفارمر ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں سرکاری اداروں میں کفایت شعاری اور ان کی تنظیم نو کے لئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو سرکاری اور نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل ہے۔ اس ٹاسک فورس نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں 43 اداروں کی نجکاری ‘ 8 غیر فعال اداروں کو ختم کرنے ‘ 14 اداروں کی صوبوں کو منتقلی کرنے پر 35 اداروں کو دوسرے اداروں میں ضم کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ اس ریسٹرکچرنگ سے وفاقی حکومت کے غیر پیداواری مالیاتی بوجھ کو کم کیا جا سکے گا۔ احساس کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو کر کے شفافیت لائی گئی جس سے 8 لاکھ 20 ہزار جعلی بینی فشریز کو مستحقین کی فہرست سے نکالا گیا مزید برآں ڈیٹا پاکستان پورٹل کا آغاز کیا گیا جس سے ادائیگیوں کے نظام میں مزید بہتری لائی گئی ۔ RLNG2 پلانٹس جو بند ہونے کے قریب تھے ان کی بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں جس سے ان کی کارکردگی میں قابل قدر بہتری آئی ہے۔ اس کے علاوہ کلیدی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا گیا۔ این ایچ اے ‘ پاکستان پوسٹ اور کراچی پورٹ ٹرسٹ جیسے اہم اداروں کی آمد ن میں بالترتیب 70 فیصد ‘ 50 فیصد اور 17 فیصد اضافہ کیا گیا اور ان کی استطاعت ‘ کارکردگی اور شفافیت میں بہتری لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کاروبار اور صنعت کی ترقی دینے اور بیرونی سرمایہ کاری کا رخ پاکستان کی طرف موڑنے کیلئے Easy of dong business کے لئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں جس کے نتیجے میں Pakistan doing of Business رینکنگ میں پوری دنیا کے 190 ممالک میں 136 ویں نمبر سے بہتری حاصل کر کے 108 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے اور انشاءاللہ اس میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ جون 2018ءمیں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا اور ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے 27 قابل عمل نکات پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ ہماری حکومت نے اپنی AML/CFT remime کو بہتر بنانے کےلئے زبردست کاوشیں کیں تاکہ ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت نے قومی اور بین الاقوامی سرگرمیوں اور حکمت عملی کی تشکیل اور نفاذ کے لئے نیشنل ایف اے ٹی ایف کوآرڈینیشن کمیٹی کی سربراہی مجھے سونپی ہے۔ جامع قسم کی قانونی ٹیکنیکل اور انتظامی اصلاحات شروع کی گئی ہیں ان اقدامات سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔ نتیجتاً ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے 27 قابل عمل نکات کے سلسلے میں ہم نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایک سال کے عرصہ میں 14 نکات پر مکمل عمل کیا گیا ہے اور 11 پر جزوی طور پر عمل درآمد کیا گیا ہے جبکہ دو شعبوں میں عمل درآمد کے لئے ز بردست کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کرونا وائرس نے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے دنیا کو سنگین سماجی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لئے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پہلے تو اسے انسانی صحت کے لئے مسئلہ سمجھا گیا لیکن جلد ہی اس کے معاشی اور سماجی مضمرات بھی سامنے آئے۔ پاکستان بھی کورونا کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا اور ہم نے معیشت کے استحکام کے لئے جو کاوشیں اور محنت کی تھی اس آفت سے ان کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ا س مشکل وقت میں عوام کی زندگی کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ جس کےلئے ایسے اقداامات اور فیصلے کئے جا رہے ہیں جن سے لوگوں کی زندگی اور ذریعہ معاش کم سے کم متاثر ہو۔ طویل لاک ڈاﺅن ‘ ملک بھر میں کاروبار کی بندش ‘ سفر پابندیوں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے نتیجے میں معاشی سرگرمیاں ماند پڑ رہی ہیں جس کی وجہ سے جی ڈی پی گروتھ ریٹ اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بے روزگاری بڑھنے سے ترقی پذیر ممالک میں غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے جس سے پاکستان بھی نہ بچ سکا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2019-20 کے دوران پاکستان پر کرونا کے جو فوری اثرات ظاہر ہوئے ہیں ان کی تفصیل درج زیل ہے۔تقریباً تمام صنعتیں اور کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔ جی ڈی پی میں اندازاً 3,300 ارب روپے کی کمی ہوئی جس سے اس کی شرح نمو 3.3 فیصد سے کم ہو کر 0.4 فیصد تک رہ گئی۔ مجموعی بجٹ خسارہ جو جی ڈی پی کا 7.1 فیصد تک تھا۔ 9.1 فیصد تک بڑھ گیا۔ ایف بی آر محضولات میں کمی کا اندازا900 ارب روپے ہے۔ وفاقی حکومت کا نان ٹیکس ریونیو102 ارب روپے کم ہوا ہے۔ Exports اور Remittances بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اللہ کے کرم سے اس سماجی و معاشی چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے اس مقصد کےلئے معاشرے کے کمزور طبقے اور شدید متاثر کاروباری طبقے کی طرف حکومت نے مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے تاکہ کاروبار کی بندش اور بے روزگاری کے منفی اثرات کا زالہ کیا جا سکے۔ اس ضمن میں حکومت نے 1,200 ارب روپے سے زائد کے Stimulus Package کی منظوری دی ہے۔ مجموعی طور پر 875 ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ سے فراہم کی گئی ہے جو کہ دج ذیل کاموں کے لئے مختص ہے۔ طبی آلات کی خریداری ‘ حفاظتی لباس اور طبی شعبے کے لئے 75 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 150 ارب روپے کے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کمزور اور غریب خاندانوں اور پناہ گاہ کے لئے مختص کئے ہیں۔ 200 ارب روپے روزانہ اجرت کمانے والے ورکرز کو کیس ٹرانسفر کے لئے مختص کئے ہیں۔ 50 ارب روپے یوٹیلٹی سٹورز پر رعایتی نرخوں پر اشیاءکی فراہمی کیلئے مختص کئے ہیں۔ 100 ارب روپے ایف بی آر اور وزارت تجارت کےلئے مختص تھے تاکہ وہ برآمد کنندگان کو ریفنڈ کا اجراءکرے۔ 100 ارب روپے بجلی اور گیس کے موخر شدہ بلوں کے لئے مختص ہیں۔ وز یر اعظم نے چھوٹے کاروبار کےلئے خصوصی پیکج دیا جس کے تحت تقریبا۔ 30 لاکھ کاروباروں کے 3 ماہ کے بجلی کے بل کی ادائیگی کےلئے 50 ارب روپے فراہم کئے گئے۔ کسانوں کو سستی کھاد ‘ قرضوں کی معافی اور دیگر ریلیف کے لئے 50 ارب فراہم کئے گئے۔ 100 ارب روپے ایمرجنسی فنڈ قائم کرنے کے لئے مختص ہیں۔ اس Stimulus package سے وفاقی حکومت کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا جس کےلئے وفاقی حکومت کو سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دینا پڑی۔ فنانس ڈویژن نے متعلقہ اداروں خاص طور پر احساس ، این ڈی ایم اے، یو ایس سی اور ایف بی آر کے لئے فنڈز کا بندوبست اوراجراءکیا ہم ان اداروں کی سٹیمولیس پیکج پر عملدرآمد کرنے کے سلسلے میں بجا لائی گئی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ حکومت نے کسانوں اور عام آدمی کا احساس کرتے ہوئے ریلیف کے اقدامات کیے ہیں جس کے لئے انہیں خوراک اور طبی سازو سامان کی مد میں 15 ارب روپے کی ٹیکس کی چھوٹ دی ۔ 280 ارب روپے کسانوں کو گندم کی خریداری کی مد میں ادا کئے گئے ۔ پٹرول کی قیمتوں میں 42 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں 47 روپے فی لیٹر تک کمی کرکے پاکستان کے عوام کو 70 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ۔ معیشت کی بحالی کے لئے ہم نے تعمیراتی شعبے اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لئے کنسیشنری ٹیکسیشن ریگم متعارف کراکر تاریخی مراعات بھی دی ہیں جن کی تفصیل یہ ہے ۔ فکسڈ ٹیکس ریگم وضع کی ۔ بلڈرز اور ڈویلپرز (سوائے سٹیل اور سیمنٹ کی خریداریوں کے )ود ہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ دی ہے تاکہ عوام کو سستے گھر میسر ہو سکیں۔ آمدنی کا ذریعہ نہیں پوچھا جائے گا ۔ خاندان کے لئے ایک گھر پر کیپیٹل گین ٹیکس کی چھوٹ ہو گی ۔ سستی رہائشوں کی تعمیر پر 90 فیصد ٹیکس ووو دیا گیا ہے ۔ تعمیرات کو صنعت کا درجہ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کے برے اثرات کے ازالے کے لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی بہت سے اقدامات متعارف کرائے ہیں ۔ پالیسی ریٹ میں 5.25 فیصد کی بڑی کمی کی گئی ہے جو 13.25 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے ۔ کاروبار کے پے رول لون میں تین ماہ کے لئے 96 ارب کی رقم چار فیصد کم شرح سود پر فراہم کی گئی ہے تاکہ بیروز گاری سے بچا جا سکے ۔ سات لاکھ پچھتر ہزار بورورز کو 491 ارب کے پرنسپل قرض کی ادائیگی ایک سال کے لئے موخر کرکے سہولت بہم پہنچائی ہے اور 75 ارب کا قرض ری شیڈول کیا گیا ہے ۔ انفرادی اور کاروباری قرضوں کے لئے بینکوں کو اضافی 800 ارب روپے قرض دینے کی اجازت دی گئی ہے جس کے لئے قرض کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرفورمنس ریگورمنٹ کو پورا کرنے کے لئے ٹائم پیریڈ میں توسیع دی گئی ہے ۔ مال کی ترسیل کے لئے اقدامات کار صبح 6 سے رات 12 بجے کر دیئے گئے ہیں ۔ طویل مدتی قرضوں کے حصول کی شرائط میں نرمی لائی گئی ہے ۔ ایکسپورٹس سے حاصل زرمبادلہ کی وصولی کا وقت 270 دن تک بڑھا دیا گیا ہے ۔ ایکسپورٹر براہ راست شپنگ ڈاکومنٹس کی ترسیل کر سکتے ہیں ۔ ایمپورٹس کے لئے پیشگی ادائیگیوں کی حد بڑھا کر سہولت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کرونا سے پیدا شدہ مشکلات کے تناظر میں یہ بجٹ اس بحرانی صورتحال سے نبٹنے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے ۔ معیشت کی رفتار کم ہونے کا خدشہ ہے جس کے لئے Expansionary Fiscal Policy کی ضرورت ہے ۔ عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانا، مجوزہ ٹیکس مراعات معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہونگے ۔ کورونا اخراجات اور مالیاتی خسارے کے مابین توازن قائم رکھنا، پرائمری بیلنس کو مناسب سطح پر رکھنا ، معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات کی مد کے لئے احساس پروگرام کے تحت سماجی اخراجات کا عمل جاری رکھنا ، آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے جاری رکھنا، کورونا کی تباہ کاریوں سے نبٹنے کے لئے اگلے مالی سال میں بھی عوام کی مدد جاری رکھنا ، ترقیاتی بجٹ کو موزوں سطح پر رکھنا تاکہ معاشی نمو میں اضافے کے مقاصد پور ہو سکیں اور روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں ، ملک کے دفاع اور داخلی تحفظ کو خاطر خواہ اہمیت دی گئی ہے ، ٹیکسوں میں غیر ضروری ردوبدل کے بغیر محاصل کی وصولی میں بہتری لانا ، تعمیراتی شعبے کے لئے مراعات بشمول نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ کے لئے وسائل مختص کئے گئے ہیں ، خصوصی علاقوں یعنی سابقہ فاٹا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں تاکہ وہاں ترقی اور معاشی نمو کا عمل یقینی بنے، وزیر اعظم کی قیادت میں خصوصی اقدامات اور پروگراموں مثلاًکامیاب جوان، صحت کارڈ ، بلین ٹری سونامی وغیرہ کا بھی تحفظ کیا گیا ہے ۔ کفایت شعاری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی یقینی بنائی جائے گی ، معاشرے کے مستحق طبقات کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کے لئے سبسڈی نظام کا بہتر کیا جائے گا ۔ این ایف سی ایوارڈ پر نظر ثانی کی جائے گی اور سابقہ فاٹا کے علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت صوبوں نے مالی اعانت جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کرنے کے لئے رابطے تیز کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اب میں اگلے سال کے بجٹ کے اعدادو شمار پر روشنی ڈالتا ہوں ۔ کل ریونیو کا تخمینہ 6573 ارب روپے ہے جس میں ایف بی آر ریونیو 4963 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو 1610 ارب روپے شامل ہے ۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2874 ارب روپے کا ریونیو صوبوں کو ٹرانسفر کیا جائے گا ، نیٹ وفاقی ریونیو کا تخمینہ 3700 ارب روپے ہے ، کل وفاقی اخراجات کا تخمینہ 7137 ارب روپے لگایا گیا ہے ، اس طرح بجٹ خسارہ 3437 ارب روپے تک رہنے کی توقع ہے جو کہ جی ڈی پی کا 7 فیصد بنتا ہے اور پرائمری بیلنس 0.5 فیصد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات کی معاونت ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے اس کے لئے ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت تمام متعلقہ اداروں کو نئی تشکیل کردہ پاورٹی ایلیویشن اینڈ سوشل سیکیورٹی ڈویژن بنا کر ضم کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ احساس غریب پرور پروگرام کے لئے پچھلے سال 187 ارب روپے رکھے گئے تھے اس کو بڑھا کر 208 ارب روپے کردیئے گئے ہیں ۔ جس میں سماجی تحفظ کے بہت سے پروگرام شامل ہیں جیسے بی آئی ایس پی پاکستان اور بیت المال اور دیگر محکمے شامل ہیں ۔ یہ مختص رقوم حکومت کی منظور کردہ پالیسی کے مطابق شفاف انداز سے ان طبقات پر خرچ کی جائیں گی ۔ توانائی ، خوراک اور دیگر شعبوں کو مختلف اقسام کی سبسڈیز دینے کےلئے 179 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہیں۔ حکومت نے خاص طور پر پسماندہ طبقات کو امداد پہنچانے کے لئے سبسڈیز کا قبلہ درست کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے وافر رقوم رکھی گئی ہیں ۔ اس سلسلہ میں ایچ ای سی کی آلوکیشن میں جو 2019-20 میں 59 ارب روپے تھی بڑما کر 64 ارب روپے کر دی گئی ہے ۔ حکومت نے عوام کو کم قیمت پر مکانات فراہم کرنے کے لئے نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی کو 30 ارب روپے فراہم کیے ہیں مزید یہ کہ اخوت فاﺅنڈیشن کی قرضہ حسنہ اسکیم کے ذریعے کم لاگت رہائشی مکانات کی تعمیر کے لئے ڈیڑھ ارب مختص کیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی علاقوں آزاد جموں و کشمیر کے لئے 55 ارب روپے اور گلگت بلتستان کے لئے 32 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لئے 56 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اسکے علاوہ سندھ کو 9 ارب روپے اور بلوچستان کو 10 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ ان کے این ایف سی حصے سے زائد فراہم کی گئی ہے ۔ ریمٹنسیز کو بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں جس سے رقوم کی منتقلی بینکوں کے ذریعے بڑھانے کے لئے 25 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو سستی ٹرانسپورٹ سروسز فراہم کرنے کے لئے پاکستان ریلوے کے لئے 40 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ کامیاب نوجوان پروگرام جوانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لئے حکومت کا خصوصی پروگرام ہے جس کے لئے 2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ا ور کراچی میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہسپتالوں کے لئے 13 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جن میں شیخ زید ہسپتال لاہور ، جناح میڈیکل سنٹر کراچی اور دیگر چار ہسپتال شامل ہیں ۔ ای گورننس کے ذریعے پبلک سروسز کی فراہمی کو بہتر بنانا وزیر اعظم عمران خان کا وژن ہے ۔ وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو الیکٹرک طور پر مربوط کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے کے لئے ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فنکار ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں ان کی مالی امداد اور فلاح و بہبود کے لئے صدر پاکستان کی ہدایت پر حکومت نے آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کی رقم 25 کروڑ روپے سے بڑھاکر ایک ارب روپے کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اصلاحاتی پروگراموں کے لئے خصوصی فنڈز کا قیام کیا گیا ہے جن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے لئے ویبلٹی گیپ فنڈ کے لئے دس کروڑ روپے ، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ کے لئے چالیس کروڑ روپے اور پاکستان انویشن فنڈ کے لئے دس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ زرعی شعبہ میں ریلیف پہنچانے کے لئے اور ٹڈی دل کی روک تھام کے لئے دس ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ حکومت نے سال 2020-21 کے دوران مندرجہ ذیل اہداف کے حصول کا فیصلہ کیا ہے جی ڈی پی گروتھ کو 0.4 سے بڑھا کر 2.1 پر لایا جائے گا ، کرنٹ اکاﺅنٹ deficit کو 4.4 فیصد تک محدود رکھا جائے گا ، انفلائیشن یعنی مہنگائی 9.1 فیصد سے کم کرکے 6.5 فیصد تک لائی جائے گی بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں 25 فیصد تک کا اضافہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی ایجنڈا پر عمل درآمد حکومت کے ویژن کے مطابق جاری ہے تاکہ مستحکم معاشی شرح نمو کا حصول ممکن ہو سکے ۔ غربت میں کمی ، بنیادی انفراسٹرکچر میں بہتری اور خوراک ، پانی و توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات کا حجم 1324 ارب روپے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے جس کے لئے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے مالی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبوں کی لاگت میں اضافے سے بچنے کے لئے جاری منصوبوں کے لئے 37 فیصد اور نئے منصوبوں کے لئے 27 فیصد رقم مختص کی گئی ہے۔ سماجی شعبے کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ جس کے لئے گزشتہ سال کے 206 ارب روپے کی رقم کو بڑھا کر 249 روپے کر دیا گیا ہے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی دفعات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے ۔ حکومت نے کورونا اور دیگر آفات کی وجہ سے انسانی زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات کو زائل کرنے اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے جس کے لئے 70 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ توانائی کے توسیعی منصوبوں اور بجلی کی ترسیل و تقسیم کا نظام بہتر بنانے اور گردشی قرضوں کو کم کرنے کی طرف مرکوز ہے ۔ سپیشل اکنامک زونز کو بجلی کی فراہمی کے منصوبوں اور غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لئے خاطر خواہ مالی وسائل رکھے گئے ہیں اس ضمن میں حکومت نے 80 ارب روپے مختص کئے ہیں ان فنڈز کو خاص طور پر بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان فرق کوختم کرنے کے لئے رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کے بحران کا شکار ہے اس سال حکومت پانی سے متعلق منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس ضمن میں 69 ارب روپے مختص کئے ہیںکثیر المقاصد ڈیم بالخصوص دیامر بھاشا ، مہمند اور داسو کے لئے خاطر خواہ مالی وسائل فراہم کئے گئے ہیں ان منصوبوں سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ تیس ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونگے ۔ صنعتی رابطوں ، تجارت و کاروبار کے فروغ کے لئے این ایچ اے کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے بالخصوص سی پیک کے تحت منصوبوں کو بشمول مغربی روٹ کے لئے وافر وسائل فراہم کئے گئے ہیں اس سلسلے میں 118 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اسی طرح ریلوے کے ایم ایل ون منصوبہ اور دیگر منصوبوے کے لئے 24 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ مواصلات کے دیگر منصوبوں کے لئے 37 ارب مختص کئے گئے ہیں ۔ وفاقی وزیر ریونیوحماد اظہر نے کہا کہ کورونا وائرس کے تناظر میں صحت کا شعبہ حکومت کی خصوصی ترجیح ہے اور بہتر طبی خدمات ، وبائی بیماریوں کی روک تھام ، طبی آلات کی تیاری اور صحت کے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے لئے 20 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یکساں نصاب کی تیاری ، معیاری نظام امتحانات وضع کرنے ، سمارٹ سکولوں کے قیام اور مدرسوں کی قومی دھارے میں شمولیت کے ذریعے تعلیمی نظام میں بہتری لائی جائے گی جس کے منصوبوں کے لئے فنڈز مختص کردیئے ہیں ان اصلاحات کے لئے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔21 ویں صدی کے کوالٹی ایجوکیشن چیلنجز پر پورا اترنے کے لئے تحقیق اور دیگر جدید شعبہ جات مثلاًآرٹیفیشل انٹیلیجنس ، روبوٹکس ، آٹومیشن، اور سپیس ٹیکنالوجی جیسے شعبے میں تحقیق اور ترقی کے لئے کام کیا جا سکے ۔ لہذا تعلیم کے شعبے میں اس جدت اور بہتری کے حصول کے لئے 30 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنگ ٹیکنالوجی اور نولج اکانومی کے اقدامات کو فروغ دینے کے لئے محقیقین اور تحقیقی اداروں کی صلاحیتوں اور گنجائش کو بڑھانا اشد ضروری ہے ۔ مزید برآں ای گورننس ، آئی ٹی کی بنیاد پر چلنے والی سروسز اور 5G سیلولر سروسز کے آغاز پر حکومت کی توجہ ہے ۔ ان شعبوں میں پراجیکٹس کے لئے 20 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کیمیکل ، الیکٹرانکس ، ایگریکلچرل کے منصوبوں پر عملدرآمد کیاجائے گا اور آر اینڈ ٹی کا صنعت کے ساتھ رابطہ مضبوط کیا جائے گا ۔ وفاقی وزیر ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر اور ماحول ضر ظاہر ہونے والے اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان بھی اپنے آپ کو تیار کر رہا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی کے پاکستان پر بھی بہت سے اثرات ہیں جیسے غیر موسمی بارشیں ، فصلوں کی پیداواری رجحان میں کمی اور سیلابوں کی تباہ کاریاں اس سال موسمیاتی تبدیلیوں سے نبٹنے سے متعلق اقدامات کے لئے 6 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ رواں بجٹ کے تحت مختص رقوم کے علاوہ حکومت نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں منصوبہ جات کے لئے 40 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ رکھے ہیں علاوہ ازیں خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں مختلف پراجیکٹس کے لئے 48 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے ۔ اس پروگرام کے تحت ترقیاتی بجٹ میں 24 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے ۔تحفظ خوراک اور زراعت کے فروغ کے لئے ترقیاتی منصوبوں پر 12 ارب روپے کی رقم خرچ کی جائے گی ۔ خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں ٹی ڈی پیز کے انتظام و انصرام کے لئے 20 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے جب کہ افغانستان کی بحالی میں معاونت کے لئے 2 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ حکومت ان مشکل حالات میں کفایت شعاری کے اصولوں پرکاربند ہے ۔ ہم افواج پاکستان کے بھی مشکور ہیں کہ انہوں نے حکومت کی کفایت شعاری کی کوششوں میں بھرپور تعاون کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسی پالیسیز تجویز کی ہیں جس سے معیشت کو دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بالاخر جب معیشت عوامی تکلیف کو کم کرنے اور مطلوبہ عمومی فنانسز پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر یہ مالی استحکام کی طرف جائے گی۔ بجٹ 2020-21 کاروبار کو ناکامی سے بچانے اور غریب عوام کو مشکلات سے نکالنے کےلئے تیار کیا گیا ہے لہذا ہم ایسا بجٹ پیش کر رہے ہیں جسے ”ریلیف بجٹ “ کہا جا سکتا ہے اور مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرنے میں بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ ایکسپورٹRebate کو بغیر کسی انسانی مداخلت کے ایکسپورٹر کے بنک اکاﺅنٹس میں براہ راست منتقلی کرنے کو خود کار بنایا جا رہا ہے۔ Rebate Schemes تقریباً ایک دہائی کے بعد تبدیل کی جا رہی ہے اور Rebate Claim کو آسانی تر بنایا جر اہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اس حکومت نے کسٹم ٹیرف کی اصلاحات کی ایک جامع مشق کا آغاز کیا اور خام مال پر مشترمل 1600 سے زیادہ ٹیرف لائنوں کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ کر دیا گیا۔ صنعتی شعبے کی لگائی جانے والی لاگت کو کم کرنے کےلئے یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ خام مال بھی مکمل طو رپر تمام کسٹم ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے ان اشیاءکی فہرست میں کیمیکل ‘ لیدر ‘ ٹیکسٹائل ‘ ربر ‘ کھاد میں استعمال ہونے والا خام مال شامل ہے۔ ان ٹیرف لائنوں میں قریب 20,000 اشیاءشامل ہیں جو کل درآمدات کا 20 فیصد ہیں۔ خام مال اور ثانوی اشیاءپر مشتمل دو سو ٹیرف لائنز پر عائد کسٹم ڈیوٹی کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ ان اشیاءکی فہرست میں بنجنگ ربر ‘ گھریلو اشیاءکا خام مال شامل ہیں۔ مقامی انجینئرنگ کے شعبے کی حوصلہ افزائی کے لئے ہاٹ رولڈکوائلز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو 12.5 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد پر لانے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے سٹیل پائپ ‘ انڈر گراﺅنڈ ٹینک ‘ بوائلر کی صنعت کو فروغ ملے گای۔ انہوں نے کہا کہ ماضی مین مختلف اشیاءپر ممنوعہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد تھی اگرچہ اس پالیسی سے درآمدات کو کم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی لیکن ان میں سے کچھ چیزیں افغانستان منتقل ہوئیں اور بعد ازاں اسمگلنگ کے ذریعے واپس پاکستان آ گئیں۔ یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ مختلف اشیاءمثلاً کپڑے ‘ سینٹری ویئر ‘ الیکٹروڈز ‘ کمبلوں ‘ پیڈ لاکس وغیرہ کو سمگلنگ سے بچانے کے لئے ان پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو کم کیاجائے تیاکہ اس بناءپر ضائع ہونے والے محصولات کو حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غریب عوام کو صحت سے متعلقہ اخراجات کو کم کرنے کےلئے کرونا وائرس او رکینسر کی ڈائیگناسٹک کٹس پر عائد تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو ختم کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ ایسے ہی جیناتی مسائل میں بچوں کے لئے خصوصیہ سپلیمنٹس پرہیزی غذا کو تمام درآمدی مرحلے پر تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز دی جا رہی ہے تاکہ ان کی قیمت کو کم کیا جا سکے۔ بچوں میں غذائیت کی کمی اور اس کے نتیجے میں نشوونما کا رکنا ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بچوں اور حاملہ خواتین کے لئے سپلیمنٹری فوڈ اب پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے تحت تیار کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کےلئے ان سپلیمنٹری فوڈز میں استعمال ہونے والے خام مال کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمگلنگ کی سزاﺅں کو عقلی اور جامع بنانے کےلئے کم از کم سزا دینے کے قانون کو متعارف کروانے کی تجویز ہے تاکہ کسٹم حکام اپنی مرضی سے سمگلنگ میں ملوث شخص کو چھوڑ نہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حکومت کی پالیسیز کی شفافیت اور ان کے قابل عمل ہونا سرمایہ کاری کو فروغ دیتا ہے اسی بنیاد پر ایڈوانس رولنگ کے نظرئیے کو کسٹمز قوانین میں شامل کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے جوکہ عالمی سطح پر بہترین طریقہ کار کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس بیس کو بڑھانے کےلئے فنانس ایکٹ 2019ء میں قومی شناختی کارڈ کی شرط متعارف کروائی گئی تاکہ ان افراد کو جو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں انہیں ٹیکس کےدائرہ کار میں لایا جائے۔ تام عوام کی سہولت کے لئے عام خریدار کے لئے بغیر شناختی کارڈ خریداری کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز کی درخواست پر ایسے بچوں کےلئے جو وراثتی بیٹا بولک سینڈروم میں مبتلا ہیں اور ان کا جسم خوراک کو ایک عام بچے کے جسم کی طرح پراسیس نہیں کر سکتا اس غذا کو خصوصی طبی مقاصد کے لئے درآمد کرنے پر استثنیٰ کی تجویز پیش کی جا رہی ہے اس مقصد کے لئے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ءکے چھٹے شیڈول میں ایک نیا سیریل صرف درآمد پر استثنیٰ کیلئے شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صحت سے متعلقہ ساز و سامان کی درآمد اور بعد ازاں فراہمی پر 20 مارچ 2020ءکو جاری کئے جانے والے ایس آر او 237 کے ذریعے تین ماہ کا استثنیٰ فراہم کیا ۔ کرونا بیماری کی بگڑی صورتحال اور وزارت صحت کی سفارشات کے پیش نظر استثنیٰ میں مزید تین ماہ کی توسیع کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ Salex Tax Regime کے موثر اطلاق کے لئے یہ تجویز کیاجا رہا ہے کہ گیارہواں شیڈول تبدیل کیا جائے تاکہ غیر رجسٹرڈ یا نان ایکٹو ٹیکس پیئر سے ٹیکس کی وصولی یکمشت کی جا سکے۔ اس سے ملک میں ٹیکس فائل کرنے کا رجحان فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی سگریٹس ‘ بیڑی ‘ سگار و چھوٹے سگارڈز اور تمباکو کی دیگر اشیاءپر عائد ایف ای ڈی کو عالمی ادارہ صحت کے معیارات کے مطابق 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کیا جا رہا ہے۔ اس طرح تمباکو کے متبادل ای سگریٹس کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔ فلٹر راڈ سگریٹ کی تیاری میں ایک بنیادی چیز ہے۔ فلٹر راڈ پر ایف ای ڈی کی موجودہ شرح 0.75 روپے فی فلٹر ہے ۔ تمباکو نوشی میں کمی اور ٹیکس مینجمنٹ کی نگرانی اوراس کے اطلاق کو بڑھانے کے لئے یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ موجودہ شرح کو بڑھا کر ایک روپے فی کلو گرام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کیفین پر مشتمل مشروبات صحت کے لئے خطرہ ہیں اس وجہ سے ان کے استعمال میں کمی لانے کےلئے درآمد اور مقامی فراہمی دونوں جگہ ایف ای ڈی کو 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔ یہ قابل توجہ ہے کہ Aerrated Drinks پر پہلے ہی 13 فیصد ایف ای ڈی نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اور درآمدی گاڑیوں اورایس یوویز پر ایف ای ڈی کا اسٹرکچر پہلے سے ہی موجود ہے ۔ ڈبل کیبن پک اپ جس کا تعین فی الوقت اشیاءکی نقل و حرکت کے لئے استعمال ہونے والی گاڑی کے طور پر کیا جاتا ہے جبکہ اس کا استعمال ملک کے خوشحال طبقے میں بطور سٹیٹس سمبل کیا جاتا ہے اس کے استعمال کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے بھی یکسان قیمت والی دوسری گاڑیوں کے مطابق ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوٹاشیم کلوریٹ کی درآمد اور مقامی فراہمی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ 70 روپے فی کلو گرام بھی اضافی وصول کیا جاتا ہے ماچس بنانے والوں کی صنعت کی سفارش پر یہ شرح 70 روپے فی کلو گرام سے بڑھا کر 80 روپے فی کلو گرام کیا جا رہا ہے۔ یہ شرح وزارت دفاعی پیداوار کی زیر نگرانی اداروں کی جانب سے کی جانے والی درآمد اور ان کی فراہمی پر لاگو نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 سال سے ایف بی آر نے بڑے ریٹیلر زکے لئے کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کروایا ہے ایسے ریٹیلرز کی تمام فروخت آن لائن نظام کے تحت ایف بی آر کے ساتھ منسلک ہے۔ موجودہ قانون میں ان افراد پر سیلز ٹیکس کی شرح 14 فیصد ہے جسے کرونا وباءکی وجہ سے 12 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض کاروباری خام مال میں سیکٹر کی اوسط ویسٹج سے زیادہ ویسٹج دکھا کر کم سیلز ٹیکس دیتے ہیں اس امر کی حوصلہ شکنی کے لئے مختصف کاروباری سیکٹر کے لئے ویسٹج کی حدود مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس بیس کے دائرہ کار میں پالیسی کے اقدامات کے ذریعے توسیع کے لئے شق 73 میں ترمیم کی گئی تاکہ یہ صرف مینوفیکچررز کو پابند کر دے کہ وہ کسی بھی مالی سال میں غیر رجسٹرڈ شدہ فرد کو 100 ملین روپے تک کی اشیاءفراہم کر سکتے ہیں۔ اب یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ تمام رجسٹرڈ سپلائرز کو بھی درج بالا حد کا پابند کر دیا جائے تاکہ صرف مینوفیکچررز ہی اس عمل میں اکیلے نظر نہ آئیں ۔ واضح رہے کہ یہ شق صرف کاروبار کے لئے ہے اور عام صارفین اس شق سے متاثر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 12 ویں شیڈول درآمد کے وقت 3 فیصد کے حساب سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس وصول کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے لیکن خام مال اور ثانوی اشیاءکی صورت میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس صرف اس وقت دستیاب ہے جب کسٹم ڈیوٹی 16 فیصد سے کم ہو۔ اس شق نے مینوفکچررز کے لئے مشکلات پیدا کی ہیں چنانچہ یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ زبان کو سادہ بنایا جائے او ر خام مال اور ثانوی اشیاءاپنے کارخانے کے لئے استعمال ہوں تو ان پر ٹیکس نہ عائد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کا شعبہ ہماری معیشت کا نہایت اہم شعبہ ہے۔ وزیر اعظم کے تعمیراتی پیکج میں اس سیکٹر کی پیداوار میں اضافہ ایک اہم جزو ہے۔ پچھلے سال اس شعبے پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 1.50 روپے فی کلو سے بڑھا کر 2 روپے فی کلو کیا گیا تھا۔ سیمنٹ کی پیداوار میں حالیہ کمی کے پیش نظر اس کو 2 روپے سے کم کر کے 1.75 روپے کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چیزوں کو ضبط کرنے کے قانون کو وسعت دیتے ہوئے فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005ءمیں درج تمام چیزوں پر اس قانون کو لاگو کرنے کی تجویز ہے۔ میں سے ایف بی آر کو ٹیکس اکٹھا کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ‘ سیلز ٹیکس اور ایف ای ڈی کے قوانین میں مساوات پیدا کرنے کیلئے یہ تجویز ہے کہ اگر کسی ٹیکس گزار نے قانونی نقطے پر اپیل کی ہے تو وہ ایک درخواست کے ذریعے سے عدالتی فیصلے کا اطلاق آنے والے سالوں پر بھی کروا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس گزار کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپیلز کے فورم سے اپنی اپیل واپس لے۔ چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ ‘ کاسٹ اکاﺅنٹنٹ یا وکیل جس کا ٹیکس کے شعبے میں 10 سال کا تجربہ ہو یا کوئی مشہور بزنس مین بھی اے ڈی آر سی کا رکن بن سکتا ہے۔ اے ڈی آر سی کی کمیٹی میں موجود کیس پر ٹیکس وصولی کے Stay کی سہولت ہو۔ اگر ٹیکس گزار 60 دن کے اندر اپیل واپس لے لیتا ہے تو کمشنر پرکمیٹی کا فیصلہ قبول کرنا ضروری ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان نے 6 اکتوبر 2019ءکو گوادر پورٹ اور گوادر فری زون سے متعلق ٹیکس قوانین کی منظوری دی تھی۔ ان تمام قوانین کو فنانس بل 2020 میں شامل کیا جا رہا ہے اور تمام قوانین کا جہاں جہاں اندراج ہوتا ہے وہ یکم جون 2020 سے قابل عمل ہوں گے۔ بغیر ایف ای ڈی کی ادائیگی کے بہت سی اشیاءکی تایری اور فروخت کے مد نظر یہ تجویز ہے کہ سگریٹ اور مشروبات کے علاوہ تمام اشیاءجن پر ایف ای ڈی لاگو ہوتی ہے اگر وہ بغیر ڈیوٹی کی ادائیگی کے پکڑی جاتی ہیں تو ان پر تمام قوانین لاگو ہوں گے جس کے لئے ایف ای ڈی کے قوانین 27 یا 26 میں ترمیم کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون پر سیلز ٹیکس فنانس ایکٹ 2014ءکے تحت نویں شیڈول کا سیلز ٹیکس میں شامل کیا گیا تھا۔ ای سی سی اور کابینہ کی تجویز سے منظور ہونے والی موبائل فون پالیسی کے مطابق پاکستان میں بنائے جانے والے فونوں پر سیلز ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ کی سماعت کو وڈیو لنکس کے ذریعے سر انجام دینا ایک نئی اور وقت کی ضرورت ہے۔ خاص طور ر کرونا کے موجودہ حالات میں یہ نہایت اہمیت کا حامل تصور ہے ۔ قانون میں ترمیم کے ذریعے ویڈیو لنک کے ذریعے آڈٹ کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے ڈیٹا بیس تک بورڈ کو رسائی فراہم کرنے کے لئے نئی دفعات قانون میں شامل کی جا رہی ہیں جس متعلقہ ادارے معلومات کو آن لائن شیئر کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت وود ہولڈنگ ٹیکس رجیم بہت طویل ہے جو کہ نہ صرف وودہولڈنگ ٹیکس کی نگرانی کو پیچیدہ بناتی ہے بلکہ ٹیکس گزاروں کے لئے تعمیل کی لاگت کو بھی بڑھاتی ہے۔ چنانچہ وود ہولڈنگ رجیم کو آسان بنانے کےلئے یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ 9 ودہولڈنگ شقوں کو حذف کیا جائے اور ان میں شادی ہالوں پر اور تعلیمی اداروں میں ٹیکس گزار والدین کے بچوں کی فیس پو عائد ٹیکس کو ختم کیا جا رہا ہے۔ On non Residents پر 30 فیصد کی موجودہ شرح بہت کم ہے لہذا بین الاقوامی معیار کے مطابق اسے درست کرنے کی تجویز ہے۔ یہ اقدامات سی پی ای سی کے منصوبوں کی تعمیل میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمرشل امپورٹر اور مینو فیکچرر کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے کیپٹل گڈز کی امپورٹ میں ٹیکس کے بگاڑ سے بچنے کےلئے محصولات کے مزید وصولی اور چھوٹے اور درمیانے مینوفکچر کی سہولت کے لئے ایک بنیادی تبدیلی کی تجویز ہے۔ اس تجویز کے تحت درآمدات پر انکم ٹیکس کی شرح کو خام مال پر 5.5 سے کم کر کے 2 فیصد اور مشینری پر ٹیکس 5.5 سے کم کر کے ایک فیصد کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ اس شق سے منسلک ایگزیمپشن سرٹیفکیٹ کا نظام بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں سہولت اور کاروبار کی لاگت میں کمی کرنے کےلئے سیکشن (1)21 ک یموجودہ حد کو 10000 سے بڑھا کر 25000 کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح کاروبار میں ایک اکاﺅنٹ ہیڈ میں حد کو موجودہ پچاس ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح کاروباری افراد کی سہولت کے لئے تنخواہوں اور اجرت دینے کےلئے نقد رقم کی حد کو 15 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ تمام افراد اور اے او پیز کو یکساں مواقع دینے کے لئے اور پراپرٹی انکم میں تضادات کو دور کرنے کے لئے تمام افراد اور اے او پی کو پراپرٹی انکم میں اخراجات منہا کرنے کی اجازت دینے کی تجویز ہے ۔ بیرونی محصولات کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ تجویز ہے کہ ایک سال میں بیرونی ترسیلات زر کو بینک نکلوانے اور دوسرے بینک میں منتقل کرنے پر کسی قسم کا ٹیکس نہ لیاجائے ۔ سمندر پار پاکستانیز سیونگ بلز میں افراد کی جانب سے سرمایہ کای کو فروغ دینے کے لئے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے ایس سی آر اے کی طرز پر قرضے کا ایک انسٹرومنٹ جاری کیا جا رہا ہے ۔ یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ ایسے این آر اے آر اکاﺅنٹس کو ٹیکس سے استثنیٰ فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت انکم ٹیکس ریفنڈز متعلقہ فیلڈ فارمیشنز کے افسران کی جانب سے دستخط شدہ ریفنڈ واوچر کے ذریعے تصدیق ، عمل درآمد اور جاری کیا جاتا ہے ۔ یہ نظام فرسودہ ہے اور اس میں ہاتھ کے ذریعے کام کاج کی وجہ سے ٹیکس گزار اور ریفنڈ جاری کرنے والے افسر کے درمیان رابطے کے باعث غبن کا اندیشہ رہتا ہے چنانچہ شفافیت کو فروغ دینے اور ٹیکس ریفنڈ جاری کرنے کے طریقہ کار میں کارکردگی لانے کے لئے یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ ایک مرکزی انکم ٹیکس ریفنڈ شروع کیا جائے ۔ حج گروپ آپریٹرز کے لئے انہیں غیر مقامی افراد کو ادائیگی کرتے وقت سیکشن 125 کے تحت ٹیکس کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے ۔ معاشرے کے غریب طبقے کو ٹیکس کے اثر سے بچانے کے لئے موٹر وہیکلز کی تعریف میں ایک تشریح کی تجویز دی جا رہی ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ سیکشن 231 اور 234 کے تحت آٹو رکشہ ، موٹر سائیکل رکشہ اور 200 سی سی تک موٹر سائیکل پر ایڈوانس ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا یہ تشریح معاشرے کے غریب افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے مقصد کی جارہی ہے ۔ فی الوقت سیکشن 236 اے کے تحت ایڈوانس ٹیکس جائیداد کی نیلامی کے وقت وصول کیا جاتا ہے اس قسم کی رقم اگر اقساط میں وصول کی جائے تو اس پر ٹیکس کی ادائیگی بھی قسطوں میں دینے کی سہرلت دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت ہر معینہ شخص پر اشیاءکی فروخت کے وقت ادائیگی ، خدمات کی فراہمی یا پیش کرنے پر یا معاہدے کی انجام دہی پر ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ ہے ۔ افرد اور شراکتی کاروبار کے لئے ود ہولڈنگ ایجنٹ بننے کے لئے فروخت کی موجودہ حد کو 5 کروڑ سے بڑھا کر 10 کروڑ کیا جا رہا ہے اسی طرح سے چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار کو آسانی ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانی پیدا کرنے اور پبلک لمیٹڈ کمپنیز کو سہولت فراہم کرنے کے لئے ان اداروں کوایگزمپشن کے سرٹیفکٹس کے حصول کے لئے درخواست جمع کروانے کے 15 دن کے اندر اندر سہولت فراہم کی جائے اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر سسٹم کے ذریعے خود کار طریقے سے سرٹیفکٹ کا اجراءکر دیا جائے گا ۔ اس وقت ٹیکس کے ڈسپیوٹس کو حل کرنے کا واضح نظام موجود نہیں جس کی وجہ سے سائلوں کے مقدمات سالوں تک چلتے رہتے ہیں اس سلسلے میں تجویز ہے کہ ٹیکس گزار کو معاہدے کے تحت ٹیکس ادا کرکے بے جا مقدمات سے نجات دلائی جائے جس کے لئے قوانین میں ترمیم کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کے متبادل حل کے نظام کو مضبوط بنانے اور مقدمے بازی کو کم کرنے کےلئے تجویز ہے کہ متاثرہ ٹیکس گزار کے لئے اس نظام کے فیصلوں کو لازمی طور پر ماننے کی پابندی نہ لگائی جائے ۔ اس نظام کے تحت ہونے والے فیصلوں پر عمل صرف اس صورت میں لازمی ہوگا جب ایسا ٹیکس گزار اس فیصلے سے مطمئن ہو ۔وفاقی وزیر ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی متعدد دفعات کے تحت استثنیٰ کے سرٹیفکٹس کی فراہمی کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کےلئے تجویز ہے کہ اس حوالے سے واضح طریقہ کار بنایا جائے ۔ اس نظام میں متعدد امتیازی استثنیات کاخاتمہ بھی شامل ہے ۔ مزید برآں کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کی غرض سے باب XII کے تحت ایڈوانس ٹیکس کے طور پر وصول کیے گیے ہیں متعدد ود ہولڈنگ ٹیکسز کے حوالے سے استثنیٰ کے سرٹیفکیٹ کے حصول کی سہولت ایسے ٹیکس گزاروں کو بھی فراہم کرنے کی تجویز ہے جو کہ مذکورہ ٹیکس سال کے لئے اپنے ذمہ ایڈوانس ٹیکس ادا کر چکے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ قانون پر عمل نہ کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لئے تجویز ہے کہ ایسے افراد جو ٹیکس گزاروں کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں موجود نہ ہوں سکول کی 2 لاکھ روپے سالانہ سے زائد فیط پر 100 فیصد زائد ٹیکس وصول کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آر ای آئی ٹی سکیم کے تحت رہائشی عمارتوں کی ڈویلپمنٹ کی حوصلہ افزائی کے لئے غیر منقولہ جائیداد کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے بشرطیکہ رہائشی عمارتوں کی ڈویلپمنٹ 30 جون 2020 تک مکمل کر لی گئی ۔ تجویز ہے کہ اس مدت کو 30 جون 2021 تک بڑھادیا جائے ۔ وفاقی وزیر ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ خدمات پر 8 فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جاتا ہے تاہم کچھ مخصوص شعبوں میں کم منافع ہونے کے باعث 3 فیصد ٹیکس کاٹا جاتا ہے تاہم نان ریزیٹنڈ کی پرمننٹ اسٹیبلشمنٹ کو یہ رعایت فراہم نہیں کی گئی ہے جو کہ غیر امتیازی سلوک ہے اس لئے پرمننٹ اسٹیبلشمنٹ کی نان ریزیڈینڈ مقیم ٹیکس گزاروں کے درمیان اس امتیاز کو ختم کرنے کے لئے تجویز ہے کہ ان خدمات پر ایڈوانس ٹیکس کی کٹوتی کی شرح کو پی ایز کے تین فیصد کر دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹال مینو فیکچرنگ کے لئے ٹیکس کی شرح 8 فیصد ہے ۔ تجویز ہے کہ اس شرح کو کمپنیوں کے لئے 4 فیصد اور دیگر کے لئے 4.5 فیصد کر دیا جائے اس اقدام سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ٹیکس کی موثر شرح نارمل ٹیکس ریٹ سے غیر موزوں طور پر زیادہ نہ ہو ۔ قانون کو سادہ بنانے اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لئے یہ تجویز ہے کہ دسویں شیڈول کے تحت پرمننٹ اسٹیبلشمنٹ پرکٹوتی کی اضافی شرح کا اطلاع کیا جائے تاکہ اگر رقومات اشیاءکی فروخت سے حاصل کی جارہی ہوں اور ماضی میں اس بناءپر دسویں شیڈول کے تحت ان پر کٹوتی کا اطلاق نہ ہو اور ان رقومات کے وصول کنندہ کے طور پر نان ریزیڈینڈ ٹیکس گزاروں کو دگنے ٹیکس کی کٹوتی سے استثنیٰ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس بیس میں وسعت کی غرض سے تجویز ہے کہ بجلی کے اخراجات کو مخصوص شرائط کے تحت قابل قبول کاروباری کٹوتیوں میں شمار کیا جائے جس میں موجودہ استعمال کنندہ کے مکمل کوائف کا اندراج لازم کر دیا جائے ۔ ٹیکس بیس میں وسعت اور کاروبار کو دستاویز شکل میں لانے کی حوصلہ افزائی کے لئے تجویز ہے کہ ایسے کاروباری اخراجات جو کسی ایسے صنعتی ادارے کے لئے کیے جا رہے ہوں جو کسی غیر رجسٹرڈ فرد کو سپلائی فراہم کرتے ہوں تو ان اخراجات کو 80 فیصد تک محدود کرنے کی اجازت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کی معلومات کی درستگی اور اس کے تحفظ کے لئے تجویز ہے کہ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل ہونے کے لئے ٹیکس گزاروں کے پروفائل کو اپ ڈیٹ کرنے اور اس کی تصدیق کو لازمی قرار دیا جائے۔ اس ترمیم کی بدولت ٹیکس گزاروں سے درست ٹیکس وصول کرنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے فریق پر مبنی ذرائع سے معلومات کے حصول اور تجزیے کی بنیاد پر خود کار طریقے سے ٹیکس دینے والے لوگوں کو جانچنے کے نظام کی فعالی کے لئے تجویز ہے کہ مختلف اداروں سے خود کار اور مطالبے پر معلومات کی فراہمی کو مکمن بنایا جائے تاکہ ٹیکس بیس میں وسعت کی کوششوں کو بہتر بنایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے گوشواروں کو جمع کروانا جنہیں قانون کی رو سے آسسمنٹ تصور کیا جاتا ہے کے حوالے سے متعدد تکنیکی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں اس لئے یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ ٹیکس گزاروں کی طرف سے جمع کروائے جانے والے گوشواروں کی ابتدائی پروسیسنگ کمپیوٹر کے ذریعے سے کی جائے تاکہ اگر گوشواروں میں حساب کتاب کی غلطی ، غلط کلیم ، کوئی کٹوتیاں ، ٹیکس کریڈٹ یا نقصانات جن کی آرڈیننس کے تحت اجازت نہیں ہے موجود ہوں تو انہیں دور کر لیا جائے ۔ تجویز ہے کہ یہ پروسینگ خود کانظام کے ذریعے سے کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کی حقیقی آمدن کے تعین کے لئے یہ تجویز ہے کہ پیداوار اور فروخت کا تعین بینچ مارکنگ ریشو اور محصولات کے اندازوں کی بنیاد پر کیا جائے یہ انٹرنل بیسٹ پریکٹیسز کے مطابق ہے اس سے آسسمنٹ پرواسس ہوگا اور نظام میں مستعدی آئے گی ۔ آڈٹ کے پروسیس کو مزید موثر بنانے کے لئے تجویز ہے کہ ای آڈٹ آسسمنٹ متعارف کروایا جائے مزید برآں آڈٹ ویڈیو لنک اور دیگر آن لائن سہولیات کے ذریعے بھی کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ود ہولڈنگ کے دائرہ کار کو بڑھانے اور اس حوالے سے تمام افراد کے کاروباری لین دین پر نظر رکھنے کے لئے تجویز ہے کہ دفعہ 236 ءکے تحت معدنیات پر ایڈوانس ٹیکس کی وصولی کو ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل افراد تک بڑھادیا جائے ۔ وفاقی وزیر ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ اس وقت بینک کے منافع جات کی فراہمی کے حوالے سے مختلف ریٹ موجود ہیں تاہم بینکوں کے پاس مطلوبہ نظام موجود نہیں ہے جس کے ذریعے سے حاصل کرنے والے افراد پر مختلف شرحوں سے ٹیکس عائد کر سکیں اس لئے منافع پر حاصل ہونے والی آمدنی سب کے لئے یکساں 15 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیکشن 113 کے تحت افراد اے او پیز پر سیکشن 113 کے تحت لاگو ہے لہذا ریزیڈینٹ کمپنی کے علاوہ افراد اور اے او پیز Minimum Tax کے دائرہ کار میں نہیں آتے تجویز ہے کہ نان ریزیڈینٹ اور ریزیڈینٹ پر ٹیکس یکساں کر دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے کیسز میں مہنگی گاڑیوں کو لیز پر لیا جاتا ہے اور ٹیکس کی واجب ادائیگی کو کم کرنے کے لئے کٹوتی کے بھاری دعوے کیے جاتے ہیں کاروبار کے لئے لی گئی گاڑیوں کی لاگت کی بالائی حد 2.5 ملین روپے موجود ہے مگر لیز پر یہ شرائط لاگو ن ہیں تجویز ہے کہ اس معیار کو خرید کردہ اور لیز پر لی گئی گاڑیوں پر نظام یکساں کر دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سال کے اختتام پر اثاثوں کی خریداری اور پھر پورے سال کے لئے ڈیپریسیشن کی مد میں کٹوتی کی پریکٹس کی حوصلہ شکنی کے لئے تجویز ہے کہ انٹرنل بیسٹ پریٹکسز کے مطابق آدھے سال کی بنیاد پر ڈیپریسیشن کی مد میں کٹوتی کا اصول متعارف کروایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بیس ایروسین کی بنیاد پر منافع کی تبدیلی اس رجحان کے خاتمے کے لئے تجویز ہے کہ غیر ملکی شراکت داروں سے سود کی کٹوتی کو بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق محدود کیا جائے ۔ وفاقی وزیر ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ عطایت کی نگرانی اور منی لانڈرنگ سے بچنے کے لئے تجویز ہے کہ دوسرے شیڈول کی شق 61 کے تحت مخصوص اداروں کو دیے جانے والے عطیات کو مخصوص شرائط کے ساتھ استثنیٰ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے این پی او سٹیٹس کے تحت درکار دستاویزات کو مکمل کیا جائے تجویز ہے کہ دوسرے شیڈول کی شق 66 کے تحت مخصوص اداروں کی آمدن کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے جس کے لئے دفعہ 100C کے تحت 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ کی مطلوبہ شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے اس کا اطلاق یکم جولائی 2021 سے ہوگا ۔ تجویز ہے کہ غیر منافع بخش تنظیموں ، ٹرسٹس اور فلاحی اداروں کے لئے لازمی کر دیا جائے کہ وہ 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ کے حصول کے لئے سابقہ ٹیکس سال کے دوران حاصل ہونے والے رضا کارانہ چندوں اور عطیات کے گوشوارے جمع کروائیں ۔ مزید براں این پی او کی تعریف میں ترمیم کرتے ہوئے اس میں صرف ایسی تنظیموں کو شامل رکھا جائے جو عوام الناس کے فائدے کے لئے کی جانے والی سرگرمیوں میں مشغول ہیں ۔ وفاقی وزیر ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ آسسمنٹ کے باوجود بھاری رقم ایک طویل عرصے تک قابل ادائیگی ہوتو تجویز ہے کہ پہلی ایپلیٹ اٹھارٹی کی طرف سے اپیل پر فیصلے کے بعد دوسری اپیل دائر کرنے کے لئے یہ شرط عائد کی جائے کہ ایسی اپیل دائر کرنے سے قبل کمشنر کی طرف سے روکے گئے ٹیکس کے 10 فیصد کے برابر ادائیگی کی جائے ۔ وفاقی وزیر ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ یہ تجویز ہے کہ ویلتھ اسٹیٹمنٹ کی نظر ثانی کو کمشنر کی اجازت سے مشروط کر دیا جائے جیسا کہ آمدن کے گوشواروں کی صورت میں ہوتا ہے ۔ آئی آر آئی ایس کے ذریعے ایڈوانس ٹیکس کے خود کا حطاب کتاب کے لئے تجویز ہے کہ ٹیکس گزار کے لئے لازم قرار دیا جائے کہ ان سے وصول کیے گئے ٹیکس کے حوالے سے معلومات ایک تجویم کردہ فارمیٹ کی صورت میں فراہم کریں تاکہ سسٹم ان کی طرف سے ادا کردہ ٹیکس پر خود کار ٹیکس کریڈٹ فراہم کر سکے اور پہلے سے ادا کردہ ٹیکسز کے حوالے سے ایڈوانس ٹیکس کو کم کیا جا سکیں مزید براں سسٹم کو اس قابل بنانے کے لئے کہ وہ خود کار طریقے سے قابل ادائیگی ایڈوانس ٹیکس کا حساب کتاب کر سکے تجویز ہے کہ ایسے ٹیکس گزاروں کے لئے لازمی قرار دیا جائے کہ وہ آئی آر آئی ایس کے ذریعے سہ ماہی کے منافع جات کی معلومات اس مہینے کی پانچ تاریخ تک فراہم کریں گے جس میں ایڈوانس ٹیکس ادا کیا جانا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس جمع کرنے کی غرض سے کپیٹل گین اور ہولڈنگ عرصے کے ساتھ یکساں کرنے کے لئے یہ تجویز ہے کہ غیر مقولہ جائیداد کی فروخت پر ود ہولدنگ کی مدد 5 سال سے کم کرکے 4 سال کر دیا جائے ۔ بین الاقوامی معاہدے کی وجہ سے یہ تجویز ہے کہ نان ریزیڈینٹ افراد پر رائلٹی کی ادائیگی ، تکنیکی خدمات کے لئے فیس ، انشورنس پریمیم اور دیگر ادائیگیوں کی صورت میں ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل نہونے کی بناءپر لاگو ہونے والی سو فیصد زیادہ شرح واپس لی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ شپنگ کے کاروبار سے وابستہ ریزیڈینٹ پرسن پر فرض کردہ انکم ٹیکس سیشن سات اے کے تحت جون 2020 تک لاگو ہے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ مذکورہ سیکشن کی فعالیت کو ٹیکس سال 2023 تک توسیع دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت ایک شخص جس کی آمدن پر فائنل ٹیکس لگتا ہے اسے آمدن کے گوشوارے دفعہ 114 کی بجائے 115(4) کے تحت جمع کرانا پڑتے ہیں ٹیکس قوانین پر آسان درآمد اور کاروبار میں آسانی کی خاطر یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ اس سٹیٹمنٹ کو دفعہ 114 کے تحت گوشوارے کا حصہ بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 2009 سے اپیل فیس کا ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوا اسی لیے افراط زر کے پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ کمپنیوں کے لئے یہ لاگو شدہ فیس بڑھا کر 5000 روپیہ کی جائے اور باقی تمام کیسوں کے لئے اس 2500 اور باقیو کے لئے 1000 رکھی جائے ۔ انہوں نے کہا کمشنر (اپیل) کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی لاگو شدہ فیس 2000 روپیہ ہے ۔ 2009 کے بعد فیس پر نظر ثانی نہیں ہوئی ہے افراط زر کے پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ کمپنیوں کے لئے یہ لاگو شدہ فیس 2000 روپیہ سے بڑھا کر 5000 روپیہ کی جائے اور باقی تمام کیسوں کے لئے اسے 2500 روپیہ رکھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیلامی یا بذریعہ ٹینڈر نیلامی میں پچھلی نیامی یا بذریعہ ٹینڈر نیلامی کی لائسنس کی تجدید شامل ہے اور یہ کہ اقساط میں وصول کردہ ادائیگیوں پر ہر قسط پر ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے جس کے لئے وضاحت شامل کرنے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیکشن 236Q پر تضاضا کرتا ہے کہ مقررہ شخص سائنسی یا تجارتی آلات کے استعمال یا استعمال کے حق کے سلسلے میں کی جانے والی ادائیگیو یا مشینری کے کرائے کے سلسلے میں ادائیگیوں پر ٹیکس کی کٹوتی کرے اس سیشکن کے تحت عائد شدہ ایڈوانس ٹیکس جو کہ حتمی ہوتا ہے اصل آمدن پر عائد ٹیکس کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ اس کا اطلاق فرضی بنیاد پر کیاجاتا ہے اس ٹیکس کے بارے میں تجویز کیا جاتا کہ اس مینیمم رکھا جائے اور درستگی کے لئے ترمیم کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ کے عمل کے معیار میں بہتری لانے کے لئے تجویز کیا جاتا ہے کہ سٹیٹمنٹس کو سہ ماہی بنیاد پر جمع کیا جائے جو کہ اس وقت شش ماہی بنیاد جمع کرائی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وصولی کے عمل کو مزید بہتر اور موثر بنانے کےلئے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں شامل قانون کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ءکا حصہ بنایا جائے جس سے ٹیکسوں کی وصولیوں میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر آمدن کے سلسلے میں ٹیکسوں میں ریلیف دیا جا رہا ہے اس سلسلے میں کیپٹل گین کی مدت کو 8 سال سے کم کر کے 4 سال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ کیپٹل گین کی مقدر میں بھی ہر سال 25 فیصد کمی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کیپٹل گین کے ٹیکس کی شرح میں 50 فیصد کمی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں اپنی تقریر کااختتام اس دعا پر کرتا ہوں کہ اللہ ہمیں یہ طاقت اور ہمت عطا فرمائے کہ ہم اس مشکل دور سے استقامت اور صبر کے ساتھ گزاریں اور ہمیں یہ امید ہے کہ عظیم عوامی مفاد کے لئے ہمیں آپ کی غیر مشروط مدد اور تعاون حاصل رہے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*