لگے ہاتھوں ہم ہیلتھ سسٹم کی چولیں درست کرلیں

تحریر:اسد اللہ غالب
ڈاکٹر محمود شوکت کا نام میرے قارئین کے لئے اجنبی نہیں۔ میںنے ان کے حوالے سے نظام صحت پر بہت کچھ لکھا۔ شاید اسے لوگوںنے نظر انداز کر دیا مگر میں ان کی باتیں آپ کو پھر سے یاد کراتا ہوں۔ آپ ان کے تبصروں اور تجزیوں کی افادیت کے قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ڈاکٹر صاحب ان ددنوں پنجاب کرونا ایڈوائزری کمیٹی سے وابستہ ہیں۔ شکر ہے کوئی تو ان کی سن رہا ہے مگر انہوںنے ماضی میں جو کچھ کہا ہے۔ اس پر بھی کان دھرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے تو کرونا نے ساری دنیا کے ہیلتھ سسٹم کو ننگا کر دیا ہے مگر یہ بات ڈاکٹر محمود شوکت پچھلے تین سال سے تواتر سے کہہ رہے ہیں کہ وطن عزیز میں نظام صحت کاآ وے کاا ٓوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اور ہم کسی ایمر جنسی سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ پورے ملک میں ہسپتالوں کی عمارتوںکا ڈھیر لگا ہوا ہے مگر ان میں علاج کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دیہات میں ہیلتھ سنٹرز وافر تعداد میں موجود ہیں، تحصیل اور ضلع کی سطح پر بھی ہسپتالوں کا جال بچھا ہے ، بڑے شہروںمیںمیگا ہسپتال ہیں مگر علاج کہیں سے دستیاب نہیں۔ دیہی صحت کے مراکز تو ویران پڑے ہیں، تحصیل اور ضلع کے ہسپتالوں میں کوئی سینئر ڈاکٹر ڈیوٹی کرنے کا نام نہیں لیتا۔ اور میگا ہسپتالوں میں بھی جونیئر اسٹاف پر کام چھوڑ دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی رائے تھی کہ میگا ہسپتالوں میںجو عوام کا رش نظر آتا ہے وہ شوگر بلڈ پریشر اور نزلے زکام کے مریض ہیں جنہیں محلے کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے مگر وہ میگا ہسپتالوں میں بھیڑ مچا کر بسا اوقات نازک مریضوں کی موت کا سبب بن جاتے ہیں کیونکہ ایمر جنسی کو اٹینڈ کرنے والا کوئی ہوتا نہیں،اسی بھیڑ کی وجہ سے۔ملک کی کوئی ہیلتھ پالیسی نہیں یہ بھی ڈاکٹر صاحب کا ہی مشاہد ہ ہے بس ڈنگ ٹپاﺅ کام چل رہا ہے۔ ملک میں ریسرچ کی عادت نہیں ، برین ڈرین کی وجہ سے ہمارا جوہر قابل امریکہ یورپ میں بسیرا کر چکا ہے۔جہاں مراعات ا ور کمائی حدو حساب سے باہر ہے۔ ڈاکٹری تو خدمت خلق کا شعبہ تھا اسے تجارت بنا لیا گیا۔اب مجھے اپنا بچپن یادا ٓتا ہے۔ بخارا ور سردرد کے لئے حکیم صاحب کی ایک پڑیا یا مولوی صاحب کی چند پھونکیں شفا کا کام دیتی تھیں۔ میںنے اپنے بچپن میںکسی کو ہسپتال جاتے نہیں دیکھا، خال خال کوئی ایکسی ڈنٹ ہو گیا تو بھی گاﺅں کا کوئی سیانا ہی ہڈیاں جوڑ دیتا تھا چاہے کچھ ٹیڑھا ہی کیوں نہ ہو جائے، چند سال قبل میری کلائی کی ہڈی ٹوٹی لاہور کے ایک بہترین ہسپتال میں ماہر سرجن نے پلستر لگایا۔ مگر ہڈی ٹیڑھی تھی ، میں نے پوچھا یہ کیا ، جواب ملا اتنا فرق تو پڑ جاتا ہے۔
اللہ بھلا کرے جنرل جیلانی کا جس نے صوبے میں ایک کارڈیالوجی ہسپتال بنا دیا ویسے انہوںنے اپنا علاج وہاں سے کروایا تو انفیکشن کا شکار ہو گئے۔ بہر حال ایک سہولت تو تھی مگر یہاں مہینوں اور سالوں بعد اینجیو گرافی اور سرجری کی تاریخ دی جاتی ہے۔ پرائیویٹ مریض بن جائیں ،اسی شام سرجری ہو جائے گی۔رو مانیہ کے وزیر اعظم ،چار وزراءکو ماسک کے بغیر پارٹی میں شرکت ،سگریٹ پینے پر 600 یورو کے جرمانے کی سزائیں
میں اپنے قارئین کو اپنی میراث بھی یاد کروانا چاہتا ہوں۔ کوئی پچیس برس قبل پیرس جاناہوا تو ایک شاہراہ کا نام بو علی سینا ایونیو لکھا دیکھ کر میرا سر فخر سے بلند ہو گیا، وہیں منہاج القرآن کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا پتہ چلاکہ و ہ کسی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ دوست ان کی تیمار داری کیلئے لے گئے۔ ہسپتال کو بھی بو علی سینا کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔ میرا سینہ اور چوڑا ہو گیا، مگر یہ میراث ہم تک کیوں نہ پہنچی۔ماضی قریب میں ہمارے ہاں حکیم اجمل خاں ، حکیم محمد حسن قرشی اور حکیم سعید جیسے قد آور لوگ موجود تھے مگر یہ سلسلہ وہیں کیوں رک گیا۔ بس ہم کھانسی کے شربت اور چند میٹھے مشروبات کی فروخت تک محدو ہو گئے، یہ بھی تجارت۔ جدید میڈیکل سائنس بھی تجارت تو خلق خدا کہاں جائے۔ کرونا نے ہسپتالوں کو تالے لگو ادیئے۔ چلئے دنیا ا س کے لئے تیار نہ تھی، ہم بھی تیار نہ تھے مگر اب ہمیں جنگی بنیادوں پر پلاننگ کر نی چاہئے اور اپنے ہسپتالوں کے معمولات بحال کرنے چاہئیں، آخر کسی ماںنے بچے کو جنم دینا ہے، کسی کی شوگر بڑھ گئی ہے۔ کسی کابلڈ پریشر کنٹرول میںنہیں آ رہا۔ کوئی گردے فیل کروائے لیٹا ہے۔ کسی کا جگر خراب ہے۔ کسی کو دل کا دورہ پڑگیا ،کسی کے دماغ کی رگ پھٹ گئی تو کیا یہ لوگ گھروں میں سسک کر مرنے کے لئے چھوڑ دیئے جائیں۔ یا ان مریضوں کو مرنے کے لیے چاند کی طرف روانہ کردیا جائے۔نہیں ایسانہیں ہونا چاہئے۔ ہمیں کرونا کے ساتھ تو ترجیحی پالیسی اختیار کرنی ہے مگر دیگر جان لیو امراض کو پس پشت تو نہیں ڈالنا۔ ہم اپنے مریضوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اگر کریں گے تو یہ ایک ظلم عظیم ہو گا۔ڈاکٹر محمو د شوکت کی کرونا پر تجاویز تو لی جارہی ہیں مگر وہ رپورٹوں کے ڈھیڑ لگا چکے ہیں کہ کس طرح پورے نظام صحت کی چولیں درست کی جا سکتی ہیں۔ ان رپورٹوں کی گرد جھاڑی جائے اور حکومت ہنگامی بنیادوں پر ہسپتالوں کے ڈھیر میں زندگی کی روح پھونکے۔ اگر ایس پی، ڈی سی کوایکڑوں پر مشتمل رہائش فراہم کی جاسکتی ہے تو ایک سینئر ڈاکٹر کو شان شایان رہائش اور مراعات سے کیوں نہیں نواز جا سکتا تاکہ ہمارے عوام کو گھر کی دہلیز پر ہر بیماری کا علاج مل سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*