نواز شریف ہی نہیں چینی، آٹا، دالیں اور سبزیاں بھی حکومت کی پہنچ سے باہر!

محمد اکرم چودھری
سابق وزیراعظم نواز شریف کی تازہ تصویر کے بہت چرچے ہیں۔ حکمراں جماعت سے جڑے لوگ اس تصویر پر تبصرے کر کے نجانے کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں وہ اپنے فالورز اور کارکنوں کو یہ سمجھانے سے قاصر ہیں کہ میاں نواز شریف ان کی حکومت کے ہوتے ہوئے کیسے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ لندن میں ہیں، موج کر رہے ہیں یا ڈاکٹروں کے چکر لگا رہے ہیں یہ حقیقت ہے کہ وہ حکومت کی پہنچ سے باہر ہیں۔ میاں نواز شریف ملک سے باہر ہیں اور آف علی زرداری جیل سے باہر ہیں یوں پاکستان تحریک انصاف کے دو بڑے سیاسی دشمن اور مخالف جن کی مخالفت کی بنیاد پر حکمراں جماعت نے الیکشن لڑا وہ دونوں افراد حکومت کی پہنچ سے دور ہی نہیں بہت دور ہیں۔ یہ تحریک انصاف کا موجودہ نظام سے منسلک افراد کے خلاف سب سے بڑا اعلان، وعدہ اور دعویٰ تھا لیکن وہ اس پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری اہم بات عوام کی زندگی میں آسانی تھی حکومت نے آسانیاں پیدا کرتے کرتے عوام کو مشکل پلس حالات میں جینے ہر مجبور کر دیا ہے۔ وہ سفر جو نواز شریف کو جیل میں ڈالنے اور آصف علی زرداری سے لوٹا ہوا مال واپسی لینے سے شروع ہوا تھا اس منزل کو حاصل کرتے کرتے آٹا، چینی، دالیں، پھل، سبزیاں، انڈے، ادویات، مرغی کا گوشت غرضیکہ زندگی گذارنے کی تمام ضروری اشیاء بھی حکومت کی پہنچ سے بہت دور نکل چکی ہیں۔ جو حکومت اپنے سیاسی مخالفین جنہیں وہ لٹیرے قرار دیتی رہی ہو انہیں نہ پکڑ سکے اور جنہیں پکڑ کے انہیں خود ہی بیرون ملک بھگا دے وہ سبزیوں پھلوں کی قیمتوں کو کیسے قابو کر سکتی ہے۔ اب عوام کو بھی سمجھ آ جانی چاہیے کہ پاکستان کی سیاست کی حقیقت کیا ہے اور ان کے ساتھ جمہوریت کے نام پر کیا ہوتا رہا ہے۔ زیادہ پیچھے نہ جائیں جنرل پرویز مشرف کے دور سے ہی دیکھ لیں وہ میاں نواز شریف سے شدید نفرت کرتے تھے لیکن یہ مشرف ہی تھے جن کے دور میں میاں نواز شریف خاندان کے ہمراہ ملک سے باہر گئے پھر واپس بھی آئے، میاں نواز شریف بھی پرویز مشرف سے اتنی ہی نفرت کرتے تھے لیکن ان کی ملک میں موجودگی میں ہی مشرف ملک سے ںاہر گئے پھر آئے اور پھر ان کی حکومت میں ملک سے باہر چلے گئے اور اب بھی باہر ہی ہیں۔ یہی حالات عمران خان کی حکومت میں بھی ہیں۔ عمران خان کی میاں نواز شریف سے نفرت کرتے ہیں لیکن عمران خان وزیراعظم ہیں اور میاں نواز شریف ایک مرتبہ پھر لندن میں بیٹھے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کو بتا رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تم سے سبزیوں، پھلوں، آٹا، چینی اور دالوں کی قیمتیں نہیں پکڑی گئیں تم مجھے کیا قابو کرو گے۔ یہ کھیل چلتا رہے گا اور ووٹر کے جذبات سے کھیلنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ میاں نواز شریف کی تصویر کے ساتھ ساتھ چینی سیکنڈل بھی گرم گرم ہی ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چینی سکینڈل کی تحقیقاتی کمشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ انہوں نے سائرن کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے چینی کی فی کلو قیمت پر سوال اٹھایا ہے۔ سابق وزیراعظم نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے یہ اپوزیشن کے سیاست دانوں کی طرح ان کا حق ہے وہ اسے جیسے چاہیں استعمال کر سکتے ہیں خوشی قس بات کی ہے کہ انہوں نے ہماری آواز کو آگے بڑھاتے ہوئے سب سے اہم مسئلے پر گفتگو کی ہے۔ ہم گذشتہ کئی روز سے یہ لکھ رہے ہیں کہ جب ثابت ہو چکا کہ چینی کے معاملے پر گڑبڑ ہوئی ہے اور گھپلا ہوا ہے، خزانے کو نقصان پہنچا ہے، یہ شوگر مل مالکان نے کیا ہے یا جس نے بھی کیا ہے۔ اس کاروبار سے منسلک تمام افراد نے کروڑوں کما لیے سیاست دانوں نے دوستی نبھائی رعایتیں دیں جب ثابت ہو چکا کہ دھوکہ ہوا ہے تو پھر چینی آج بھی نوے روپے یا اس سے بھی زیادہ پیسوں میں کیوں فروخت ہو رہی ہے۔ ہم پہلے دن سے اس کام سے جڑے ہوئے ہیں اور تحقیقاتی رپورٹ کے فوری بعد یہ مطالبہ کیا تھا کہ حکومت رپورٹ پر عملدرآمد کرتی ہے یا نہیں اس بارے کیا فیصلہ ہوتا ہے یہ بعد کی بات ہے سب سے پہلے یہ ہونا چاہیے کہ چینی کی قیمت ساٹھ روپے فی کلو پر واپس آنی چاہیے۔ اب شاہد خاقان عباسی نے بھی اس طرف توجہ دی ہے دیگر سیاست دانوں کو بھی چاہئے کو ہر معاملے میں دماغ بند کر کے تنقیدی بیانات جاری کرنے کے بجائے عوامی مسائل و مفادات کو نمایاں کرنے کی طرف توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہے۔
چینی سکینڈل، تحقیقاتی رپورٹ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں کسی بھی سیاسی جماعت نے عوامی مفاد پر توجہ نہیں دی سب نے سیاسی بیان بازی کر کے عوام کا وقت ہی ضائع کیا ہے۔ سیاست دانوں کا بنیادی مطالبہ تو چینی کی پرانی قیمتوں پر واپسی کا ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس وہ آج تک رپورٹ کے سیاسی پہلوﺅں پر گفتگو کر رہے ہیں اور چینی مسلسل پچاسی سے پچانوے روپے فی کلو کے درمیان فروخت ہو رہی ہے۔ نقصان صرف عام آدمی کا ہوا ہے جسے تیس سے پینتیس روپے فی کلو اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چینی کی قیمتوں کو ساٹھ روپے فی کلو پر لے کر آئیں۔ گنے کی قیمتوں کا تعین کر کے کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے تو شوگر ملز مالکان کے ساتھ بیٹھ کر انہیں جائز منافع دیکر سال بھر کے لیے چینی کی فی کلو قیمت بھی مقرر کی جا سکتی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اس طرف ضرور توجہ دیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*