تازہ ترین

یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر اخلاقی اقدار کی پائمالی

تحریر : منزہ سید
”یوٹیوب” کے نام سے کون واقف نہیں۔اس کی وجہ سے گھر بیٹھے لوگ نہ صرف وڈیو زکے ذریعے مشہور ہوئے بلکہ یوٹیوب چینلز کے ذریعے گھر بیٹھے پیسہ بھی کمانے کے قابل ہوئے۔۔دنیا بھر میں جہاں بچے،بوڑھے اور جوان حتیٰ کہ خواتین بھی اس کی گرویدہ ہیں، وہیں مدھر گیتوں کے حوالے سے عمر رسیدہ افراد کے لئے بھی یہ جینے کا ایک خوبصورت سہارا بن چکی ہے۔ایک زمانہ تھا کہ لوگوں کو اپنی پسند کی آڈیو و وڈیوز کی تلاش میں کافی تگ ودو کرنا پڑتی تھی ،لیکن جب سے ”یوٹیوب”کاآغاز ہوا ہے،انٹرنیٹ پر ایک کلک کے ذریعے لوگ اپنی پسند کی وڈیو تلاش کر کے محظوظ ہو سکتے ہیں۔سوشل میڈیا نے جس طرح رابطوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں، وہی ”یوٹیوب”فی زمانہ معلومات کا ایک خزانہ ہے،جس کے ذریعے انسان منٹوں میں اپنی مطالبہ چیز تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔
تلاوتِ کلامِ پاک ہو یا حمد و نعت گوئی،قوالی ہو یا دھمال،جدید رقص و موسیقی ہو یا مدتوں پرانے گیت ،کھانا بنانے کے طریقے ہوں یا بیوقوف بنانے کے طریقے ، رحم و کرم کا واقعہ ہو یا ظلم و ستم کی داستانیں ،مزاحیہ حرکات و سکنات ہوں یا سنجیدگی سے بھری باتیں ،شعر و شاعری ہو یا نثری فن پارے ،مصوری کی دنیا ہو یا کیمرے کے ذریعے تصویر کشی ،ڈرامہ ہو یا فلم ،تھیٹر ہو یا عام زندگی کی کوئی حقیقت،بیماری ہو یا طبی مشورے ،جنس کے حوالے سے وڈیوز ہوں یا فحش لٹریچر۔۔غرضیکہ اس وقت یوٹیوب پر تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق منفی و مثبت معلومات با آسانی دستیاب ہیںاور انسانی زندگی کے ترقی یافتہ دور کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔
حقیقت تو یہ ہے دنیا بھر میں کی گئی ایجادات کا بنیادی مقصد لوگوں کو معلومات اور زندگی کی سہولیات بہم پہنچانا ہی رہا لیکن بدقسمتی سے ہر چیز کا منفی اور مثبت استعمال لازم ہو چکا ہے۔ کچھ بے حس لوگوں نے سستی شہرت اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متوجہ کر کے ”یوٹیوب ”سے پیسے کمانے کے چکر میں اخلاقی اقدار کا جنازہ نکالنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔یہ لوگ کسی بھی مشہور شخصیت کی کسی بھی ایک بات یا جملے کو موضوع بنا کریو ٹیوب سمیت سوشل میڈیا پربد تہذ یبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”گالم گلوچ ”کا سلسلہ شروع کر کے نہ صرف بیشمار لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں بلکہ ان وڈیوزکو لاکھوں نوجوانوں نے فالو(FOLLOW) کر کے سندِ پسندیدگی سے بھی نوازا۔یوٹیوب پراخلاق سے گرے ہوئے غیرذمہ داران رویئے کی بدولت ان چند لوگوں نے پوری قوم کے نوجوانوں کو متاثر کیا اور یوں یوٹیوب سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ فحش کلامی کی لپیٹ میں ”ٹک ٹاک”پر بھی آ گیا۔انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ” نیٹ”کے عام ہونے سے پہلے تک ہماری نوجوان نسل کے” آئیڈئیلز” ملکی خدمات میں نام روشن کرنے والے یا دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لئے اپنی جان قرباں کر دینے والے لوگ ہوا کرتے تھے۔
مگر اب ہماری اخلاقی اقدار ناپید ہوتی جا رہی ہے ،ہمارے نوجوان ”گالم گلوچ والے اور غیرشائستہ گفتگووالی ”ٹک ٹاک” اور یو ٹیوب وڈیو کے مداح بن چکے ہیں کے مداح بن چکے ، اور ہماری یہ روش ہماری نوجوان نسل کو تباہی کے غار کی جانب دکھیلتے جا رہے ہیں کہ جوآنے والے وقت کے لئے انتہائی خطرناک علامت ہے کیونکہ آگے چل کر وطنِ عزیز کی باگ ڈور انہیں نوجوانوں نے سنبھالنی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کے آئیڈئل (مثال) بننا ہے۔ہمارا یہ طرز عمل پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کا سبب بن رہا ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی ان کارروائیوں کا احساس ہی نہیں ہے۔
”یو ٹیوب” کے ذریعے معاشرتی اعلیٰ اخلاقی اور اسلامی اقدار کا جس طرح جنازہ نکالا جا رہا ہے ،وہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کے ذمہ داران ایسے پروگراموں اور وڈیوز کی سوشل میڈیا پر غیر ضروری تشہیرسے اجتناب برتیں۔ حکومت پاکستان کوچاہئے کہ سوشل میڈیا ،فیس بک ، واٹس ایپ سمیت تمام خرافات کو روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ سستی شہرت اور”ریٹنگ ”بڑھانے کے چکر نے بھی کئی مسائل کو جنم دیا ہے۔تاہم ”یوٹیوب” پر موجود اس قسم کی تمام وڈیوز ڈیلیٹ کر کے اس دھندے میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن لے کر قرار واقعی سزا دینا چاہئے اور ان کی وڈیوز پر ہمیشہ کے لئے پابندی لگانا ہوگی تا کہ اس بیہودگی کا قلع قمع ہو سکے اور ہماری موجودہ و آنے والی نسلیں باہمی احترام و محبت کے خوبصورت جذبوں کو فروغ دے سکیں۔
ایسا نہ ہو کہ ہمارے نوجوان گالم گلوچ،غیر شائستہ گفتگو اور فحش کلامی جیسی بد عادات کا شکارہو کر انہی باتوں کواپنی پریشانیوں سے عارضی نجات کا ذریعہ سمجھنے لگیں۔ نوجوانوں سے بھی گزارش ہے کہ سستی شہرت اورسستی کمائی کے ان شوقین حضرات کے یوٹیوب چینلز کو اَن فالو (UNFOLLOW) کر کے انہیں یہ پیغام دیں کہ وہ بہترین والدین کی گود میں پلنے والے وہ بچے ہیں جو اپنے معاشرے میں احترام ،محبت،خلوص،عجز و انکساری ،امن و آشتی اور ایک دوسرے کی بات کو اعلیٰ ظرفی سے برداشت کرنے کی خوبصورت روایات کو کبھی ختم ہونے نہیں دیں گے۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*