تازہ ترین

وبائیں اور تاریخ انسانیت

تحریر : قیصر نذیر خاور
(گذشتہ سے پیوستہ)ادوم سمیت بہت سے لوگ لندن چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ یہ وباءاپریل 1665 ءمیں پھیلی تھی جس کا خاتمہ 2 ستمبر 1666 ءکو لندن میں لگی آگ ، جو چار روز تک نہ بجھ سکی تھی ، کے بعد ہی ہوا۔
مارسیلز وباء: اگلی صدی ، مطلب 18 ویں صدی چڑھی اور ابھی اس کی دوسری دہائی ہی ختم ہوئی تھی کہ 1720 ءمیں فرانس کا شہر ، مارسیلز ، قابو میں آ گیا۔ ہوا یوں کہ ایک بحری کارگوجہازمشرقی بحیرہ روم سے سامان لے کر آیا ، گو اسے الگ تھلگ رکھا گیا تھا پھر بھی اس کے ساتھ آئے جرثوموں سے بھرے چوہے شہر میں گھس گئے اور انہوں نے شہر میں وباءپھیلا دی۔ ایک اندازے کے مطابق مارسیلزاور اس کے گرد و نواح میں لگ بھگ ایک لاکھ اموات ہوئیں جن میں مارسیلز کی تیس فیصد آبادی بھی شامل تھی۔
روسی وباء: اسی صدی کی 7 ویں دہائی ماسکو ، روس میں ، وباءلائی۔ یہ 1770 ءکا سال تھا ؛ لوگوں کو گھروں میں رہنے اور گرجا گھروں میں اکٹھے نہ ہونے کا فرمان جاری ہوا۔ ساتھ ہی یہ فرمان بھی جاری کیا گیا کہ ماسکو سے تمام فیکٹریاں باہر نکال دیں جائیں۔ اس وقت کیتھرین۔ دوم روس کی ملکہ تھی۔ شہر میں فسادات شروع ہو گئے اور آرچ بشپ’ ایمبروسیس ‘ جو لوگوں کو گرجا گھروں سے دور رہنے کی تلقین کر رہا تھا ، قتل کر دیا گیا۔ اندازہ ہے ماسکو میں پھیلے اس طاعون میں بھی لگ بھگ ایک لاکھ لوگ جان سے گئے تھے۔ 1773 ءمیں امن و امان بحال کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات میں مرنے والوں کی تعداد اس کے علاوہ تھی۔
زرد بخار فیلیڈلفیا : 1793 ءکا سال فیلیڈلفیا ، امریکہ پر بھاری گزرا اور وہاں ” زرد بخار ” نے اَت مچایا۔ فیلیڈلفیا اس وقت امریکہ کا صدر مقام تھا۔ زرد بخار مچھروں کی وجہ سے پھیلا تھا۔ اس برس سردیاں آنے تک لگ بھگ پچاس ہزار گورے جان سے گئے تھے۔ اوریہ خیال کیا گیا تھا کہ سیاہ فام غلاموں پر اس کا اثر کم تھا ، یوں امریکہ میں پہلی بار سیاہ فام نرسیں رکھی گئی تھیں۔
” فلو ” کی پہلی عالمی وباء: 1889 ءمیں ’ فلو‘ پوری دنیا میں پھیلا۔ اس کی بڑی وجہ صنعتی ترقی ، ریل کا نظام اور سڑکوں کے ذریعے باربرداری و مسافروں کی آمدورفت تھی۔ 1890 ءکے اوآخر تک یہ عالمی وباءلگ بھگ دس لاکھ لوگوں کو نگل چکی تھی۔ فلو کے اولین شواہد ’ سینٹ پیٹرزبرگ ‘ میں ملے ، جو اگلے پانچ ہفتوں میں یہ وباءکے طور پر پورے روس ، یورپ اور باقی دنیا میں پھیل چکے تھے۔ یاد رہے کہ ابھی ہوائی جہاز ایجاد نہیں ہوا تھا۔
پولیو کی وباء: 1914 ءمیں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تھی جس میں امریکہ1917 ءتک شامل نہیں ہوا تھا۔ اسے البتہ اندرون ملک ایک وباءکا سامنا کرنا پڑا جو 1916 ءمیں پھرپور طریقے سے سامنے آئی۔ یہ پولیو کی وباءتھی۔ صرف نیویارک ہی میں اس سے 27000 لوگ متاثر ہوئے اور لگ بھگ 6000 افراد جان سے گئے تھے۔ 1954 ءتک یہ وباء بار بار پھیلی یہاں تک کہ 1921 ءمیں امریکی صدر روزویلٹ بھی اس سے متاثر ہوا تھا۔ 1954 ءمیں ’ سالک ‘ ویکسین کے ایجاد ہونے پر امریکہ کواسے ، اپنے ہاں ، سے ختم کرنے میں 25 سال لگے تھے۔
” فلو ” کی دوسری عالمی وباء: امریکہ میں پھیلی پولیو کی وباء کے دو سال بعد ہی ، یعنی 1918 ءمیں یورپ سے ’ فلو‘ ایک وباء پھوٹی جو دو سال تک دنیا بھر کو متاثر کرتی رہی۔ امریکہ اس سے پہلے 1917ءمیں پہلی عالمی جنگ میں کود چکا تھا اور اس کے لگ بھگ چالیس لاکھ فوجی جرمنی اور اس کے ساتھیوں کو زیر کرنے کے لیے یورپ میں آ موجود ہوئے تھے۔ ادھر جنگ ختم ہو رہی تھی اور دنیا بھر سے آئے فوجی اپنے وطنوں کو لوٹ رہے تھے۔ ایسے میں یورپ میں کہیں ’ فلو ‘ ایسے پھیلا کہ یہ جنوبی سمندروں سے قطب شمالی تک جا پہنچا۔ ایک اندازے کے مطابق اس سے لگ بھگ 500 ملین لوگ متاثر ہوئے ، جن میں سے کم و بیش 100 ملین تو جان بحق ہو گئے تھے اور اس میں کچھ چھوٹی قومیتیں ایسی تھیں جو کہ صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئیں۔ اتنی بڑی ہلاکتوں کی ایک بڑی وجہ فوجی تھے، جن کی قوت مدافعت جنگ کے دوران ناقص غذا اور دیگر جنگی عوامل کے باعث پہلے ہی کم ہو چکی تھی۔
یہاں یہ بات جاننا اہم ہے کہ اسے ہسپانوی فلو کا نام تو دیا گیا لیکن یہ غالباً وہاں سے شروع نہیں ہوا تھا کیونکہ سپین پہلی جنگ عظیم میں کسی بھی فریق کے ساتھ نہیں تھا اور غیر جانبدار رہا تھا۔ اس فلو کو 1918 ءکا فلو کہنا زیادہ مناسب ہو گا ، جس کے اولین اثرات بیک وقت یورپ ، ایشیا کے کچھ خطوں اور امریکہ میں دیکھے گئے تھے۔ گو سپین بھی اس سے متاثر ہوا تھا لیکن یہ وہاں سے شروع نہیں ہوا تھا۔
” فلو ” کی تیسری عالمی وباء:1957 ءمیں ’ انفلوئینزا ‘ کی ایک وباءاور پھوٹی جسے ’ ایشین فلو ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ بھی لگ بھگ دو سال تک جاری رہی۔ یہ سب سے پہلے فروری 1957 ء میں سنگاپور میں پھیلی ، پھر اپریل میں ہانگ کانگ اس سے متاثر ہوا اور پھر اسی برس گرمیوں میں یہ امریکہ کے ساحلی علاقوں تک جا پہنچا۔ اس سے ہلاکتوں کا تخمینہ 11 لاکھ لگایا جاتا ہے جس میں ایک لاکھ سے زائد اموات تو صرف امریکہ میں ہوئیں۔ یہ فلو ’ ایوین فلو وائرسوں ‘ کے امتزاج سے پھیلا تھا اور اس کے کیرئیر پولٹری فارموں میں پرورش پانے والی مرغیاں تھیں۔
” ایڈز ” کی عالمی وباء : پچھلی صدی کی 8 ویں دہائی کا آغاز ’ ایڈز ‘ کی عالمی وباءسے ہوا۔(جاری ہے)
اسی سال HIV وائرس کا پتہ چلا تھا اور اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ بندروں کی قسم ’ چمپینزی ‘ میں اس صدی کی تیسری دہائی (1920s) میں مغربی افریقہ میں پیدا ہوا تھا۔ ایڈز 1981 ئ سے اب تک 35 لاکھ لوگوں کی جان لے چکی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق افریقہ میں صحارا کے صحرائی علاقوں میں رہنے والوں میں نصف سے زیادہ آبادیHIV+ ہے ، اس کے علاوہ دنیا بھر میںHIV+ لوگ موجود ہیں۔ اس کی کوئی ویکسین تاحال ایجاد نہیں ہو سکی ، البتہ کچھ دوائیاں ایسی بن چکی ہیں جن کے باقاعدہ استعمال سے بندہ عمومی زندگی گزار سکتا ہے۔ ان دوائیوں کے استعمال سے مارچ 2020 ئ تک فقط دو افراد ہی مکمل طور صحت یاب ہو پائے ہیں۔

” فلو ” کی چوتھی عالمی وبائ : 2009 ئ میں ’سوائن فلو ‘ کی عالمی وبائ پھیلی۔ یہ میکسیکو میں موسم بہار میں شروع ہوئی اور ایک سال کے اندر انرر اس وائرس ’ H1N1 ‘ نے دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگوں کو متاثر کیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد رہی ، جبکہ ایک دوسرے اندازے کے مطابق یہ تعداد کم از کم ڈیڑھ لاکھ ہے۔ اس فلو نے سب سے زیادہ اثر بچوں اورجوانوں پر کیا اور مرنے والوں میں لگ بھگ 80 فیصد ایسے لوگ تھے جن کی عمر 65 برس سے کم تھی۔ اس وائرس کی ویکسین دریافت ہو چکی ہے اور یہ اس ‘ فلو ویکسین ‘ میں شامل ہے جو سال میں ایک بار لگوائی جاتی ہے۔

” ایبولا ” وبائ : 2014 ئ میں مغربی افریقہ میں ’ ایبولا ‘ وبائ پھیلی جو دو سال تک پھیلی رہی۔ اس میں لگ بھگ 50ہزار لوگ متاثر ہوئے جن میں سے 11ہزار سے زائد لوگ جان سے گئے تھے۔ پہلا کیس گنی بسا? میں رپورٹ ہوا تھا ، بعد ازاں یہ لائیبریا اور سیرا لیون میں یہ وائرس تیزی سے پھیلا۔ کچھ کیس نائیجریا ، مالی ، سینی گال ، امریکہ اور یورپ میں بھی پائے گئے۔ ایبولا سب سے پہلے کانگو اور سوڈان میں 1976 ئ میں سامنے آیا تھا۔ تاحال اس کی کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہو سکی۔

” زیکا ” وبائ : 2015 ئ میں ایک اور وائرس سامنے آیا ، اسے ’ زیکا ‘ وائرس کی وبائ کا نام دیا گیا۔ اس کا آغاز جنوبی اور وسطی امریکہ سے ہوا تھا جس کے بارے میں سائنس دانوں کو 2015 ئ میں ہی پتہ چل سکا تھا۔ یہ مچھروں کی ایک خاص قسم ’ Aedes aegypti ‘ ( جسے ہم ڈینگی کے نام سے جانتے ہیں ) سے پھیلا۔ اس کی بھی ، کوئی ویکسین تاحال نہیں بن سکی۔ یہ مچھر جنوبی ، وسطی اور شمالی امریکہ کے جنوبی حصوں سے نکل کردنیا کے ان تمام علاقوں میں پھیل چکا ہے جو گرم مرطوب ہیں یا ان کے موسموں میں کچھ ماہ گرم مرطوب ہوتے ہیں۔ یہ وبائ تاحال قابو میں نہیں ہے ، البتہ مچھر کی اس قسم کو تلف کرنے کوششیں کی بہر حال جاری ہیں۔ عام طور پر یہ وائرس اس خاص قسم کے مچھر کے کاٹے سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ ایسا بندہ جو وائرس زدہ ہو اسے جنسی اختلاط سے پرہیز کرنا چاہیے ورنہ یہ ’ پارٹنر‘ میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

پاکستان ، جو کبھی برصغیر ہندوستان کا حصہ تھا ، اس میں بلکہ ہندوستان کی بھی ، وبا?ں کے حوالے سے ایک ٹائم لائن ہو گی اور یہاں بھی گاہے بگاہے وبائیں پھیلی ہوں گی۔ میرے پاس یہ ڈیٹا نہیں ہے لیکن ایک دو موٹی موٹی باتیں میرے پیش نظر ہیں: ایک تو یہ کہ ‘ ملیریا ‘ اس خطے میں بار بار پھیلا ہو گا اسی طرح ‘ ہیضہ ‘ و ‘ ٹی بی ‘ بھی لیکن بنگال کا 1942 ئ کا قحط ، جو انگریز سرکار کا پیدا کردہ تھا ایک اہم سانحہ تھا ؛ اس سرکار نے سارا چاول و دیگر ساری اجناس اس لیے ذخیرہ کر لیں تھیں کہ انگریز دوسری عالمی جنگ میں ’ اتحادیوں‘ کا سربراہ تھا اور جرمن ہٹلر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف لڑ رہا تھا اور اسے اپنی اور اپنے اتحادیوں کی افواج کے لیے اجناس کی ضرورت تھی۔ یہ قحط 1943ئ تک تیس لاکھ ہندوستانی ، جن میں بنگالی کثرت سے تھے ، بھوک ، ہیضے اور اس جیسی بیماریوں کے ہاتھوں مر گئے تھے۔ اس پر کیا لکھا گیا اور کیا نہیں ؛ مجھے اس کا اندازہ نہیں لیکن مجھے مصور ’ زین العابدین ‘ (دسمبر 1914 ئ تا مئی 1976ئ ) یاد ہیں جنہوں نے اس قحط اور اس سے پھیلنے والی وباﺅں کو اتنے ہی بھیانک انداز میں مصور کیا تھا ، جتنا بھیانک یہ سانحہ تھا۔
مجھے ہیضہ ( کالرا ) کے بارے میں یہ بھی پتہ ہے کہ یہ لاہور میں بھی کئی بار پھیلا۔ 1882 ئ میں لاہور میں پھیلے ہیضے کے قصے تو میں نے اپنے والد سے سنے جو انہیں میرے دادا نے سنائے ہوں گے ( اس سے پہلے یہ کب اور لاہور کے علاوہ کہاں کہاں پھیلا ، مجھے معلوم نہیں ہے )۔ مجھے پاکستان بننے کے بعد ’ والٹن ‘ ، لاہورکے مہاجر کیمپ سے پھیلنے والے اس ہیضے کا بھی پتہ ہے جو ناقص غذا کی سپلائی کی وجہ سے پھیلا تھا اور جس میں میری اپنی دو پھوپھیاں بھرپور جوانی میں فوت ہو گئی تھیں ؛ ان کی شادیاں طے ہو چکی تھیں اور اگر وہ اس ہیضے کی وبائ میں فوت نہ ہوتیں تو ایک دو ماہ میں سہاگن ہو چکی ہوتیں۔ یہ سب میری والدہ نے مجھے خود بتایا تھا اور میرے پاس ان کے جنازوں کی تصاویر خاندانی البم میں محفوظ ہیں۔

پاکستان میں پھیلی پولیو کی وبائ کا تو میں خود 1954 ئ میں شکار ہوا تھا جب میں فقط نو ماہ کا تھا اور میں نے پا?ں پا?ں چلنا شروع کر دیا تھا ؛ میری ماں کا کہنا تھا کہ مجھے نظر لگ گئی تھی ، اسی لیے مجھے ٹائفائیڈ ہوا اور اس نے میرے بائیں حصے پر اثر ڈالا تھا۔ بھلا ہو ، ڈاکٹر انور سجاد کے والد ڈاکٹر دلاور حسین کا جن کے بروقت علاج سے یہ اثر صرف میری بائیں ٹانگ تک ہی محدود رہا۔ یاد رہے کہ ’ سالک ‘ ویکسین اسی برس ایجاد ہوئی تھی لیکن یہ ابھی پاکستان میں دستیاب نہیں تھی۔

اس وقت ہم کرونا۔ آئی ڈی 19 کی عالمی وبائ کا سامنا کر رہے ہیں ؛ اس مضمون کو لکھتے وقت ، پاکستان میں اس وبائ سے چھ ہزار لوگ متاثر ہیں اورسو افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں ، جبکہ دنیا بھر میں بیس لاکھ لوگ اس سے متاثر ہیں اور اب تک ایک لاکھ بیس ہزارافراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ وائرس اب تک تین شکلیں اختیار کر چکا ہے ؛ ‘ اے ‘ ، ‘ بی ‘ اور ‘ سی ‘۔ کہیں ‘ A ‘ قاتل ہے جیسے امریکہ میں ، کہیں ‘ B ‘ ہلاکتوں کا موجب ہے جس نے چین کو سب سے زیادہ متاثر کیا اور کہیں ‘ C ‘ پنجے گاڑے ہوئے ہے ؛ ہم غالباً کرونا۔ آئی ڈی 19 ٹائپ C کا شکار ہیں۔ اس عالمی وبائ سے متاثرین کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اورہلاکتیں بھی ہر دن بڑھ رہی ہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں چھوٹی موٹی کئی وبائیں تو دیکھی ہوں گی لیکن ڈینگی کی وبائ کے بعد یہ دوسری عالمی وبائ ہے جو میں نے دیکھی ہے۔ اور شاید میرے بعد کی دیگر نسلوں نے بھی اس طرح کی وبائ کا سامنا پہلی بار کیا ہے۔ ان نسلوں میں سے اکثرپڑھے لکھے میرے ساتھ متفق ہیں اور یقیناً آپ بھی اتفاق کریں گے کہ اگر پاکستان بننے کے بعد یہاں کی حکومتیں فوجی طاقت بڑھانے کی بجائے ’ تعلیم ‘ ، ’ صحت ‘ اور ’ سماجی علوم‘ جیسے میدانوں میں جامع اور ٹھوس اقدامات اٹھاتیں اور مالی وسائل کے استعمال میں ان میدانوں کو ترجیح دیتیں تو قدرتی اور انسانی غلطیوں سے پھیلی آفات کا مقابلہ زیادہ بہتر طور پر کیا جا سکتا تھا۔
ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ اگر اب بھی مقتدر طبقات اپنی ترجیحات بدل کر ’ تعلیم ‘ ، ’ صحت ‘ اور ’ سماجی علوم ‘ پر مالی وسائل کا بڑا حصہ خرچ کرنا شروع کر دیں تو آنے والی نسلوں کے لیے بہتری کا سامان پیدا ہو سکتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*