تازہ ترین

نبی کی سنت پر عمل پیرا ہونے میں ہی کامیابی ہے،عمران خان

اسلام آباد (آئی این پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ،ملک کی ایلیٹ نے کرونا وائرس کےلئے لاک ڈاﺅن کرنے کا کہا لیکن کسی غریب دیہاڑی دار کی فکر نہیں کی، ہمیں اس وقت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کرونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کےلئے ملک میں طبی آلات بننا شروع ہوئے اور نیو کلیئر ہتھیار بنانے والے ملک کےلئے وینٹی لیٹرز بنانا مشکل نہیں ہے خود پر یقین رکھنے والی قومیں ترقی کرتی ہیں، خود اعتمادی لوگوں کو مشکلات سے نبردآزما ہونے کے قابل بناتی ہے جبکہ نبی کی سنت پر عمل پیرا ہونے میں ہی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60کی دہائی میں پاکستان ترقی کی جانب گامزن تھا لیکن بدقسمتی سے اس کے بعد ملک میں صرف ایک ایلیٹ طبقہ ہی آگے بڑھتا گیا اور ملک پیچھے جاتا رہا، سابقہ حکمرانوں نے علاج کےلئے باہر کے ممالک جانا شروع کر دیا اور غریب کےلئے ملک میں و ہ ہسپتال چھوڑے جہاں کوئی سہولیات نہیں ہیں جبکہ اگر ملک میں ہمیں ترقی کرنی ہے تو سب کو مل کر آگے بڑھنا ہو گا جمعرات کو اسلام آباد کامسٹیک ہیڈ کوارٹرز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کے ایلیٹ طبقے نے سوچ رکھا تھا کہ کوئی بیماری ہو تو بیرون ملک جا کر علاج کرالیں گے لیکن ملک میں غریب کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں، غریب کے بچوں کی ابتدائی جسمانی نشوونماکچھ نہیں ہے، ہیپاٹائٹس سی ملک میں بڑھ چکا ہے، ساری غریبوں کی بیماریاں ہیں اس لئے کسی امیر کو پریشانی نہیں ہے کیونکہ اس نے پیسہ لگا کر اپنا علاج کرا لینا ہے لیکن ملک میں غریب دو وقت کی روٹی کی سوچ میں ہر وقت فکر مند رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے ہمیں بہت سے سبق ملے ہیں، ایک تو یہ کہ کرونا وائرس امیر اور غریب میں تفریق نہیں کرتا ہے، کسی بھی کھانے پینے گھرانے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، دوسرا یہ کہ وہ وزیر اور وزیراعظم جو علاج کےلئے بیرون ملک جاتے تھے وہ آج یورپ جانے سے ڈرتے ہیں، ملک میں ہسپتالوں کی طرف توجہ دینے کےلئے انتہائی اہم ایشو ملا ہے،ملک کی ایلیٹ نے کرونا وائرس کےلئے لاک ڈاﺅن کرنے کا کہا لیکن کسی غریب دیہاڑی دار کی فکر نہیں کی، ہمیں اس وقت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کرونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کےلئے ملک میں طبی آلات بننا شروع ہوئے اور نیو کلیئر ہتھیار بنانے والے ملک کےلئے وینٹی لیٹرز بنانا مشکل نہیں ہے لیکن ماضی میں سائنٹیفک ریسرچ کی ترویچ پر توجہ نہیں دی گئی اور سائنسی آلات کے کارخانے ہی نہیں لگائے گئے، آج ملک میں کارخانہ خود سے طبی آلات تیار کر رہے ہیں، سرکاری ہسپتالوں کو بہتر بنانے میں کام ہو رہا ہے اور کرونا وباءپھیلنے کے دوران روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کا خیالرکھا جا رہا ہے، جبکہ اب ملک کو ایک وژن کے تحت آگے لے کر جائیں گے، طویل المدتی پالیسیوں کے ذریعے ہی ملک ترقی کرتا ہے، ہماری قوم کو اب اپنے پاﺅں پر خود کھڑا ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تو ڈرپوک نکلا پورا ملک ہی بند کر دیا اور کروڑوں غریبوں کی کوئی فکر نہیں کی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*