تازہ ترین

وبائیں اور تاریخ انسانیت

تحریر : قیصر نذیر خاور
انسانی تاریخ بیماریوں اور وباﺅں کے پھوٹنے سے کبھی خالی نہیں رہی۔ بعض اوقات تو یہ بیماریاں اور وبائیں اتنی مہلک تھیں کہ انہوں نے تاریخ کا دھارا کئی بار ایسے موڑا کہ انسانی معاشرے دہائیوں پیچھے جا گرے۔ کئی بارتو یہ خدشہ پیدا ہوجاتا تھا کہ انسانی تہذیب و تمدن فنا ہونے کو ہے۔ آئیے کچھ اہم وباﺅں کا جائزہ لیں۔
زمانہ قبل از مسیح۔قبل از مسیح زمانے کی بات کریں تو کم از کم دو وبائیں ایسی ہیں جو دنیا کی انسانی تاریخ میں اہم رہیں ؛ پہلی لگ بھگ پانچ ہزار سال پہلے چین کے دو مقامات پر پھیلیں۔ اس کے بارے میں معلومات نہیں کہ یہ وبا کونسی تھی لیکن ’ ہیمن منغا ‘ اور ’ میاﺅزیگوا ‘ کے مقامات پر ایسے آثار قدیمہ موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان دیہاتوں میں ہر بوڑھے ، بچے ، جوان مرد و زن کو یکجا کرکے جلا دیا گیا تھا۔ ماہرین آثار قدیمہ اس بات پر متفق ہیں کہ انہیں کسی وباءکی ہی وجہ سے زندہ جلایا گیا تھا۔
اسی طرح ، لگ بھگ 430 قبل از مسیح میں ابھی ایتھنز اور سپارٹا کے درمیان ہوئی جنگ کو شروع ہوئے کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ ایسی وباءپھیلی جس پر پانچ سال تک قابو نہ پایا جا سکا تھا۔ اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا اندازہ ایک لاکھ تک جا پہنچتا ہے۔ یونانی مورخ تھوسیڈائڈس (Thucydides) نے لکھا ؛ ”۔۔۔ اچھے بھلے صحت مند لوگوں کو اچانک سرمیں شدید گرمی کا احساس ہوتا ، ان کے چہروں پر لالی چھاتی ، آنکھیں سوج جاتیں اور وہ منہ اور ناک سے خون اگلنے لگتے۔۔۔“
یہ وباءکیا تھی ؟ اس پر ماہرین کی دو آراءہیں ؛ ایک یہ کہ یہ ٹائفائیڈ کا بخار تھا جبکہ دوسروں کے نزدیک یہ ’ ایبولا وائرس ‘ کا پھیلاﺅ تھا۔ کچھ محققین کا خیال ہے کہ یہ وباءاس لیے پھیلی کہ ایتھنز کے لوگ شہر کے گرداگرد بنے ان چھوٹے چھوٹے قلعوں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے ، جنہیں مورخ ’ طویل دیواروں ‘ کا نام دیتے ہیں۔ سپارٹا جنگ پر حاوی تھا اس لیے ایتھنز کے باسیوں کو ان’ لمبی دیواروں‘ میں لمبے عرصے تک محبوس رہنا پڑا۔ عالموں کا خیال ہے کہ لوگوں میں یہ وباءاس لیے پھیلی تھی کہ ان چھوٹے چھوٹے قلعوں میں لوگ ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے تھے۔ اس وباء کے باوجود جنگ جاری رہی اور یہ 400 قبل از مسیح کے لگ بھگ ہی تب ختم ہوئی تھی جب سپارٹا نے ایتھنز کو اطاعت پر مجبور کر دیا تھا۔
خود حضرت مسیح علیہ اسلام کا زمانہ جذام کی وباء سے جڑا ہے ؛ جذام جس سے صحت یاب کرنے کی طاقت ان کے معجزوں میں سے ایک تھی۔
زمانہ بعد از مسیح۔انتونیئین وباء: بعد از مسیح کے زمانے کی بات کریں تو سب سے پہلے انتونیئین وباءکا ذکر سامنے آتا ہے۔ یہ سن 165ء میں پھیلی اور سن 180 ءتک انسانی جانوں کو ہڑپ کرتی رہی۔ جب رومن فوجیں مہمات سے واپس لوٹیں تو وہ فاتح تو تھیں لیکن ساتھ میں یہ ’ وائرولا ‘ ساتھ لائیں جس سے چیچک جیسی چھوت کی بیماری پھیلی اور وبائ کی شکل اختیار کرتے ہوئے پوری رومن سلطنت میں پھیل گئی۔ اس وبائ میں ہلاکتوں کا اندازہ 50 لاکھ سے بھی تجاوز کرتا ہے۔ کئی مورخ یہ کہتے ہیں کہ اس وباءکے اولین جرثومے وہ رومن فوجی ساتھ لائے تھے جو ’ پارتھیا ‘( موجودہ شمال مشرقی ایران ) فتح کرکے لوٹے تھے۔ ان مورخین کا یہ بھی خیال ہے کہ رومن سلطنت کے زوال کے اسباب میں سے ایک سبب یہ وباءبھی تھی۔
سِپرین وبا ء: تاریخ میں اگلابڑا ذکر ’ سِپرین وبا ئ‘ کا ہے۔ اس وباءکا نام تیونس کے شہر ’ کارتھیج ‘ ایک بشپ ، سینٹ سِپرین ، کے نام پر ہے ، جس نے اس وبائ کے بارے میں یہ کہا تھا کہ اس نے دنیا کا خاتمہ کر دینا تھا۔ اس وباءمیں مرنے والوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف روم میں ہی لگ بھگ پانچ ہزار افراد روز لقمہ اجل بن جاتے تھے۔ ماہرین آثار قدیمہ نے ایسے آثار دریافت کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرنے والوں کو اجتماعی قبروں میں چونے کی موٹی تہہ تلے دفن کیا گیا تھا۔ انہوں نے ایسی جگہیں بھی دریافت کی ہیں ، جہاں چونا تیار کیا جاتا تھا
اور ایسی بھی جہاں اس وبائ کے شکار لوگوں کو اجتماعی طور پر زندہ جلایا گیا تھا۔ ماہرین ابھی تک یہ اندازہ نہیں لگا سکے کہ یہ وبائ کیسے اور کس وجہ سے پھیلی تھی۔ سینٹ سپرین نے یونانی میں اپنی جو یاداشتیں لکھیں ، ان میں ایسا لکھا ملتا ہے ؛

”۔۔۔ ان کے پیٹ سے مسلسل مواد خارج ہوتا رہتا اور ان کے منہ اور داہنوں کے زخموں سے آگ سی نکلتی محسوس ہوتی۔۔۔ “

’ جسٹینین ‘ وبائ : اگلی بڑی وبائ تب پھیلی جب بازنطینی سلطنت اپنے عروج پر تھی اوراس وقت شہنشاہ ’ جسٹینین ‘ کی حکومت تھی۔ اس وبائ کا نام اسی سے منسوب ہے۔ یہ وبائ سن 541 ئ میں پھیلی اور سال بھر اس سلطنت کے لوگوں سے اپنا خراج وصول کرتی رہی۔ اس وبائ میں لوگوں کی بغلوں اور جسم کے دوسرے حصوں، خاص طور گلوں پر گلٹیاں نکل آتی تھیں۔ یہ پِسو?ں سے پھیلی تھی اور بار بار سامنے آتی رہی۔ ماہرین کا اندازہ ہے اس سے ا±س وقت کی دنیا کی دس فیصد آبادی متاثر ہوئی تھی۔ جسٹینین خود بھی اس کا شکار ہوا تھا لیکن بچ گیا ، البتہ بازنطینی سلطنت کو زوال سے نہ روک سکا ، یہ سلطنت جو اس کے زمانے میں مغربی یورپ سے مشرق ِوسطیٰ تک پھیلی ہوئی تھی ایسی رو بہ زوال ہوئی کہ اس بادشاہ کے مرنے تک ، اس کے ہاتھ سے بیشتر علاقے نکل گئے۔

کالی موت ( بلیک ڈیتھ ) : 14ویں صدی کے وسط نے بھی ایک بڑی وبائ کا سامنا کیا ؛ یہ کالی موت کے نام سے مشہور ہے۔ یہ 1346 ئ میں پھیلنا شروع ہوئی اور 1353 ئ تک اس نے یورپ کی آدھی آبادی کا صفایا کر دیا۔ اس سے مرنے والوں کو بھی اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا تھا۔ یہ بھی پسو?ں سے ہی پھیلی اور کہا جاتا ہے کہ یہ ایشیا سے یورپ منتقل ہوئی تھی۔ اس نے یورپ میں یہ تبدیلی رونما کی کہ کام کرنے والے ناپید ہو گئے اور کارکن منہ مانگی اجرت وصول کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں یورپ میں خانہ زاد غلامی (serfdom) بھی ختم ہونا شروع ہوئی اور شاید ایسا بھی ہوا کہ سستی لیبر نہ ملنے پر مشینی ترقی کو شہہ ملی۔

’ کوکولیزٹلی‘ وبائ : دو صدیاں ہی گزری ہوں گی کہ ایک نئی وبائ دنیا میں پھوٹی۔ اس بار ، میکسیکو اور وسطی امریکہ کے لوگ اس کا شکار ہوئے۔ یہ 1545 ئ میں پھوٹی اور 1548 ئ تک اس نے ، اس خطے کے 15 ملین لوگ ہڑپ کر لیے۔ یہ وہ سال ہیں جب میکسیکو اور وسطی امریکہ میں پہلے ہی قحط کی وجہ سے خاصی اموات ہو چکی تھیں۔ یہ وبائ ’ کوکولیزٹلی‘ کے نام سے مشہور ہے ؛ یہ لفظ مقامی میکسیکن زبان ’ ایزٹک‘ میں کیڑے کو کہتے ہیں۔ یہ جراثیم ’ سالمونیلا ‘ سے پھیلی تھی اور اس کی علامات ٹائفائیڈ جیسی تھیں۔ یہ بیماری اب بھی انسانی حیات کے لیے ایک خطرہ ہے۔

امریکی وبائیں : 16ویں صدی میں ہی اوربہت سی وبائیں پھیلیں۔ انہیں ’ امریکی وبا?ں‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ وبائیں ہیں جن کے جراثیم یا وائرس یورپی باشندے شمالی ، وسطی اور جنوبی امریکہ لے کر گئے تھے اور وہاں یہ مقامی لوگوں میں پھیلیں۔ ان میں چیچک اور جذام سمیت دیگر وبائیں بھی تھیں جنہوں نے مغربی نصف کرہ میں موجود ’ اِنکا ‘ اور ’ ایزٹیک ‘ تہذیبوں سے تعلق رکھنے والی مقامی آبادیوں کا یوں صفایا کیا کہ فقط دس فیصد مقامی ہی بچ پائے۔

یہ بیماریاں یورپی آبادکاروں کے حق میں بھی رہیں جیسا کہ 1519 ئ میں ہسپانوی ‘ ایزٹیک ‘ لوگوں پر فتح حاصل کر پائے ، اسی طرح 1532 ئ میں انہوں نے ’ اِنکلی ‘ لوگوں پر فتح حاصل کی۔ بعد میں جب برطانوی ، فرانسیسی ، پرتگالی آباد کار ان علاقوں میں گئے تو انہیں وبائ زدہ مقامیوں کی بہت ہی کمزور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ، اس کے برعکس ہسپانوی مزاحمت کہیں زیادہ تھی۔

لندن وبائ : 17 ویں صدی میں جبکہ برطانیہ ، ساری دنیا میں آبادکار کے طور پر ہر براعظم میں نو آبادیاں کھڑی کرنے کے لیے کمر بستہ ہو چکا تھا تو خود اس کے دارالخلافے لندن میں چوہوں میں پڑے کیڑوں سے وہ وبائ اٹھی ، جس میں لگ بھگ ایک لاکھ اموات ہوئیں ، جن میں لندن کی پندرہ فیصد آبادی بھی شامل تھی۔ اس وبائ سے بچنے کے لیے ، بادشاہ چارلس۔ دوم سمیت بہت سے لوگ لندن چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ یہ وبائ اپریل 1665 ئ میں پھیلی تھی جس کا خاتمہ 2 ستمبر 1666 ئ کو لندن میں لگی آگ ، جو چار روز تک نہ بجھ سکی تھی ، کے بعد ہی ہوا۔

مارسیلز وبائ : اگلی صدی ، مطلب 18 ویں صدی چڑھی اور ابھی اس کی دوسری دہائی ہی ختم ہوئی تھی کہ 1720 ئ میں فرانس کا شہر ، مارسیلز ، قابو میں آ گیا۔ ہوا یوں کہ ایک بحری کارگوجہازمشرقی بحیرہ روم سے سامان لے کر آیا ، گو اسے الگ تھلگ رکھا گیا تھا پھر بھی اس کے ساتھ آئے جرثوموں سے بھرے چوہے شہر میں گھس گئے اور انہوں نے شہر میں وبائ پھیلا دی۔ ایک اندازے کے مطابق مارسیلزاور اس کے گرد و نواح میں لگ بھگ ایک لاکھ اموات ہوئیں جن میں مارسیلز کی تیس فیصد آبادی بھی شامل تھی۔

روسی وبائ : اسی صدی کی 7 ویں دہائی ماسکو ، روس میں ، وبائ لائی۔ یہ 1770 ئ کا سال تھا ؛ لوگوں کو گھروں میں رہنے اور گرجا گھروں میں اکٹھے نہ ہونے کا فرمان جاری ہوا۔ ساتھ ہی یہ فرمان بھی جاری کیا گیا کہ ماسکو سے تمام فیکٹریاں باہر نکال دیں جائیں۔ اس وقت کیتھرین۔ دوم روس کی ملکہ تھی۔ شہر میں فسادات شروع ہو گئے اور آرچ بشپ’ ایمبروسیس ‘ جو لوگوں کو گرجا گھروں سے دور رہنے کی تلقین کر رہا تھا ، قتل کر دیا گیا۔ اندازہ ہے ماسکو میں پھیلے اس طاعون میں بھی لگ بھگ ایک لاکھ لوگ جان سے گئے تھے۔ 1773 ئ میں امن و امان بحال کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات میں مرنے والوں کی تعداد اس کے علاوہ تھی۔

زرد بخار فیلیڈلفیا : 1793 ئ کا سال فیلیڈلفیا ، امریکہ پر بھاری گزرا اور وہاں ” زرد بخار ” نے اَت مچایا۔ فیلیڈلفیا اس وقت امریکہ کا صدر مقام تھا۔ زرد بخار مچھروں کی وجہ سے پھیلا تھا۔ اس برس سردیاں آنے تک لگ بھگ پچاس ہزار گورے جان سے گئے تھے۔ اوریہ خیال کیا گیا تھا کہ سیاہ فام غلاموں پر اس کا اثر کم تھا ، یوں امریکہ میں پہلی بار سیاہ فام نرسیں رکھی گئی تھیں۔

” فلو ” کی پہلی عالمی وبائ : 1889 ئ میں ’ فلو‘ پوری دنیا میں پھیلا۔ اس کی بڑی وجہ صنعتی ترقی ، ریل کا نظام اور سڑکوں کے ذریعے باربرداری و مسافروں کی آمدورفت تھی۔ 1890 ئ کے اوآخر تک یہ عالمی وبائ لگ بھگ دس لاکھ لوگوں کو نگل چکی تھی۔ فلو کے اولین شواہد ’ سینٹ پیٹرزبرگ ‘ میں ملے ، جو اگلے پانچ ہفتوں میں یہ وبائ کے طور پر پورے روس ، یورپ اور باقی دنیا میں پھیل چکے تھے۔ یاد رہے کہ ابھی ہوائی جہاز ایجاد نہیں ہوا تھا۔

پولیو کی وبائ : 1914 ئ میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تھی جس میں امریکہ1917 ئ تک شامل نہیں ہوا تھا۔ اسے البتہ اندرون ملک ایک وبائ کا سامنا کرنا پڑا جو 1916 ئ میں پھرپور طریقے سے سامنے آئی۔ یہ پولیو کی وبائ تھی۔ صرف نیویارک ہی میں اس سے 27000 لوگ متاثر ہوئے اور لگ بھگ 6000 افراد جان سے گئے تھے۔ 1954 ئ تک یہ وبائ بار بار پھیلی یہاں تک کہ 1921 ئ میں امریکی صدر روزویلٹ بھی اس سے متاثر ہوا تھا۔ 1954 ئ میں ’ سالک ‘ ویکسین کے ایجاد ہونے پر امریکہ کواسے ، اپنے ہاں ، سے ختم کرنے میں 25 سال لگے تھے۔

” فلو ” کی دوسری عالمی وبائ : امریکہ میں پھیلی پولیو کی وبائ کے دو سال بعد ہی ، یعنی 1918 ئ میں یورپ سے ’ فلو‘ ایک وبائ پھوٹی جو دو سال تک دنیا بھر کو متاثر کرتی رہی۔ امریکہ اس سے پہلے 1917ئ میں پہلی عالمی جنگ میں کود چکا تھا اور اس کے لگ بھگ چالیس لاکھ فوجی جرمنی اور اس کے ساتھیوں کو زیر کرنے کے لیے یورپ میں آ موجود ہوئے تھے۔ ادھر جنگ ختم ہو رہی تھی اور دنیا بھر سے آئے فوجی اپنے وطنوں کو لوٹ رہے تھے۔ ایسے میں یورپ میں کہیں ’ فلو ‘ ایسے پھیلا کہ یہ جنوبی سمندروں سے قطب شمالی تک جا پہنچا۔ ایک اندازے کے مطابق اس سے لگ بھگ 500 ملین لوگ متاثر ہوئے ، جن میں سے کم و بیش 100 ملین تو جان بحق ہو گئے تھے اور اس میں کچھ چھوٹی قومیتیں ایسی تھیں جو کہ صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئیں۔ اتنی بڑی ہلاکتوں کی ایک بڑی وجہ فوجی تھے، جن کی قوت مدافعت جنگ کے دوران ناقص غذا اور دیگر جنگی عوامل کے باعث پہلے ہی کم ہو چکی تھی۔
یہاں یہ بات جاننا اہم ہے کہ اسے ہسپانوی فلو کا نام تو دیا گیا لیکن یہ غالباً وہاں سے شروع نہیں ہوا تھا کیونکہ سپین پہلی جنگ عظیم میں کسی بھی فریق کے ساتھ نہیں تھا اور غیر جانبدار رہا تھا۔ اس فلو کو 1918 ئ کا فلو کہنا زیادہ مناسب ہو گا ، جس کے اولین اثرات بیک وقت یورپ ، ایشیا کے کچھ خطوں اور امریکہ میں دیکھے گئے تھے۔ گو سپین بھی اس سے متاثر ہوا تھا لیکن یہ وہاں سے شروع نہیں ہوا تھا۔

” فلو ” کی تیسری عالمی وبائ :1957 ئ میں ’ انفلوئینزا ‘ کی ایک وبائ اور پھوٹی جسے ’ ایشین فلو ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ بھی لگ بھگ دو سال تک جاری رہی۔ یہ سب سے پہلے فروری 1957 ئ میں سنگاپور میں پھیلی ، پھر اپریل میں ہانگ کانگ اس سے متاثر ہوا اور پھر اسی برس گرمیوں میں یہ امریکہ کے ساحلی علاقوں تک جا پہنچا۔ اس سے ہلاکتوں کا تخمینہ 11 لاکھ لگایا جاتا ہے جس میں ایک لاکھ سے زائد اموات تو صرف امریکہ میں ہوئیں۔ یہ فلو ’ ایوین فلو وائرسوں ‘ کے امتزاج سے پھیلا تھا اور اس کے کیرئیر پولٹری فارموں میں پرورش پانے والی مرغیاں تھیں۔

” ایڈز ” کی عالمی وبائ : پچھلی صدی کی 8 ویں دہائی کا آغاز ’ ایڈز ‘ کی عالمی وبائ سے ہوا۔ اسی سال HIV وائرس کا پتہ چلا تھا اور اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ بندروں کی قسم ’ چمپینزی ‘ میں اس صدی کی تیسری دہائی (1920s) میں مغربی افریقہ میں پیدا ہوا تھا۔ ایڈز 1981 ئ سے اب تک 35 لاکھ لوگوں کی جان لے چکی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق افریقہ میں صحارا کے صحرائی علاقوں میں رہنے والوں میں نصف سے زیادہ آبادیHIV+ ہے ، اس کے علاوہ دنیا بھر میںHIV+ لوگ موجود ہیں۔ اس کی کوئی ویکسین تاحال ایجاد نہیں ہو سکی ، البتہ کچھ دوائیاں ایسی بن چکی ہیں جن کے باقاعدہ استعمال سے بندہ عمومی زندگی گزار سکتا ہے۔ ان دوائیوں کے استعمال سے مارچ 2020 ئ تک فقط دو افراد ہی مکمل طور صحت یاب ہو پائے ہیں۔

” فلو ” کی چوتھی عالمی وبائ : 2009 ئ میں ’سوائن فلو ‘ کی عالمی وبائ پھیلی۔ یہ میکسیکو میں موسم بہار میں شروع ہوئی اور ایک سال کے اندر انرر اس وائرس ’ H1N1 ‘ نے دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگوں کو متاثر کیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد رہی ، جبکہ ایک دوسرے اندازے کے مطابق یہ تعداد کم از کم ڈیڑھ لاکھ ہے۔ اس فلو نے سب سے زیادہ اثر بچوں اورجوانوں پر کیا اور مرنے والوں میں لگ بھگ 80 فیصد ایسے لوگ تھے جن کی عمر 65 برس سے کم تھی۔ اس وائرس کی ویکسین دریافت ہو چکی ہے اور یہ اس ‘ فلو ویکسین ‘ میں شامل ہے جو سال میں ایک بار لگوائی جاتی ہے۔

” ایبولا ” وبائ : 2014 ئ میں مغربی افریقہ میں ’ ایبولا ‘ وبائ پھیلی جو دو سال تک پھیلی رہی۔ اس میں لگ بھگ 50ہزار لوگ متاثر ہوئے جن میں سے 11ہزار سے زائد لوگ جان سے گئے تھے۔ پہلا کیس گنی بسا? میں رپورٹ ہوا تھا ، بعد ازاں یہ لائیبریا اور سیرا لیون میں یہ وائرس تیزی سے پھیلا۔ کچھ کیس نائیجریا ، مالی ، سینی گال ، امریکہ اور یورپ میں بھی پائے گئے۔ ایبولا سب سے پہلے کانگو اور سوڈان میں 1976 ئ میں سامنے آیا تھا۔ تاحال اس کی کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہو سکی۔

” زیکا ” وبائ : 2015 ئ میں ایک اور وائرس سامنے آیا ، اسے ’ زیکا ‘ وائرس کی وبائ کا نام دیا گیا۔ اس کا آغاز جنوبی اور وسطی امریکہ سے ہوا تھا جس کے بارے میں سائنس دانوں کو 2015 ئ میں ہی پتہ چل سکا تھا۔ یہ مچھروں کی ایک خاص قسم ’ Aedes aegypti ‘ ( جسے ہم ڈینگی کے نام سے جانتے ہیں ) سے پھیلا۔ اس کی بھی ، کوئی ویکسین تاحال نہیں بن سکی۔ یہ مچھر جنوبی ، وسطی اور شمالی امریکہ کے جنوبی حصوں سے نکل کردنیا کے ان تمام علاقوں میں پھیل چکا ہے جو گرم مرطوب ہیں یا ان کے موسموں میں کچھ ماہ گرم مرطوب ہوتے ہیں۔ یہ وبائ تاحال قابو میں نہیں ہے ، البتہ مچھر کی اس قسم کو تلف کرنے کوششیں کی بہر حال جاری ہیں۔ عام طور پر یہ وائرس اس خاص قسم کے مچھر کے کاٹے سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ ایسا بندہ جو وائرس زدہ ہو اسے جنسی اختلاط سے پرہیز کرنا چاہیے ورنہ یہ ’ پارٹنر‘ میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

پاکستان ، جو کبھی برصغیر ہندوستان کا حصہ تھا ، اس میں بلکہ ہندوستان کی بھی ، وبا?ں کے حوالے سے ایک ٹائم لائن ہو گی اور یہاں بھی گاہے بگاہے وبائیں پھیلی ہوں گی۔ میرے پاس یہ ڈیٹا نہیں ہے لیکن ایک دو موٹی موٹی باتیں میرے پیش نظر ہیں: ایک تو یہ کہ ‘ ملیریا ‘ اس خطے میں بار بار پھیلا ہو گا اسی طرح ‘ ہیضہ ‘ و ‘ ٹی بی ‘ بھی لیکن بنگال کا 1942 ئ کا قحط ، جو انگریز سرکار کا پیدا کردہ تھا ایک اہم سانحہ تھا ؛ اس سرکار نے سارا چاول و دیگر ساری اجناس اس لیے ذخیرہ کر لیں تھیں کہ انگریز دوسری عالمی جنگ میں ’ اتحادیوں‘ کا سربراہ تھا اور جرمن ہٹلر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف لڑ رہا تھا اور اسے اپنی اور اپنے اتحادیوں کی افواج کے لیے اجناس کی ضرورت تھی۔ یہ قحط 1943ئ تک تیس لاکھ ہندوستانی ، جن میں بنگالی کثرت سے تھے ، بھوک ، ہیضے اور اس جیسی بیماریوں کے ہاتھوں مر گئے تھے۔ اس پر کیا لکھا گیا اور کیا نہیں ؛ مجھے اس کا اندازہ نہیں لیکن مجھے مصور ’ زین العابدین ‘ (دسمبر 1914 ئ تا مئی 1976ئ ) یاد ہیں جنہوں نے اس قحط اور اس سے پھیلنے والی وباﺅں کو اتنے ہی بھیانک انداز میں مصور کیا تھا ، جتنا بھیانک یہ سانحہ تھا۔
مجھے ہیضہ ( کالرا ) کے بارے میں یہ بھی پتہ ہے کہ یہ لاہور میں بھی کئی بار پھیلا۔ 1882 ئ میں لاہور میں پھیلے ہیضے کے قصے تو میں نے اپنے والد سے سنے جو انہیں میرے دادا نے سنائے ہوں گے ( اس سے پہلے یہ کب اور لاہور کے علاوہ کہاں کہاں پھیلا ، مجھے معلوم نہیں ہے )۔ مجھے پاکستان بننے کے بعد ’ والٹن ‘ ، لاہورکے مہاجر کیمپ سے پھیلنے والے اس ہیضے کا بھی پتہ ہے جو ناقص غذا کی سپلائی کی وجہ سے پھیلا تھا اور جس میں میری اپنی دو پھوپھیاں بھرپور جوانی میں فوت ہو گئی تھیں ؛ ان کی شادیاں طے ہو چکی تھیں اور اگر وہ اس ہیضے کی وبائ میں فوت نہ ہوتیں تو ایک دو ماہ میں سہاگن ہو چکی ہوتیں۔ یہ سب میری والدہ نے مجھے خود بتایا تھا اور میرے پاس ان کے جنازوں کی تصاویر خاندانی البم میں محفوظ ہیں۔

پاکستان میں پھیلی پولیو کی وبائ کا تو میں خود 1954 ئ میں شکار ہوا تھا جب میں فقط نو ماہ کا تھا اور میں نے پا?ں پا?ں چلنا شروع کر دیا تھا ؛ میری ماں کا کہنا تھا کہ مجھے نظر لگ گئی تھی ، اسی لیے مجھے ٹائفائیڈ ہوا اور اس نے میرے بائیں حصے پر اثر ڈالا تھا۔ بھلا ہو ، ڈاکٹر انور سجاد کے والد ڈاکٹر دلاور حسین کا جن کے بروقت علاج سے یہ اثر صرف میری بائیں ٹانگ تک ہی محدود رہا۔ یاد رہے کہ ’ سالک ‘ ویکسین اسی برس ایجاد ہوئی تھی لیکن یہ ابھی پاکستان میں دستیاب نہیں تھی۔

اس وقت ہم کرونا۔ آئی ڈی 19 کی عالمی وبائ کا سامنا کر رہے ہیں ؛ اس مضمون کو لکھتے وقت ، پاکستان میں اس وبائ سے چھ ہزار لوگ متاثر ہیں اورسو افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں ، جبکہ دنیا بھر میں بیس لاکھ لوگ اس سے متاثر ہیں اور اب تک ایک لاکھ بیس ہزارافراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ وائرس اب تک تین شکلیں اختیار کر چکا ہے ؛ ‘ اے ‘ ، ‘ بی ‘ اور ‘ سی ‘۔ کہیں ‘ A ‘ قاتل ہے جیسے امریکہ میں ، کہیں ‘ B ‘ ہلاکتوں کا موجب ہے جس نے چین کو سب سے زیادہ متاثر کیا اور کہیں ‘ C ‘ پنجے گاڑے ہوئے ہے ؛ ہم غالباً کرونا۔ آئی ڈی 19 ٹائپ C کا شکار ہیں۔ اس عالمی وبائ سے متاثرین کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اورہلاکتیں بھی ہر دن بڑھ رہی ہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں چھوٹی موٹی کئی وبائیں تو دیکھی ہوں گی لیکن ڈینگی کی وبائ کے بعد یہ دوسری عالمی وبائ ہے جو میں نے دیکھی ہے۔ اور شاید میرے بعد کی دیگر نسلوں نے بھی اس طرح کی وبائ کا سامنا پہلی بار کیا ہے۔ ان نسلوں میں سے اکثرپڑھے لکھے میرے ساتھ متفق ہیں اور یقیناً آپ بھی اتفاق کریں گے کہ اگر پاکستان بننے کے بعد یہاں کی حکومتیں فوجی طاقت بڑھانے کی بجائے ’ تعلیم ‘ ، ’ صحت ‘ اور ’ سماجی علوم‘ جیسے میدانوں میں جامع اور ٹھوس اقدامات اٹھاتیں اور مالی وسائل کے استعمال میں ان میدانوں کو ترجیح دیتیں تو قدرتی اور انسانی غلطیوں سے پھیلی آفات کا مقابلہ زیادہ بہتر طور پر کیا جا سکتا تھا۔
ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ اگر اب بھی مقتدر طبقات اپنی ترجیحات بدل کر ’ تعلیم ‘ ، ’ صحت ‘ اور ’ سماجی علوم ‘ پر مالی وسائل کا بڑا حصہ خرچ کرنا شروع کر دیں تو آنے والی نسلوں کے لیے بہتری کا سامان پیدا ہو سکتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*