تازہ ترین

بیسویں صدی کا بغداد اور کرونا کا ہلاکو

تحریر : مسز جمشید خاکوانی
(گذشتہ سے پیوستہ)اس نے کہا میں وائل قبیلے کے مورث اعلی کو مار کے آیا اس کے باپ نے چند اشعار پڑھے جن کا مطلب تو اپنے قبیلے کے لیے کوئی اچھی چیز نہیں لایا تم نے ایک جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے حالانکہ تو تنہا اس فعل کا ذمہ دار ہے اس نے جساس کو زنجیروں میں جکڑ کر تغلب کے حوالے کرنے کا ارادہ بھی کیا مگر بسوس کے اشعار کام کر گئے جساس کے ساتھیوں نے ایک اونٹ زبح کر کے اس کے خون پر قسم کھائی یوں اس جنگ کا آغاذ ہوا جو چالیس سال جاری رہی بعض اوقات انانیت جنون میں بدل جاتی ہے اور قوموں کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہے اسی جہالت کو ختم کرنے کے لیے اسلام میں رواداری تحمل اور بھائی چارے کا درس دیا گیا لیکن مسلمان یہ کب یاد رکھتے ہیں۔
اس فلسفے کو بھول کر عیش و عشرت کی زندگی کو ہی ترقی سمجھتے ہیں جب سقوط بغداد ہوا اس سے زیادہ ترقی یافتہ خطہ روئے زمین پر نہ تھا دور دور سے لوگ کھچے چلے تے تھے حرف و صنعت کے دریا بہتے تھے لوگوں کے پاس وقت ہی وقت تھا لوگ مجسمے بناتے شاعری کرتے بٹیر لڑتے شطرنج کھیلتے سر شام روشنیا جل جاتیں جھیلوں میں سجی ہوئی کشتیاں چلتیں جن میں امرا بیٹھ کر اپنی خوبصورت محبوباﺅں اور لونڈیوں کے ساتھ داد عیش دیتے سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے کھائے جاتے علم اور علما کی بھی کمی نہ تھی کتابیں انی تھیں کہ جب ہلاکو نے دریا میں پھینکوائیں دجلہ کا پانی سیاہ پڑ گیا اور جب اس نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا دجلہ کا پانی سرخ ہو گیا کہتے ہیں ہلاکو لشکر لے کر رہا تھا تب بھی علما یہ بحث کر رہے تھے کوا حلال ہے یا حرام ؟ یہ ضرب المثل بن چکی ہے خلیفہ کے آگے کھانے کے لیے ہیرے جواہرات رکھے گئے اس نے کہا یہ میں کیسے کھا سکتا ہوں ؟تو ہلاکو نے کہا تب یہ جمع کیوں کیے تھے ؟اپنے سپاہیوں کو کیوں نہ دیے جو آج تمھارے لیے لڑتے گویا اس نے ان کو اپنے دفاع سے غافل قوم قرار دیا جو لوگ آج سوال اٹھاتے ہیں کہ ایف سکسٹین کی قیمت میں کتنے وینٹی لیٹر آسکتے تھے حالانکہ ملکی دفاع سب سے مقدم ہوتا ہے۔
حضور کی رحلت کے وقت بھی گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا مگر دیوار پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں وہ یہ سوال کیوں نہیں کرتے کہ میٹرو اور اورنج لائن ٹرین کی قیمت میں کتنے ہسپتال جدید مشینری سے لیس ہو سکتے تھے کتنے وینٹی لیٹر آسکتے تھے بھارت کے بزنس ٹائیکون مکیش امبانی نے ایک پورا ہسپتال وقف کیا ہے ایک لاکھ ماسک ڈیلی مہیا کر رہا ہے کروڑوں اربوں کی امداد دے رہا ہے جب کہ ہمارے بزنس ٹائیکون دور دور تک نظر نہیں رہے یا خود کو بچا رہے ہیں یا میڈیا کو یا پھر کرونا کے لیے وقف فنڈپر رال ٹپکا رہے ہیں پاکستان بھی بغداد کی طرح بہت ترقی کر چکا تھا نا ؟گو یہ ترقی صرف لاہور تک محدود تھی لیکن ج یہ محلات ،یہ زیورات یہ پلاٹ زمینیں جائیدادیں برانڈڈ لباس سب ہمارے لیے بیکار ہیں ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ دفن کے لیے دو گز زمین بھی میسر ہوگی یا نہیں کرونا ایک ہلاکو کی طرح ہمارے عیش و عشرت اور ترقی پر ٹوٹ پڑا ہے اور ہمیں کہیں جائے امان نہیں مل رہی نہ امیر کو دیکھتا ہے نہ غریب کو نہ گورے کو نہ کالے کو نہ پڑھے لکھے کو نہ جاہل کو یہ عجب تماشہ ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں لاکھوں روپے فیس لینے والے پرائیویٹ سکول جو اپنی فیس گھٹانے پر تیار نہیں تھے اب بند پڑے ہیں ملیں فیکٹریا جن میں فرعون بیٹھا کرتے تھے اب اپنے ہاتھوں بند کر کے نقصان اٹھا رہے ہین مگر بے بس ہیں۔
پاکستان کے پاسپورٹ کو حقارت کی نظر سے دیکھنے والے ترقی یافتہ ممالک آج انہی پاکستانیوں کے شکر گذار ہیں جو انہی کے ملکوں میں انہی کے شہریوں کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر امداد مہیا کر رہے ہیں کیونکہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتا نون لیگ اور پیپلز پارٹی لاکھ ڈرامے کر لے حقیقت یہ ہے کہ سندھ حکومت اپنے غریب شہریوں کو ابھی تک راشن تک نہیں پہنچا سکی نہ کوئی طبی سامان مہیا کیا گیا ٹیسٹنگ کٹس کے نام پر جو ڈرامہ میڈیا کی مدد سے رچایا گیا وہ خود ان کے گلے میں فٹ ہونے والا ہے سندھ نے لاک ڈاﺅن کیوں کیا صرف مرکزی حکومت کو دباﺅ میں لانے کے لیے یہ لاک ڈاﺅن سندھ کے دیہی علاقوں میں تو ہو ہی نہیں سکتا عمران خان نے اس لیے مکمل لاک ڈاﺅن کی مخالفت کی ہے یہ جزوی لاک ڈاﺅن بہتر ہے چلو لاک ڈاﺅن ہو جاتا ہے تو ہو گا کیا ساری فیکٹریاں بند جو مال فیکٹریوں میں تیار ہوتا ہے پورے ملک کو جاتا ہے ریفائینز بند تو پورے ملک کو تیل کی سپلائی معطل ہو جائے گی خوراک کی قلت ہو جائے گی ڈبوں کا دودھ اجناس دالیں چاول آٹا اور دوسری ضروری چیزیں سب کی قلت ہو جائے گی جب سامان خوردنوش کی قلت ہو گی تو لوگ کرفیو توڑ کر حکومت کے خلاف باہر آ جائیں گے معیشت بیٹھ جائے گی درامدات اور برامدات ختم ہو جائیں گی اور یوں حکومت خود مجبور ہو جائے گی گھر چلی جائے اور پھر سیاست شروع ہو گی جو ہو رہی ہے خدا کے لیے عمران خان کرفیو مت لگانا جو سیاستدان اور میڈیا پرسن کرفیو کرفیو کر رہے ہیں یہ کرفیو یہ خود پر کیوں نہیں لگاتے نہ نکلیں باہر انکی ضرورت کس کو ہے۔
یہ قوم کی بھلا کیا مدد کر رہے ہیں وہ ملک ریاض جو ہر پرابلم میں آگے ہوتا تھا اب کہاں ہے اس لیے کہ اب بدلے میں دس گنا زیادہ ملنے کی امید نہیں۔الیکشن کے دنوں میں کروڑوں صرف اپنے بوتھوں اور جھنڈیوں پر لگانے والے آج ایک پیسہ قوم پر لگانے کو تیار نہیں اپنے کسی حلقے میں لوگوں کو خالی دلاسہ تک دینے نہیں گئے کم از کم راشن تو عام سفید پوش دمی بھی بانٹ دیتا ہے ایک سندھی وڈیرہ اپنے ملازم کو لائف بوائے کی ایک ٹکیہ دے کر بھی تصویر بنوا رہا تھا یہ تو حال ہیں ان کے اور مطالبہ ہے بس کرفیو لگا دو تاکہ ساٹھ فیصد دیہاڑی دار طبقہ بھوکوں مر جائے انڈسٹری جس کو حکومت نے بڑی مشکل سے کھڑا کیا ہے دوبارہ بیٹھ جائے یہ ملک کے مفاد کا نہیں سوچ رہے ان کے پیٹ میں مروڑصرف کرفیو کا ہے ابھی کرونا سے صرف چند لوگ مرے ہیں اگر سعید غنی ٹھیک ہو سکتا ہے تو اسی دوا سی دوا سے عوام کیوں نہیں ٹھیک ہو سکتی؟تھر میں سینکڑوں بچے بھوک سے مر گئے سندھ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اب بیرونی امداد بٹورنے کے لیے بڑا عوام کا درد اٹھ رہا ہے کچھ خدا کا خوف کرو ،اب ٹائیگر فورس پر بھی اعتراض ہے فوج بھی الگ رہے بس سارے فنڈ ان کے ہاتھ پر رکھ دو یہ کھائیں ریکارڈ کو آگ لگائیں اور باہر جا بیٹھیں ،بخشو بی بلی چوہا لنڈوروا ہی بھلا !۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*