تازہ ترین

ریلیف کی فراہمی مکمل میرٹ پر یقینی بنائی جائے گی، وزیراعظم

اسلام آباد(این این آئی) وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ملک کے تمام صوبوں سے کورونا سے متاثرہ مریضوں، ہسپتالوں میں سہولیات، ٹیسٹنگ کٹس، وینٹی لیٹرز کی دستیابی وغیرہ سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل مزید منظم کیا جائے اور اس سلسلے میں کورآڈینیشن کو مزید مستحکم بنایا جائے،ضلعی انتظامیہ، سیاسی قیادت اور رضا کاروں کے مربوط نیٹ ورک کے قیام کا مقصد ملک کے طول و عرض میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، ریلیف کی فراہمی مکمل میرٹ پر یقینی بنائی جائے گی اور اس ضمن میں کسی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک کی شکایت برداشت نہیں جائے گی جبکہ وزیراعظم کو بتایاگیا ہے کہ بہت جلد ملک میں کل بتیس لیبارٹریوں کی موجودگی کا ٹارگٹ حاصل کر لیا جائے گا، ایک لاکھ بیانوے ہزار ٹیسٹ کٹس (آج) بدھ کو پاکستان پہنچ جائیں گی،مجموعی طور پر تقریبا دو لاکھ اسی ہزار کٹس دستیاب ہوں گی۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کی روک تھام، تشخیص کے لئے سہولیات، موجودہ صورتحال میں صنعتی عمل کی روانی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات، حکومت کی جانب سے اقتصادی پیکیج، بنیادی اشیائے ضروریہ کی رسد و ترسیل، ایگریکلچر کے شعبے کے حوالے سے اقدامات اور نیشنل کوارڈنینشن کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہواجس میں وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹینٹ جنرل محمد افضل و دیگر شریک ہوئے ۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے وزیرِ اعظم کو کورونا وائرس کی تشخیص کے لئے لیبارٹریز کے قیام، ٹیسٹنگ کٹس کی دستیابی و غیرہ جیسے معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ 13مارچ تک ملک بھر میں کورونا وائرس کی 14لیبارٹریز موجود تھیں،ملک میں بیس لیبارٹریاں مکمل طور پر فعال ہیں۔ مزید بارہ قائم کی جا رہی ہیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بہت جلد ملک میں کل بتیس لیبارٹریوں کی موجودگی کا ٹارگٹ حاصل کر لیا جائے گا۔ ٹیسٹنگ کٹس کی دستیابی کے حوالے سے بتایا گیا کہ چائنا سے پہلی کھیپ میں ستاون ہزار ٹیسٹ کٹس منگوائی گئیں۔ بعد ازاں بیس ہزار اور مزید دس ہزار منگوائی گئیں۔ ایک لاکھ بیانوے ہزار ٹیسٹ کٹس (آج) بدھ پاکستان پہنچ جائیں گی۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریبا دو لاکھ اسی ہزار کٹس دستیاب ہوں گی۔ مختلف صوبوں میں ٹیسٹ کٹس، وینٹیلیٹرز و دیگر آلات کی دستیابی کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے ہسپتالوں کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے گا کہ ان ہسپتالوں میں کورونا وائرس سے متعلقہ مریضوں کے لئے بیڈز کی ایک مخصوص شرح اور سہولیات مختص کی جائیں۔ وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے کہا کہ کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ اور روک تھام کے حوالے سے دیگر ممالک کے تجربات کا بھی بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ملک کے تمام صوبوں سے کورونا سے متاثرہ مریضوں، ہسپتالوں میں سہولیات، ٹیسٹنگ کٹس، وینٹی لیٹرز کی دستیابی وغیرہ سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل مزید منظم کیا جائے اور اس سلسلے میں کوراڈینیشن کو مزید مستحکم بنایا جائے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے مختلف شہروں میں کہ جہاں کورونا کا خطرہ زیادہ ہے وہاں اسپرے کیے جانے کے حوالے سے تفصیلات بھی وزیر اعظم کو پیش کیں۔ وزیرِ برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے ملک بھر میں ضروری صنعتوں کی روانی کو یقینی بنانے کے لئے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی طور پر بریفنگ دی۔ مشیر خزانہ نے معیشت کی روانی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے 1200ارب روپے پر مشتمل اقتصادی پیکیج پر عمل درآمد کی تفصیلات پیش کیں۔ ایگری کلچر کے شعبے کے فروغ کے لئے تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جی آئی ڈی سی کے حوالے سے حکومتی فیصلے کے نتیجے میں پہلے ہی فرٹیلائزرز کی قیمتوں میں چار سو روپے تک کمی آ چکی ہے۔ اس حوالے سے مزید اقدامات زیر غور ہیں۔ معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے نیشنل کوارڈینشن کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عوام الناس کو ہر پہلو سے مکمل طور پر باخبر رکھا جائے تاکہ کسی بھی معاملے پر کوئی غلط فہمی یا ابہام کی صورتحال نہ پیدا ہو۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، سیاسی قیادت اور رضا کاروں کے مربوط نیٹ ورک کے قیام کا مقصد ملک کے طول و عرض میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا کہ ریلیف کی فراہمی مکمل میرٹ پر یقینی بنائی جائے گی اور اس ضمن میں کسی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک کی شکایت برداشت نہیں جائے گی۔اجلاس کے بعد یہاں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر اوروزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفرمرزااور وفاقی وزیر حماد اظہر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔حماد اظہر نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے کروناوائرس کی وباءسے نمٹنے کیلئے جس ریلیف پیکج کا اعلان کیاتھا اس پرعمل درآمد کاآغازکیاگیاہے، گزشتہ روزاقتصادی رابطہ کمیٹی نے خصوصی اجلاس میں اس کی منظوری دی ہے، یہ پیکج معاشرے کے کمزورطبقات اوران صنعتوں کیلئے اہمیت کاحامل ہے جوکرونا وائرس کی وباءکی وجہ سے متاثرہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پیکج کے تحت قرضوں اورسودکی ادائیگی میں 6 ماہ تاخیرکی سہولت دی گئی ہے، مستحقین کی تعدادکوبڑھا کرایک کروڑ20 لاکھ کردیاگیاہے جنہیں کفالت پروگرام اورضلعی انتظامیہ کی سفارش پر نقد امداددی جائیگی، نقدامداد 4 ماہ تک کے عرصہ کیلئے دی جائیگی ۔انہوں نے بتایا کہ پیکج کے تحت صنعتی شعبے کے یومیہ مزدوروں کیلئے نقد مالی معاونت کے ضمن میں 200 ارب روپے رکھے گئے ہیں ،کیش امداد یومیہ اجرت کرنے والے ان مزدوروں کودی جائیگی جو کروناکی وباءسے بے روزگارہوچکے ہیں، ہ اس کیٹگری میں 30 لاکھ ورکرز کا اندازہ ہے جنہیں 17500 روپے ماہانہ کی شرح سے ادائیگی کی جائیگی ۔انہوں نے بتایاکہ معاشرے کے کمزوراورکم آمدنی والے طبقات کواشیائے خوردنوش رعایتی نرخوں پرفراہم کرنے کے ضمن میں یوٹیلیٹی سٹورزکارپوریشن کیلئے پیکج میں 50 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ حماداظہرنے کہاکہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین،جوکل صارفین کا 70 فیصدہے، کوبلوں کی ادائیگی میں تین ماہ کی سہولت وزیراعظم کے پیکج میں شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ پیکج میں کروناوائرس کے نتیجہ میں متاثرہونے والی صنعتوں کیلئے خصوصی ترغیبات اورمراعات کااعلان کیاگیاہے، جن میں سیلزٹیکس وانکم ٹیکس ری فنڈز، ڈیوٹی ڈرابیک، اورکسٹمز ڈیوٹیز کی مد میں 10 سال سے زیرالتواءادائیگیوں کو یقینی بنانے کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیوکیلئے 75 ارب روپے ، گرانٹ ٹیکسٹائل کے برآمدکنندگان کوڈیوٹی ڈرابیک کی مدمیں فنڈز کی فراہمی اوردیگر ترغیبات شامل ہیں۔وفاقی وزیرنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ صنعت کاراپنے ملازمین بالخصوص یومیہ اجرت پرکام کرنے والے مزدوروں کاخیال رکھیں اوروہ بے روزگاری کاشکارنہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ہماراہدف ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے نہ صرف پیداوارکاعمل جاری رہے بلکہ ان کی بلارکاوٹ ترسیل اورفراہمی کوبھی یقینی بنایا جائے، گزشتہ تین چارروز سے ہمارا تمام صوبائی چیف سیکرٹریز کے ساتھ ویڈیولنک کے ذریعے رابطہ ہوتاہے اورمشاورت کے ساتھ فیصلے کئے جارہے ہیں ، ہم نے اتفاق رائے سے نہ صرف تیارکنندگان بلکہ ریٹیل کی سطح پرفہرستیں تیارکی ہیں تاکہ ضروری اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔حماداظہر نے کہاکہ کرونا کے خلاف جنگ میں ہم سب ایک صفحہ پرہے، ہماری کوشش ہے کہ پیداواری عمل جاری رہے اورصنعتوں کو نہ صرف خام مال کی فراہمی بلکہ وہاں ہنرمندوں اوردیگرافرادی قوت تک پہنچانے کو بھی یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہاکہ سندھ میں مزدوروں اورہنرمندوں کو پیداواری یونٹوں تک پہنچنے کی بعض شکایات موصول ہوئی تھیں جس پرصوبائی حکومت سے رابطہ کیاگیا اورصوبائی حکومت اورانتظامیہ نے یہ مسائل فوری طورپرحل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں اناج کی قلت نہیں ہے، حکومت صورتحال پرپوری نظررکھے ہوئی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*