تازہ ترین

آئی ایم ایف کا پا کستا ن کی مد د کا عند یہ

عا لمی ما لیا تی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے اعلا ن کیا ہے کہ کو رو نا وا ئر س کے معیشت پر پڑ نے وا لے منفی اثر ات کے تنا ظر میں آئی ایم ایف کی ریپڈفنا نسنگ انسرومنٹ سہو لت کے تحت اسلا م آبا د کی جا نب سے زرمبادلہ کے ذخا ئر بڑ ھا نے اور بجٹ سپو رٹ کیلئے ما لی معا و نت کی در خو است پر غو ر کیا جا ئےگا گذشتہ رو ز آ ئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈا ئر یکٹر کر سٹیلنا جا ر جیو انے آئی ایم ایف کے اسلا م آباد دفتر سے میڈ یا کو جا ری کئے گئے ایک بیا ن میں کہا کہ ہما ری ٹیم اس در خوا ست کے جو اب میں تیز ی سے کا م کر رہی ہے تا کہ آئی ایم ایف کا ایگز یکٹو بو رڈ جتنی جلد ممکن ہو تجو یز پر غو ر کر سکے۔
عا لمی ما لیا تی فنذ (آئی ایم ایف )کا مذکو رہ بیان بلا شبہ قا بل تعر یف ہے کیونکہ اس وقت کو رو نا وا ئر س کی وبا ئی مر ض پا کستان میں مو جو د ہے جس کے باعث اب تک 16 قیمتی جانیں ضا ئع ہو چکی ہیں اور اس طرح اس سے متا ثر ہ افراد کی تعد اد 1542 ہے جو کہ بلا شبہ ایک غو ر طلب مسئلہ ہے کیونکہ اس بیما ری کے آثا ر رو ز بر وز بڑ ھ رہے ہیں جس سے مر یضوں کی تعد اد بھی زیا دہ ہو رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ وفا قی اور صوبائی حکومتیں اس سلسلے میں ٹھو س اقد اما ت کر رہی ہیں اور اس طر ح ملک کے اکثر علاقوں میں لا ک ڈاﺅن ہے جس کے با عث لوگوں کی آمد و رفت با لکل محد و د کر دی گئی ہے شہر وں کے بڑ ے تجا ر تی مر ا کز ،شا پنگ ہا لز ،شا دی ہا لز ،تعلیمی ادا رے ،مد ر سے اور ایسی تمام تقر یبا ت جن میں اجتما ع ہو پر مکمل پا بند ی ہے یہا ں تک کہ مسا جد میں بھی نما ز یو ں کی تعداد با لکل محد و د کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے یہ تما م اقد اما ت تو اپنی جگہ با لکل درست ہیں کیونکہ ایسا کرنے کے سو ا کوئی اور چا رہ نہیں ہے یہی وہ تد ابیر ہیں جن کے با عث کو رو نا وا ئر س جیسی مہلک بیما ری پر قا بو پا یا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی اب تک کوئی ویکسین تیا ر نہیں ہوئی اس کا علا ج صر ف احتیا طی تد ایبر ہیں۔
اس تما م صورتحال میں جہا ں دیگر معمو لا ت زند گی بر ی طرح© متا ثر ہو رہے ہیں وہا ں روزا نہ اجر ت اور پر ائیو یٹ اداروں میں کا م کر نے والے بہت زیا دہ متا ثر ہو رہے ہیں اس کے سا تھ سا تھ نجی فیکٹر یو ں کے بند ہو نے کے با عث حکومت کو ان کی جانب سے ٹیکس وصولی میں بھی مشکلا ت کا سا منا کر نا پڑ ے گا جس سے حکومتی معا ملا ت بھی متا ثر ہو ں گے اس لیے یہاں آئی ایم ایف کی جا نب سے جو پا کستان کو مد د دینے کا عند یہ دیا ہے اس پر فو ری طو ر پر عمل در آمد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مو جو د ہ حا لا ت میں ایسا کر نا پا کستان کیلئے بہت ضروری ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف کو نہ صر ف مو جو دہ حا لا ت میں پا کستا ن کی بھر پو ر مد د کرنی چا ہیئے بلکہ پہلے سے جو قر ضہ دیا ہو ا ہے اس کا منا فع بھی ختم کر نا چاہیئے کیونکہ پا کستا ن اس پو ز یشن میں نہیں ہے کہ وہ یہ منا فع دے سکے۔
امید ہے کہ آئی ایم ایف نہ صر ف پا کستا ن کی بھر پو ر مد د کر ے گا بلکہ قر ضے پر لیے جا نے والے قر ضے منا فع بھی نہیں لے گا کیونکہ اس سے پا کستان کو بڑ ا ریلیف ملے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*